عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص ایک فرق ١ ؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہوجائے لوگوں نے پوچھا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، (بویا اور بڑھایا) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق (مزدوری) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا ۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If any of you can become like the man who had a faraq of rice, he should become like him. They (the people) asked: Who is the man who had a faraq of rice with him, Messenger of Allah ? Thereupon he narrated the story of the cave when a hillock fell on them (three persons), each of them said: Mention any best work of yours. The narrator said: The third of them said: O Allah, you know that I took a hireling for a faraq of rice. When the evening came, I presented to him his due (i. e. his wages). But he refused to take it and went away. I then cultivated it until I amassed cows and their herdsmen for him. He then met me and said: Give me my dues. I said (to him): Go to those cows and their herdsmen and take them all. He went and drove them away.
Notes · وضاحت
١ ؎: فرق: سولہ (١٦) رطل کا ایک پیمانہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٧٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإجارة ١٢ (٢٢٧٢)، المزارعة ١٣ (٢٣٣٣)، أحادیث الأنبیاء ٥٣ (٣٤٦٥)، الأدب ٨٣ (٦١٣٣)، صحیح مسلم/الذکر ٢٧ (٢٧٤٣)، مسند احمد (٢/١١٦) (اصل حدیث صحیحین میں مفصلا ہے مذکور، اس حدیث کا ابتدائی فقرہ من استطاع .... یا رسول اللہ منکر ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : I Ammar, and Saad became partners in what we would receive on the day of Badr. Saad then brought two prisoners, but I and Ammar did not bring anything.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ٤٧ (٣٩٦٩)، البیوع ١٠٣ (٤٧٠١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٣ (٢٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٦) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد عبدا للہ بن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس ؓ نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول (لگان) لگا کردینے سے بہتر ہے۔
Amr ibn Dinar said: I heard Ibn Umar say: We did not see any harm in sharecropping till I heard Rafi ibn Khadij say: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden it. So I mentioned it to Tawus. He said: Ibn Abbas told me that the Messenger of Allah ﷺ had not forbidden it, but said: It is better for one of you to lend to his brother than to take a prescribed sum from him.
Notes · وضاحت
١ ؎: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کی جائز شکل یہ ہے کہ مالک اور بٹائی پر لینے والے کے مابین زمین سے حاصل ہونے والے غلہ کی مقدار اس طرح متعین ہو کہ ان دونوں کے مابین جھگڑے کی نوبت نہ آئے اور غلہ سے متعلق نقصان اور فائدہ میں طے شدہ امر کے مطابق دونوں شریک ہوں یا روپے پیسے کے عوض زمین بٹائی پر دی جائے اور مزارعت کی وہ شکل جو شرعاً ناجائز ہے وہ حنظلہ بن قیس کی حدیث نمبر (٣٣٩٢) میں مذکور ہے۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج ؓ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں (واقعہ یہ ہے کہ) آپ ﷺ کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی (یعنی لڑتے جھگڑتے) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج ؓ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو (موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا) ۔
Narrated Urwah bin al-Zubair: That Zayd ibn Thabit said: May Allah forgive Rafi ibn Khadij. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Messenger of Allah ﷺ said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi ibn Khadij) heard his statement: Do not lease agricultural lands.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ المزارعة ٣ (٣٩٥٩)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٠ (٢٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٧) (ضعیف) ( اس کے راوی ابوعبیدہ اور ولید بن ابی الولید لین الحدیث ہیں) وضاحت: ابن ماجہ کی حدیث پر صحیح کا حکم ہے تفصیل مذکورہ حدیث نمبر پر ملاحظہ فرمائیں
سعد ؓ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔
Narrated Saad (RA) : We used to lease land for what grew by the streamlets and for what was watered from them. The Messenger of Allah ﷺ forbade us to do that, and commanded us to lease if for gold or silver.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ المزارعة ٢ (٣٩٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣٨٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٨، ١٨٢)، دی/ البیوع ٧٥ (٢٦٦٠) (حسن )
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج ؓ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے (یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا) تو کبھی یہ برباد ہوجاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہوجاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے عن حنظلة عن رافع کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔
Narrated Hanzlah bin Qais al-Ansari (RA) : I asked Rafi bin Khadij about the lease of land for gold and silver (i. e. for dinars and dirhams). There is no harm in it, for the people used to let out land in the time of the Messenger of Allah ﷺ for what grew by the current of water and at the banks of streamlets and at the places of cultivation. So sometimes this (portion) perished and that (portion) was saved, and sometimes this remained intact and that perished. There was no (form of) lease among the people except this. Therefore, he forbade it. But if there is something which is secure and known, then there is no harm in it. The tradition of Ibrahim is more perfect. Qutaibah said: from Hanzalah on the authority of Rafi . Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Yahya bin Saeed from Hanzalah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٧ (٢٣٢٧)، ١٣ (٢٣٣٣)، ١٩ (٢٣٤٦)، الشروط ٧ (٢٧٢٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٩ (١٥٤٧)، سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٣٠، ٣٩٣١، ٣٩٣٢، ٣٩٣٣)، سنن ابن ماجہ/الرھون ٩ (٢٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض ١ (١)، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤/١٤٠، ١٤٢) (صحیح )
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
Hanzalah ibn Qays said that he asked Rafi ibn Khadij about the lease of land. He replied: The Messenger of Allah ﷺ forbade the leasing of land. I asked: (Did he forbid) for gold and silver (i. e. dinars and dirhams)? He replied: If it is against gold and silver, then there is no harm in it.
