قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَی عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّی فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَی حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ قَالَ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ کَمَا کَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ ؓ (ملک) شام آئے وہ مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے اس میں نماز پڑھی پھر ایک حلقہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس میں بیٹھ گئے پھر ایک آدمی آیا میں نے محسوس کیا کہ اسے ان لوگوں سے ناراضگی اور وحشت ہے وہ میرے پہلو میں آکر بیٹھ گئے پھر انہوں نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ کیسے پڑھتے تھے؟۔
Ibrahim reported: Alqama came to Syria and entered the mosque and prayed there and then went to a (place where people were sitting in a) circle and he sat therein. Then a person came there and I perceived that the people were annoyed and perturbed (on this arrival). and he sat on my side and then said: Do you remember how Abdullah used to recite (the Quran)? And then the rest of the hadith was narrated.
قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَی قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی قَالَ فَقَرَأْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا
علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، داود بن ابی ہند، شعبی، حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدردا ؓ سے ملا انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے؟ میں نے عرض کیا میں عراق والوں میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کہ کس شہر کے؟ میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے، انہوں نے فرمایا کہ تو نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت کو پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں، انہوں نے فرمایا کہ تو پڑھ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے پڑھا ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) تو وہ ہنس پڑے پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
Alqama reported: I met Abu Darda, and he said to me: To which country do you belong? I said: I am one of the people of Iraq. He again said: To which city? I replied: City of Kufa. He again said: Do you recite according to the recitation of Abdullah bin Masud? I said: Yes. He said: Recite this verse (By the night when it covers) So I recited it: (By the night when it covers, and the day when it shines, and the creating of the male and the female). He laughed and said: I have heard the Messenger of Allah ﷺ reciting like this.
قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داود، عامر، حضرت علقمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں شام آیا اور میں نے حضرت ابوالدردا ؓ سے ملاقات کی پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Abu Hurairah (RA) is reported to have said that the Messenger of Allah ﷺ prohibited to observe prayer after the Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَکَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ
داؤد بن رشید، اسماعیل بن سالم، ہشیم، منصور، قتادہ، ابوالعالیہ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے ایک حضرت عمر بن خطاب ؓ جو مجھے بہت محبوب تھے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Abbas reported: I heard it from so many Companions of the Messenger of Allah ﷺ and one among them is Umar bin Khattab, and he is most dear to me among them that the Messenger of Allah ﷺ prohibited observing of prayer after the dawn prayer till the sun rose and after the Asr till the sun set. This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters with a minor alteration of words.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَشْرُقَ الشَّمْسُ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ح، ابوغسان مسمعی، عبدالاعلی، سعید، ح، اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، قتادہ ؓ سے یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ معبد اور ہشام کی روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کے بعد سورج کے چمکنے تک۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters with a minor alteration of words.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں اور فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک کوئی نماز نہیں۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No prayer is valid after the Asr prayer till the sun sets and no prayer is valid after the dawn prayer till the sun rises.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَحَرَّی أَحَدُکُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Let not any one of you intend to observe prayer at the time of the rising of the sun or of the setting sun.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سورج کے نکلنے تک نماز کا ارادہ نہ کرو اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not intend to observe prayer at the time of the rising of the sun nor at its setting, for it rises between the horns of Satan.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ بِشْرٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَغِيبَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب سورج کی شعاعیں ظاہر ہوجائیں تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک سورج اچھی طرح ظاہر نہ ہوجائے اور جب سورج کی کرن غائب ہوجائے تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک کہ سورج مکمل طور پر غائب نہ ہوجائے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the rim of the sun starts appearing defer prayer till it completely appears, and when the rim of the sun disappears defer prayer till it completely disappears.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا کَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّی يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ
قتیبہ بن سعید، لیث، خیر بن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیرہ، ابوتمیم جیشانی، حضرت ابوبصرہ غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ مخمص میں عصر کی نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ نماز تم سے پہلی امتوں پر بھی پیش کی گئی انہوں نے اس کو ضائع کردیا تو جو آدمی اس کی حفاظت کرے گا اسے دوہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ ستارے ظاہر نہ ہوجائیں۔
Abu Basrahh Ghifari reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in the Asr prayer at (the place known as) Mukhammas, and then said: This prayer was presented to those gone before you, but they lost it, and he who guards it has two rewards in store for him. And no prayer is valid after till the onlooker appears (by onlooker is meant the evening star).
