اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَائِ زَمْزَمَ فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَی کَذَا وَکَذَا قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ إِلَی أَسْفَلِ بَطْنِهِ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَکَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِکْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَی طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفَتَحَ لَنَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ قَالَ فَأَتَيْنَا عَلَی آدَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَذَکَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَائِ الثَّانِيَةِ عِيسَی وَيَحْيَی عَلَيْهَا السَّلَام وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَةِ فَأَتَيْتُ عَلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَکَی فَنُودِيَ مَا يُبْکِيکَ قَالَ رَبِّ هَذَا غُلَامٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَکْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَةِ فَأَتَيْتُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَی أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الْأَنْهَارُ قَالَ أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ کُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالْآخَرُ لَبَنٌ فَعُرِضَا عَلَيَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقِيلَ أَصَبْتَ أَصَابَ اللَّهُ بِکَ أُمَّتُکَ عَلَی الْفِطْرَةِ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ کُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلَاةً ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّتَهَا إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ
محمد بن مثنی، محمد ابن ابوعدی، سعید، قتادہ، انس بن مالک ؓ، حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے سنا کہ اس نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں بیت اللہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی حالت میں تھا تو میں نے ایک کہنے والے کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ ہم دونوں آدمیوں میں ایک تیسرے ہیں پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا اس میں زم زم کا پانی تھا میرا سینہ کھولا گیا (یہاں سے یہاں تک) راوی قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے معنی کے بارے میں اپنے ساتھی سے پوچھا تو اس نے کہا پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا پھر میرا دل نکال کر اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر اسے اس کی جگہ پر لوٹا دیا گیا پھر ایمان اور حکمت سے اسے بھر دیا گیا پھر سفید رنگ کا ایک جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا جہاں تک اس کی نظر پہنچتی وہاں وہ قدم رکھتا تھا مجھے اس پر سوار کرایا گیا پھر ہم چلے یہاں تک کہ آسمان دنیا پر آئے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا پوچھا گیا کون؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ کہاں ہاں پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا فرشتوں نے کہا خوش آمدید آپ کا تشریف لانا مبارک ہو آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہماری ملاقات حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی اور پھر باقی واقعہ اسی طرح ہے جس طرح سابقہ حدیث میں گزرا اور یہ بھی ذکر کیا کہ دوسرے آسمان میں حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ سے ملاقات ہوئی اور تیسرے آسمان میں حضرت یوسف سے ملاقات ہوئی اور چوتھے آسمان میں حضرت ادریس (علیہ السلام) پانچویں میں حضرت ہارون سے ملاقات ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے وہاں میری ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سلام کیا موسیٰ نے فرمایا خوش آمدید اے نیک بھائی پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے آواز آئی اے موسیٰ کیوں روتے ہو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار اس نوجوان کو تو نے میرے بعد مبعوث فرمایا اور میری امت کی بہ نسبت اس کی امت کے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا پھر ہم آگے بڑھے یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے وہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی اور ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں جو سدرۃ المنتہی کی جڑ سے نکلتی ہیں دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں۔ باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں پھر مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا میں نے جبرائیل سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ جبرائیل نے کہا کہ یہ بیت المعمور ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے (بکثرت تعداد) پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب تھی اور دوسری میں دودھ میں نے دودھ کو پسند کیا پھر کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو پا لیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی وجہ سے آپ ﷺ کی امت کو فطرت عطا فرمائی پھر ہر روز مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں پھر اس واقعہ کو آخر حدیث تک ذکر فرمایا۔
