Sahih Muslim 1927

فضائل قرآن کا بیان

1927Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا کَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّی يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ

قتیبہ بن سعید، لیث، خیر بن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیرہ، ابوتمیم جیشانی، حضرت ابوبصرہ غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ مخمص میں عصر کی نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ نماز تم سے پہلی امتوں پر بھی پیش کی گئی انہوں نے اس کو ضائع کردیا تو جو آدمی اس کی حفاظت کرے گا اسے دوہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ ستارے ظاہر نہ ہوجائیں۔

Abu Basrahh Ghifari reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in the Asr prayer at (the place known as) Mukhammas, and then said: This prayer was presented to those gone before you, but they lost it, and he who guards it has two rewards in store for him. And no prayer is valid after till the onlooker appears (by onlooker is meant the evening star).