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر ؓ اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری ؓ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر ؓ ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع ؓ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ ﷺ نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع ؓ سے اور رافع نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع ؓ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع ؓ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج ؓ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔
Narrated Salim bin Abdullah bin Umar (RA) : Ibn Umar used to let out his land till it reached him that Rafi bin Khadij al-Ansari narrated that the Messenger of Allah ﷺ forbade let out land. So Abdullah (bin Umar) said: Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah ﷺ about leasing the land? Rafi replied to Abdullah bin Umar (RA) : I heard both of my uncles were present in the battle of Badr say, and they narrated it to the members of the family, that the Messenger of Allah ﷺ forbade leasing land. Abdullah said: I swear by Allah, I knew that land was leased in the time of the Messenger of Allah ﷺ . Abdullah then feared that the Messenger of Allah ﷺ might have created something new in that matter, so he gave up leasing land. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ayyub, Ubaid Allah, Kathir bin Farqad, Malik from Nafi on the authority of Rafi from the Prophet ﷺ . It has also been transmitted by al-Auzai from Hafs bin Inan al-Hanafi from Nafi from Rafi who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Similarly, it has been transmitted by Zaid bin Abi Unaisah from al-Hakkam from Nafi from Ibn Umar that he went to Rafi and asked: Have you heard the Messenger of Allah ﷺ say? He replied: Yes. Similarly, it has also been transmitted by Ikrimah bin Ammar from Abu al-Najashi, from Rafi bin Khadij who said: I heard the Prophet ﷺ say. It has also been transmitted by al-Auzai from Abu al-Najashi from Rafi bin Khadij from his uncle Zuhair bin Rafi from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: The name of Abu al-Najashi is Ata bin Suhaib.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (بٹائی پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کرسکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے ۔
Narrated Rafi bin Khadij (RA) : We used to employ people to till land for a share of it produce. He then maintained that, one of his uncles came to him and said: The Messenger of Allah ﷺ forbade us from a work which beneficial to us. But obedience to Allah and His Messenger ﷺ is more beneficial to us. We asked: What is that ? He said: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone has land, he should cultivate it, or lend it to his brother for cultivation. He should not rent it for a third or a quarter (of the produce) or for specified among of produce.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ البیوع ١٨ (١٥٤٨)، سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٠٤، ٣٩٠٥، ٣٩٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٩، ١٥٥٧٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض ١ (١)، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔
Ayyub said: Yala bin Hakim wrote to me: I heard Sulaiman bin Yasar narrating the tradition to the same effect as narrated by Ubaid Allah and through the same chain.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ ﷺ نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں (بلامعاوضہ و شرط) دیدے۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : Abu Rafi came to us from the Messenger of Allah ﷺ said: The Messenger of Allah ﷺ forbade us from a work which benefited us; but obedience to Allah and His Messenger ﷺ is more beneficial to us. He forbade that one of us cultivates land except the one which he owns or the land which a man lends him (to cultivate).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٣) (حسن) ( اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے ورنہ اس کے راوی ابن رافع مجہول ہیں )
اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج ؓ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ ﷺ تم کو حقل سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بےنیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو (مفت) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج ؓ کے بھتیجے ہیں۔
Narrated Usaid bin Zuhair: Rafi bin Khadij came to us and said: The Messenger of Allah ﷺ forbids you from a work which is beneficial to you ; and obedience to Allah and His Prophet ﷺ is more beneficial to you. The Messenger of Allah ﷺ forbids you from renting land for share of its produce and he said: If anyone if not in need of his land he should lend it to his brother or leave it. Abu Dawud said: Shubah and Mufaddal bin Muhalhal have narrated it from Mansur in similar way. Shubah said (in his version): Usaid, nephew of Rafi b, Khadij.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٨٩٤)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٠ (٢٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ کر اء الأرض ١ (١)، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر ؓ مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج ؓ کی حدیث پہنچی تو وہ (براہ راست) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: (ماشاء اللہ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع ؓ کہتے ہیں: (یہ سن کر) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ (اخراجات و محنتانہ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: (اب دو صورتیں ہیں) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو (اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو (یعنی نقد روپیہ اس سے طے کرلو) ۔
