جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَکَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ
منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم بن سعد، زہری، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا کہ جس میں تصویر تھی یہ تصویر دیکھ کر آپ ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ تبدیل ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ entered (my apartment) and I had hung (on the door of my apartment) a thin curtain having pictures on it. The colour of his face underwent a change. He then took hold of that curtain and tore it and then said: The most grievous torment for the people on the Day of Resurrection would be for those who try to imitate Allah in the act of creation.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَهْوَی إِلَی الْقِرَامِ فَهَتَکَهُ بِيَدِهِ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب قاسم بن محمد حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے اور پھر ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح حدیث نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ اس پردے کی طرف جھکے اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Aisha through another chain of transmitters but with a slight variation of wording (and the variation is that the narrator is reported to have said): He (the Holy Prophet) inclined towards that curtain and tore it with his hand.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْکُرَا مِنْ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ اسحاق بن ابراہیم، عبدابن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ هَتَکَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَطَعْنَاهُ فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک پردہ ڈالا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں تو جب آپ ﷺ نے اس پردہ کو دیکھا تو آپ ﷺ نے اسے پھاڑ دیا اور آپ ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب اللہ کی طرف سے ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اس پردے کو کاٹ کر ایک تکیہ یا دو تکیے بنا لئے۔
Aisha reported: Allahs Messenger ﷺ visited me. and I had a shelf with a thin cloth curtain hangin. over it and on which there were portraits. No sooner did he see it than he tore it and the colour of his face underwent a change and he said: Aisha, the most grievous torment from the Hand of Allah on the Day of Resurrection would be for those who imitate (Allah) in the act of His creation. Aisha said: We tore it into pieces and made a cushion or two cushions out of that.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ کَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَی سَهْوَةٍ فَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ فَقَالَ أَخِّرِيهِ عَنِّي قَالَتْ فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں وہ کپڑا ایک طاق پر لٹکا ہوا تھا اور نبی ﷺ اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کپڑے کو میرے سامنے سے ہٹا دو حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس کپڑے کو کاٹ کر اس کے تکیے بنا لئے۔
Aisha reported she had a cloth havinc, pictures upon it and it was hanging upon the shelf and Allahs Messenger ﷺ said: Take it (away) from me (from my sight), so I removed it and made cushions from that.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، عقبہ بن مکرم سعید بن عامر اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی شعبہ، حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، عبدالرحمن بن قاسم حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئیں تھیں آپ ﷺ نے اس پردہ کو ہٹا دیا پھر میں نے اس پردے کے دو تکیے بنا لئے۔
Aisha reported: Allahs Apostle ﷺ visited me when I had screened (my door) with a carpet having pictures on it. He removed it and we made cushions out of that.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ قَالَتْ فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَائٍ مَوْلَی بَنِي زُهْرَةَ أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْکُرُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ لَا قَالَ لَکِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ نے اس پردہ کو اتار دیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس پردے کو کاٹ کردو تکیے بنا لئے اسی وقت مجلس میں سے ایک آدمی جسے ربیعہ بن عطاء کہا جاتا ہے جو کہ مولیٰ بنی زہرہ ہیں کہنے لگا کیا تو نے ابومحمد سے نہیں سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان تکیوں پر آرام فرماتے تھے ابن قاسم نے کہا نہیں! لیکن میں نے قاسم بن محمد سے سنا ہے۔
Aisha, the wife of Allahs Messenger ﷺ , reported that she had hung a curtain which had pictures upon it. Allahs Messenger ﷺ entered (the room) and he pulled it. Aisha said: I then tore it and prepared two cushions out of that. A person who was then in that company and whose name was Rabiah bin Ata, the freed slave of Banu Zuhra, asked: Did you hear Abu Mabammad making a mention of Aisha having stated that Allahs Messenger ﷺ used to recline upon them? ibn al-Qasim said: No, but I heard Qasim bin Muhammad saying so.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْکَرَاهِيَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقَالَتْ اشْتَرَيْتُهَا لَکَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِکَةُ
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں تو جب رسول اللہ ﷺ نے اس گدے کو دیکھا تو آپ ﷺ دروازے پر ہی کھڑے ہوگئے اور اندر تشریف نہ لائے تو میں نے پہچان لیا یا میں نے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر ناپسندیدگی کے اثرات معلوم کر لئے حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا گناہ ہوگیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ گدہ کیسا ہے حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا میں نے یہ آپ ﷺ کے لئے خریدا ہے تاکہ آپ ﷺ اس پر تشریف فرما ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان تصویریں بنانے والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے چیز بنائی تم ان کو زندہ کرو پھر آپ ﷺ نے فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Aisha reported that she bought a carpet which had pictures on it. When Allahs Messenger ﷺ saw that, he stayed at the door and did not get in. I perceived or I was made to perceive upon his face signs of disgust. She said: Allahs Messenger, I offer repentance to Allah and His Messenger. (but tell me) what is the sin that I have committed. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: What is this carpet? She said: I bought it for you so that you might sit on it and take rest. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: The owners of these pictures would be tormented and they would be asked to bring to life what they tried to create. He then said: Angels do not enter the house in which there is a picture.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَکَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ
قتیبہ ابن رمح لیث، بن سعد اسحاق بن ابراہیم، ثقفی ایوب عبدالوراث بن عبدالصمد ابی جدی ایوب ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، اسامہ بن زید، ابوبکر بن اسحاق ابوسملہ خزاعی عبدالعزیز بن اخی ان ساری سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس بعض راویوں کی حدیث میں زائد الفاظ کہے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس پردے کے دو تکیے بنا دیئے تھے گھر میں آپ ﷺ ان پر آرام فرماتے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Aisha through another chain of transmitters also. Some of the other ahadith narrated through other chains of transmitters are more complete and there is an addition in them (transmitted through other chains of transmitters). In the hadith transmitted on the authority of the nephew of Majishun she (Aisha) is reported to have said: I took it and prepared two cushions out of that and he (the Holy Prophet) used to recline against them in the house.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن مثنی یحییٰ قطان عبیداللہ ابن نمیر، ابی عبداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو لوگ تصویریں بناتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ ان میں جان ڈالو۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ having said: Those who paint pictures would be punished on the Day of Resurrection and it would be said to them: Breathe soul into what you. have created.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوربیع ابوکامل حماد زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، ابن عمر ثقفی ایوب نافع حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Ibn Umar reported a hadith like this through another chain of transmitters.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ وَلَمْ يَذْکُرْ الْأَشَجُّ إِنَّ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوسعید، اشج، وکیع، اعمش، ابی ضحی مسروق، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب تصویریں بنانے والے لوگوں کو ہوگا۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verity the most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. Ashajj (one of the narrators) in the hadith narrated by him did not make mention of the word" verity".
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَی وَأَبِي کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ کَحَدِيثِ وَکِيعٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی معاویہ، ابن ابی عمر سفیان، اعمش، یحیی، ابوکریب ؓ، حضرت ابومعاویہ ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں سے سب سے سخت ترین عذاب میں تصویریں بنانے والے مبتلا ہوں گے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Muawiyahh (RA) through another chain of tranmitters (and the words are):" Verity, the most grievously tormented people amongst the denizens of Hell on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. The rest of the hadith is the same.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ هَذَا تَمَاثِيلُ کِسْرَی فَقُلْتُ لَا هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ
نصر بن علی، عبدالعزیز بن عبدالصمد، منصور مسلم، صبیح مسروق، حضرت مسلم ؓ ابن صبیح سے روایت ہے فرماتے ہیں میں حضرت مسروق کے ساتھ ایک گھر میں تھا جس میں تصویریں لگی ہوئی تھیں حضرت مسروق نے کہا کیا یہ تصویریں کسریٰ کی ہیں؟ میں نے کہا نہیں بلکہ یہ تصویریں حضرت مریم کی ہیں حضرت مسروق کہنے لگے میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔
Muslim bin Subaih reported: I was with Masruq in the house which had the portrayals of Mary (hadrat Maryam). Thereupon Masruq said: These are portraits of Kisra. I said: No, these are of Mary. Masruq said: I heardAbdullah b, Masud as saying Allahs Messenger ﷺ had said: The most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
