قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ۟قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا
کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He has succeeded who purifies it,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ۟قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا
کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He has succeeded who purifies it,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shams
یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا
کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا
جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا
فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔
بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا
بیشک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اس (نفس) کو (رذائل سے) پاک کر لیا (اور اس میں نیکی کی نشو و نما کی)،
` یقینا وہ کامیاب ہوگیا جس نے اسے پاک کرلیا۔
کہ کامیاب وہ شخص ہوا جس نے نفس کو سنوار لیا
کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا
یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے پاک کرلیا اپنی جان کو
کہ وہ یقیناً بامراد ہوگیا جس نے اپنی جان کو پاک کرلیا
یقینا کامیاب ہوگیا جس نے اس (نفس) کو پاک کرلیا۔
کہ جس نے اپنے نفس یعنی روح کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا
He who purifies it will prosper,
success is really attained by him who purifies it,
success is really attained by him who purifies it,
Indeed he succeeds who purifies it.
He is indeed successful who causeth it to grow,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
He has succeeded who purifies it,
those who purify their souls will certainly have everlasting happiness
He will indeed be successful who purifies it,
Surely blissful is he who hath cleansed, it,
Truly he succeeds that purifies it,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة الشَّمْس 5 الہام کا لفظ " لَہْمَ " سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ " لَھَمَ الْشَّیََٔ وَ الْتَھَمَہٗ " کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور " اَلْھَمْتُہُ الْشَّیََٔ " کے معنی ہیں میں نے فلاں چیز اس کو نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتار دی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کس خیال کو غیر شعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کردینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات و میلات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ان سات قسموں کے بعد جواب قسم میں فرمایا قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا، یعنی بامراد ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا۔ تزکیہ کے اصلی معنے باطنی پاکی کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کرکے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرلیا اور محروم ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو گناہوں کی دلدل میں دھنسادیا لفظ دسی، دس سے مشتق ہے جس کے معنے زمین میں دفن کردینے کے ہیں کما قال تعالیٰ ام ید سہ فی التراب اور بعض مفسرین نے یہاں زکی اور دسی دونوں میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع کرکے معنے یہ کئے ہیں کہ بامراد ہوا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا، اور نامراد و محروم ہوا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں…
Read the full tafseer →’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘۔ یہ الہام خیر و شر کا لازمی اور بدیہی تقاضا بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خیر کو اختیار اور شر سے اجتناب کرے۔ یہی طریقہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہ کھولے گا۔ اگر اس کے برعکس اس نے شر و فساد کی راہ اختیار کی تو یہ چیز اس کی بدبختی و نامرادی کا سبب بنے گی۔ ’دَسّٰھَا‘ دراصل ’دَسَّھَا‘ ’دَسَسٌ‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو خاک میں ڈھانک دینے اور مٹی میں ملا دینے کے ہیں۔ یہی لفظ بدل کر ’دَسّٰھَا‘ ہو گیا ہے اور اس تبدیلی سے اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم…