Anas bin Malik (RA) reported on the authority of Malik bin Sa sa, perhaps a person of his tribe, that the Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: I was near the House (i. e. Ka’bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of Zamzam and then it was restored in its original position, after which it was filled with faith and wisdom. I was then brought a white beast which is called al-Buraq, bigger than a donkey and smaller than a mule. Its stride was as long as the eye could reach. I was mounted on it, and then we went forth till we reached the lowest heaven. Gabriel (علیہ السلام) asked for the (gate) to be opened, and it was said: Who is he? He replied: Gabriel (علیہ السلام). It was again said: Who is with thee? He replied: Muhammad ﷺ . It was said: Has he been sent for? He ( Gabriel (علیہ السلام)) said: Yes. He (the Prophet) said: Then (the gate) was opened for us (and it was said): Welcome unto him! His is a blessed arrival. Then we came to Adam علیہ السلام(peace be upon him). And he (the narrator) narrated the whole account of the hadith. (The Holy Prophet) observed that he met Jesus in the second heaven, Yahya (peace be on both of them) in the third heaven, Yusuf in the third, Idris in the fourth, Harun in the fifth (peace and blessings of Allah be upon them). Then we travelled on till we reached the sixth heaven and came to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) and I greeted him and he said: Welcome unto righteous brother and righteous prophet. And when I passed (by him) he wept, and a voice was heard saying: What makes thee weep? He said: My Lord, he is a young man whom Thou hast sent after me (as a prophet) and his followers will enter Paradise in greater numbers than my followers. Then we travelled on till we reached the seventh heaven and I came to Ibrahim. He (the narrator) narrat- ed in this hadith that the Prophet ﷺ of Allah ﷺ told that he saw four rivers which flowed from (the root of the lote-tree of the farthest limits): two manifest rivers and two hidden rivers. I said: Gabriel (علیہ السلام)! what are these rivers? He replied: The two hidden rivers are the rivers of Paradise, and as regards the two manifest ones, they are the Nile and the Euphrates. Then the Bait-ul-Mamur was raised up to me. I said: O Gabriel (علیہ السلام)! what is this? He replied: It is the Bait-ul-Mamur. Seventy thousand angels enter into it daily and, after they come out, they never return again. Two vessels were then brought to me. The first one contained wine and the second one contained milk, and both of them were placed before me. I chose milk. It was said: You did right. Allah will guide rightly through you your Ummah on the natural course. Then fifty prayers daily were made obligatory for me. And then he narrated the rest of the hadith to the end.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَی مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغُسِلَ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِکْمَةً وَإِيمَانًا
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، انس بن مالک، حضرت مالک بن صعصعہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اس طرح مذکورہ حدیث کی طرح ذکر فرمایا اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ میرے پاس سونے کا طشت حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا لایا گیا پھر میرے سینے کو پیٹ کے نیچے تک کھولا گیا اسے زمزم کے پانی سے دھویا اور ایمان سے بھر دیا گیا۔
It is reported on the authority of Malik bin Sasa that the Messenger of Allah ﷺ narrated the hadith (mentioned above) and added to it: I was brought a gold basin full of wisdom and faith, and then the (part of the body) right from the upper end of the chest to the lower part of the abdomen was opened and it was washed with the water of Zamzam and then flled with wisdom and faith.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ مُوسَی آدَمُ طُوَالٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَقَالَ عِيسَی جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَکَرَ مَالِکًا خَازِنَ جَهَنَّمَ وَذَکَرَ الدَّجَّالَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھ سے تمہارے نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لمبے قد کے تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوات کے ایک آدمی ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا کہ وہ درمیانہ قد اور گھنگریالے بالوں والے ہیں اور آپ ﷺ نے مالک داروغہ جہنم اور دجال کے بارے میں ذکر فرمایا۔
Qatada reported that he heard Abu al-Aliya saying that the cousin of your Prophet ﷺ , i. e. Ibn Abbas (RA) , told him: The Messenger of Allah ﷺ , while narrating his night journey observed: Musa (peace be upon him) was a man of high stature as if he was of the people of the Shanua (tribe), and Jesus was a well-built person having curly hair. He also mentioned Malik, the guardian of Hell, and Dajjal.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَی مُوسَی بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَی الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ وَأُرِيَ مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلَا تَکُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ قَالَ کَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِيَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام
عبد بن حمید، یونس بن محمد، شیبان ابن عبدالرحمن، قتادہ، ابوعالیہ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) پر میرا گزر ہوا تو وہ لمبے قد اور گھنگریالے بالوں والے آدمی تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوء کے ایک آدمی ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ درمیانہ قد اور سرخ وسفید رنگ والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور مجھے مالک داروغہ جہنم اور دجال کو دکھایا گیا ان چند نشانیوں میں سے جو اللہ نے مجھے دکھائیں، آپ کی جو ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ سے ہوئی تو اس میں شک نہ کر حضرت قتادہ ؓ اس کی تفسیر میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی ﷺ کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بلا شک وشبہ ملاقات ہوئی۔
Abu al-Aliya reported: Ibn Abbas (RA) , the son of your Prophets uncle, told us that the Messenger of Allah ﷺ had observed: On the night of my night journey I passed by Moses (علیہ السلام) bin Imran (peace be upon him), a man light brown in complexion, tall. well-built as if he was one of the men of the Shanua, and saw Jesus son of Mary as a medium-statured man with white and red complexion and crisp hair, and I was shown Malik the guardian of Fire, and Dajjal amongst the signs which were shown to me by Allah. He (the narrator) observed: Then do not doubt his (i. e. of the Holy Prophet) meeting with him ( Moses (علیہ السلام)). Qatada elucidated it thus: Verily the Apostle of Allah ﷺ , met Moses (علیہ السلام) (peace be upon him).
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا فَقَالُوا هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام هَابِطًا مِنْ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَی اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ثُمَّ أَتَی عَلَی ثَنِيَّةِ هَرْشَی فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَی قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يُونُسَ بْنِ مَتَّی عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی نَاقَةٍ حَمْرَائَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ وَهُوَ يُلَبِّي قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ هُشَيْمٌ يَعْنِي لِيفًا
احمد بن حنبل، سریج بن یونس، ہشیم، داؤد بن ابی ہند، ابوعالیہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر وادی ازرق سے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یہ وادی ازرق ہے آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسیٰ کو چوٹی سے اترتا ہوا اور بلند آواز سے لبیک کہتا ہوا دیکھ رہا ہوں اس کے بعد آپ ﷺ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو پوچھا یہ وادی کونسی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ ہرش کی چوٹی ہے آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) کو موٹی اونٹنی پر سوار اور بالوں والا جبہ پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں ابن حنبل (رح) اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ہشیم نے کہا کہ لیفا یعنی کھجور کے درخت کی چھال۔
Abu al-Aliya narrated it on the authority of Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ passed through the valley of Azraq, and he asked: Which valley is this? They said: This is the valley of Azraq, and he observed: (I perceive) as if I am seeing Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) coming down from the mountain track, and he is calling upon Allah loudly (saying: Here I am! at your service! ). Then he came to the mountain track of Harsha. He (the Holy Prophet) said: Which is this mountain track? They said: It is the mountain track of Harsha. He observed (I feel) as If I am seeing Yunus (Jonah-peace be upon him) son of Matta on a well- built red dromedary, with a cloak of wool around him and the rein of his dromedary is made of the fibres of date-palm, and he is calling upon Allah (saying: Here I am! at your service, my Lord! ). Ibn Hanbal said in the hadith narrated by him: Hushaim said that the meaning of khulba was fibre of date-palm.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا فَقَالُوا وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَی اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّی أَتَيْنَا عَلَی ثَنِيَّةٍ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ قَالُوا هَرْشَی أَوْ لِفْتٌ فَقَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يُونُسَ عَلَی نَاقَةٍ حَمْرَائَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، داؤد، ابوعالیہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی سے گزرے آپ ﷺ نے پوچھا یہ کونسی وادی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یہ ارزق کی وادی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺ نے ان کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ فرمایا جو راوی داؤد کو یاد نہ رہا موسیٰ (علیہ السلام) انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے بلند آواز سے لبیک کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلتے ہوئے ایک چوٹی پر آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا یہ کونسی چوٹی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ہر شیٰ یا لفت کی چوٹی ہے آپ ﷺ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کو ایک سرخ اونٹنی پر بالوں کا جبہ پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے درخت کی چھال کی ہے اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں۔
