تقدیر کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 48 · 52 hadiths · Page 3 of 3

6763Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ح و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْقِلٍ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِکِينَ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہزام ابوالیمان شعیب سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن عبیداللہ زہری، یونس ابن ابی ذئب ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ سے مشرکین کی ذریت کے بارے میں پوچھا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Shuaib and Maqil with a slight variation of wording.

6764Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِکِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ

ابن ابی عمر سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کے ان بچوں کے بارے میں پوچھا گیا جو بچپن میں ہی فوت ہوجاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about the children of the polytheists who die young. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: It is Allah Who knows what they would be doing.

6765Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِکِينَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ

یحییٰ بن یحیی، ابوعوانہ، ابی بشر سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان کے پیدا کرتے وقت بخوبی علم تھا کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہیں۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about the children of the polytheists, whereupon he said: It is Allah alone Who knows what they would be doing according to their creation.

6766Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ کَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَکُفْرًا

عبداللہ بن مسملہ بن قعنب معتمر بن سلیمان رقبہ بن مسقلہ اسحاق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ بچہ جسے حضرت خضر نے مار ڈالا تھا وہ فطرةً ہی کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کردیتا۔

Ubayye bin Kab reported that Allahs Messenger ﷺ said: The young man whom Khadir killed was a non-believer by his very nature and had he survived he would have involved his parents in defiance and unbelief.

6767Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ تُوُفِّيَ صَبِيٌّ فَقُلْتُ طُوبَی لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا وَلِهَذِهِ أَهْلًا

زہیر بن حرب، جریر، علاء بن مسیب فضیل بن عمرو عائشہ بنت طلحہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک بچہ فوت ہوگیا تو میں نے کہا اس کے لئے خوشی ہو وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لئے کچھ لوگوں کو پیدا کیا اور کچھ لوگوں کو اس کے لئے پیدا کیا۔

Aisha, the mother of the believers, reported that a child died and I said: There is happiness for this child who is a bird from amongst the birds of Paradise. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Dont you know that Allah created the Paradise and He created the Hell and He created the dwellers for this (Paradise) and the denizens for this (Hell)?

6768Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَی لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ السُّوئَ وَلَمْ يُدْرِکْهُ قَالَ أَوَ غَيْرَ ذَلِکَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، طلحہ بن یحییٰ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو انصار کے ایک بچہ کا جنازہ پڑھانے کے لئے بلایا گیا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس جنت کی چڑیوں میں سے چڑیا کے لئے خوشی ہو اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی گناہ کرنے کے زمانے تک پہنچا آپ نے فرمایا اے عائشہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جنت کے لئے کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے اور بعض کو جہنم کا اہل بنایا اور انہیں پیدا ہی جہنم کے لئے کیا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔

Aisha, the mother of the believers, said that Allahs Messenger ﷺ was called to lead the funeral prayer of a child of the Ansar. I said: Allahs Messenger, there is happiness for this child who is a bird from the birds of Paradise for it committed no sin nor has he reached the age when one can commit sin. He said: Aisha, per adventure, it may be otherwise, because God created for Paradise those who are fit for it while they were yet in their fathers loins and created for Hell those who are to go to Hell. He created them for Hell while they were yet in their fathers loins.

6769Sahih Muslim

ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی ح و حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی بِإِسْنَادِ وَکِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ

محمد بن صباح اسماعیل بن زکریا، طلحہ بن یحییٰ سلیمان بن معبد حسین بن حفص اسحاق بن منصور محمد بن یوسف سفیان، ثوری طلحہ بن یحییٰ وکیع، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yahya with the same chain of transmitters.

6770Sahih Muslim

مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْکُرِيِّ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ وَلَوْ کُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَکِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ کَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ قَالَ وَذُکِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ مِسْعَرٌ وَأُرَاهُ قَالَ وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا وَقَدْ کَانَتْ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابی بکر وکیع، مسعر علقمہ بن مرثد مغیرہ بن عبداللہ یشکری معرور بن سوید حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ زوجہ نبی ﷺ ام حبیبہ ؓ نے کہا اے اللہ مجھے اپنے خاوند رسول اللہ ﷺ اور والد ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے متمتمع کرنا نبی ﷺ نے فرمایا تو نے اللہ سے مقرر شدہ اوقات و ایام اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا ان میں سے کسی چیز کو وقت مقرر سے مقدم اور مؤخر نہیں کیا جاتا اور اگر تو اللہ سے سوال کرتی کہ وہ تجھے جہنم کے عذاب یا قبر کے عذاب سے پناہ دے تو وہ بہتر اور افضل ہوتا راوی نے کہا آپ ﷺ کے پاس بندروں اور خنزیروں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ نے کسی مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں چلائی اور تحقیق بندر اور سور پہلے ہی سے موجود تھے۔

