مناسک حج کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 6 · 323 hadiths · Page 9 of 17

1882Sunan Abu Dawood

طواف واجب کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ: الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کرلو ١ ؎، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور الطور * وکتاب مسطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔

Umm Salamah said I complained to the Messenger of Allah ﷺ that I was ill. He said “Perform the circumambulation riding behind the people”. She said “I performed circumambulation and the Messenger of Allah ﷺ was praying towards the side of the House (the Kaabah) and reciting “by al Tur and a Book inscribed”. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، اور آج کل سواری پر طواف چوں کہ ناممکن ہے اس لئے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٨ (٤٦٤)، الحج ٦٤ (١٦١٩)، ٧١ (١٦٢٦)، ٧٤ (١٦٣٣)، تفسیر سورة الطور ١ (٤٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٦)، سنن النسائی/الحج ١٣٨ (٢٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٤ (٢٩٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٠ (١٢٣)، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٩) (صحیح )
1883Sunan Abu Dawood

طواف میں اضطباع کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا ١ ؎۔

Narrated Yala (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went round the House (the Kabah) wearing a green Yamani mantle under his right armpit with the end over his left shoulder.

Notes · وضاحت
١ ؎: اضطباع کی شکل یہ ہے کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا ننگا رکھے، اور یہ صرف پہلے طواف میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٣٦ (٨٥٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٠ (٢٩٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٨ (١٨٨٥) (حسن )
1884Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ قَدْ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ١ ؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ and his Companions performed Umrah from al-Jiranah. They went quickly round the House (the Kabah) moving their shoulders) proudly. They put their upper garments under their armpits and threw the ends over their left shoulders.

Notes · وضاحت
١ ؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لئے چلتا ہے، اور یہ صرف پہلے تین چکروں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٥٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٥، ٣٠٦، ٣٧١) (صحیح )
1885Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا ؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا ؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَذَبُوا: لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ.

ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے (واقعہ یہ ہے) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مرجائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ ﷺ سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ ﷺ آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو ، اور یہ سنت نہیں ہے ١ ؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔

Abu Al Tufail said I said to Ibn Abbas Your people think that the Messenger of Allah ﷺ walked proudly with swift strides while going round the Kaabah and that it is sunnah (practice of the Prophet). He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). ” I asked “What truth did they speak and what lie did they tell?” He said “They spoke the truth that the Messenger of Allah ﷺ walked proudly while going round the Kaabah but they told a lie, this is no sunnah. The Quraish asserted during the days of Al Hudaibiyyah “Forsake Muhammad and his Companions till they die the death of a Camel which dies of bacteria in its nose. When they concluded a treaty with him agreeing upon the fact that they (the Prophet and his Companions) would come (to Makkah) next year and stay at Makkah three days, the Messenger of Allah ﷺ said to the Companions “Walk proudly (moving shoulders) while going round the Kaabah in first three circuits. (Ibn Abbas said) But this is not sunnah. I said “Your people think that the Messenger of Allah ﷺ ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel and that is sunnah. ” He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). I asked “What truth did they speak and what lie did they tell? He said “they spoke the truth that the Messenger of Allah ﷺ ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel. They told a lie that it is a sunnah. As the people did not move from around the Messenger of Allah ﷺ and did not separate themselves from him he did the sa’i on a Camel so that they may listen to him and see his position and their hands might not reach him.

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد ایسی سنت نہیں ہے جسے آپ ﷺ نے تقرب کے لئے بطور عبادت کی ہو، بلکہ مسلمانوں کو یہ حکم آپ ﷺ نے اس لئے دیا تھا تاکہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کرسکیں، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کر رکھا ہے، لیکن بہرحال اب یہ طواف کی سنتوں میں سے ہے جس کے ترک پر دم نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٤)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٩ (٢٩٥٣)، مسند احمد (١/ ٢٢٩، ٢٣٣، ٢٩٧، ٢٩٨، ٣٦٩، ٣٧٢، ٣٧٣) (صحیح )
1886Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا قَالُوهُ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا، قَالُوا: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنَّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءً عَلَيْهِمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کردیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنادیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کردیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ (طواف کعبہ کے) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کردیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ١ ؎۔

