ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ قَالَا نَشْهَدُ عَلَی عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا کَانَ يَوْمُهُ الَّذِي کَانَ يَکُونُ عِنْدِي إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي تَعْنِي الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، اسود، مسروق، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس دن بھی رسول اللہ ﷺ کی باری میرے گھر میں ہوتی تو آپ ﷺ یہ نماز پڑھتے یعنی عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں۔
Aswad and Masruq reported: We bear testimony to the fact that Aisha said: Never was there a day that he (the Holy Prophet) was with me and he did not observe two rakahs of prayer in my house, i. e. two rakahs after the Asr.
نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ کَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِي عَلَی صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَکُنَّا نُصَلِّي عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لَهُ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا قَالَ کَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَانا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن فضیل، حضرت مختار بن فلفل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے عصر کے بعد کے نفلوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر ؓ عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں پر ہاتھ مارتے تھے اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج کے غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ بھی یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ہمیں ان دو رکعتوں کو پڑھتے ہوئے دیکھتے لیکن نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ ہمیں ان سے منع فرماتے تھے۔
Mukhtar bin Fulful said: I asked Anas bin Malik (RA) about the voluntary prayers after the afternoon prayer, and he replied: Umar struck hit hands on prayer observed after the Asr prayer and we used to observe two rakahs after the sun set before the evening prayer during the time of the Apostle of Allah ﷺ . I said to him: Did the Messenger of Allah ﷺ observe them? He said: He saw us observing them, but he neither commanded us nor forbade us to do so.
نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَيَرْکَعُونَ رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ کَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابن صہیب، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں جب مؤذن نماز مغرب کی اذان دیتا تھا تو ہم لوگ ستون کی آڑ میں دو رکعات پڑھا کرتے تھے مسجد میں کوئی نیا آدمی آتا تو بہت سی تعداد میں نماز پڑھنے والوں سے یہ خیال کرتا کہ نماز ہوگئی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: When we were in Madinah, the moment the Muadhdhin made the call to the sunset prayer, the people hastened to the pillars of the mosque and prayed two rakahs with the result that any stranger coming into the mosque would think that the obligatory prayer had been observed owing to the number who were praying then.
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ کَهْمَسٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ کُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، وکیع، کہمس، عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جو جس کا دل چاہے پڑھے لے۔
Abdullah bin Mughaffal reported Allahs Messenger ﷺ u saying: There Is between the two calls (Adhan and Iqama) a prayer. And he mentioned it three times, and at the third time he said: This applies to those who wish to do it.
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ لِمَنْ شَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، جریری، عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمایا لیکن اس میں ہے کہ چوتھی مرتبہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو جس کا دل چاہے پڑھ لے (سوائے سنت مؤ کدہ)
This hadith has been narrated by Abdullah bin Mughaffal by another chain of transmitters, but with this variation that he (the Holy Prophet) said at the fourth time:" He who wishes (may do to)."
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ رَکْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَی مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَی الْعَدُوِّ وَجَائَ أُولَئِکَ ثُمَّ صَلَّی بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَضَی هَؤُلَائِ رَکْعَةً وَهَؤُلَائِ رَکْعَةً
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو جماعتوں میں سے ایک کے ساتھ ایک رکعت پڑھی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھے پھر یہ جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہونے والوں کی جگہ جا کر کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت آئی پھر نبی ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا پھر دونوں جماعتوں کے سب لوگوں نے ایک رکعت پڑھی۔
Salim bin Abdullah bin Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) led one of the two groups In one rakah of prayer in danger, while the other group faced the enemy. Then they (the members of the first group) went back and replaced their companions who were facing the enemy. And then they (the members of the second group) came and the Apostle of Allah ﷺ led them in one rakah of prayer. Then the Apostle of Allah ﷺ pronounced salutation, and then they (the members of the Ant group) completed the rakah and they (the members of the second group) completed the rakah.
