ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 16 of 23

396Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا آمَنَ النَّاسُ کُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن حعفر، علاء ابن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا پھر جب سورج مغرب سے نکلے گا تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے مگر اس وقت کا ایمان لانا کسی کو فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے (یقینی قیامت کی نشانی سے قبل) ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی تھی۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The (Last) Hour shall not came till the sun rises from the place of its setting And on the day when it rises from the place of its setting even if all the people together affirmed their faith, it would not be of any avail to one who did not believe previously and derived no good out of his belief.

397Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ لْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب، ابن فضیل، زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابی زرعہ، ابوہریرہ ؓ ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عبداللہ بن ذکوان، عبدالرحمن اعرج، ابوہریرہ ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by another chain of transmitters, Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Ibn Numair, Abu Kuraib, Ibn Fudail.

398Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، زہیر بن حرب، اسحاق بن یوسف، فضیل بن غزوان، ابوکریب، محمد بن علاء، ابن فضیل، ابی حازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں کے ظاہر ہوجانے کے بعد کسی ایسے آدمی کا ایمان لانا اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا جو کہ ان سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام کیا ہو ان تین میں سے ایک سورج کا مغرب سے نکلنا دوسرے دجال کا نکلنا تیسرے دَابَّةُ الْأَرْضِ کا نکلنا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: When three things appear faith will not benefit one who has not previously believed or has derived no good from his faith: the rising of the sun in its place of setting, the Dajjal, and the beast of the earth.

399Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً فَلَا تَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً وَلَا تَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْکِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی مُسْتَقَرِّهَا ذَاکَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ لَهَا ارْتَفِعِي أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِکِ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَتَی ذَاکُمْ ذَاکَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا

یحییٰ بن ایوب، اسحاق بن ابراہیم، ابن علیہ، ابن ایوب، ابن علیہ، یونس، ابراہیم بن یزید تمیمی، ابوذر ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے قیام کی جگہ عرش کے نیچے آجاتا ہے اور سجدہ ریز ہوجاتا ہے سجدے میں پڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اٹھنے کا (بلند ہونے) کا حکم ملتا ہے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں پر لوٹ جا پھر صبح کو نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے پہنچ جاتا ہے اور پھر سجدہ میں پڑجاتا ہے یہاں تک کہ اسے حکم ہوتا ہے کہ اٹھ کر جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ لوٹ جاتا ہے پھر صبح کو اپنے نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر اس طرح چلتا رہتا ہے پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کو اس کے چلنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے آجائے گا پھر اسے کہا جائے گا کہ اٹھ اور مغرب کی طرف سے نکل چناچہ وہ اس وقت مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کب ہوگا یہ اس وقت ہوگا جب کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہ دے گا جب تک کہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان کی حالت میں اس نے نیک کام نہ کئے ہوں۔

It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ one day said: Do you know where the sun goes? They replied: Allah and His Apostle ﷺ know best. He (the Holy Prophet) observed: Verily it (the sun) glides till it reaches its resting place under the Throne. Then it falls prostrate and remains there until it is asked: Rise up and go to the place whence you came, and it goes back and continues emerging out from its rising place and then glides till it reaches its place of rest under the Throne and falls prostrate and remains in that state until it is asked: Rise up and return to the place whence you came, and it returns and emerges out from it rising place and the it glides (in such a normal way) that the people do not discern anything ( unusual in it) till it reaches its resting place under the Throne. Then it would be said to it: Rise up and emerge out from the place of your setting, and it will rise from the place of its setting. The Messenger of Allah ﷺ said. Do you know when it would happen? It would happen at the time when faith will not benefit one who has not previously believed or has derived no good from the faith.

400Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

عبدالحمید بن بیان، واسطی، خالد، ابن عبداللہ بن یونس، ابراہیم تیمی، ابوذر ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) that the Apostle of Allah ﷺ one day said: Do you know where the sun goes? The remaining part of the hadith is the same.

401Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَکَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے پھر جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ سورج جا کر اللہ تعالیٰ سے سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے اور ایک مرتبہ قیامت کے قریب اسے کہا جائے گا کہ جہاں سے نکلا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ مغرب کی طرف سے نکلے گا حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت کی مطابق پڑھا ( ذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا) یعنی یہی مقام سورج کے ٹھہرنے کا ہے۔

Abu Dharr (RA) reported: I entered the mosque and the Messenger of Allah ﷺ was sitting there. When the sun disappeared (from the sight) he said: O Abu Dharr! Do you know where it goes? He (the narrator) said: Allah and His Apostle ﷺ know best. He (the Holy Prophet) said. Verily it goes and begs permission, for prostration (to Allah) and the permission is granted to it. Once it would be said: Return to the place whence you came, and then it would rise from its setting place. Then he, after the recitation of Abdullah recited it: And that is its appointed term.

