مستحاضہ اور اس کے غسل اور نماز کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَکَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ فَقَالَ لَهَا امْکُثِي قَدْرَ مَا کَانَتْ تَحْبِسُکِ حَيْضَتُکِ ثُمَّ اغْتَسِلِي فَکَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ
موسیٰ بن قریش، اسحاق بن بکر بن مضر، جعفر بن ربیعہ، عراک بن مالک بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ زوجہ عبدالرحمن بن عوف ؓ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو خون کی شکایت کی آپ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا جتنے دن تجھ کو حیض روکتا ہے اتنے دن رکی رہ پھر غسل کر پس وہ ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں۔
Aisha, the wife of the Apostle ﷺ , said: Umm Habiba bin Jahsh who was the spouse of Abdul Rahman bin Auf made a complaint to the Messenger of Allah ﷺ about blood (which flows beyond the menstrual period). He said to her: Remain away (from prayer) equal (to the length of time) that your menstruation holds you back. After this, bathe yourself. And she washed herself before every prayer.
حائضہ پر روزے کی قضا واجب ہے نہ کہ نماز کی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُعَاذَةَ ح و حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ کَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَا تُؤْمَرُ بِقَضَائٍ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، ابوقلابہ، معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ ہم عورتوں کو ایام حیض کی نمازوں کی قضا کرنی چاہئے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے ہم میں سے جس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حیض آتا تو اس کو نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
Muadha reported: A woman asked Aisha: Should one amongst us complete prayers abandoned during the period of menses? Aisha said: Are you a Haruriya? When any one of us during the time of the Messenger of Allah ﷺ was in her menses (and abandoned prayer) she was not required to complete them.
حائضہ پر روزے کی قضا واجب ہے نہ کہ نماز کی کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ کُنَّ نِسَائُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحِضْنَ أَفَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَجْزِينَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ تَعْنِي يَقْضِينَ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، یزید، معاذہ ؓ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ حائضہ نمازوں کی قضا کرے گی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے تحقیق رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات حائضہ ہوتی تھیں کیا آپ ﷺ ان کو قضا کرنے کا حکم فرماتے تھے؟۔
It is reported from Muadha that she asked Aisha: Should a menstruating woman complete the prayer (abandoned during the menstrual period)? Aisha said: Are you a Hurariya? The wives of the Messenger of Allah ﷺ have had their monthly courses, (but) did he order them to make compensation (for the abandoned prayers)? Muhammad bin Jafar said: (Compensation) denotes their completion.
حائضہ پر روزے کی قضا واجب ہے نہ کہ نماز کی کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قُلْتُ لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَکِنِّي أَسْأَلُ قَالَتْ کَانَ يُصِيبُنَا ذَلِکَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلَاةِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، عاصم، معاذہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا کرتی ہے اور نماز کی قضا نہیں کرتی تو آپ نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے میں نے کہا میں تو حروریہ نہیں ہوں بلکہ جاننا چاہتی ہوں تو آپ ؓ نے فرمایا ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
Muadha said: I asked Aisha: What is the reason that a menstruating woman completes the fasts (that she abandons during her monthly course), but she does not complete the prayers? She (Hadrat Aisha) said: Are you a Haruriya? I said: I am not a Haruriya, but I simply want to inquire. She said: We passed through this (period of menstruation), and we were ordered to complete the fasts, but were not ordered to complete the prayers.
غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کے ساتھ پردہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، ابومرہ مولیٰ ام ہانی بنت ابی طالب سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی میں نے آپ ﷺ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ نے آپ ﷺ کے لئے کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا۔
Umm Hani bin Abu Talib reported: I went to the Messenger of Allah ﷺ on the day of the conquest (of Makkah) and found him take a bath, while his daughter Fatimah was holding a curtain around him.
غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کے ساتھ پردہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا کَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَی مَکَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ صَلَّی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَی
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، سعید بن ابی ہند، مرہ عقیل، ام ہانی بنت ابی طالب سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت حاضر ہوئی جب آپ ﷺ مکہ کے بلند حصہ پر تھے رسول اللہ ﷺ غسل کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ پر حضرت فاطمہ نے پردہ کیا پھر آپ ﷺ نے غسل کے بعد اپنے اوپر ایک کپڑا لپیٹا پھر آپ ﷺ نے چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں۔
Umm Hani bin Abu Talib reported: It was the day of the conquest (of Makkah) that she went to the Messenger of Allah ﷺ and he was staying at a higher part (of that city). The Messenger of Allah ﷺ got up for his bath. Fatimah held a curtain around him (in order to provide him privacy). He then put on his garments and wrapped himself with that and then offered eight rakahs of the forenoon prayer.
غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کے ساتھ پردہ کرے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَتَرَتْهُ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانَ سَجَدَاتٍ وَذَلِکَ ضُحًی
ابوکریب ابواسامہ، ولید بن کثیر، سعید بن ابی ہند، ام ہانی سے روایت ہے کہ دوسری سند سے ہے کہ آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ نے آپ ﷺ کے لئے کپڑے کے ساتھ پردہ کیا جب آپ ﷺ غسل کرچکے تو آپ ﷺ نے ایک کپڑا لپیٹ کر نماز چاشت کی آٹھ رکعتیں ادا کیں۔
This hadith is narrated by Said bin Abu Hind with the same chain of transmitters and said: His (the Holy Prophets) daughter Fatimah provided him privacy with the help of his cloth, and when he had taken a bath he took it up and wrapped it around him and then stood and offered eight rakahs of the forenoon prayer.
غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کے ساتھ پردہ کرے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا مُوسَی الْقَارِئُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَائً وَسَتَرْتُهُ فَاغْتَسَلَ
اسحاق بن ابراہیم، موسیٰ قاری، زائدہ، اعمش، سالم بن ابی جعد، کریب، ابن عباس، حضرت میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لئے غسل کا پانی رکھا اور میں نے آپ ﷺ کے لئے پردہ ڈالا پھر آپ ﷺ نے غسل فرمایا۔
Maimuna reported: I placed water for the Apostle ﷺ and provided privacy for him, and he took a bath.
شرمگاہ کی طرف دیکھنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَی عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَی عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَی الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، ضحاک بن عثمان، زید بن اسلم، عبدالرحمن بن ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے اور نہ مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔
Abdul Rahman, the son of Abu Said al-Khudri, reported from his father: The Messenger of Allah ﷺ said: A man should not see the private parts of another man, and a woman should not see the private parts of another woman, and a man should not lie with another man under one covering, and a woman should not lie with another woman under one covering.
شرمگاہ کی طرف دیکھنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا مَکَانَ عَوْرَةِ عُرْيَةِ الرَّجُلِ وَعُرْيَةِ الْمَرْأَةِ
ہارون بن عبداللہ، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک بن عثمان، حضرت ضحاک بن عثمان ؓ سے روایت ہے کہ۔۔۔ معنی اور مفہوم وہی ہے جو اس سے پہلے حدیث میں ہے الفاظ کا تغیر وتبدل ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Abu Fudaik and Dabbik bin Uthman with the same chain of transmitters and they observed: Private parts of man are the nakedness (which is concealed).
خلوت میں ننگے ہو کر غسل کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَی سَوْأَةِ بَعْضٍ وَکَانَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَی أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ قَالَ فَجَمَحَ مُوسَی بِإِثْرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّی نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَی سَوْأَةِ مُوسَی قَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَی مِنْ بَأْسٍ فَقَامَ الْحَجَرُ حَتَّی نُظِرَ إِلَيْهِ قَالَ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبُ مُوسَی بِالْحَجَرِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے غسل کرتے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے اور حضرت موسیٰ اکیلے غسل کرتے تو لوگوں نے کہا کہ اللہ کی قسم موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی صرف یہ چیز ہے کہ آپ کو ہر نیا کی بیماری ہے ایک مرتبہ آپ غسل کرنے گئے آپ نے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا اور موسیٰ اس کے پیچھے دوڑے اور فرماتے جاتے تھے اے پتھر میرے کپڑے دے میرے کپڑے دے یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ کی شرمگاہ کو دیکھ لیا اور انہوں نے کہا اللہ کی قسم موسیٰ (علیہ السلام) کو تو کوئی بیماری نہیں پتھر کھڑا ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا اپنے کپڑے لئے اور پتھر کو مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم اس پتھر پر موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب سے چھ یا سات نشانات موجود تھے۔
Amongst the traditions narrated from Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ on the authority of Abu Hurairah (RA) , the one is that Banu Israil used to take a bath naked, and they looked at the private parts of one another. Moses (علیہ السلام) (peace be upon him), however, took a bath alone (in privacy); and they said (tauntingly): By Allah, nothing prohibits Moses (علیہ السلام) to take a bath along with us, but sacrotal hernia. He ( Moses (علیہ السلام)) once went for a bath and placed his clothes on a stone and the stone moved on with his clothes. Moses (علیہ السلام) ran after it saying: O stone, my clothes,O stone, my clothes, and Banu Israil had the chance to see the private parts of Moses (علیہ السلام), and said: By Allah, Moses (علیہ السلام) does not suffer from any ailment. The stone then stopped, till Moses (علیہ السلام) had been seen by them, and he then took hold of his clothes and struck the stone. Abu Hurairah (RA) said: By Allah, there are the marks of six or seven strokes made by Moses (علیہ السلام) on the stone.