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ وَيَقُولُ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَی
ابوربیع زہرانی، فلیح، زہری، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز اسی طریقے سے پڑھی ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّذِينَ مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَائَ الْآخَرُونَ فَصَلَّی بِهِمْ رَکْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَکْعَةً رَکْعَةً قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَإِذَا کَانَ خَوْفٌ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَصَلِّ رَاکِبًا أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَائً
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، سفیان، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ دنوں میں خوف کی نماز اس طرح سے پڑھی کہ ایک جماعت آپ ﷺ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر وہ چلے گئے اور دوسری جماعت آگئی ان کو آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں جماعتوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ جب خوف حد سے بڑھ جائے تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھے۔
Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed prayer in danger on some day (in this way): a group stood with him (the Holy Prophet) (for prayer) and the other group stood In front of the enemy. Then those who were with (him) observed one rakah of prayer and they went back and the others came and they observed one rakah (with him). Then both the groups completed one rakah each. Ibn Umar (RA) said: When there is greater danger, then observe prayer even on the ride or with the help of gestures in a standing posture.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَکَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ وَقَامُوا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَکَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي کَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا قَالَ جَابِرٌ کَمَا يَصْنَعُ حَرَسُکُمْ هَؤُلَائِ بِأُمَرَائِهِمْ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز پڑھتے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ہم نے دو صفیں بنائیں ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھا تو نبی ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم سب نے بھی تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سر رکوع سے اٹھایا اور ہم سب نے بھی سر اٹھایا پھر آپ ﷺ آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے تو اس صف والے جو آپ ﷺ کے قریب تھے پہلی رکعت میں سب سجدہ میں گئے اور پچھلی صف والے دشمن کے مقابلے میں کھڑے رہے پھر جب نبی ﷺ نے اور وہ صف جو آپ ﷺ کے قریب تھی سجدہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ اور ہم سب نے سلام پھیرا جابر ؓ نے فرمایا کہ جس طرح آج کل کے محافظ اپنے حکمرانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah reported: I observed prayer in danger with the Messenger of Allah ﷺ . We drew ourselves up in two rows, one row behind him with the enemy between us and the Qibla. The Apostle of Allah ﷺ said: Allah is Most Great, and we all said it. He then bowed and we all bowed. He then raised his head from bowing, we all raised (our heads). He then went down in prostration along with the row close to him, and the rear row faced the enemy; then when the Apostle of Allah ﷺ completed the prostration, ; and then stood up, the row near to him also did it; then went down the rear row in prostration; then they stood up; then the rear row went to the front and the front row went to the rear. Then the Apostle of Allah ﷺ (may peace he upon him) bowed down and we all bowed. He then raised his head from bowing and we also raised (our heads). He and the row close to him which I had been in the rear then went down in prostration In the first rakah, whereas the rear row faced the enemy. And when the Apostle of Allah ﷺ and the rear row close to him had finished the prostration, the rear row went down and prostrated themselves; then the Apostle of Allah ﷺ pronounced the salutation and we also pronounced the salutation. (Jabir said we hadith) as your guards behave with their chiefs.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِکُونَ لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَالُوا إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ الْأَوْلَادِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ قَالَ صَفَّنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِکُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ قَالَ فَکَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا وَرَکَعَ فَرَکَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ فَکَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا وَرَکَعَ فَرَکَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ وَقَامَ الثَّانِي فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ کَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُکُمْ هَؤُلَائِ
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابوالزبیر، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قبیلہ جہینہ کی ایک قوم کے ساتھ جہاد کیا انہوں نے ہم سے بہت سخت جنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی لی مشرکوں نے کہا کاش ہم ان پر ایک دم حملہ آور ہوتے تو انہیں کاٹ کر رکھ دیتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے باخبر کیا اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کیا اور فرمایا کہ مشرکوں نے کہا کہ ان کی ایک اور نماز آئے گی جو ان کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے تو جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو ہم نے دو صفیں بنالیں اور مشرک ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھے رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے رکوع فرمایا تو ہم نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سجدہ فرمایا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا پھر جب آپ ﷺ اور پہلی صف والے کھڑے ہوگئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا اور پہلی صف والے پیچھے اور دوسری صف والے آگے ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے تکیبر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی پھر آپ نے رکوع فرمایا ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور دوسری صف والوں نے سجدہ کیا پھر سب بیٹھ گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے سب کے ساتھ سلام پھیرا حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں کہ پھر حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ جس طرح آج کل تمہارے یہ حکمران نماز پڑھتے ہیں۔
Jabir reported: We fought In the company of the Messenger of Allah ﷺ with the tribe of Juhaina. They fought with us terribly. When we had finished the noon prayer, the polytheists said: Had we attacked them at once. we would have killed them. Gabriel (علیہ السلام) informed the Messenger of Allah ﷺ about It (about their evil design). The Messenger of Allah ﷺ made a mention of it to us, adding that they (the polytheists) had also said: Shortly there would be time for the Asr prayer. which is dearer o them (the Muslims) than even their children. So when the time of the Asr prayer came. we formed ourselves into two rows, while the polytheists were between us and the Qibla. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah is Most Great, and we also said so. He bowed and we also bowed. He went down in prostration and the first row prostrated along with him. When they stood up, the second row went down in prostration. Then the first row went into the rear, and the second row came in the front and occupied the place of the first row. The Messenger of Allah ﷺ then said: Allah is Most Great, and we also said so. He then bowed, and we also bowed. He then went down in prostration and along with him the row also (went down in prostration), and the second row remained standing. And when the second row had also prostrated and all of them sat down then the Messenger of Allah ﷺ pronounced salutation to them. Abu Zubair said: Jabir made a mention specially of this thing: just as your chiefs observe prayer.