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَکَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن اسحاق، برید بن ابی حبیب، خیربن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیر سبائی، ابوتمیم جیشانی، ابوبصرہ غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ عصر کی نماز ادا فرمائی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated by Abu Basrahh Ghifari through another chain of transmitters.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا ثَلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّی تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ
یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تین اوقات سے منع فرمایا کرتے تھے کہ (ان تین اوقات میں) نماز نہ پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو دفن کریں ایک یہ کہ سورج کے نکلنے تک جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے دوسرے یہ کہ ٹھیک دوپہر کے وقت جب تک زوال نہ ہوجائے اور تیسرے سورج کے غروب ہونے تک جب تک کہ وہ اچھی طرح نہ غروب ہوجائے۔
Uqba bin Amir said: There were the times at which Allahs Messenger ﷺ forbade us to pray, or bury our dead: When the sun begins to rise till it is fully up, when the sun is at its height at midday till it passes over the meridian, and when the sun draws near to setting till it sets.
عمر و بن عبسہ کے اسلام لانے کا بیان
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَيَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ عِکْرِمَةُ وَلَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَی الشَّامِ وَأَثْنَی عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ کُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَی ضَلَالَةٍ وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَی شَيْئٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَی رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَئَائُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيٌّ قَالَ أَرْسَلَنِي اللَّهُ فَقُلْتُ وَبِأَيِّ شَيْئٍ أَرْسَلَکَ قَالَ أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ وَکَسْرِ الْأَوْثَانِ وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَکُ بِهِ شَيْئٌ قُلْتُ لَهُ فَمَنْ مَعَکَ عَلَی هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُکَ قَالَ إِنَّکَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِکَ يَوْمَکَ هَذَا أَلَا تَرَی حَالِي وَحَالَ النَّاسِ وَلَکِنْ ارْجِعْ إِلَی أَهْلِکَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَی أَهْلِي وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَکُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّی قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقَالُوا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِکَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَکَّةَ قَالَ فَقُلْتُ بَلَی فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّی تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْئُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ قَالَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوئَ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ مَا مِنْکُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوئَهُ فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَی الْکَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَی هَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَلَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ
احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبداللہ، ابوعمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ ﷺ تک پہنچ گیا اور آپ ﷺ سے میں نے عرض کیا آپ ﷺ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ ﷺ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت بلال ؓ تھے جو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ ﷺ کی پیروی کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ مجھے پہچانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ ﷺ کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہوجائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کئے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضو کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اس کی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چناچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوامامہ ؓ سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ ؓ نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ ؓ کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔
Amr bin Abasa Sulami reported: I in the state of the Ignorance (before embracing Islam) used to think that the people were in error and they were not on anything (which may be called the right path) and worshipped the idols. In the meanwhile I heard of a man in Makkah who was giving news (on the basis of his prophetic knowledge) ; so I sat on my ride and went to him. The Messenger of Allah ﷺ was at that time hiding as his people had made life hard for him. I adopted a friendly attitude (towards the Makkahns and thus managed) to enter Makkah and go to him (the Holy Prophet) and I said to him: Who are you? He said: I am a Prophet ﷺ (of Allah). I again said: Who is a Prophet? He said: (I am a Prophet ﷺ in the sense that) I have been sent by Allah. I said: What is that which you have been sent with? He said: I have been sent to join ties of relationship (with kindness and affection), to break the Idols, and to proclaim the oneness of Allah (in a manner that) nothing is to be associated with Him. I said: Who is with you in this (in these beliefs and practices)? He said: A free man and a slave. He (the narrator) said: Abu Bakr (RA) and Bilal (RA) were there with him among those who had embraced Islam by that time. I said: I intend to follow you. He said: During these days you would not be able to do so. Dont you see the (hard) condition under which I and (my) people are living? You better go back to your people and when you hear that I have been granted victory, you come to me. So I went to my family. I was in my home when the Messenger of Allah ﷺ came to Madinah. I was among my people and used to seek news and ask people when he arrived in Madinah. Then a group of people belonging to Yathrib (Madinah) came. I said (to them): How is that person getting on who has come to Madinah? They said: The people are hastening to him, while his people (the polytheists of Makkah) planned to kill him, but they could not do so. I (on hearing It) came to Madinah and went to him and said: Messenger of Allah, do you recognise me? He said: Yes, you are the same man who met me at Makkah. I said: It is so. I again said: Prophet ﷺ of Allah, tell me that which Allah has taught you and which I do not know, tell me about the prayer.