قَالَ مُسْلِم قَرَأْتُ عَلَی نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا فَقَالَ لَهُ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّی وَضَعَ يَدَهُ عَلَی رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُکَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِکُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ و قَالَ إِنْ کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ
مسلم، علی، نصر بن علی، عبدالاعلی، سعید بن ابی حسن، حضرت سعید ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا میں مصور ہوں اور تصویریں بناتا ہوں آپ اس بارے میں مجھے فتوی دیں حضرت ابن عباس ؓ نے اس آدمی سے فرمایا میرے قریب ہوجا وہ آپ کے قریب ہوگیا یہاں تک کہ حضرت ابن عباس نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر فرمایا میں تجھ سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر ایک تصویر بنانے والا دوزخ میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدلہ میں ایک جاندار آدمی بنایا جائے گا جو اسے جہنم میں عذاب دے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر تجھے اس طرح کرنے پر مجبوری ہے (تو بیجان چیزوں) درخت وغیرہ کی تصویریں بنا۔
(Muslim said): I read this before Nasr bin Ali at-Jahdami and he read it before other narrators, the last one being Ibn Said b Abl at Hasan that a person came to Ibn Abbas and said: I am the person who paints pictures; give me a religious verdict about them. He (Ibn Abbas) said to him: Come near me (still further). He came near him so much so that he placed his hand upon his head and said: I am going to narrate to you what I heard from Allahs Messenger ﷺ . I heard him say: All the painters who make pictures would be in the fire of Hell. The soul will be breathed in every picture prepared by him and it shall punish him in the Hell, and he (Ibn Abbas) said: If you have to do it at all, then paint the pictures of trees and lifeless things; and Nasr bin Ali confirmed it.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُفْتِي وَلَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، سعید بن ابی عروبہ بن انس بن مالک، حضرت نظر بن انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا تھا حضرت ابن عباس فتوی تو دیتے تھے اور یہ نہیں کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے یہاں تک کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میں مصور ہوں تصویریں بناتا ہوں تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس آدمی سے فرمایا قریب ہوجا وہ آدمی قریب ہوگیا تو حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو آدمی دنیا میں تصویر بناتا ہے تو قیامت کے دن اسے اس بات پر مجبور کردیا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونک اور وہ روح نہیں پھونک سکے گا۔
Anas bin Malik (RA) said: I was sitting with Ibn Ahbas when he gave religious verdicts but he did not say that it was Allahs Messenger ﷺ who had said that. However when a man said to him (Ibn Abbas): I am the painter of these pictures. Ibn Abbas said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who painted pictures in the world would be compelled to breathe soal in them on the Day of Resurrection, but he would not be able to breathe soul (in them).
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوغسان مسمعی محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام ابوقتادہ، حضرت نضر بن انس سے ؓ روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے اس آدمی سے نبی ﷺ کی مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Nadr bin Anas reported that a person came to Ibn Abbas and he narrated (the above menlioned hadith) from Allahs Apostle ﷺ .
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ فَرَأَی فِيهَا تَصَاوِيرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا کَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابن فضیل، عمارہ ابوزرعہ، حضرت ابوزرعہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ مروان کے گھر گیا وہاں میں نے تصویریں دیکھیں تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو میری مخلوق کی طرح چیزیں بناتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں) تو ان کو چاہیے کہ ایک چیونٹی ہی پیدا کر کے دکھائیں یا ایک دانہ گندم یا جو ہی پیدا کردیں۔
Abu Zura reported: I visited the house of Marwan in the company of Abu Hurairah (RA) and he found pictures there. whereupon he said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Glorious and Exalted, said: Who is a more wrongdoer than one who tries to create creation like Mine creation. Let him create an atom or a grain of wheat or that of barley.
جاندار کی تصویر بنانے کی حرمت اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر وہ کا بیان میں۔
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا تُبْنَی بِالْمَدِينَةِ لِسَعِيدٍ أَوْ لِمَرْوَانَ قَالَ فَرَأَی مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ، حضرت ابوزرعہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت ابوہریرہ مدینہ منورہ کے ایک مکان میں گئے جو کہ زیر تعمیر تھا وہ مکان سعید کا تھا یا مروان کا حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس گھر میں ایک مصور کو تصویریں بناتے ہوئے دیکھا تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (مذکورہ حدیث کی طرح) اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ تم جو پیدا کرو۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zura and he said: Abu Hurairah (RA) went to the house of Sald or Marwan which they had built in Madinah and he ( Abu Hurairah (RA) ) saw a painter who had been painting pictures in his house, whereupon he told that Allahs Messenger ﷺ had said like this, but he made no mention of the words:" Let him create the grain of barley."