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ فَصَلَّی بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَکْعَةً ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّی صَلَّی الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَکْعَةً ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ کَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّی بِهِمْ رَکْعَةً ثُمَّ قَعَدَ حَتَّی صَلَّی الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَکْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم، صالح بن خوات بن جبیر، حضرت سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو خوف کی نماز پڑھائی آپ نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں تو جو صف آپ ﷺ کے قریب تھی آپ ﷺ نے اسے ایک رکعت پڑھائی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ پچھلی صف والوں نے ایک رکعت نماز پڑھ لی پھر وہ آگے بڑھے اور اگلی صف والے پیچھے چلے گئے پھر بیٹھ گئے یہاں تک کہ پچھلی صف والوں نے ایک رکعت نماز پڑھ لی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا۔
Sahl bin Abu Hathma reported that the Messenger of Allah ﷺ led his Companions in prayer in danger. He made them stand in two rows behind him. He led them who were close to him in one rakah. He then stood up and kept standing till those who were behind them observed one rakah. Then they (those standing in the second row) came in front and those who were in front went into the rear. He then led them In one rakah. He then sat down, till those who were behind him observed one rakah and then pronounced salutation.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّذِينَ مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، یزید بن رومان، حضرت صالح بن خوات سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی تھی کہ جماعت نے صف بندی کی اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑی رہی پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے پھر وہ ٹھہرے رہے اور انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر وہ دشمن کے مقابلہ میں چلے گئے اور دوسری جماعت آئی پھر آپ ﷺ نے اس جماعت کو وہ رکعت جو باقی رہ گئی تھی پڑھائی پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے اور اس جماعت والوں نے اپنی رکعت پوری کی پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
Yazid bin Ruman told on the authority of Salih bin Khawwat on the authority of one who prayed in time of danger with Allahs Messenger (may peace he upon him) at the Battle of Dhat ar-Riqa that a group formed a row and prayed along with him, and a group faced the enemy. He led the group which was along with him in a rakah, then remained standing while they finished the prayer by themselves. Then they departed and formed a row facing the enemy. Then the second group came and he led them in the remaining rakah, after which he remained seated while they finished the prayer themselves. He then led them in salutation.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَی شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَکْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْکَ قَالَ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ قَالَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّی بِطَائِفَةٍ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّی بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَی رَکْعَتَيْنِ قَالَ فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان بن یزید، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذات الرقاع پہنچ گئے تو جب ہم ایک سایہ دار درخت پر پہنچے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو وہاں چھوڑ دیا راوی نے کہا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کی تلوار درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی تو اس آدمی نے اللہ کے نبی ﷺ کی تلوار پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کی اور کہنے لگا کہ کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس آدمی نے کہا کہ تمہیں کون مجھ سے بچائے گا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے اس آدمی کو ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال کر لٹکا دی نماز کے لئے اذان دی گئی آپ ﷺ نے ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائی وہ جماعت پیچھے چلی گئی پھر آپ ﷺ نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں تو رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں ہوگئیں اور جماعت کی دو رکعتیں ہوئیں۔
Jabir reported: We went forward with the Messenger of Allah ﷺ and when we reached Dhat ar-Riqa, we came to a shady tree which -we left for him One of the polytheists came there and, seeing the sword of the Messenger ﷺ hanging by a free. took it up. drew it from the scabbard and said to the Messenger of Allah ﷺ : Are you afraid of Me? He (the Holy Prophet) said: No. He again said: Who would protect you from me? He said: Allah will protect me from you. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ threatened him. He sheathed the sword and hung it up. Then call to prayer was made and he (the Holy Prophet) led a group in two rakah. Then (the members of this group) withdrew and he led the second group in two rakah. So the Messenger of Allah ﷺ observed four rakah and people observed two rakah.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَی رَکْعَتَيْنِ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَصَلَّی بِکُلِّ طَائِفَةٍ رَکْعَتَيْنِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابن حسان، ابن سلام، یحیی، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے دو گرہوں میں سے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں رسول اللہ ﷺ نے چار رکعات پڑھیں اور ہر گروہ نے دو دو رکعات پڑھیں۔
Abu Salama bin Abdul Rahman reported that Jabir told him that he had observed the prayer in danger with the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ (first) led one of the two groups in two rakah of prayer. and then led the second group in two rakah of prayer. So the Messenger of Allah ﷺ observed four rakah and led in two rakah each of the groups.