Abdullah reported that Umm Habiba, the wife of Allahs Apostle ﷺ , said: O Allah, enable me to derive benefit from my husband, the Messenger of Allah ﷺ , and from my father Abu Sufyan (RA) and from my brother Muawiyah. Allahs Apostle ﷺ said: You have asked from Allah about durations of life already set, and the length of days already allotted and the sustenances the share of which has been fixed. Allah would not do anything earlier before its due time, or He would not delay anything beyond its due time. And if you were to ask Allah to provide you refuge from the torment of the HellFire, or from the torment of the grave, it would have good in store for you and better for you also. He (the narrator) further said: Mention was made before him about monkeys, and Misar (one of the narrators) said: I think that (the narrator) also (made a mention) of the swine, which had suffered metamorphosis. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Verily, Allah did not cause the race of those which suffered metamorphosis to grow or they were not survived by young ones. Monkeys and swine had been in existence even before (the metamorphosis of the human beings).

6771Sahih Muslim

مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ بِشْرٍ وَوَکِيعٍ جَمِيعًا مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ

ابوکریب ابن بشر مسعد ابن بشر وکیع، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے اس روایت میں عذاب جہنم اور عذاب قبر کے الفاظ ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Misar with the same chain of transmitters but with this variation that the hadith transmitted on the authority of Ibn Bishr and Waki, the torment of the Hell-Fire and the torment of grave have been mentioned together (and there is no conjunction of "or" between them).

6772Sahih Muslim

مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْکُرِيِّ عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَآثَارٍ مَوْطُوئَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَکِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ لَکَانَ خَيْرًا لَکِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِکْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ کَانُوا قَبْلَ ذَلِکَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، حجاج بن شاعر، حجاج اسحاق حجاج عبدالرزاق، ثوری علقمہ ابن مرثد مغیرہ بن عبداللہ یشکری معرور بن سوید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے کہا اے اللہ مجھے میرے خاوند رسول اللہ اور والد ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے متمتع فرما رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تو نے اللہ سے مقرر شدہ مدتوں اور چلائے ہوئے معین قدموں اور تقسیم کئے ہوئے رزق کا سوال کیا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز مقرر وقت سے مقدم نہ ہوگی اور نہ ہی مؤخر ہوگی اگر تو اللہ سے جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے عافیت مانگتی تو یہ تیرے لئے بہتر ہوتا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا بندر اور خنزیر ان مسخ شدہ میں سے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی نے کسی قوم کو ہلاک کرنے یا اسے عذاب دینے کے بعد اس کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور سور اس سے پہلے ہی موجود تھے۔

Ibn Masud reported that Umm Habiba said: O Allah, enable me to derive benefit from my husband, Allahs Messenger ﷺ , and from my father Abu Sufyan (RA) , and from my brother Muawiyah. Allahs Messenger ﷺ said to her: Verily, you have asked Allah about the durations of life already set, and the steps which you would take, and the sustenances the share of which is fixed. Nothing would take place earlier than its due time, and nothing would be deferred beyond that when it is due. So, if you were to ask Allah about your safety from the torment of Hell-Fire and from the torment of the grave, it would have been better for you. A person said: Allahs Messenger, what about those apes and swine which suffered metamorphosis? Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, did not destroy a people or did not torment a people, and let their race grow. Apes and swine had been even before that (when the deniers of truth were tormented and suffered metamorphosis).

6773Sahih Muslim

مقرر شدہ عمر اور رزق میں جس کا تقدیری فیصلہ ہوچکا ہے اس میں کمی یا زیادتی نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ وَرَوَی بَعْضُهُمْ قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ

ابوداؤد سلیمان بن معبد حسین بن حفص سفیان، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Sufyan through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

6774Sahih Muslim

تقدیر پر ایمان لانے اور تقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي کُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَی مَا يَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَکَ شَيْئٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا وَلَکِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَائَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس ربیعہ بن عثمان محمد بن یحییٰ بن حبان اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور پسندیدہ ہے ہر بھلائی میں ایسی چیز کی حرص کرو جو تمہارے لئے نفع مند ہو اور اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور اس سے عاجز مت ہو اور اگر تم پر کوئی مصیبت واقع ہوجائے تو یہ نہ کہو کاش میں ایسا ایسا کرلیتا کیونکہ کاش کا لفظ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A strong believer is better and is more lovable to Allah than a weak believer, and there is good in everyone, (but) cherish that which gives you benefit (in the Hereafter) and seek help from Allah and do not lose heart, and if anything (in the form of trouble) comes to you, dont say: If I had not done that, it would not have happened so and so, but say: Allah did that what He had ordained to do and your "if" opens the (gate) for the Satan.