Ibn Abbas said The Messenger of Allah ﷺ came to Makkah while the fever of Yathrib (Madina) had weakened them. Thereupon the disbelievers said “The people whom the fever has weakened and who suffer misery at Madina are coming to you. ” Allaah, the exalted, informed the Prophet ﷺ of what they had said. He, therefore, ordered them to perform ramal (walk proudly with swift pace) in first three circuits and walk ordinarily between the two corners (Yamani Corner and the Black Stone). When they saw them the believers walking proudly, they said” These are the people about whom you mentioned that the fever had weakened them, but they are more vigorous than us. ” Ibn Abbas said “He did not order them to walk proudly in all circuits (of the circumambulation) out of mercy upon them. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ فی الواقع یہ لوگ کمزور اور دبلے پتلے تھے۔
Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح البخاری/الحج ٥٥ (١٦٠٢)، والمغازي ٤٤ (٤٢٥٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٦)، سنن النسائی/الکبری/ الحج (٣٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ٥٤٣٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٣)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٥٥، ٣٠٦، ٣١٠، ٣١١، ٣٧٣) (صحیح )
1887Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: فِيمَ الرَّمَلَانُ الْيَوْمَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ مَعَ ذَلِكَ، لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا: اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کردیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کردیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ ﷺ کے وقت میں کیا کرتے تھے ١ ؎۔

Aslam said: I heard Umar ibn al-Khattab say: What is the need of walking proudly (ramal) and moving the shoulders (while going round the Kabah)? Allah has now strengthened Islam and obliterated disbelief and the infidels. In spite of that we shall not forsake anything that we used to do during the time of the Messenger of Allah ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ شرع کی جس بات کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو علی حالہ چھوڑ دینا چاہیے، کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی اتباع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٩(٢٩٥٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥) (حسن صحیح )
1888Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Going round the House (the Kabah), running between as-Safa and lapidation of the pillars are meant for the remembrance of Allah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٤ (٩٠٢)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٤، ٧٥، ١٣٨)، سنن الدارمی/المناسک ٣٦ (١٨٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ ضعیف ہیں )
1889Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ، تَقُولُ قُرَيْشٌ: كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا، اور تکبیر بلند کی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ (یعنی صحابہ کرام ؓ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہوجاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے: گویا یہ ہرن ہیں، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: تو یہ فعل سنت ہوگیا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ wore the mantle under his right armpit with the end over his left shoulder, and touched the corner (Black Stone), then uttered Allah is most great and walked proudly in three circuits of circumambulation. When they (the Companions) reached the Yamani corner, and disappeared from the eyes of the Quraysh, they walked as usual; When they appeared before them, they walked proudly with rapid strides. Thereupon the Quraysh said: They look to be the deer (that are jumping). Ibn Abbas said: Hence this became the sunnah (model behaviour of the Prophet).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٧٧٧، ٥٧٧٩) (صحیح )
1890Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ and his Companions performed Umrah from al-Jiranah and walked proudly with rapid strides round the House (the Kabah) in three circuits and walked as usual in four circuits.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الحج ٢٩ (٢٩٥٣)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٩٥، ٣٠٥، ٣٠٦، ٣١٤) (صحیح )
1891Sunan Abu Dawood

رمل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ.

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا ہے۔

Nafi said Ibn Umar walked proudly (ramal) from the corner (Black Stone) to the corner (Black Stone) and mentioned that the Messenger of Allah ﷺ had done so.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٧٩٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦)، سنن النسائی/الحج ١٥٠ (٢٩٤٣)، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٩ (٢٩٥٠)، موطا امام مالک/الحج ٣٤(١٠٨)، مسند احمد (٢/١٠٠، ١١٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٢) (صحیح )
1892Sunan Abu Dawood

طواف میں دعاء کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں رکن (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار (سورۃ البقرہ: ٩٦) کہتے سنا، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔

Narrated Abdullah ibn as-Saib: I heard the Messenger of Allah ﷺ say between the two corners: O Allah, bring us a blessing in this world and a blessing in the next and guard us from punishment of Hell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٥٣١٦)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٣٩٣٤)، مسند احمد (٣/٤١١) (حسن )
1893Sunan Abu Dawood

طواف میں دعاء کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَيَمْشِي أَرْبَعًا ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔

Ibn Umar said When the Messenger of Allah ﷺ observed the circumambulation at hajj and ‘Umrah on his arrival, he ran three circuits and walked four, then he made two prostrations.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الحج ٦٣ (١٦١٦)، صحیح مسلم/ الحج ٣٩ (١٢٦١)، سنن النسائی/ الحج ١٥١ (٢٩٤٤)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٤) (صحیح )
1894Sunan Abu Dawood

نماز عصر کے بعد طواف کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَالْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ. قَالَ الْفَضْلُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا.

جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس گھر (کعبہ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو ۔ فضل کی روایت کے میں ہے: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! کسی کو مت روکو ۔

Narrated Jubayr ibn Mutim: The Prophet ﷺ said: Do not prevent anyone from going round this House (the Kabah) and from praying any moment he desires by day or by night. The narrator Fadl (ibn Yaqub) said: The Messenger of Allah ﷺ said: Banu Abdu Munaf, do not stop anyone.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٤٢ (٨٦٨)، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٦)، والحج ١٣٧ (٢٩٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٩ (١٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٠، ٨١، ٨٤)، سنن الدارمی/المناسک ٧٩ (١٩٦٧) (صحیح )
1895Sunan Abu Dawood

قران کرنے والے کا طواف

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ.

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے (جنہوں نے قران کیا تھا) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔

Jabir bin Abdallah said “Neither the Prophet ﷺ nor his Companions ran between Al Safa’ and Al Marwah except once and that was his first running. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٣)، سنن النسائی/الحج ١٨٢ (٢٩٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٢٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١٠٢ (٩٤٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٢)، مسند احمد (٣/٣١٧) (صحیح )
1896Sunan Abu Dawood

قران کرنے والے کا طواف

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ لَمْ يَطُوفُوا حَتَّى رَمَوْا الْجَمْرَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کرلیا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Companions of the Messenger of Allah ﷺ who accompanied him did not go round the Kabah till they threw pebbles at the Jamrah (pillar at Mina).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٦٦٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الحج (٤١٧٢، ٤١٧٣) (صحیح) (یہ سابقہ حدیث نمبر: ١٧٨١ کا ایک ٹکڑا ہے)
1897Sunan Abu Dawood

قران کرنے والے کا طواف

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا ومروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے ۔ شافعی کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا۔

Ata said The Prophet ﷺ said to Aisha (RA) Your observance of circumambulation of the Kaabah and your running between Al Safa’ and al Marwah (only once) are sufficient for your Hajj and your ‘Umrah. Al Shafi’i said The narrator Sufyan has transmitted this tradition from Ata on the authority of Aisha (RA) and also narrated it on the authority of Ata stating that the Prophet ﷺ said to Aisha (RA) (may Allah be pleased with her).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٨١) (صحیح )
1898Sunan Abu Dawood

ملتزم کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قُلْتُ: لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي، وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ، فَلَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنْ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ، وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ.

عبدالرحمٰن بن صفوان ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا (میرا گھر راستے میں تھا) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ ﷺ کیا کرتے ہیں، تو میں گیا تو نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ ان سب کے بیچ میں ہیں۔

Narrated Abdur Rahman ibn Safwan (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, I said (to myself): I shall put on my clothes, and my house lay on the way, I shall watch how the Messenger of Allah ﷺ behaves. So I went out. I saw that the Prophet ﷺ and his Companions had come out from the Kabah and embraced the House (the Kabah) from its entrance (al-Bab) to al-Hatim. They placed their cheek on the House (the Kabah) while the Messenger of Allah ﷺ was amongst them.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” ملتزم “: کعبہ کا وہ حصہ جو حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان واقع ہے، لوگ اس سے چمٹ کر دعا مانگتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٩٧٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٠، ٤٣١) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ ٢١٣٨ )
1899Sunan Abu Dawood

ملتزم کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ، قُلْتُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ ؟ قَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.

شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

Amr bin Shuaib reported on the authority of his father: I went round the Kabah along with Abdullah ibn Amr. When we came behind the Kabah I asked: Do you not seek refuge? He uttered the words: I seek refuge in Allah from the Hell-fire. He then went (farther) and touched the Black Stone, and stood between the corner (Black Stone) and the entrance of the Kabah. He then placed his breast, his face, his hands and his palms in this manner, and he spread them, and said: I saw the Messenger of Allah ﷺ doing like this.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ ملتزم سے چمٹے ہوئے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٥ (٢٩٦٢)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٧٦) (حسن) (اس کے راوی مثنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی وجہ سے تقویت پا کر یہ حسن ہے )
1900Sunan Abu Dawood

ملتزم کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ، فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ فَيُصَلِّي.

عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس ؓ کو لے کر جاتے (جب ان کی بینائی ختم ہوگئی) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کردیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس ؓ ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس ؓ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔

Abdullah ibn as-Saib reported on the authority of his father as-Saib that he used to lead Ibn Abbas (when he become blind) and make him stand in the third corner that was adjacent to the corner (Black Stone) near the entrance of the Kabah. Ibn Abbas used to say: Has it been reported to you that the Messenger of Allah ﷺ would pray in this place. He would reply: Yes. He then used to stand (there) and pray.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٣٣ (٢٩٢١)، ( تحفة الأشراف: ٥٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٠) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن عبداللہ بن سائب مجہول ہیں )
1901Sunan Abu Dawood

صفا اور مر وہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَلَّا، لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد إن الصفا والمروة من شعائر الله کے سلسلہ میں بتائیے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، عائشہ ؓ نے جواب دیا: ہرگز نہیں، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول فلا جناح عليه أن يطوف بهما کے بجائے فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری، وہ مناۃ (یعنی زمانہ جاہلیت کا بت) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ١ ؎ کے سامنے تھا، وہ لوگ صفا ومروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: إن الصفا والمروة من شعائر الله ٢ ؎۔

Urwa bin Al Zubair said I said to Aisha (RA) , wife of the Prophet ﷺ while I was a boy. What do you think about the pronouncement of Allaah, the Exalted “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah. “I think there is no harm for anyone if he does not run between them. Aisha (RA) (may Allah be pleased with her) said Nay, had it been so as you said, it would have been thus. It is no sin on him not to go around them. This verse was revealed about the Ansaar, they used to perform hajj for Manat. Manat was erected in front of Qudaid. Hence they used to avoid going around Al Safa and Al Marwah. When Islam came, they asked the Messenger of Allah ﷺ about it. Allaah, the Exalted therefore revealed the verse “Lo! (The Mountains) Al Safa’ and Al Marwah are among the indications of Allaah.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” مناة قديد “: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک دیہات کا نام ہے۔ ٢ ؎: بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ( سورة البقرة: ١٥٨ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٩ (١٦٤٣)، والعمرة ١٠ (١٧٩٠)، وتفسیرالبقرة ٢١(٤٤٩٥)، و تفسیر النجم ٣ (٤٨٦١)، سنن النسائی/الحج ١٦٨ (٢٩٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٢٠، ١٧١٥١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٤٣ (١٢٧٧)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (٢٩٦٩)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٣ (٢٩٨٦)، موطا امام مالک/الحج ٤٢ (١٢٩)، مسند احمد (٦/١٤٤، ١٦٢، ٢٢٧) (صحیح )