Abu al-Aliya narrated it on the authority of Ibn Abbas that he said: We travelled with the Messenger of Allah ﷺ between Makkah and Madinah and we passed by a valley. He (the Holy Prophet) asked: Which valley is this? They said: This is the valley of Azraq Upon this he (the Holy Prophet) remarked: (I feel) as if I am seeing Moses (علیہ السلام) (peace be upon him), and then he described something about his complexion and hair, which Diwud (the narrator) could not remember. He ( Moses (علیہ السلام), as described by the Holy Prophet) was keeping his fingers in his ears and was responding loudly to Allah (saying: I am as Thy service, my Lord) while passing through that valley. We then travelled (further) till we came to the mountain trail. He (the Holy Prophet) said: Which mountain trail is this? They said: It is the Harsha or Lift. He (the Holy Prophet) said: (I perceive) as if I am seeing Yunus on a red camel, with a cloak of wool around him. The halter of his camel was that of the fibre of date-palm, and he was passing through the valley saying: I am at Thy service! my Lord.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاکَ وَلَکِنَّهُ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ وَأَمَّا مُوسَی فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، مجاہد، ابن عباس حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں موجود تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے تو یہ آپ ﷺ سے نہیں سنا مگر آپ ﷺ نے یہ ضرور فرمایا کہ حضرت ابراہیم جو تمہارے صاحب جیسے ہیں اور حضرت موسیٰ گندم گوں رنگ اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں اور وہ ایسے سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کا بدن گٹھا ہو اور اس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے گویا کہ میں انہیں اس طرح دیکھ رہا ہو کہ وہ وادی میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے ہیں۔
It is narrated on the authority of Mujahid that he said: We were with Ibn Abbas and (the people) talked about al-Dajjal. (One of them remarked. There is written between his eyes (the word) Kafir (infidel). The narrator said: Ibn Abbas remarked: I did not hear him (the Holy Prophet) say it, but he said: So far as Ibrahim is concerned. you may see your companion and so far as Moses (علیہ السلام) is concerned, he is a well-built man with wheat complexion (riding) on a red camel with its halter made of the fibre of date-palm (and I perceive) as if I am seeing towards him as he is going down in the valley saying: I am at Thy service! my Lord.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَائُ فَإِذَا مُوسَی ضَرْبٌ مِنْ الرِّجَالِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُکُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، ابوزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیا کرام (علیہم السلام) میرے سامنے لائے گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) درمیانے انسان تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوء کے آدمی ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہ عروہ بن مسعود نظر آئے ہیں میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہ تمہارے صاحب ( یعنی آپ ﷺ ہیں اور میں نے حضرت جبرائیل کو دیکھا تو مجھے ان میں سب سے زیادہ مشابہ حضرت دحیہ ؓ نظر آئے اور ابن رمح کی روایت میں ہے کہ دحیہ بن خلیفہ۔
It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: There appeared before me the apostles, and Moses (علیہ السلام) was among men as if he was one of the people of Shanua, and I saw Jesus son of Mary (peace be upon him) and I saw nearest in resemblance with him was Urwa bin Masud, and I saw Ibrahim (blessings of Allah be upon him) and I see your companions much in resemblance with him, i. e. his personality, and I saw Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) and I saw Dihya nearest in resemblance to him; but in the narration of Ibn Rumh it is Dihya bin Khalifa.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَی فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا قَالَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ فَأُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقَالَ هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَّا إِنَّکَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبد، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی پھر آپ ﷺ نے ان کی شکل و صورت کے بارے میں فرمایا میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اس طرح فرمایا راوی کو شک ہے کہ وہ سیدھے بالوں والے قبیلہ شنوء کے آدمیوں جیسے تھے آپ ﷺ نے فرمایا میری ملاقات حضرت عیسیٰ بن مریم سے ہوئی تو وہ درمیانہ قد سرخ رنگ والے تھے گو یا کہ ابھی ابھی حمام سے نکلے ہوں اور میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ان میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ دونوں میں سے جس کو چاہو پسند کرلو میں نے دودھ کو پسند کرلیا اور اسے پیا جبرائیل نے کہا آپ ﷺ کو راہ فطرت نصیب ہوئی یا آپ ﷺ فطرت تک پہنچ گئے اور اگر آپ شراب پسند فرماتے تو آپ ﷺ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Apostle of Allah ﷺ said: When I was taken for the night journey I met Moses (علیہ السلام) peace be upon him). The Apostle of Allah ﷺ gave his description thus: He was a man, I suppose-and he (the narrator) was somewhat doubtful (that the Holy Prophet ﷺ observed): ( Moses (علیہ السلام)) was a man erect in stature with straight hair on his head as it he was one of the men of the Shanua; and I met Jesus and the Apostle of Allah ﷺ described him as one having a medium stature and a red complexion as if he had (just) come out of the bath He observed: I saw Ibrahim (peace be upon him) and amongst his children I have the greatest resemblance with him. He said: There were brought to me two vessels. In one of them was milk and in the other one there was wine. And it was said to me: Select any one you like. So I selected the vessel containing milk and drank it. He (the angel) said: You have been guided on al-fitra or you have attained al-fitra. Had you selected wine, your Ummah would have been misled.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات دکھایا گیا کہ میں بیت اللہ کے پاس ہوں میں نے ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا جیسے تم نے کسی خوبصورت گندمی رنگ والے آدمی کو دیکھا ہو کندھوں تک اس کے بال ہوں جیسے تم نے کسی اچھے کندھوں تک بالوں والے کو دیکھا ہو اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا وہ ٹیک لگائے ہوئے ہیں دو آدمیوں پر یا ان کے کندھوں پر اور بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں اور اس کے بعد میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال زیادہ گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح تھی میں نے پوچھا یہ کون ہے تو کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I found myself one night near the Ka’bah, and I saw a man with wheat complexion amongst the fair-complexioned men that you ever saw. He had a lock of hair the most beautiful of the locks that you ever saw. He had combed it. Water was trickling out of them. He was leaning on two men, or on the shoulders of two men, and he was circumscribing the Ka’bah. I asked, What is he? It was said: He is al-Masih son of Mary. Then I saw another person, stout and having too much curly hair, and blind in his right eye as if it was a full swollen grape. I asked Who is he? It was said: He is al-Masih al-Dajjal.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مُوسَی وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ کَأَحْسَنِ مَا تَرَی مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْکِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَائً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَی کَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنْ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
محمد بن اسحاق مسیبی، انس، ابن عیاض، موسیٰ ابن عقبہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کے بارے میں ذکر فرمایا تو بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں، آگاہ رہو کہ مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے، حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات خواب میں بیت اللہ کے پاس ایک آدمی دکھایا گیا تو وہ خوبصورت گندمی رنگ والوں جیسا گندمی رنگ کا آدمی تھا کندھوں تک اس کے بال تھے اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر تھے اور وہ ان دونوں آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت مسیح بن مریم ہیں اور مجھے ان کے پیچھے ایک اور آدمی نظر آیا جس کے بال بےحد گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا میرے دیکھے ہوئے لوگوں میں بنی قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے وہ بھی دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar that one day the Messenger of Allah ﷺ mentioned in the presence of people about al-Masih al-Dajjal. He said: Verily Allah (hallowed be He and High) is not blind of one eye. Behold, but the Masih al-Dajjal is blind of right eye as if his eye is like a swollen grape, and the Messenger of Allah ﷺ said: I was shown in a dream in the night that near the Ka’bah there was a man fair-complexioned, fine amongst the white-complexioned men that you ever saw, his locks of hair were falling on his shoulders. He was a man whose hair were neither too curly nor too straight, and water trickled down from his head. He was placing his bands on the shoulders of two persons and amidst them was making a circuit around the Ka’bah. I said: Who is he? They replied: Al-Masih son of Mary. And I saw behind him a man with intensely curly hair, blind of right eye. Amongst the persons I have ever seen Ibn Qatan has the greatest resemblance with him. He was making a circuit around the Ka’bah by placing both his hands on the shoulders of two persons. I said: Who is he? They said; It is al-Masih al-Dajjal.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ الْکَعْبَةِ رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی رَجُلَيْنِ يَسْکُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَ وَرَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَی أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
ابن نمیر، حنظلہ، سالم، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بیت اللہ کے پاس ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا اس کے بال نکلے ہوئے تھے اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا یا اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا یہ کون ہے تو لوگوں نے کہا کہ یہ عیسیٰ بن مریم ہیں یا اس طرح فرمایا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ کہا حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے پیچھے ایک دوسرا آدمی نظر آیا جس کا رنگ سرخ، بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا تھا میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں اس سے سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: I saw near the Ka’bah a man of fair complexion with straight hair, placing his hands on two persons. Water was flowing from his head or it was trickling from his head. I asked: Who is he? They said: He is Jesus son of Mary or al-Masih son of Mary. The narrator) says: I do not remember which word it was. He (the Holy Prophet) said: And I saw behind him a man with red complexion and thick curly hair, blind in the right eye. I saw in him the greatest resemblance with Ibn Qitan I asked: Who is he? They replied: It is al-Masih al-Dajjal.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا کَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، ابوسلمہ ؓ، عبدالرحمن، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش نے مجھے جھٹلایا اور میں حطیم میں کھڑا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا اور میں دیکھ کر اس کی نشانیاں بتلانے لگا۔
It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: When the Quraish belied me, I was staying in Hatim and Allah lifted before me Bait-ul-Maqdis and I began to narrate to them (the Quraish of Makkah) its signs while I was in fact looking at it.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَائً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَائً قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سالم، ابن عمر بن خطاب ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اس دوران کہ میں سو رہا تھا میں نے اپنے آپ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا او ایک سیدھے لمبے بالوں والے آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان دیکھا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا یا اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں پھر میں جاتے ہوئے متوجہ ہوا تو ایک سرخ رنگ بھاری بھر کم آدمی کو دیکھا کہ جس کے بال گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا کہ اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور تھی میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ دجال ہے لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے مشابہ ابن قطن ہے۔
Abdullah reported on the authority of his father Umar bin Khattab that he heard from the Messenger of Allah ﷺ say: I was sleeping when I saw myself making circuit around the Ka’bah, and I saw there a man of fair complexion with straight hair between two men. Water was flowing from his head or water was falling from his head. I said: Who is he? They answered: He is the son of Mary. Then I moved forward and cast a glance and there was a bulky man of red complexion with thick locks of hair on his head, blind of one eye as it his eye was a swollen grape. I asked: Who is he? They said: He is Dajjal. He had close resemblance with Ibn Qatan amongst men.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَائَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ قَالَ فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَإِذَا مُوسَی قَائِمٌ يُصَلِّي فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَإِذَا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ فَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ قَائِلٌ يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ
زہیر بن حرب، حجین بن مثنی، عبدالعزیز (ابن ابی سلمہ)، عبداللہ بن فضل، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے میرے معراج پر جانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی چند ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جن کو میں دوسری اہم چیزوں میں مشغولیت کے باعث محفوظ نہ رکھ سکا تھا، مجھے اس کا اتنا زیادہ افسوس ہوا کہ اتنا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے درمیان پردے اٹھا کر میرے سامنے کردیا میں نے اسے دیکھ کر جس کے بارے میں سوال کرتے وہ انہیں بتلا دیتا اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء (علیہ السلام) کی ایک جماعت میں دیکھا اور حضرت موسیٰ کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا گویا کہ وہ گٹھے ہوئے جسم اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں گو یا کہ وہ قبیلہ شنوء کے ایک آدمی ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا تو لوگوں میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی ؓ ہیں اور حضرت ابراہیم کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا لوگوں میں سے سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں اس کے بعد نماز کا وقت آیا تو میں امام بنا پھر میرے نماز سے فارغ ہونے پر ایک کہنے والے نے کہا کہ اے محمد ﷺ یہ مالک، داروغہ جہنم ہے اس پر سلام کیجئے میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو پہلے اس نے مجھے سلام کیا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I found myself in Hijr and the Quraish were asking me about my might journey. I was asked about things pertaining to Bait-ul-Maqdis which I could not preserve (in my mind). I was very much vexed, so vexed as I had never been before. Then Allah raised it (Bait-ul-Maqdis) before my eyes. I looked towards it, and I gave them the information about whatever they questioned me I also saw myself among the group of apostles. I saw Moses (علیہ السلام) saying prayer and found him to be a well-built man as if he was a man of the tribe of Shanua. I saw Jesus son of Mary (peace be upon him) offering prayer, of all of men he had the closest resemblance with Urwa bin Masud al-Thaqafi. I saw Ibrahim (peace be upon him) offering prayer; he had the closest resemblance with your companion (the Prophet ﷺ himself) amongst people. When the time of prayer came I led them. When I completed the prayer, someone said: Here is Malik, the keeper of the Hell; pay him salutations. I turned to him, but he preceded me in salutation.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَی سِدْرَةِ الْمُنْتَهَی وَهِيَ فِي السَّمَائِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ إِذْ يَغْشَی السِّدْرَةَ مَا يَغْشَی قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِکْ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، مالک بن مغول، ابن نمیر، زہیر بن حرب، عبداللہ بن نمیر، زبیر بن عدی، طلحہ بن مصرف، مرہ، عبداللہ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کے لئے سیر کرائی گئی تو آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں واقع ہے زمین سے اوپر چڑھنے والی چیز اور اوپر سے نیچے آنی والی چیز یہاں آکر رک جاتی ہے پھر اسے لے جایا جاتا ہے اللہ نے فرمایا (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53۔ النجم: 16) کہ ڈھانک لیتی ہے وہ چیزیں کہ جو ڈھانک لیتی ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا یعنی سونے کے پتنگے۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں پانچ نمازیں سورت البقرہ کی آخری آیتیں اور آپ ﷺ کی امت میں ہر ایک ایسے آدمی کو بخش دیا گیا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah (b. Umar) that when the Messenger of Allah ﷺ was taken for the Night journey, he was taken to Sidrat-ul-Muntaha, which is situated on the sixth heaven, where terminates everything that ascends from the earth and is held there, and where terminates every- thing that descends from above it and is held there. (It is with reference to this that) Allah said:" When that which covers covered the lote-tree" (al-Quran, Iiii. 16). He (the narrator) said: (It was) gold moths. He (the narrator further) said: The Messenger of Allah ﷺ was given three (things): he was given five prayers, be was given the concluding verses of Sura al-Baqarah, and remission of serious Sins for those among his Ummah who associate not anything with Allah
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
ابوربیع، زہرانی، عباد، ابن عوام، شیبانی، حضرت سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زر بن حبیش سے اللہ کے فرمان (فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی) کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔
Al-Shaibini reported to us: I asked Zirr bin Hubaish about the words of Allah (the Mighty and Great):" So he was (at a distance) of two bows or nearer" (al-Quran, Iiii 8). He said: Ibn Masud informed me that, verily, the Apostle of Allah ﷺ saw Gabriel (علیہ السلام) and he had six hundred wings.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، شیبانی، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی میں دیکھنے سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھنا ہے آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔
Al-Shaibani narrated on the authority of Zirr who narrated it on this authority ofAbdullah that the (words of Allah):" The heart belied not what he saw" (al Quran, Iiii. 11) imply that he saw Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) and he had six hundred wings.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
عبیداللہ بن معاذ عبنری، شعبہ، سلیمان، شیبانی، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں (لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی) یعنی آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں اس دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔
Zirr bin Hubaish narrated it on the authority of Abdullah (that the words of Allah):" Certainly he saw of the greatest signs of Allah" (al-Quran, liii. 18) imply that he saw Gabriel (علیہ السلام) in his (original) form and he had six hundred wings.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبدالملک، عطاء، ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ( وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) کے بارے میں فرمایا کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the (words of Allah):" And certainly he saw him in another descent" (al-Quran, Iiii. 13) imply that he saw Gabriel (علیہ السلام).