He said: Observe the dawn prayer, then stop praying when the sun is rising till it Is fully up, for when it rises it comes up between the horns of Satan, and the unbelievers prostrate themselves to it at that time. Then pray, for the prayer is witnessed and attended (by angels) till the shadow becomes about the length of a lance; then cease prayer, for at that time Hell is heated up. Then when the shadow moves forward, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels, till you pray the afternoon prayer, then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of devil, and at that time the unbelievers prostrate themselves before it. I said: Apostle of Allah ﷺ , tell me about ablution also. He said: None of you who uses water for ablution and rinses his mouth, snuffs up water and blows it, but the sins of his face, and his mouth and his nostrils fall out. When he washes his face, as Allah has commanded him, the sins of his face fall out from the end of his beard with water. Then (when) he washes his forearms up to the elbows, the sins of his arms fall out along with water from his finger-tips. And when he wipes his head, the sins of his head fall out from the points of his hair along with water. And (when) he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall out from his toes along with water. And if he stands to pray and praises Allah, lauds Him and glorifies Him with what becomes Him and shows wholehearted devotion to Allah, his sins would depart leaving him (as innocent) as he was on the day his mother bore him. Amr bin Abasa narrated this hadith to Abu Umama, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , and Abu Umama said to him: Amr bin Abasa, think what you are saying that such (a great reward) is given to a man at one place (only in the act of ablution and prayer). Upon this Amr said: Abu Umama, I have grown old and my bones have become weak and I am at the door of death; what impetus is there for me to attribute a lie to Allah and the Messenger of Allah ﷺ ? Had I heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, or three times (even seven times), I would have never narrated it, but I have heard it from him on occasions more than these.
اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
محمد بن حاتم، بہز، وہب، عبداللہ بن ط اس، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر ؓ کو وہم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سورج کے طلوع اور سورج کے غروب ہونے کے وقت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Aisha reported that Umar misconstrued the fact that the Messenger of Allah ﷺ had prohibited the observance of prayer at the time of the rising sun and at the time of its setting.
اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِکَ
حسن حلوانی، عبدالرزاق، معمر، ابن ط اس، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو۔
Aisha said that the Messenger of Allah ﷺ did not abandon observing two rakahs after Asr, but she reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not get used to observe prayer at the time of the rising sun and at the time of its setting and (exhorted the Muslims) to pray at their times.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ کُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ الرَّکْعَتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، عبداللہ بن وہب، ابن الحارث، بکیر، کریب حضرت ابن عباس ؓ کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ ؓ نے مجھے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ کی طرف بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں ان سے پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ ﷺ ان کو پڑھتی ہیں اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ مل کر اس نماز سے منع کرتا تھا کریب نے کہا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس گیا جنہوں نے مجھے بھیجا ان کا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ تو ام سلمہ ؓ سے پوچھ تو میں واپس ان کی طرف گیا اور انہیں حضرت عائشہ ؓ کے فرمان کی خبر دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف لوٹا دیا وہی پیغام دے کر جو پیغام دے کر حضرت عائشہ ؓ کی طرف بھیجا تھا تو حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے پھر میں نے آپ ﷺ کو یہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جس وقت آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے پھر آپ ﷺ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی چند عورتیں تھیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے ایک باندی کو آپ ﷺ کی طرف بھیجا میں نے اس سے کہا کہ تو آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑی رہنا پھر آپ ﷺ سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں منع کرتے ہوئے سنا ہے اور پھر آپ ﷺ کو پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر اگر ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے کھڑی رہنا حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس باندی نے ایسے ہی کیا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو وہ پیچھے ہوگئی پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابوامیہ کی بیٹی تو نے عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی عبدالقیس کے کچھ لوگ ان کی قوم میں سے اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے جس میں مشغولیت کی وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں ان کو میں نے پڑھا ہے۔
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, reported that Abdullah bin Abbas, Abdul Rahman bin Azhar, al-Miswar bin Makhrama sent him to Aisha, the wife of the Messenger of Allah ﷺ , telling him to give her their greetings, and ask her about the two rakahs after the afternoon prayer, (for)" we have heard that you observe them whereas it has been conveyed to us that the Messenger of Allah ﷺ prohibited their observance." Ibn Abbas said: I along with Umar bin al-Khattab dissuaded people to do so (to observe two rakahs of prayer). Kuraib said: I went to her (Aisha) and conveyed to her the message with which I was sent. She said: (Better) ask Umm Salamah. So I went to them (those who had sent him to Hadrat Aisha) and informed them about what she had said. They sent me back to Umm Salamah with that with which I was sent to Aisha. Umm Salamah said: I beard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting them, and then afterwards I saw him observing them. And when he observed them (two rakahs) he had already observed the Asr prayer. Then he (the Holy Prophet) came, while there were with me ladies of Banu Haram, a tribe of the Ansar and he (the Holy Prophet) observed them (the two rakahs). I sent a slave-girl to him asking her to stand by his side and say to him that Umm Salamah says: Messenger of Allah, I heard you prohibiting these two rakahs, whereas I saw you observing them; and if he (the Holy Prophet) points with his hand (to wait), then do wait. The slave-girl did like that. He (the Holy Prophet) pointed out with his hand and she got aside and waited, and when he had finished (the prayer) he said: Daughter of Abu Umayya. you have asked about the two rakahs after the Asr prayer. Some people of Abu al-Qais came to me for embracing Islam and hindered me from observing the two rakahs which come after the noon prayer. So those are the two I have been praying.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَثْبَتَهَا قَالَ يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ قَالَ إِسْمَعِيلُ تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، ایوب، ابن جعفر، ابن ابی حرملہ، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، جنہیں رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ ﷺ ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول ہوگئے یا آپ ﷺ ان کو پڑھنا بھول گئے تو آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز کے بعد پڑھا پھر آپ ﷺ اسے پڑھتے رہے آپ ﷺ جو نماز بھی پڑھتے تھے اس پر دوام فرماتے۔
Abu Salama asked Aisha about the two prostrations (i. e. rakahs) which the Messenger of Allah ﷺ made after the Asr. She said: He (the Holy Prophet) observed them before the Asr prayer, but then he was hindered to do so, or he forgot them and then he observed them after the Asr, and then he continued observing them. (It was his habit) that when he (the Holy Prophet) observed prayer, he then continued observing it. Ismail said: It implies that he always did that.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
زہیر بن حرب، جریر، ابن نمیر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ did not abandon at all observing two rakahs after the Asr in my house.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَاتَانِ مَا تَرَکَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ح، علی بن حجر، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسود، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں دو نمازیں کبھی چھوڑیں نہ باطناً نہ ظاہراً فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔
Aisha reported: Two are the prayers which the Messenger of Allah ﷺ always observed in my house-openly or secretly-two rakahs before the dawn and two rakahs after the Asr.