پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 5 of 20

82Sunan Abu Dawood

عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کی ممانعت

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ.

حکم بن عمرو یعنی اقرع سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Hakam ibn Amr (RA) : The Prophet ﷺ forbade that the male should perform ablution with the water left over by the female.

Notes · وضاحت
١ ؎: مرد اور عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت اور جواز سے متعلق روایات میں تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو اس پانی پر محمول کیا جائے جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، اور جواز کی روایتوں کو اس پانی پر جو برتن میں بچا ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٤٧ (٦٤)، سنن النسائی/المیاہ ١١ (٣٤٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٤ (٣٧٣)، (٣٧٤) ولفظه: ” عبدالله بن سرجس “، (تحفة الأشراف: ٣٤٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٣، ٥/٦٦) (صحیح )
83Sunan Abu Dawood

سمندر کے پانی سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.

قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک فرد مغیرہ بن ابی بردہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ (عبداللہ مدلجی نامی) ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, we travel on the sea and take a small quantity of water with us. If we use this for ablution, we would suffer from thirst. Can we perform ablution with sea water? The Messenger ﷺ replied: Its water is pure and what dies in it is lawful food.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٥٢ (٦٩)، سنن النسائی/الطھارة ٤٧ (٥٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٨ (٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ٣(١٢)، مسند احمد (٢/٢٣٧، ٣٦١، ٣٧٨)، سنن الدارمی/الطھارة ٥٣ (٧٥٥) (صحیح )
84Sunan Abu Dawood

نبیذ سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: مَا فِي إِدَاوَتِكَ ؟ قَالَ: نَبِيذٌ. قَالَ: تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَوْ زَيْدٍ كَذَا، قَالَ شَرِيكٌ: وَلَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ لَيْلَةَ الْجِنِّ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا: تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟ ، میں نے کہا: نبیذ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Abu Zayd quoted Abdullah ibn Masud as saying that on the night when the jinn listened to the Quran the Prophet ﷺ said: What is in your skin vessel? He said: I have some nabidh. He (the Holy Prophet) said: It consists of fresh dates and pure water. Sulayman ibn Dawud reported the same version of this tradition on the authority of Abu Zayd or Zayd. But Sharik said that Hammad did not mention the words night of the jinn.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٦٥ (٨٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٧ (٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٢) (ضعیف) (اس کے ایک راوی ابو زید مجہول ہیں )
85Sunan Abu Dawood

نبیذ سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ مَعَهُ مِنَّا أَحَدٌ.

علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا: ليلة الجن (جنوں والی رات) میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ١ ؎۔

Narrated Alqamah (RA) : I asked Abd Allaah b Masud (RA) : Which of you was in the company of the Messenger of Allaah ﷺ on the night when the jinn attended him? He replied: None of us was with him.

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ ابن مسعود ؓ نہیں تھے جیسا کہ مسلم اور ترمذی کے اندر سورة احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود ؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا اس موقع پر آپ ﷺ کے ہمراہ زبیر بن العوام ؓ تھے، چھٹا واقعہ آپ ﷺ کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ ﷺ کے ہمراہ بلال بن الحارث ؓ تھے (ملاحظہ ہو: الکوکب الدری شرح الترمذی)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٣ (٤٥٠)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٤٦ (٣٢٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٦) (صحیح )
86Sunan Abu Dawood

نبیذ سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ، وَقَالَ: إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ.

عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے۔

It is reported that Ata did not approve of performing ablution with milk and nabidh and said: tayammum is more my liking (than performing ablution with milk and nabidh).

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٠٦٢) (صحیح )
87Sunan Abu Dawood

نبیذ سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ وَعِنْدَهُ نَبِيذٌ، أَيَغْتَسِلُ بِهِ ؟ قَالَ: لَا.

ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کرسکتا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں۔

Narrated Abu Khaldah (RA) : I asked Abul-Aliyah whether a person who is sexually defiled and has no water with him, but he has only nabidh, can wash with it? He replied in the negative.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٦٤٠) (صحیح )
88Sunan Abu Dawood

قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَمَعَهُ النَّاسُ وَهُوَ يَؤُمُّهُمْ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَقَامَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَالَ: لِيَتَقَدَّمْ أَحَدُكُمْ وَذَهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ الْخَلَاءَ وَقَامَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو ضَمْرَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ، وَالْأَكْثَرُ الَّذِينَ رَوَوْهُ عَنْ هِشَامٍ، قَالُوا كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ.