Abu Jafar al-Khatmi said: My uncle sent me and his slave to Saeed ibn al-Musayyab. We said to him, there is something which has reached us about sharecropping. He replied: Ibn Umar did not see any harm in it until a tradition reached him from Rafi ibn Khadij. He then came to him and Rafi told him that the Messenger of Allah ﷺ came to Banu Harithah and saw crop in the land of Zuhayr. He said: What an excellent crop of Zuhayr is! They said: It does not belong to Zuhayr. He asked: Is this not the land of Zuhayr? They said: Yes, but the crop belongs to so-and-so. He said: Take your crop and give him the wages. Rafi said: We took our crop and gave him the wages. Saeed (ibn al-Musayyab) said: Lend your brother or employ him for dirhams.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ١ ؎ اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں (١) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، (٢) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، (٣) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade muhaqalah and muzabanah. Those who cultivate land are three: a man who has (his own) land and he tills it: a man who has been lent land and he tills the one lent to him; a man who employs another man to till land against gold (dinars) or silver (dirhams).
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ ( بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ المزارعة ٢ (٣٩٢١)، التجارات ٥٤ (٢٦٦٧)، سنن ابن ماجہ/الرھون ٧ (٢٤٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ کر اء الأرض ١ (١) مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) (صحیح )
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج ؓ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے (رافع نے) کہا: اسے چھوڑ دو (یعنی یہ معاملہ ختم کرلو) کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Abu Dawud said: I read out (this tradition) to Saeed bin Yaqub al-Taliqini, and I said to him: Ibn al-Mubarak transmitted (this tradition) to you from Saeed Abi Shuja who said: Uthman bin Sahl bin Rafi bin Khadij narrated it to me saying: I was an orphan being nourished under the guardianship of Rafi bin Khadij and I performed Hajj with him. My brother Imran bin Sahl then came to me and said: We rented out land to so-and-so for two hundred dirhams. He said: Leave it, for the Prophet ﷺ forbade renting land.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المزارعة ٣ (٣٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٩) (شاذ) (اس کے راوی عثمان ( جن کا صحیح نام عیسیٰ ہے) لین الحدیث ہیں، اس میں شذوذ یہ ہے کہ اس میں مطلق زمین کرایہ پر دینے کی بات ہے، حالانکہ ابو رافع سے سونا چاندی اور درہم و دینار کے بدلے کرایہ پر دینے کی اجازت مروی ہے )
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم ﷺ کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو (جو زمین کا مالک ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا (یعنی یہ عقد ناجائز ہے) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : Rafi had cultivated a land. The Prophet ﷺ passed him when he was watering it. So he asked him: To whom does the crop belong, and to whom does the land belong? He replied: The crop is mine for my seed and labour. The half (of the crop) is mine and the half for so-and-so. He said: You conducted usurious transaction. Return the land to its owner and take your wages and cost.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٦٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکیر بن عامر ضعیف ہیں )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔
Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone sows in other peoples land without their permission, he has no right to any of the crop, but he may have what it cost him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٢٩ (١٣٦٦)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٣ (٢٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥، ٤/١٤١) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ ١ ؎ مزابنہ ٢ ؎ مخابرہ اور معاومہ ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں عن حماد ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے بيع السنين کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ٤ ؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ٥ ؎ کی اجازت دی ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah, and muawanah. One of the two narrators from Hammad said the word muawamah, and other said: selling many years ahead. The agreed version then goes: and thunya, but gave license for Araya.
Notes · وضاحت
١ ؎: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلہ سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎: درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ ٣ ؎: معاومہ اور بیع سنین ایک ہی معنی میں ہے یعنی کئی سال تک کا میوہ بیچنا۔ ٤ ؎: سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینے اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینے سے منع کیا ہے۔ ٥ ؎: عرایا یہ ہے کہ مالک باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لئے مفت دے دے اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خریدلے اور اس کے بدلے تر یا خشک میوہ اس کے حوالے کر دے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ (درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے) سے اور محاقلہ (کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade muzabanah, muhaqalah and thunya except it is known.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If any of you does not leave mukhabarah, he should take notice of war from Allah and His Messenger ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٥) (ضعیف) ( اس کے راوی ابو الزبیر مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )