دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَهْطٍ مِنْهُمْ أَبُو الدَّهْمَائِ وَأَبُو قَتَادَةَ قَالُوا کُنَّا نَمُرُّ عَلَی هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ نَأْتِي عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّکُمْ لَتُجَاوِزُونِي إِلَی رِجَالٍ مَا کَانُوا بِأَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَا أَعْلَمَ بِحَدِيثِهِ مِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَی قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَکْبَرُ مِنْ الدَّجَّالِ
زہیر بن حرب، احمد بن اسحاق عبدالعزیز ابن مختار ایوب حمید بن ہلال حضرت ابوالدہماء اور ابوقتادہ اور ایک جماعت سے روایت ہے ہم ہشام بن عامر کے پاس سے گزر کر عمران بن حصین کے پاس جاتے تھے تو ایک دن (ہشام نے) کہا تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کی طرف جاتے ہو جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مجھ سے زیادہ حاضر رہنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی آپ ﷺ کی احادیث کو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والی کوئی بھی مخلوق دجال سے (جسامت میں) بڑی نہیں ہے۔
Abu Qatadah (RA) reported: We used to go to Imran bin Husain passing in front of Hisham bin Amir. He, one day, said: You pass by me (in order) to go to some persons but (amongst the living persons) none remained in the company of Allahs Messenger ﷺ more than I and none knows more ahadith than I. I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: There would be no creation (creating more trouble) than the Dajjal right from the creation of Adam علیہ السلامto the Last Hour.
دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ ثَلَاثَةِ رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالُوا کُنَّا نَمُرُّ عَلَی هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ إِلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُخْتَارٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَمْرٌ أَکْبَرُ مِنْ الدَّجَّالِ
محمد بن حاتم، عبداللہ بن جعفر عبیداللہ بن عمر ایوب حمید بن ہلال تین آدمیوں جن میں حضرت ابوقتادہ بھی ہیں سے روایت ہے کہ ہم ہشام بن عامر کے پاس سے گزر کر عمران بن حصین کے پاس جاتے تھے باقی حدیث عبدالعزیز بن مختار کی حدیث کی طرح ہے اس میں ہے کہ دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Imran bin Husain with a slight variation of wording.
دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوْ الدُّخَانَ أَوْ الدَّجَّالَ أَوْ الدَّابَّةَ أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِکُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسعیل ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھ باتوں سے پہلے پہلے اعمال کرنے میں جلدی کرو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، دھوئیں، دجال، دابہ، تم میں سے کسی خاص کی موت یا سب کی موت یعنی قیامت سے پہلے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said: Hasten to do good deeds before six things happen: the rising of the sun from the west, the smoke, the Dajjal, the beast and (the death) of one of you or the general turmoil.
دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا الدَّجَّالَ وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَأَمْرَ الْعَامَّةِ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِکُمْ
امیہ بن بسطام عیشی، یزید بن زریع شعبہ، قتادہ، حسن زیاد بن رباح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے اعمال کی سبقت کرو دجال، دھواں، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور عام موت یعنی قیامت اور حاض کسی ایک کی موت۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Hasten in performing these good deeds before these six things (happen): (the appearance) of the Dijjal, the smoke, the beast of the earth, the rising of the sun from the west, the general turmoil (leading to large-scale massacre) and death of masses and individuals.
دجال کے متعلق بقیہ احادیث کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث ہمام قتادہ ؓ اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Qatada through another chain of transmitters.
فتنہ وفساد میں عبادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُعَلَّی بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ الْمُعَلَّی بْنِ زِيَادٍ رَدَّهُ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ رَدَّهُ إِلَی مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَدَّهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ کَهِجْرَةٍ إِلَيَّ و حَدَّثَنِيهِ
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید معلی بن زیاد معاویہ بن قرہ حضرت معقل بن یسار سے رایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فساد کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔
Maqil bin Yasar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Worshiping during the period of widespread turmoil is like emigration towards me.