ستر چھپانے میں احتیاط کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا لَمَّا بُنِيَتْ الْکَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَکَ عَلَی عَاتِقِکَ مِنْ الْحِجَارَةِ فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَی الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ إِزَارِي إِزَارِي فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ عَلَی رَقَبَتِکَ وَلَمْ يَقُلْ عَلَی عَاتِقِکَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن حاتم بن میمون، محمد بن بکر، ابن جریج، اسحاق بن منصور، محمد بن رافع، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو نبی کریم ﷺ اور عباس ؓ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے کہ حضرت عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے پر پتھر کے نیچے رکھ لو آپ ﷺ نے ایسا کیا تو بےہوش ہو کر زمین پر گرپڑے اور آپ ﷺ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا میری ازار میری ازار پھر آپ ﷺ کا تہنبد باندھ دیا گیا ابن رافع کی روایت میں گردن پر تہبند رکھنے کا ذکر ہے کندھے پر نہیں۔
Jabir bin Abdullah reported: When the Ka’bah was constructed the Apostle of Allah ﷺ and Abbas went and lifted stones. Abbas said to the Messenger of Allah ﷺ : Place your lower garment on your shoulder (so that you may protect yourself from the roughness and hardness of stones). He (the Holy Prophet) did this, but fell down upon the ground in a state of unconciousness and his eyes were turned towards the sky. He then stood up and said: My lower garment, my lower garment; and this wrapper was tied around him. In the hadith transmitted by Ibn Rafi, there is the word: "On his neck" and he did not say: "Upon his shoulder."
ستر چھپانے میں احتیاط کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ الْحِجَارَةَ لِلْکَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَکَ فَجَعَلْتَهُ عَلَی مَنْکِبِکَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَی مَنْکِبِهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ قَالَ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِکَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا بن اسحاق، عمرو بن دینار، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ تعمیر کعبہ میں نبی کریم ﷺ لوگوں کے ساتھ پتھر لا رہے تھے اور آپ ﷺ نے تہبند باندھا ہوا تھا آپ ﷺ کو آپ کے چچا عباس ؓ نے کہا اے بھتجے اپنے ازار اتار کر اپنے کندھوں پر رکھ لو پتھر کے نیچے جابر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو اپنے کندھے پر رکھا تو غش کھا کر گرپڑے اس کے بعد آپ ﷺ کو برہنہ حالت میں نہیں دیکھا گیا۔
Jabir bin Abdullah reported: The Messenger of Allah ﷺ was carrying along with them (his people) stones for the Ka’bah and there was a waist wrapper around him. His uncle, Abbas, said to him: O son of my brother! if you take off the lower garment and place it on the shoulders underneath the stones, it would be better. He (the Holy Prophet) took it off and placed it on his shoulder and fell down unconscious. He (the narrator) said: Never was he seen naked after that day.
ستر چھپانے میں احتیاط کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ قَالَ فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّی بَلَغْتُ بِهِ إِلَی مَوْضِعِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَی ثَوْبِکَ فَخُذْهُ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً
سعید بن یحییٰ اموی، عثمان بن حکیم بن عباد بن حنیف انصاری، امامہ بن سہل بن حنیف، مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے آرہا تھا اور ہلکی ازار پہنے ہوئے تھا وہ کھل گئی میرے پاس پتھر تھا میں اس کو رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا یہاں تک کہ میں اس کی جگہ پر پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے کپڑے کی طرف واپس لوٹ جا اور اپنا کپڑا لے لے اور ننگے مت چلا کرو۔
Al-Miswar bin Makhrama reported: I was carrying a heavy stone and my lower garment was loose, and it, therefore, slipped off (so soon) that I could not place the stone (on the ground) and carry to its proper place. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Return to your cloth (lower garment), take it (and tie it around your waist) and do not walk naked.
پیشاب کے وقت پردہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ وَکَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ قَالَ ابْنُ أَسْمَائَ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ
شیبان بن فروخ، عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی بن میمون، محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب، حسن بن سعد مولیٰ حسن بن علی، عبداللہ بن جعفر سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر سوار کرلیا پھر میرے کان میں ایک راز کی ایسی بات بیان فرمائی جو میں لوگوں میں سے کسی کو نہ بتاؤں گا اور آپ ﷺ کو جو پردہ سب سے زیادہ پسند تھا وہ ٹیلہ یا کھجور کے باغ کا تھا۔
Abdullah bin Jafar reported: The Messenger of Allah ﷺ one day made me mount behind him and he confided to me something secret which I would not disclose to anybody; and the Messenger of Allah ﷺ liked the concealment provided by a lofty place or cluster of dates (while answering the call of nature), Ibn Asma said in his narration: It implied an enclosure of the date-trees.