402Sahih Muslim

اس زمانے کے بیان میں کہ جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا قَالَ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ

ابوسعید اشج، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، اعمش، ابراہیم تیمی، ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا) کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔

Abu Dharr (RA) reported: I asked the Messenger of Allah ﷺ the (implication of the) words of Allah, the Exalted: The sun glides to its appointed resting place. He replied: Its appointed resting place is under the Throne.

403Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا يَرَی رُؤْيَا إِلَّا جَائَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَائُ فَکَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَائٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُوْلَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِکَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَی خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّی فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَائٍ فَجَائَهُ الْمَلَکُ فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ أَقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّی ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ أَيْ خَدِيجَةُ مَا لِي وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَی نَفْسِي قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ کَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيکَ اللَّهُ أَبَدًا وَاللَّهِ إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّی أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ يَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَکْتُبُ مِنْ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَکْتُبَ وَکَانَ شَيْخًا کَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَی فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَکُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُکَ قَوْمُکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِکْنِي يَوْمُکَ أَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر ؓ، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ پر وحی کا آغاز اس طرح سے ہوا کہ آپ ﷺ کے خواب سچے ہونے لگے آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوتا پھر آپ ﷺ کو تنہائی پسند ہونے لگی، غار حرا میں تنہا تشریف لے جاتے کئی کئی رات گھر میں تشریف نہ لاتے اور عبادت کرتے رہتے (دین ابراہیمی کے مطابق) اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان رکھتے پھر ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے پاس واپس تشریف لاتے، حضرت خدیجہ ؓ پھر اسی طرح کھانے پینے کا سامان پکا دیتیں یہاں تک کہ اچانک غار حرا میں آپ ﷺ پر وحی اتری فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر کہا پڑھئے! آپ ﷺ فرمایا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ نے مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں تھک گیا پھر مجھے چھوڑ کر فرمایا پڑھیے! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ نے دوبارہ مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں تھک گیا اس کے بعد مجھے چھوڑ دیا آپ ﷺ نے فرمایا فرشتہ نے پھر تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں تھک گیا پھر مجھے چھوڑ کر کہا (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ) پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے، پڑھ! تیرا پروردگار بڑی عزت والا ہے جس نے قلم سے سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ واپس گھر تشریف لائے تو وحی کے جلال سے آپ کے شانہ مبارک اور گردن کے درمیان کا گوشت کانپ رہا تھا، حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لا کر فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو! آپ ﷺ پر کپڑا اوڑھا دیا گیا یہاں تک کہ جب گھبراہٹ ختم ہوگئی تو فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے، حضرت خدیجہ ؓ فرمانے لگیں کہ ہرگز نہیں آپ ﷺ خوش رہیں، اللہ کی قسم اللہ آپ ﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا آپ ﷺ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، یتیموں مسکینوں اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور ناداروں کو دینے کی خاطر کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور پریشان لوگوں کی پریشانی میں لوگوں کے کام آتے ہیں، اس کے بعد حضرت خدیجہ ؓ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی کے پاس لے گئیں، ورقہ دور جاہلیت میں اسلام سے قبل نصرانی ہوگئے تھے، وہ عربی لکھنا جانتے تھے اور انجیل کو عربی زبان میں جتنا اللہ کو منظور ہوتا لکھتے تھے یہ بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے، حضرت خدیجہ ؓ نے ورقہ سے کہا اے چچا! (ان کی بزرگی کی وجہ سے اس طرح خطاب کیا اصل میں وہ چچا زاد بھائی تھے) اپنے بھتیجے کی بات سنئے ورقہ نے آپ ﷺ کو مخاطب کرکے کہا اے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا اس سے آگاہ کیا، ورقہ کہنے لگا یہ تو وہ ناموس ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب تیری قوم تجھے نکالے گی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے ورقہ نے کہا ہاں جو بھی آپ ﷺ جیسا نبی بن کر دنیا میں آیا لوگ اس کے دشمن ہوگئے اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا۔

Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: The first (form) with which was started the revelation to the Messenger of Allah ﷺ was the true vision in sleep. And he did not see any vision but it came like the bright gleam of dawn. Thenceforth solitude became dear to him and he used to seclude himself in the cave of Hira, where he would engage in tahannuth (and that is a worship for a number of nights) before returning to his family and getting provisions again for this purpose. He would then return to Khadija (RA) and take provisions for a like period, till Truth came upon him while he was in the cave of Hira. There came to him the angel and said: Recite, to which he replied: I am not lettered. He took hold of me [the Apostle ﷺ said] and pressed me, till I was hard pressed; thereafter he let me off and said: Recite. I said: I am not lettered. He then again took hold of me and pressed me for the second time till I was hard pressed and then let me off and said: Recite, to which I replied: I am not lettered. He took hold of me and pressed me for the third time, till I was hard pressed and then let me go and said: Recite in the name of your Lord Who created, created man from a clot of blood. Recite. And your most bountiful Lord is He Who taught the use of pen, taught man what he knew not (al-Quran, xcvi. 1-4). Then the Prophet ﷺ returned therewith, his heart was trembling, and he went to Khadija (RA) and said: Wrap me up, wrap me up! So they wrapped him till the fear had left him. He then said to Khadija: O Khadija! what has happened to me? and he informed her of the happening, saying: I fear for myself. She replied: It cant be. Be happy. I swear by Allah that He shall never humiliate you. By Allah, you join ties of relationship, you speak the truth, you bear peoples burden, you help the destitute, you entertain guests, and you help against the vicissitudes which affect people. Khadija (RA) then took him to Waraqa bin Naufal bin Asad bin Abdul Uzza, and he was the son of Khadijas uncle, i. e., the brother of her father. And he was the man who had embraced Christianity in the Days of Ignorance (i. e. before Islam) and he used to write books in Arabic and, therefore, wrote Injil in Arabic as God willed that he should write. He was very old and had become blind Khadija (RA) said to him: O uncle! listen to the son of your brother. Waraqa bin Naufal said: O my nephew! what did you see? The Messenger of Allah ﷺ , then, informed him what he had seen, and Waraqa said to him: It is namus that God sent down to Musa. Would that I were then (during your prophetic career) a young man. Would that I might be alive when your people would expel you! The Messenger of Allah ﷺ said: Will they drive me out? Waraqa said: Yes. Never came a man with a like of what you have brought but met hostilities. If I see your day I shall help you wholeheartedly.

404Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَا يُحْزِنُکَ اللَّهُ أَبَدًا وَقَالَ قَالَتْ خَدِيجَةُ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ابتدا میں رسول اللہ ﷺ پر وحی کا آغاز اس طرح سے ہوا اور پھر اسی طرح حدیث بیان کی جو گزر گئی، لیکن اس روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اللہ کی قسم اللہ کبھی آپ کو رنجیدہ نہیں کرے گا اور راوی کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ ؓ نے ورقہ سے کہا اے چچا کے لڑکے اپنے بھتیجے ( اللہ کے رسول ﷺ کی بات سنو۔

This hadith has been narrated on the authority of Aisha with another chain of narrators like one transmitted by Yunus, i. e. the first thing with which the revelation was initiated with the Messenger of Allah ﷺ except the words: By Allah, Allah would never humiliate you, and Khadija (RA) said: O son of my uncle! Listen to the son of your brother.

405Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَی خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَی قَوْلِهِ فَوَاللَّهِ لَا يَخْزِيکَ اللَّهُ أَبَدًا وَذَکَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ

عبدالملک، ابن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ ؓ بن زبیر سے سنا کہتے تھے کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس جب واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کا دل کانپ رہا تھا پھر اسی طرح حدیث بیان کی جو گزر چکی لیکن اس حدیث میں یہ نہیں کہ شروع میں آپ ﷺ پر وحی کا آغاز سچے خواب سے ہوا اور دوسری روایت کی طرح اس روایت میں ہے کہ اللہ کی قسم اللہ آپ ﷺ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا اور حضرت خدیجہ ؓ کا یہ قول نقل کیا کہ اے چچا کے بیٹے اپنے بھیجے کی بات سنو۔

This hadith has been reported from Aisha by another chain of transmitters and the words are: He (the Holy Prophet) came to Khadija (RA) an his heart was trembling. The rest of the hadith has been narrated like one transmitted by Yunus and Mamar, but the first part is not mentioned, i. e. the first thing with which was started the revelation to the Holy Prophet ﷺ was the true vision. And these words like those transmitted by Yunus are mentioned thus: By Allah, Allah would never humiliate you. And there is also a mention of the words of Khadija: O son of my uncle! Listen to the son of your brother.

406Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ جَالِسًا عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَکَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَهِيَ الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ

ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، جابر بن عبداللہ انصاری رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک انصاری حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپ ﷺ وحی کے رک جانے کے زمانہ کا تذکرہ فرما رہے تھے کہ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ حضرت جبرائیل ہے جو غار حرا میں میرے پاس وحی لے کر آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ دیکھ کر گھبرا گیا مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی پھر میں لوٹ کر گھر آیا تو میں نے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو، تو مجھے گھر والوں نے کپڑا اوڑھا دیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ سورت (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَکَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَهِيَ الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ ) اے کپڑے میں لپٹنے والے اٹھو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور بتوں سے علیحدہ رہو، آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر برابر وحی آنے لگی۔

Jabir bin Abdullah al-Ansari who was one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ reportedThe Messenger of Allah ﷺ told about the intermission of revelation and narrated While I was walking I heard a voice from the sky, and raising my head I saw the angel who had come to me in Hira, sitting on a Throne between heaven and earth I was terror-stricken on that account and came back (to my family) and said: Wrap me up, wrap me up! So they wrapped me up, and the Blessed and Most Exalted Allah sent down:" You who are shrouded, arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse, and defilement shun," and" defilement" means idols; and then the revelation was followed continuously.

407Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّی هَوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ قَالَ و قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرُّجْزُ الْأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ

عبدالملک بن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، جابر بن عبداللہ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں ڈر کی وجہ سے سہم گیا یہاں تک کہ میں زمین پر گرپڑا اور ابوسلمہ کہتے ہیں کہ وَالرُّجْزَ سے مراد بت ہیں پھر برابر لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ says: The wahi was intermitted for me for a small span of time and while I was walking, and then the hadith like the one narrated by Yunus was transmitted but with the exception of these words: I was terror-stricken till I fell on the ground. Abu Salama said: Defilement means idols. After this the revelation was speeded up and followed rapidly.

408Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ إِلَی قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ وَقَالَ فَجُئِثْتُ مِنْهُ کَمَا قَالَ عُقَيْلٌ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، یونس ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرض نماز سے پہلے یہ آیات مبارکہ (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سے فَاھجُر) تک نازل فرمائیں۔

This hadith, the like of one narrated by Yunus has also been transmitted by Mamar on the authority of al-Zuhri who narrated: Allah the Most Glorious and Exalted revealed this:" You who are shrouded, arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse and defilement shun," before making the prayer obligatory. I felt terror-stricken as narrated by Uqail.

409Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی يَقُولُ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ قَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُکُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَائٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِي الْهَوَائِ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي فَصَبُّوا عَلَيَّ مَائً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِيَابَکَ فَطَهِّرْ

زہیر بن حرب، ولید، ابن مسلم، اوزاعی، یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسلمہ ؓ سے پوچھا کہ قرآن کی سب سے پہلے کون سی آیات نازل ہوئیں فرمایا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) 74۔ المدثر: 1) میں نے کہا یا (اقْرَأْ ) تو وہ کہنے لگے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا کہ قرآن میں سب سے پہلے کونسی آیات نازل ہوئیں تو انہوں نے فرمایا (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) 74۔ المدثر: 1) میں نے کہا یا (اقْرَأْ ) تو حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں غار حرا میں ایک مہینہ تک ٹھہرا رہا جب میری ٹھہر نے کی مدت ختم ہوگئی تو میں وادی میں اتر کر چلنے لگا تو مجھے آوازی دی گئی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا اس کے بعد پھر آواز دی گئی اور میں نے نظر ڈالی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا اس کے بعد مجھے پھر آواز دی گئی اور میں نے اپنا سر اٹھایا تو ہوا میں ایک درخت پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا مجھ پر اس مشاہدہ سے کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں (يٰ اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ) 74۔ المدثر: 1)

Yahya reported: I asked Abu Salama what was revealed first from the Quran. He said:" 0, the shrouded one." I said: Or" Recite." Jabir said: I am narrating to you what was narrated to us by the Messenger of Allah ﷺ . He said: I stayed in Hira for one month and when my stay was completed, I come down and went into the heart of the valley. Somebody called me aloud. I looked in front of me, behind me, on the right of my side and on my left, but I did not see any body. I was again called and I looked about but saw nothing. I was called again and raised my head, and there on the Throne in the open atmosphere he, i. e. Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) was sitting. I began to tremble on account of fear. I came to Khadija (RA) and said: Wrap me up. They wrapped me up and threw water on me and Allah, the Exalted and Glorious, sent down this: you who are shrouded! arise and deliver warning, your Lord magnify, your clothes cleanse."

410Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کے آغاز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَی عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ

محمد بن مثنی، عثمان بن عمر، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر ایک دوسری سند کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسماں و زمین کے درمیان عرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔

Yahya b Abi Kathir has reported this hadith with the same chain of transmitters and narrated: And there he was sitting on the Throne between the heaven and the earth.

411Sahih Muslim

اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَی طَرْفِهِ قَالَ فَرَکِبْتُهُ حَتَّی أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَائُ قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَائَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَی بْنِ زَکَرِيَّائَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَی السَّمَائِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَفَعْنَاهُ مَکَانًا عَلِيًّا ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَی الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ کُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَی السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَی وَإِذَا وَرَقُهَا کَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا کَالْقِلَالِ قَالَ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَی فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلَی أُمَّتِکَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِکَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَبِّي فَقُلْتُ يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَی أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِکَ فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَبَيْنَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّی قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ کُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِکُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذَلِکَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُکْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً قَالَ فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ رَجَعْتُ إِلَی رَبِّي حَتَّی اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ

شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے براق لایا گیا، براق ایک سفید لمبا گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا جانور ہے منتہائے نگاہ تک اپنے پاؤں رکھتا ہے میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس آیا اور اسے اس حلقہ سے باندھا جس سے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے جانور باندھا کرتے تھے پھر میں مسجد میں داخل ہو اور میں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نکلا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دو برتن لائے ایک برتن میں شراب اور دوسرے برتن میں دودھ تھا میں نے دودھ کو پسند کیا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے فطرت کو پسند کیا، پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہمارے ساتھ آسمان کی طرف چڑھے، فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو فرشتوں نے پوچھا آپ کون؟ کہا جبرائیل کہا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد ﷺ فرشتوں نے پوچھا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں، پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو ہم نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ملاقات کی آدم (علیہ السلام) نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو پھر پوچھا گیا کون؟ کہا جبرائیل اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد ﷺ ہیں انہوں نے پوچھا کیا بلائے گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کو دیکھا دونوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر گئے تو دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد ﷺ فرشتوں نے پوچھا کیا بلائے گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں، پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا اور اللہ نے انہیں حسن کا نصف حصہ عطا فرمایا تھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا دروازہ کھولنے کے لئے کہا گیا تو پوچھا کون؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کہ کیا بلائے گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں ہمارے لئے دروازہ کھلا تو میں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کو دیکھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، حضرت ادریس کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ( وَرَفَعْنَاهُ مَکَانًا عَلِيًّا) ہم نے ان کو بلند مقام عطا فرمایا ہے، پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف چڑھایا گیا حضرت جبرائیل نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کون؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد ﷺ پوچھا گیا کیا بلائے گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا تو میں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو دیکھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو پوچھا گیا کون؟ کہا کہ جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد ﷺ پھر پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ کہاں کہ ہاں یہ بلائے گئے ہیں ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی، پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف چڑھایا گیا حضرت جبرائیل ﷺ نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو فرشتوں نے پوچھا کون؟ کہا جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا کہ محمد ﷺ پوچھا گیا کہ کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں ان کو بلانے کا حکم ہوا ہے پھر ہمارے لئے دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت المعمور کی طرف پشت کئے اور ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا اور بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ آنے کا موقع نہیں ملتا ( فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے) پھر حضرت جبرائیل مجھے سدرۃ المنتہی کی طرف لے گئے اس کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح بڑے بڑے تھے اور اس کے پھل بیر جیسے اور بڑے گھڑے کے برابر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب اس درخت کو اللہ کے حکم سے ڈھانکا گیا تو اس کا حال ایسا پوشیدہ ہوگیا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اس کے حسن کو بیان کرسکے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں پھر میں وہاں سے واپس حضرت موسیٰ تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا پچاس نمازیں دن رات میں، موسیٰ نے فرمایا کہ اپنے رب کے پاس واپس جا کر ان سے کم کا سوال کریں اس لئے کہ آپ کی امت میں اتنی طاقت نہ ہوگی کیونکہ میں بنی اسرائیل پر اس کا تجربہ کرچکا اور آزماچکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے پھر واپس جا کر اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر تخفیف فرما دیں تو اللہ نے پانچ نمازیں کم کردیں میں پھر واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گیا اور کہا کہ اللہ نے پانچ نمازیں کم کردیں موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کی امت میں اس کی بھی طاقت نہیں اپنے رب کے پاس جا کر ان میں تخفیف کا سوال کریں۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس طرح اپنے اللہ کے پاس سے موسیٰ کے پاس اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے اللہ کے بارگاہ میں آتا جاتا رہا اور پانچ پانچ نمازیں کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ اللہ نے فرمایا کہ اے محمد ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں اور ہر نماز کا ثواب اب دس نمازوں کے برابر ہے پس اس طرح ثواب کے اعتبار سے پچاس نمازیں ہوگئیں اور جو آدمی کسی نیک کام کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرسکے تو میں اسے ایک نیکی کا ثواب عطا کروں گا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو میں اسے دس نیکیوں کا ثواب عطا کروں گا اور جو آدمی کسی برائی کا ارادہ کرے لیکن اس کا ارتکاب نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں یہ برائی نہیں لکھی جاتی اور اگر برائی اس سے سرزد ہوجائے تو میں اس کے نامہ اعمال میں ایک ہی برائی لکھوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پھر واپس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور ان کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس جا کر تخفیف کا سوال کریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اپنے پروردگار کے پاس اس سلسلہ میں بار بار آ جا چکا ہوں یہاں تک کہ اب مجھے اس کے متعلق اپنے اللہ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔

It is narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I was brought al-Buraq Who is an animal white and long, larger than a donkey but smaller than a mule, who would place his hoof a distance equal to the range of version. I mounted it and came to the Temple (Bait Maqdis in Jerusalem), then tethered it to the ring used by the prophets. I entered the mosque and prayed two rakahs in it, and then came out and Gabriel (علیہ السلام) brought me a vessel of wine and a vessel of milk. I chose the milk, and Gabriel (علیہ السلام) said: You have chosen the natural thing. Then he took me to heaven. Gabriel (علیہ السلام) then asked the (gate of heaven) to be opened and he was asked who he was. He replied: Gabriel (علیہ السلام). He was again asked: Who is with you? He ( Gabriel (علیہ السلام)) said: Muhammad. It was said: Has he been sent for? Gabriel (علیہ السلام) replied: He has indeed been sent for. And (the door of the heaven) was opened for us and lo! we saw Adam. He welcomed me and prayed for my good. Then we ascended to the second heaven. Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) (asked the door of heaven to be opened), and he was asked who he was. He answered: Gabriel (علیہ السلام); and was again asked: Who is with you? He replied: Muhammad. It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. The gate was opened. When I entered Isa bin Maryam and Yahya bin Zakariya (peace be upon both of them), cousins from the maternal side. welcomed me and prayed for my good Then I was taken to the third heaven and Gabriel (علیہ السلام) asked for the opening (of the door). He was asked: Who are you? He replied: Gabriel (علیہ السلام). He was (again) asked: Who is with you? He replied Muhammad ﷺ . It was said: Has he been sent for? He replied He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and I saw Yusuf (peace of Allah be upon him) who had been given half of (world) beauty. He welcomed me prayed for my well-being. Then he ascended with us to the fourth heaven. Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) asked for the (gate) to be opened, and it was said: Who is he? He replied: Gabriel (علیہ السلام). It was (again) said: Who is with you? He said: Muhammad. It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. The (gate) was opened for us, and lo! Idris was there. He welcomed me and prayed for my well-being (About him) Allah, the Exalted and the Glorious, has said:" We elevated him (Idris) to the exalted position" (Quran xix. 57). Then he ascended with us to the fifth heaven and Gabriel (علیہ السلام) asked for the (gate) to be opened. It was said: Who is he? He replied Gabriel (علیہ السلام). It was (again) said: Who is with thee? He replied: Muhammad. It was said Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and then I was with Harun (Aaron-peace of Allah be upon him). He welcomed me prayed for my well-being. Then I was taken to the sixth heaven. Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) asked for the door to be opened. It was said: Who is he? He replied: Gabriel (علیہ السلام). It was said: Who is with thee? He replied: Muhammad. It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and there I was with Musa ( Moses (علیہ السلام) peace be upon him) He welcomed me and prayed for my well-being. Then I was taken up to the seventh heaven. Gabriel (علیہ السلام) asked the (gate) to be opened. It was said: Who is he? He said: Gabriel (علیہ السلام) It was said. Who is with thee? He replied: Muhammad (may peace be upon him.) It was said: Has he been sent for? He replied: He has indeed been sent for. (The gate) was opened for us and there I found Ibrahim (Abraham peace be upon him) reclining against the Bait-ul-Mamur and there enter into it seventy thousand angels every day, never to visit (this place) again. Then I was taken to Sidrat-ul-Muntaha whose leaves were like elephant ears and its fruit like big earthenware vessels. And when it was covered by the Command of Allah, it underwent such a change that none amongst the creation has the power to praise its beauty. Then Allah revealed to me a revelation and He made obligatory for me fifty prayers every day and night. Then I went down to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) and he said: What has your Lord enjoined upon your Ummah? I said: Fifty prayers. He said: Return to thy Lord and beg for reduction (in the number of prayers), for your community shallnot be able to bear this burden. as I have put to test the children of Israil and tried them (and found them too weak to bear such a heavy burden). He (the Holy Prophet) said: I went back to my Lord and said: My Lord, make things lighter for my Ummah. (The Lord) reduced five prayers for me. I went down to Moses (علیہ السلام) and said. (The Lord) reduced five (prayers) for me, He said: Verily thy Ummah shall not be able to bear this burden; return to thy Lord and ask Him to make things lighter. I then kept going back and forth between my Lord Blessed and Exalted and Moses (علیہ السلام), till He said: There are five prayers every day and night. O Muhammad ﷺ , each being credited as ten, so that makes fifty prayers. He who intends to do a good deed and does not do it will have a good deed recorded for him; and if he does it, it will be recorded for him as ten; whereas he who intends to do an evil deed and does not do, it will not be recorded for him; and if he does it, only one evil deed will be recorded. I then came down and when I came to Moses (علیہ السلام) and informed him, he said: Go back to thy Lord and ask Him to make things lighter. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: I returned to my Lord until I felt ashamed before Him.

412Sahih Muslim

اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَی زَمْزَمَ فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي ثُمَّ غُسِلَ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُنْزِلْتُ

عبداللہ بن ہاشم عبدی، بہز بن اسد، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے فرشتے زم زم کی طرف لے گئے پھر میرا سینہ چاک کرکے اسے زمزم کے پانی سے دھویا اس کے بعد مجھے واپس اپنی جگہ پر چھوڑ دیا۔

It is narrated on the the outhority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: (the angels) came to me and took me to the Zamzam and my heart was opened and washed with the water of Zamzam and then I was left (at my place).

413Sahih Muslim

اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْکَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَکَانِهِ وَجَائَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَی أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ کُنْتُ أَرْئِي أَثَرَ ذَلِکَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ

شیبان بن فروخ، حماد ابن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور اس وقت آپ ﷺ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے حضرت جبرائیل نے آپ کو پکڑا، آپ کو پچھاڑا اور دل کو چیر کر اس میں سے جمے ہوئے خون کا ایک لو تھڑا نکالا اور کہا کہ یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا پھر اس دل کو سونے کے طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا پھر اسے جوڑ کر اس جگہ میں رکھ دیا اور لڑکے دوڑتے ہوئے آپ کی رضاعی والدہ کی طرف آئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ قتل کر دئے گئے یہ سن کر سب دوڑے دیکھا صرف آپ کا رنگ خوف کی وجہ سے بدلا ہوا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے سینہ مبارک میں اس سلائی کا نشان دیکھا تھا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Gabriel (علیہ السلام) came to the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upo him) while he was playing with his playmates. He took hold of him and lay him prostrate on the ground and tore open his breast and took out the heart from it and then extracted a blood-clot out of it and said: That was the part of Satan in thee. And then he washed it with the water of Zamzam in a golden basin and then it was joined together and restored to it place. The boys came running to his mother, i. e. his nurse, and said: Verily Muhammad has been murdered. They all rushed toward him (and found him all right) His color was changed, Anas said. I myself saw the marks of needle on his breast.

414Sahih Muslim

اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَةِ أَنَّهُ جَائَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَی إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان ابن بلال، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ اس رات کے بارے میں سنا جس میں اللہ کے رسول ﷺ کعبہ کی مسجد میں سو رہے تھے کہ آپ کی پاس تین فرشتے آئے نزول وحی سے پہلے، اس کے بعد ثابت کی بیان کردہ روایت کو نقل کیا مگر بعض باتوں کو پہلے اور بعض باتوں کو بعد میں اور بعض کو کم اور بعض کو زیادہ۔

Anas bin Malik (RA), while recountig the Night journey of the Holy Prophet ﷺ , from the mosque of Ka’bah, reported: Three beings (angels) came to him in the osque of the Ka’bah, while he was sleeping in the sacred mosque before it (the Command of Night Journey and Accension) was revealed to him. The rest of the hadith is narrated like that of Thabit. However, some portions have occurred before and some of them have occurred after; some have been added and some deleted.

415Sahih Muslim

اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَکَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَی السَّمَائِ فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام لِخَازِنِ السَّمَائِ الدُّنْيَا افْتَحْ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَکَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَفَتَحَ قَالَ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ قَالَ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِکَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَکَی قَالَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِکَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَکَی قَالَ ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّی أَتَی السَّمَائَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ قَالَ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَائِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَذَکَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَعِيسَی وَمُوسَی وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ وَلَمْ يُثْبِتْ کَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَکَرَ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي السَّمَائِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَائِ السَّادِسَةِ قَالَ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ مَرَّ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا إِدْرِيسُ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَی قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَی فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَا يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّی ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًی أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَی أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ فَرَجَعْتُ بِذَلِکَ حَتَّی أَمُرَّ بِمُوسَی فَقَالَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام مَاذَا فَرَضَ رَبُّکَ عَلَی أُمَّتِکَ قَالَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ لِي مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَرَاجِعْ رَبَّکَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّکَ فَقُلْتُ قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّی نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَی فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ قَالَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤَ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْکُ

حرملہ بن یحییٰ تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب انس بن مالک ؓ، ابوذر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اترے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت حکمت اور ایمان سے بھر کر لائے اس کو میرے سینہ میں رکھا پھر اس کو جوڑ دیا، پھر حضرت جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر آسمان کی طرف چڑھے پھر جب ہم آسمان دنیا پر آئے تو جبرائیل نے آسمان کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے اس نے کہا کون؟ کہا جبرائیل اس نے پوچھا کیا تیرے ساتھ کوئی ہے؟ کہا ہاں میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں اس نے پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں پھر فرشتے نے دروازہ کھولا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے اس کے دائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے اور اس کے بائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے جب وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے اور اپنے بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے اس نے مجھے دیکھ کر فرمایا خوش آمدید اے نیک نبی اور اے نیک بیٹے! آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ یہ کون ہیں حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ آدم (علیہ السلام) ہیں اور ان کے دائیں طرف جنتی اور بائیں طرف والے دوزخی ہیں اس لئے جب دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر حضرت جبرائیل مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے گئے اور اس کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے آپ نے فرمایا کہ دوسرے آسمان کے پہرے دار نے بھی وہی کچھ کہا جو آسمان دنیا کے پہرے دارے نے کہا تھا پھر اس نے دروازہ کھولا حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی آسمانوں پر حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت ادریس حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہم السلام) سے ملاقات ہوئی اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس آسمان پر کس نبی سے ملاقات ہوئی البتہ یہ بتلایا کہ پہلے آسمان پر حضرت آدم سے اور چھٹے آسمان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی پھر جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور رسول اللہ ﷺ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید کہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ یہ کون ہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پھر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو! میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون ہیں جبرائیل نے کہا یہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا آپ نے فرمایا نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جبرائیل نے کہا کہ یہ حضرت ابراہیم ہیں ایک دوسری سند میں ابن شہاب اور ابن حزم نے کہا کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے معراج کرائی گئی یہاں تک کہ مجھے ایک بلند ہموار مقام پر چڑھایا گیا وہاں میں نے قدموں کی آواز سنی ابن حزم اور حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں آپ نے فرمایا کہ میں ان نمازوں کو لے کر لوٹا تو حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا ان پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں گئی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف واپس گیا تو اللہ نے اس میں سے کچھ نمازیں کم کردیں پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف واپس آیا تو ان کو بتایا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر میں اپنے رب کی طرف گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کردیں اور ثواب میں پچاس نمازوں کا ہی ملے گا اللہ عزوجل نے فرمایا میرے قول میں تبدیلی نہیں آتی پھر جب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف واپس آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے تو میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے جبرائیل (علیہ السلام) لے گئے یہاں تک کہ ہم سدرۃ المنتہی پر آگئے جہاں ایسے ایسے رنگ چھائے ہوئے تھے کہ ہم نہیں جان سکے کہ وہ کیا ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جہاں موتیوں کے گنبد اور اس کی مٹی مشک کی تھی۔

Anas bin Malik (RA) reported: Abu Dharr (RA) used to relate that the Messenger of Allah ﷺ said: The roof of my house was cleft when I was in Makkah and Gabriel (علیہ السلام) descended and opened my heart and then washed it with the water of Zamzam. He then brought a gold basin full of wisdom and faith and after emptying it into my breast, he closed it up. Then taking me by he hand, he ascended with me to th heaven, and when we came to the lowest heaven, Gabriel (علیہ السلام) said to the guardian of the lowest heaven: Open. He asked who was there? He replied. It is Gabriel (علیہ السلام). He again asked whe he there was someone with him. He replied: Yes, it is Muhammad with me. He was asked if he had been sent for, He ( Gabriel (علیہ السلام)) said: Yes. Then he opened (the gate). When we ascended the lowest heaven (I saw) a man seated with parties on his right side and parties on his left side. When he looked up to his right, he laughed and when he looked to his left, he wept. He said: Welcome to the righteous apostle and the righteous son. I asked Gabriel (علیہ السلام) who he was and he replied: He is Adam علیہ السلام(peace be upon him) and these parties on his right and on his left are the souls of his descendants. Those of them on his right are the inmates of Paradise and the parties which are on his left side are the inmates of Hell; so when he looked towards his right side, he laughed, and when he looked towards his left side, he wept. Then Gabriel (علیہ السلام) ascended with me to the second heaven. He asked its guardian to open (its gate), and its guardian replied in the same way as the guardian of the lowest heaven had said. He (opened it). Anas bin Malik (RA) said: He (the Holy Prophet) mentioned that he found in the heavens Adam, Idris, Jesus, Moses (علیہ السلام) and Abraham (may peace be on all of them), but he did not ascertain as to the nature of their abodes except that he had found Adam علیہ السلامin the lowest heaven and Abraham in the sixth heaven. When Gabriel (علیہ السلام) and the Messenger of Allah ﷺ passed by Idris (peace be upon him) he said: Welcome to the righteous apostle and righteous brother. He (the narrator) said: He then proceeded and said: Who is he? Gabriel (علیہ السلام) replied: It is Idris. Then I passed by Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) and he said: Welcome tothe righteous apostle and righteous brother. I said to ( Gabriel (علیہ السلام)): Who is he? He replied: It is Moses (علیہ السلام). Then I passed by Jesus and he said: Welcome to the righteous apostle and righteous brother. I said (to Gabriel (علیہ السلام)): Who is he? He replied: Jesus, son of Mary. He (the Holy Prophet) said: Then I went to Ibrahim (peace be upon him). He said: Welcome to the righteous apostle and righteous son. I asked: Who is he? He ( Gabriel (علیہ السلام)) replied: It is Abraham. Ibn Shihab said: Ibn Hazm told me that Ibn Abbas and Abd Habba al-Ansari used to say that the Messenger of Allah ﷺ said: Thereafter he ascended with me till I was taken to such a height where I heard the scraping of the pens. Ibn Hazm and Anas told that the Messenger of Allah ﷺ said: Allah then made fifty prayers obligatory for my Ummah and I returned with that and passed by Moses (علیہ السلام). Moses (علیہ السلام), (peace be upon him) said: What has thy Lord enjoined on thy people? I said: Fifty prayers have been made obligatory on them. Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) said: Return to thy Lord, for thy Ummah would not be able to bear this burden. Then I came back to my Lord and He remitted a portion out of thut. I then again went to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) and informed him about it He said: Return to thy Lord, for thy Ummah shall not be able to bear this burden. I then went back to my Lord and He said: They are five and at the same time fifty, and what has been said will not be changed. I then returned to Moses (علیہ السلام) and he said: Go back to thy Lord. whereupon I said: I feel ashamed of my Lord. Gabriel (علیہ السلام) then travelled with me till we came to the farthest lote-tree Many a colour had covered it which I do not know. Then I was admitted to Paradise and saw in it domes of pearls, and its soil of musk.