فتنہ وفساد میں عبادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوکامل حماد اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
The previous hadith is narrated through Abu Kamil from Hammad with the same chain.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَی شِرَارِ النَّاسِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، علی بن اقمر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت برے لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔
Abdullah reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The Last Hour would affect (most terribly) the wicked persons.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَی وَهُوَ يَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَکَذَا
سعید بن منصور، یعقوب بن عبدالرحمن عبدالعزیزبن ابی حازم ؓ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے اپنے انگوٹھے کے قریب والی درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح (اکٹھا) بھیجا گیا ہے۔
This hadith has been reported by Sahl bin Sad that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I and the Last Hour are (close to each other) like this (and he, in order to explain it) pointed (by joining his) forefinger, (one) next to the thumb and the middle finger (together).
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ کَهَاتَيْنِ قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ کَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی فَلَا أَدْرِي أَذَکَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے حضرت قتادہ ؓ اپنے قصوں میں کہتے ہیں جیسا کہ ان دونوں انگلیوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اسے انس ؓ سے ذکر کیا یا قتادہ نے خود کہا۔
This hadith has been reported by Sahl bin Sad that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I and the Last Hour are (close to each other) like this (and he, in order to explain it) pointed (by joining his) forefinger, (one) next to the thumb and the middle finger (together).
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ وَأَبَا التَّيَّاحِ يُحَدِّثَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَقَرَنَ شُعْبَةُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِيهِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، ابن حارث، قتادہ، ابوالتیاح، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے اور شعبہ نے اپنی شہادت والی انگلی اور درمیان والی انگلی ملا کر آپ ﷺ سے حکایت روایت کی۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: I and the Last Hour have been sent like this. Shubah said: I heard Qatada as saying in his narration: The excellence of one over the other. And I do not know whether he narrated it from Anas or Qatada himself said so.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا
عبیداللہ بن معاذ ابی محمد بن ولید محمد بن جعفر، شعبہ، ابی التیاح حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے۔
Shubah reported: I heard Qatada and Abu Tayyab narrating that both of them heard Anas as narrating that Allahs Messenger ﷺ said: I and the Last Hour have been sent like this, and Shubah drew his forefinger and middle finger near each other while narrating it.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَمْزَةَ يَعْنِي الضَّبِّيَّ وَأَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، حمزہ ضبی ابی تیاح انس، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَعْبَدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ کَهَاتَيْنِ قَالَ وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَی
ابوغسان مسمعی معتمر معبد، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح بھیجا گیا ہے اور آپ ﷺ نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملایا۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I and the Last Hour have been sent like this and (he while doing it) joined the forefinger with the middle finger.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ السَّاعَةِ مَتَی السَّاعَةُ فَنَظَرَ إِلَی أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ فَقَالَ إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِکْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْکُمْ سَاعَتُکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ دیہاتی لوگ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے کہ وہ کب قائم ہوگی آپ ﷺ نے ان سے کم عمر آدمی کی طرف دیکھ کر فرمایا اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھے ہونے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت قائم ہوجائے گی۔
Aisha reported that when the desert Arabs came to Allahs Messenger ﷺ they asked about the Last Hour as to when that would come. And he looked towards the youngest amongst them and said: If he lives he would not grow very old that he would find your Last Hour coming to you that would see you dying).
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَی تَقُومُ السَّاعَةُ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَی أَنْ لَا يُدْرِکَهُ الْهَرَمُ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا قیامت کب قائم ہوگی اس کے ساتھ انصار کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جسے محمد کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو ہوسکتا ہے کہ اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے۔
Anas reported that a person asked Allahs Messenger ﷺ as to when the Last Hour would come. He had in his presence a young boy of the Ansar who was called Mohammad. Allahs Messenger ﷺ said: If this young boy lives, he may not grow very old till (he would see) the Last Hour coming to you.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَتَی تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيْهَةً ثُمَّ نَظَرَ إِلَی غُلَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ فَقَالَ إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِکْهُ الْهَرَمُ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ ذَاکَ الْغُلَامُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ
حجاج بن شاعر، سلیمان بن حرب، حماد ابن زید، معبد بن ہلال، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا قیامت کب قائم ہوگی رسول اللہ ﷺ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوگئے پھر اپنے سامنے موجود قبیلہ ازد شنوء کے ایک لڑکے کی طرف دیکھا تو فرمایا اگر اس لڑکے کو عمر دی گئی تو اسے بڑھاپا نہیں آئے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی حضرت انس ؓ نے کہا وہ لڑکا ان دنوں میرے ہم عمر لڑکوں میں سے تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person asked Allahs Apostle ﷺ : When would the Last Hour come? Thereupon Allahs Messenger ﷺ kept quiet for a while, then looked at a young boy in his presence belonging to the tribe of Azd Shanilwa and he said: If this boy lives he would not grow very old till the Last Hour would come to you. Anas said that this young boy was of our age during those days.
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَکَانَ مِنْ أَقْرَانِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا فَلَنْ يُدْرِکَهُ الْهَرَمُ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ
ہارون بن عبداللہ عفان بن مسلم ہمام قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کا ایک لڑکے پر گزر ہوا اور وہ میرے ہم عمروں میں سے تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہ زندہ رہا تو ہرگز بوڑھا نہ ہوگا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔
Anas reported: A young boy of Mughira bin Shubah happened to pass by (the Holy Prophet) and he was of my age Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: If he lives long he would not grow very old till the Last Hour would come (to the old People of this generation).
قیامت کے قریب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ اللِّقْحَةَ فَمَا يَصِلُ الْإِنَائُ إِلَی فِيهِ حَتَّی تَقُومَ وَالرَّجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتَّی تَقُومَ وَالرَّجُلُ يَلِطُ فِي حَوْضِهِ فَمَا يَصْدُرُ حَتَّی تَقُومَ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت قائم ہوگی اور آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہوگا اور برتن اس کے منہ تک نہ پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور دو آدمی کپڑے کی خریدو فروخت کر رہے ہوں گے اور ان کی خریدو فروخت مکمل ہونے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی اور کوئی آدمی اپنے حوض کو درست کر رہا ہوگا اور وہ اس سے دور نہ ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would come (so sudden) that a person would be milking the she-camel and the (milk) would not reach the brim of the vessel that the Last Hour would come, and the two persons would be engaged in buying and selling of the clothes and their bargain would not be struck before the Last Hour would come. And someone would be setting his tank in order and he would have hardly set it right when the Last Hour would come.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ قَالُوا أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ قَالُوا أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنْ السَّمَائِ مَائً فَيَنْبُتُونَ کَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَيْسَ مِنْ الْإِنْسَانِ شَيْئٌ إِلَّا يَبْلَی إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَکَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوکریب محمد بن علاء، ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونوں نفخوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا لوگوں نے کہا اے ابوہریرہ ؓ چالیس دن انہوں نے کہا میں نہیں کہتا لوگوں نے کہا چالیس سال انہوں نے کہا میں نہیں کہتا پھر اللہ عزوجل آسمان سے پانی اتاریں گے جس سے لوگ سبزہ کے اگنے کی طرح اگیں گے اور انسان کی ایک ہڈی کے سوا سب چیز گل سڑ جائے گی اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسی ہڈی سے مخلوق کو قیامت کے روز جمع کیا جائے گا (لیکن انبیائے کرام (علیہم السلام) مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کے اجسام کو اللہ نے زمین پر کھانا حرام کردیا)۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Between the two blowiings of the trumpet (there would be an interval of forty). They said: Abu Hurairah (RA) , do you mean forty days? He said: I cannot say anything. They said: Do you mean fortv months? He said: I cannot say anything They said: Do you mean forty years? He said: I cannot say anything. Then Allah would cause the water to, descend from the sky and they (people) will sprout like vegetable. The only thing in a man which would not decay would be one bone (spinal chord) from which the whole frame would be reconstituted on the Day of Resurrection.