عبداللہ بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ وہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے، وہی ان کی امامت کرتے تھے، ایک دن انہوں نے فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر لوگوں سے کہا: تم میں سے کوئی امامت کے لیے آگے بڑھے، وہ قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو اور اس وقت نماز کھڑی ہوچکی ہو تو وہ پہلے قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہیب بن خالد، شعیب بن اسحاق اور ابوضمرۃ نے بھی اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، اور عروہ نے ایک مبہم شخص سے، اور اس نے اسے عبداللہ بن ارقم سے بیان کیا ہے، لیکن ہشام سے روایت کرنے والوں کی اکثریت نے اسے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے زہیر نے کیا ہے (یعنی عن رجل کا اضافہ نہیں کیا ہے) ۔

Narrated Abdullah ibn al-Arqam (RA) : Urwah reported on the authority of his father that Abdullah ibn al-Arqam travelled for performing hajj (pilgrimage) or Umrah. He was accompanied by the people whom he led in prayer. One day when he was leading them in the dawn (fajr) prayer, he said to them: One of you should come forward. He then went away to relieve himself. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When any of you feels the need of relieving himself while the congregational prayer is ready, he should go to relieve himself.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٠٨ (١٤٢)، سنن النسائی/الإمامة ٥١ (٨٥١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٤ (٦١٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة السفر ١٧ (٤٩)، مسند احمد (٤/٣٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح )
89Sunan Abu Dawood

قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا أَخُو الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَجِيءَ بِطَعَامِهَا، فَقَامَ الْقَاسِمُ يُصَلِّي، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ.

عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس تھے، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم (قاسم بن محمد) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، یہ دیکھ کر وہ بولیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں (پاخانہ و پیشاب) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں ۔

Narrated Abd Allaah bin Muhammad (RA) : We were in the company of Aisha (RA) . When her food was brought in, al-Qasim stood up to say his prayer. Thereupon, Aisha (RA) said: I heard the Messenger of Allaah ﷺ say: Prayer should not be offered in presence of meals, nor at the moment when one is struggling with two evils (e. g. when one is feeling the call of nature. )

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٦ (٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٦٩، ١٦٢٨٨)، مسند احمد (٦/٤٣، ٥٤) (صحیح )
90Sunan Abu Dawood

قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمُّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصُّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَنْظُرُ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں کسی آدمی کے لیے جائز نہیں: ایک یہ کہ جو آدمی کسی قوم کا امام ہو وہ انہیں چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، دوسرا یہ کہ کوئی کسی کے گھر کے اندر اس سے اجازت لینے سے پہلے دیکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اس کے گھر میں گھس گیا، تیسرا یہ کہ کوئی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے، جب تک کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہوجائے ۔

Narrated Thawban (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Three things one is not allowed to do: supplicating Allah specifically for himself and ignoring others while leading people in prayer; if he did so, he deceived them; looking inside a house before taking permission: if he did so, it is as if he entered the house, saying prayer while one is feeling the call of nature until one eases oneself.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤٨ (٣٥٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣١ (٩٢٣)، (تحفة الأشراف: ٢٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٠) (ضعیف) (اس حدیث کا ایک راوی یزید ضعیف ہے، نیز وہ سند میں مضطرب بھی ہوا ہے، ہاں اس کے دوسرے ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
91Sunan Abu Dawood

قضائے حاجت کا تقاضہ ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاھیئے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ وَلَا يَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ (وہ فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہوجائے ۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: It is not permissible for a man who believes in Allah and in the Last Day that he should say the prayer while he is feeling the call of nature until he becomes light (by relieving himself). Then the narrator Thawr bin Yazid transmitted a similar tradition with the following wordings: It is not permissible for a man who believes in Allah and in the Last Day that he should lead the people in prayer but with their permission; and that he should not supplicate to Allah exclusively for himself leaving all others. If he did so, he violated trust. Abu Dawud said: This is a tradition reported by the narrators of Syria; no other person has joined them in relating this tradition.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٩) (صحیح) (اس کے راوی یزید ضعیف ہے، ہاں شواہد کے سبب یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، البتہ دعاء والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی شاہد نہیں ہے )
92Sunan Abu Dawood

وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ used to wash himself with a sa (of water) and perform ablution with a mudd (of water). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Aban on the authority of Qatadah. In this version he said: I herd safiyyah.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد تقریباً چھ سو پچیس (٦٢٥) گرام کا، اس اعتبار سے صاع تقریباً دو کلو پانچ سو گرام ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المیاہ ١٣ (٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١ (٢٦٨)، تحفة الأشراف (١٧٨٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٤٨ (٢٠١)، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٦)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٢ (٥٦)، مسند احمد (٦/١٢١) (صحیح )
93Sunan Abu Dawood

وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ used to take a bath with a sa (of water) and perform ablution with a mudd (of water)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٢٤٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٣ (٢٥٢)، سنن النسائی/الطھارة ١٤٤ (٢٣١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١ (٢٦٩)، مسند احمد (٣/٢٧٠) (صحیح )
94Sunan Abu Dawood

وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ جَدَّتِهِ وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرُ ثُلُثَيِ الْمُدِّ.

عباد بن تمیم کی دادی ام عمارہ (ام عمارہ بنت کعب) ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا۔

Narrated Umm Umarah (RA) : Habib al-Ansari reported: I heard Abbad ibn Tamim who reported on the authority of my grandmother, Umm Umarah, saying: The Prophet ﷺ wanted to perform ablution. A vessel containing 2/3 mudd of water was brought to him.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٥٩ (٧٤) (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٦) (صحیح )
95Sunan Abu Dawood

وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَسَعُ رَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ: وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَطْلَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: الصَّاعُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَهُوَ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں (عبداللہ بن جبر کے بجائے) ابن جبر بن عتیک ہے، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں حدثني جبر بن عبد الله. ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے يتوضأ بإناء يسع رطلين کے بجائے: يتوضأ بمكوك کہا ہے اور رطلين کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم ﷺ کا بھی صاع تھا۔

Anas reported: The Prophet ﷺ performed ablution with a vessel which contained two rotls (of water) and took a bath with a sa’ (of water). 1 Abu Dawud Said: This tradition has berated on the authority of Anas through a different chain. This version mentions: “He performed ablution with one makkuk. “It makes no mention of two rotls. 2 Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Yahya bin Adam from Sharik. But this chain mentions Ibn Jabr bin ‘Atik instead of ‘ Abdullah bin Jabr. Abu Dawud Said: This tradition has also been narrated by Sufyan from Abdullah bin ‘Isa. This chain mentions the name Jabr bin Abdullah instead of Abdullah bin Jabr. Abu Dawud Said: I heard Ahmad bin Hanbal say: one sa’ measures five rotls. It was the sa’ of Ibn Abi Dhi’b and also of the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہذا اللفظ أبوداود و سنن الترمذی/الصلاة ٦٠٩ ولفظہ: یجزیٔ في الوضوء رطلان من ماء (تحفة الأشراف: ٩٦٢) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی سیٔ الحفظ راوی ہیں انہوں نے کبھی اس کو رسول اکرم ﷺ کے قول کی حیثیت سے روایت کیا ہے، اور کبھی فعل کی حیثیت سے جب کہ اصل حدیث یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسة مکالي یا یتوضأ بالمد و یغتسل بالصاع کے لفظ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح البخاری/الوضوء ٤٧ (٢٠١)، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٥)، سنن النسائی/الطھارة ٥٩ (٧٣)، ١٤٤ (٢٣٠)، والمیاہ ١٣ (٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٢) وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١١٢، ١١٦، ١٧٩، ٢٥٩، ٢٨٢، ٢٩٠ )
96Sunan Abu Dawood

وضو میں اسراف جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ.

ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Mughaffal (RA) : Abdullah heard his son praying to Allah: O Allah, I ask Thee a white palace on the right of Paradise when I enter it. He said: O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge in Him from Hell-Fire, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: In this community there will be some people who will exceed the limits in purification as well as in supplication.

Notes · وضاحت
١ ؎: طہارت میں حد سے تجاوز کا مطلب یہ ہے کہ وضو، غسل یا آب دست میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ” تحدید “ سے زیادہ بلا ضرورت پانی بہایا جائے، اور دعا میں حد سے تجاوز کا مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعائیں چھوڑ کر دوسروں کی تکلفات سے بھری، مقفی اور مسجّع دعائیں پڑھی جائیں، یا حد ادب سے تجاوز ہو، یا صلہ رحمی کے خلاف ہو، یا غیر شرعی خواہش ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٢ (٣٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦) (صحیح )
97Sunan Abu Dawood

اچھی طرح وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَوْمًا وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ: وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں (پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے) خشک تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ١ ؎۔

Abdullah bin Amr reported: The Messenger of Allah ﷺ saw some people (performing ablution) while their heels were dry. He then said: Woe to the heels because of Hell. Perform the ablution in full.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایڑیاں اگر وضو میں خشک رہ جائیں گی تو جہنم میں جلائی جائیں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٩ (٢٤١)، سنن النسائی/الطھارة ٨٩ (١١١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٥ (٤٥٠)، مسند احمد (٢/١٩٣، ٢٠١، ٢٠٥، ٢١١، ٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ٣ (٦٠)، ٣٠ (٩٦)، بدون: أسبغوا ...، (صحیح )
98Sunan Abu Dawood

کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنِي صَاحِبٌ لِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَوْرٍ مِنْ شَبَهٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں پیتل کے ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I and the Messenger of Allah ﷺ used to take bath with a brass vessel.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٣٤٤) (ضعیف) ( حماد کے استاذ مجہول ہیں، نیز ہشام اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، البتہ متن ثابت ہے )
99Sunan Abu Dawood

کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔

This tradition has also been narrated on the authority of Aisha (RA) through a different chain.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٧٣٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم، البتہ متن ثابت ہے )
100Sunan Abu Dawood

کانسی یا پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَسَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ.

عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ایک پیتل کے پیالے میں آپ کے لیے پانی نکالا اور آپ ﷺ نے وضو کیا۔

Narrated Abdullah ibn Zayd (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came upon us. We brought water for him in a brass vessel and he performed ablution.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٥ (١٩٧)، صحیح مسلم/الطہارة ٧ (٢٣٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٢٤ (٣٢)، سنن النسائی/الطہارة ٨٠ (٩٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦١ (٤٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨، ٣٩) (صحیح )
101Sunan Abu Dawood

وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں بسم الله نہیں کہا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a person who does not perform ablution is not valid, and the ablution of a person who does not mention the name of Allah (in the beginning) is not valid.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٤١ (٣٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٦)، ت الطہارة ٢٠ (٢٥)، سنن النسائی/الطہارة ٦٢ (٧٨)، مسند احمد (٢/٤١٨) (صحیح )