حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی فَقَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ کُلِّ شَيْئٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ ہوا تو حضرت آدم حضرت موسیٰ پر غالب آگئے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہ آدم ہیں جنہوں نے لوگوں کو راہ راست سے دور کیا اور انہیں جنت سے نکلوایا حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم عطا کیا اور جسے لوگوں پر اپنی رسالت کے لئے مخصوص کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جی ہاں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا پس تم مجھے اس معاملہ پر ملامت کر رہے ہو جو میرے لئے میری پیدائش سے پہلے ہی مقدر کردیا گیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There was argument between Adam علیہ السلامعلیہ السلامand Moses (علیہ السلام), and Adam علیہ السلامعلیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said to him: You are the same Adam علیہ السلامwho misled people, and caused them to get out of Paradise. Adam علیہ السلامsaid: You are the same ( Moses (علیہ السلام)) whom Allah endowed the knowledge of everything and selected him amongst the people as His Messenger. He said: Yes. Adam علیہ السلامthen again said: Even then you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created.
حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَی عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی قَالَ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَهُ وَأَسْکَنَکَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِکَ إِلَی الْأَرْضِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي اصْطَفَاکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ وَأَعْطَاکَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ کُلِّ شَيْئٍ وَقَرَّبَکَ نَجِيًّا فَبِکَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ کَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَی بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا وَعَصَی آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَی قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَی أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی
اسحاق بن موسیٰ ابن عبداللہ بن موسیٰ بن عبداللہ یزید انصاری انس ابن عیاض حارث بن ابی ذباب یزید ابن ہرمز عبدالرحمن اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم اور موسیٰ کا اپنے رب کے پاس مکالمہ ہوا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے موسیٰ نے فرمایا آپ وہ آدم ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور تم میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں سکونت عطا کی پھر آپ نے لوگوں کو اپنی غلطی کی وجہ سے زمین کی طرف اتروا دیا آدم نے فرمایا آپ وہ موسیٰ ہیں جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے منتخب فرمایا اور آپ کو تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت تھی اور آپ کو سرگوشی کے لئے قربت عطا کی تو اللہ کو میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے پایا جس نے توارۃ کو لکھا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا چالیس سال پہلے۔ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تو نے اس میں (وَعَصَی آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَی) یعنی آدم نے اپنے رب کی ظاہرا نافرمانی کی اور راہ راست سے دور ہوئے پایا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جی ہاں حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ مجھے ایسا عمل کرنے پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ نے میرے لئے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There was an argument between Adam علیہ السلامand Moses (علیہ السلام) (peace be upon both of them) in the presence of their Lord. Adam علیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said: Are you that Adam علیہ السلامwhom Allah created with His Hand and breathed into him His sprit, and commanded angels to fall in prostration before him and He made you live in Paradise with comfort and ease. Then you caused the people to get down to the earth because of your lapse. Adam علیہ السلامsaid: Are you that Moses (علیہ السلام) whom Allah selected for His Messengership and for His conversation with him and conferred upon you the tablets, in which everything was clearly explained and granted you the audience in order to have confidential talk with you. What is your opinion, how long Torah would have been written before I was created? Moses (علیہ السلام) said: Forty years before. Adam علیہ السلامsaid: Did you not see these words: Adam علیہ السلامcommitted an error and he was enticed to (do so). He ( Moses (علیہ السلام)) said: Yes. Whereupon, he (Adam) said: Do you then blame me for an act which Allah had ordained for me forty years before He created me? Allahs Messenger ﷺ said: This is how Adam علیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام).
حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَقَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْکَ خَطِيئَتُکَ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي اصْطَفَاکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی
زہیر بن حرب، ابن حاتم یعقوب بن ابراہیم، ابن ابی عدی ابن شہاب حمید ابن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم و موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکالمہ ہوا تو آدم (علیہ السلام) سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہ آدم ہیں جسے آپ کی اپنی خطا نے جنت سے نکلوایا تھا۔ تو ان سے آدم (علیہ السلام) نے فرمایا آپ وہی موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے مخصوص فرمایا۔ پھر آپ مجھے ایسے حکم پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ نے میرے پیدا کرنے سے پہلے ہی مجھ پر مقدر فرما دیا تھا تو آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There was an argument between Adam علیہ السلامand Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام) said: Are you that Adam علیہ السلامwhose lapse caused you to get out of Paradise? Adam علیہ السلامsaid to him: Are you that Moses (علیہ السلام) whom Allah selected for His Messengership, for His conversation and you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created? This is how Adam علیہ السلامcame the better of Moses (علیہ السلام).
حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ
عمرو ناقد، ایوب بن نجار یمامی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، ابو ہریرہ۔ ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ ان اسناد سے بھی نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کی۔
Abu Hurairah (RA) narrated a hadith like this through another chain of transmitters.
حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
محمد بن منہال، ضریر، یزید بن زریع، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، ابوہریرہ ؓ اس سند سے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ
ابوطاہر احمد عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح ابن وہب، ابوہانی خولانی ابوعبدالرحمن حبلی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
Abdullah bin Amr bin al-As reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah ordained the measures (of quality) of the creation fifty thousand years before He created the heavens and the earth, as His Throne was upon water.
حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مکاملہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هَانِئٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْکُرَا وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ
ابن ابی عمر مقری حیوۃ محمد بن سہل تمیمی ابن ابی مریم نافع ابن یزید ابی ہانی اس سند سے بھی حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں یہ مذکور نہیں کہ اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hani with the same chain of transmitters, but there is no mention of "His Throne was upon water."
اللہ تعالیٰ کا مرضی کے مطابق دلوں کو پھیرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُقْرِئِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ کُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَائُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ
زہیر بن حرب، ابن نمیر، مقری زہیر عبداللہ بن یزید مقری حیوۃ ابوہانی ابوعبدالرحمن حبلی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں جسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ ) اے اللہ دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔
Abdullah bin Amr (RA) bin al-As reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily, the hearts of all the sons of Adam علیہ السلامare between the two fingers out of the fingers of the Compassionate Lord as one heart. He turns that to any (direction) He likes. Then Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, the Turner of the hearts, turn our hearts to Thine obedience.
ہر چیز کا تقدیر الہی کے ساتھ وابستہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزِ وَالْکَيْسِ أَوْ الْکَيْسِ وَالْعَجْزِ
عبدالاعلی بن حماد مالک بن انس، قتیبہ بن سعید مالک زیادہ بن سعید عمرو بن مسلم حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کے متعدد صحابہ سے ملاقات کی ہے وہ کہتے تھے ہر چیز تقدیر سے وابستہ ہے اور میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز تقدیر سے وابستہ ہے یہاں تک کہ عجز اور قدرت یا قدرت اور عجز۔
Tawus reported: I found some Companions of Allahs Messenger ﷺ as saying: Everything is by measure. And he further said: I heard Abdullah bin Umar as saying: There is a measure for everything-even for incapacity and capability.
ہر چیز کا تقدیر الہی کے ساتھ وابستہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ مُشْرِکُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا کُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب وکیع، سفیان، زیاد بن اسماعیل محمد بن عباد بن جعفر مخزومی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ مشرکینِ قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرنے کے لئے آئے تو یہ آیت نازل ہوئی (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ) 54۔ القمر: 48) جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا دوزخ کا عذاب چکھو بیشک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the polytheists of the Quraish came to have an argument with Allahs Messenger ﷺ in regard to Destiny and then this verse was revealed: "On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure" (liv. 48).
ابن آدم پر زنا وغیرہ میں سے حصہ مقدر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنْ الزِّنَا أَدْرَکَ ذَلِکَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّی وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِکَ أَوْ يُکَذِّبُهُ قَالَ عَبْدٌ فِي رِوَايَتِهِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید اسحاق عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میرے نزدیک بِاللَّمَمِ کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے اس قول سے بہتر کوئی بات نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا جسے وہ ضرور حاصل کرے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا کہنا ہے اور دل تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Verily Allah has fixed the very portion of adultery which a man will indulge in, and which he of necessity must commit. The adultery of the eye is the lustful look, and the adultery of the tongue is the licentious speech, the heart desires and yearns, which the parts may or may not put into effect.
ابن آدم پر زنا وغیرہ میں سے حصہ مقدر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنْ الزِّنَا مُدْرِکٌ ذَلِکَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْکَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَی وَيَتَمَنَّی وَيُصَدِّقُ ذَلِکَ الْفَرْجُ وَيُکَذِّبُهُ
اسحاق بن منصور ابوہشام مخزومی وہیب سہیل بن ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابن آدم پر اس کے زنا سے حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ لا محالہ اسے ملے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل کا گناہ خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying. Allah fixed the very portion of adultery which a man will indulge in. There would be no escape from it. The adultery of the eye is the lustful look and the adultery of the ears is listening to voluptuous (song or talk) and the adultery of the tongue is licentious speech and the adultery of the hand is the lustful grip (embrace) and the adultery of the feet is to walk (to the place) where he intends to commit adultery and the heart yearns and desires which he may or may not put into effect.
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَائَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ الْآيَةَ
حاجب بن ولید محمد بن حرب زبیدی زہری، سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ جانور کے پورے اعضاء والا جانور پیدا ہوتا ہے کیا تمہیں ان میں کوئی کٹے ہوئے عضو والا جانور معلوم ہوتا ہے پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا اگر تم چاہو تو آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا) 30۔ الروم: 30) پڑھ لو یعنی اے لوگو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت (دین اسلام ہے) کو لازم کرلو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی مخلوق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
There is none born but is created to his true nature (Islam). It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian quite as beasts produce their young with their limbs perfect. Do you see anything deficient in them? Then he quoted the Quran., The nature made by Allah in which He has created men there is no altering of Allahs creation; that is the right religion" (xxx. 33)
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً وَلَمْ يَذْکُرْ جَمْعَائَ
ابوبکر بن ابی شبیہ عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے البتہ ایک سند سے یہ الفاظ ہیں کہ جیسے جانور کے ہاں جانور پیدا ہوتا ہے اور کامل الاعضاء ہونے کو ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters and there is no mention of his deficiency in limbs.
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ ثُمَّ يَقُولُ اقْرَئُوا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِکَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
ابوطاہر احمد بن عیسیٰ ابن وہب، یونس بن یزید ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا یہ آیت پڑھو (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا) 30۔ الروم: 30) اے لوگوں اپنے اوپر اللہ کی بنائی فطرت کو لازم کرلو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی مخلوق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور یہی دین قیم ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No child is born but upon Fitra. He then said. Recite: "The nature made by Allah in which He created man, there is no altering of Allahs nature; that is the right religion."
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشَرِّکَانِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِکَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر وہ اس سے پہلے ہی مرجائے تو آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہوتے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No baby is born but upon Fitra. It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Polytheist. A person said: Allahs Messenger, what is your opinion if they were to die before that (before reaching the age of adolescence when they can distinguish between right and wrong)? He said: It is Allah alone Who knows what they would be doing.
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ عَلَی الْمِلَّةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِلَّا عَلَی هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّی يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَی هَذِهِ الْفِطْرَةِ حَتَّی يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اعمش، ابن نمیر، ابی معاویہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے ابن نمیر کی روایت میں یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ ملت (اسلامیہ) پر پیدا ہوتا ہے اور حضرت ابومعاویہ کی روایت میں یہ ہے کہ وہ اس ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کر دے ابوکریب کی روایت میں ہے کہ ہر پیدا ہونے والا اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان چل سکے اور اس کے ضمیر کی ترجمانی کرسکے۔
It is reported on the authority of Abu Muawiyahh (RA)h (RA) that (the Holy Prophet) said: Every new-born babe is born on the millat (of Islam) and he remains on this until his tongue is enabled to express himself.
This hadith has been narratted on the authority of Abu Muawiyahh (RA)h (RA) through another chain of transmitters (and the words are): "Every child is born but on this Fitra so long as he does not express himself with his tongue."
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَی هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ کَمَا تَنْتِجُونَ الْإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَائَ حَتَّی تَکُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی رسول اللہ ﷺ کی مروی احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بھی پیدا کیا جاتا ہے اسے اس فطرت اسلام پر پیدا کیا جاتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بناتے ہیں جیسے اونٹوں کے بچے پیدائش کے وقت تمہیں پورے اعضاء والے نظر آتے ہیں کیا تمہیں کٹے ہوئے اعضاء والا بھی ملتا ہے بلکہ تم خود ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو بچپن میں ہی فوت ہوجائے اس کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger (may peace be upom him) many ahadith and one amongst them is that he is reported to have said: An infant is born according to his (true) nature. It is his parents who make him a Jew, a Christian, just as a she-camel gives birth to its young ones. Do you find any deficiency in their limbs? You cut their ears (i. e. after birth). They (the Companions of the Holy Prophet) said: What is your opinion about him who dies in infancy? Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: It is Allah alone Who knows best what they would be doing.
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَی الْفِطْرَةِ وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ فَإِنْ کَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ کُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْکُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر انسان کو اس کی والدہ فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے بعد اس کے والدین اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں کہ اگر والدین مسلمان ہوں تو وہ مسلمان بن جاتا ہے ہر انسان کی پیدائش کے بعد اس کے دونوں پہلوؤں میں شیطان انگلی چبھو دیتا ہے سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The mother of every person gives him birth according to his true nature. It is subsequently his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian. Had his parents been Muslim he would have also remained a Muslim. Every person to whom his mother gives birth (has two aspects of his life); when his mother gives birth Satan strikes him but it was not the case with Mary and her son (Jesus Christ).
ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِکِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عَامِلِينَ
ابوطاہر ابن وہب، ابن ابی ذہب یونس ابن شہاب عطاء بن یزید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکیں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about the children of the polytheists, whereupon he said: It is Allah Who knows best what they would be doing.