جماع سے اوائل اسلام میں غسل واجب نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ منی نہ نکلے اس حکم کے منسوخ ہونے اور جماع سے غسل واجب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَی قُبَائَ حَتَّی إِذَا کُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَابِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ فَقَالَ عِتْبَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عَنْ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يُمْنِ مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَائُ مِنْ الْمَائِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل، ابن جعفر، شریک بن نمیر، عبدالرحمن بن ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوموار کے دن قبا کی طرف نکلا یہاں تک کہ ہم بنی سالم کے محلہ میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ حضرت عتبان بن مالک کے دروازے پر ٹھہر گئے اور اس کو آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتا ہوا نکلا آپ ﷺ نے فرمایا ہم نے آدمی کو جلدی میں ڈالا عتبان نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ جو اپنی بیوی سے جلدی الگ ہوجائے اور منی نہ نکلے اس کے لئے کیا حکم ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانی (غسل) پانی (منی کے خروج) سے واجب ہوتا ہے۔
Said al-Khudri narrated it from his father: I went to Quba with the Messenger of Allah ﷺ on Monday till we reached (the habitation) of Banu Salim. The Messenger of Allah ﷺ stood at the door of Itban and called him loudly. So he came out dragging his lower garnment. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: We have made this man to make haste Itban said: Messenger of Allah, if a man parts with his wife suddenly without seminal emission, what is he required to do (with regard to bath)? The Messenger of Allah ﷺ said: It is with the seminal emission that bath becomes obligatory.
جماع سے اوائل اسلام میں غسل واجب نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ منی نہ نکلے اس حکم کے منسوخ ہونے اور جماع سے غسل واجب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا الْمَائُ مِنْ الْمَائِ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانی (غسل) پانی (یعنی خروج منی) سے واجب ہوتا ہے۔
Abu Said al-Khudri reported:
The Apostle of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) observed: Bathing is obligatory in case of seminal emission.
جماع سے اوائل اسلام میں غسل واجب نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ منی نہ نکلے اس حکم کے منسوخ ہونے اور جماع سے غسل واجب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَائِ بْنُ الشِّخِّيرِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا کَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا
عبیداللہ بن معاذ عنبری، معتمر، ابوعلاء بن شخیر ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض احادیث کو دوسری احادیث سے منسوخ فرماتے جیسے قرآن کی آیات دوسری آیات کے لئے ناسخ ہوتی ہیں۔
Abu al. Ala bin al-Shikhkhir said: The Messenger of Allah ﷺ abrogated some of his commands by others, just as the Quran abrogates some part with the other.
جماع سے اوائل اسلام میں غسل واجب نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ منی نہ نکلے اس حکم کے منسوخ ہونے اور جماع سے غسل واجب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَقَالَ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاکَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ الْوُضُوئُ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، ذکوان، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے گھر کے پاس سے گزرے تو اس کو بلوایا وہ اس حال میں نکلے کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈالا اس نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو جلدی کرے یا تجھ کو امساک (انزال نہ ہوا ہو) تو تجھ پر غسل واجب نہیں ہوتا صرف وضو لازم ہوتا ہے۔
Abu Said al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ happened to pass by (the house) of a man amongst the Ansar, and he sent for him. He came out and water was trickling down from his head. Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps we put you to haste. He said: Yes Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: When you made haste or semen is not emitted, bathing is not obligatory for you, but ablution is binding. Ibn Bashshir has narrated it with a minor alteration.
جماع سے اوائل اسلام میں غسل واجب نہ ہوتا تھا یہاں تک کہ منی نہ نکلے اس حکم کے منسوخ ہونے اور جماع سے غسل واجب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يُکْسِلُ فَقَالَ يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنْ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي
ابوربیع زہرانی، حماد، ہشام بن عروہ، ابوکریب، محمد، علاء، ابومعاویہ، ہشام، ایوب، حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عورت سے صحبت کرے اور بغیر انزال علیحدہ ہوجائے تو آپ ﷺ نے فرمایا جو (رطوبت وغیرہ) عورت سے اس کو لگ جائے اس کو دھو دے پھر وضو کرے اور نماز ادا کرے۔
Ubayy Ibn Kab reported: I asked the Messenger of Allah ﷺ about a man who has sexual intercourse with his wife, but leaves her before orgasm. Upon this he (the Holy Prophet) said: He should wash the secretion of his wife, and then perform ablution and offer prayer.