Read the full tafseer →9۔ 1 شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ اخروی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
2: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کر وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔ جس کا ذکر سورة الفجر کی آخری آیتوں میں گذرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قد افلح ........................ دسھا (10:91) ” یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ مطلب یہ ہے کہ ان فطری قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ انسان کے اندر ایک قوت مدرکہ ہے اور اس قوت مدرکہ کی وجہ سے انسان ایک ذمہ دار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس قوت مدرکہ کو جس شخص نے نفس کی تطہیر کے لئے اور اس کے اندر بھلائی کی استعداد کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا اور خیر کی صلاحیت کو شریر غالب کردیا تو یہ شخص کامیاب ہوگیا ، اور جس شخص نے اپنی قوت عقلیہ کو تاریک کردیا اور اس کو چھپا کر دبا کر کمزور کردیا تو وہ ناکام ہوا۔ غرض انسان کی مسﺅلیت اس وجہ سے ہے کہ وہ قوت عقلیہ اور…
Read the full tafseer →2 نفس کا سنوارنا اور پاک کرنا یہ ہے کہ قوت شہویہ اور قوت غضبیہ کو عقل کے تابع کرے اور عقل کو شریعت الہٰیہ کا تابعدار بنائے۔ تاکہ روح اور قلب دونوں تجلی الہٰی کی روشنی سے منور ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت 10{ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } ”اور ناکام ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔“ یہ اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔ ان دو آیات میں انتہائی اختصار کے ساتھ انسان کی حقیقی کامیابی اور ناکامی کا معیار بیان کردیا گیا ہے۔ دَسَّ یَدُسُّ کے معنی کسی چیز کو مٹی میں دفن کردینے کے ہیں۔ سورة النحل آیت 59 میں ہم پڑھ چکے ہیں : { اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِط } اس آیت میں قبل از اسلام زمانے کے عربوں کی ایک خاص ذہنیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ یا تو اسے ذلت آمیز طریقے سے زندہ رکھتا ہے یا زندہ دفن کردیتا ہے۔ یہاں ”دَسّٰی“ دراصل دَسَّسَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8 الہام اور وحی کا فرق :۔ فَاَلْھَمَھَا : الہام کے معنی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلیٰ کی جانب سے بغیر کسی واسطہ کے دل میں ڈال دی جائے اور بمعنی سمجھ اور بصیرت عطا فرمانا۔ توفیق دینا، الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ نصوص شرعیہ کے خلاف ہو۔ وحی اور الہام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الہام کا اطلاق صرف ذوی العقول پر ہوتا ہے جبکہ وحی عام ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ الہام کا تعلق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ جبکہ وحی میں بہت زیادہ وسعت ہوتی ہے۔ خ الہام کی تین صورتیں :۔ الہام کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو وہ ہے جسے ہم فطری وحی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک پرندے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5۔ (فسق وفجور سے) آیت میں اسی الہام فطری کی تشریح ہے۔ یعنی انسان کی طبیعت میں یہ القاء کردیا گیا کہ نجات و فلاح اس کے لئے ہے، جس نے نفس کو راہ فجور سے پاک کرکے طریق طاعت وتقوی اختیار کرلیا اور عقاب دنیا بھی اس کیلئے ہے، جس نے اپنے کو فجور سے مغلوب ہوجانے دیا، دوسرے لفظوں میں نجات و عقاب دونوں کی کوشش انسان کے اپنے اختیار کی چیز ہے، اس میں تردید ہوگئی ہندو اور بدھ عقیدہ کی کہ ہر عمل انسانی پچھلے جہنم کے ” کرم “ کا ناگزیر نتیجہ ہوتا ہے، اور اس طرح انسان اس سے جکڑا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
فالھمھا فجور ھا وتقوھا الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے خیر و شر کی پہچان کرا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل و فطرت میں خیر و شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا، تاکہ وہ نیکی کو اختیار کریں اور بدی سے اجتناب کریں۔
Read the full tafseer →قد افلح من زکھا . کامیاب ہوا وہ شخص جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا۔ زکّٰی کا فاعل اللہ ہے اور ھَا ضمیر مَنْ کی طرف راجع ہے (مگر مَنْ مذکر ہے اور ھَا ضمیر مؤنث) اس کی وجہ یہ ہے کہ مَن سے واقع میں نفس ہی مراد ہے (اور نفس مؤنث ہے) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں نے خود سنا ‘ حضور ﷺ آیت : قد افلح من زکّٰھا (کی تشریح) میں فرما رہے تھے : وہ نفس کامیاب ہوگیا جس کو اللہ نے پاک کردیا۔ (رواہ ابن جریر من طریق جویبر) مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابن ابی شیبہ ؓ نے حضرت زید ؓ بن ارقم کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الٰہی میں تیری پناہ چاہتا ہوں ‘ بےبسی سے ‘ سستی سے ‘ بزدلی سے ‘ زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(7۔ 10) اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کے تمام اعضاء کو درست بنایا اور پھر اس کو ان باتوں کا القاء کیا ہے جو کرنے کی ہیں اور ان باتوں کا جن سے بچنا چاہیے، وہ کامیاب ہوا جس کو حق نے ہدایت و توفیق اور معرفت عطا فرمائی اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(فالھمھا فجورھا و تقومھا : لھم یلھم لھما“ (س) ”الشیء“ کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔”الھم اللہ یلھم الھاماً“ (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انیباء ؓ عنہماکے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیز گاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورة دہر (3) اور سورة بلد (10)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یہ جواب قسم ہے اور لقد افلح کے معنی میں ہے زجاج نے کہا، لام اس لیے حذف ہوا کیونکہ کلام طویل ہوچکی تھی پس اس کا طویل ہوناہی اس کا عوض بن گیا، ایک قول یہ کیا گیا جواب محذوف ہے سورج کی قسم، اس کی قسم اور اس کی قسم تمہیں ضرور اٹھایاجائے گا۔ زمخشری نے کہا، اللہ تعالیٰ اہل مکہ پر ایسا عذاب مسلط کرے گا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ کو جھٹلایا جس طرح اس نے قوم ثمود پر عذاب کو مسلط کردیا کیونکہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا۔ قدافلح من زکاھا۔ ایسی کلام ہے جو پہلی کلام کے تابع ہے کیونکہ، فالھمھا فجورھا وتقواھا۔ بطور استطر اومذکور ہے، یہ جواب قسم نہیں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بغیر حذف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
12۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحہا۔ یعنی قسم ہے آفتاب کی اور اس کی روشنی کی آیت والقمر اذا تلٰہا اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے آیت والنہار اذا جلٰہا اور دن کی جب وہ اسے روشن کردے آیت والنہار اذا جلٰہا یعنی اور رات کی قسم جب وہ چھاجائے اور آیت والسماء اما بناہا یعنی قسم ہے آسمان کی اور اسے بنانے والے کی فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بنایا آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اسے پھیلانے کی آیت فالہمہا فجورہا وتقوہا اور اس کو اس کی شقاوت کی پہچان کرائی آیت قد افلح من زکہا یعنی یقیناً وہ فلاح پا گیا جس نے…
Read the full tafseer →قَدْ اَفْلَحَ : مراد پا چکا ہے وہ جس نے ][ مَنْ زَكّٰىهَا : پاک رکھا اس (نفس) کو ] نوٹ۔ 3: گزشتہ آیات میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں، وہ جس بات پر کھائی گئی ہیں، اسے آیات۔ 9 ۔ 10 ۔ میں بیان کیا گیا ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پاک کرے اور اس کے اندر بھلائی کو نشو و نما دے وہ فلاح پائے گا۔ اور وہ شخص نامراد ہوگا جو نیکی کے رجحانات کو دبا دے اور فجور کو تقویٰ پر غالب کر دے۔ بعض مفسرین نے ان آیات کے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ فلاح پا گیا وہ جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا اور نامراد ہوا وہ جس کے نفس کو اللہ نے دبا دیا، لیکن یہ تفسیر زبان کے لحاظ سے قرآن کے طرز بیان کے خلاف ہے۔ اور یہ تفسیر اسی موضوع پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
﴿ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ008﴾ (پھر نفس کو اس کے فجور اور تقویٰ کا الہام فرما دیا) جب اسے عقل و فہم سے اور اعضاء صحیحہ ظاہرہ و باطنہ سے نواز دیا تو اسے احکام کا مکلف بھی بنا دیا وہ اپنے خالق ومالک کو پہچاننے کا بھی اہل ہے اور اس کے اعضاء معبود حقیقی کی عبادت کرنے کی بھی قوت رکھتے ہیں، پھر چونکہ امتحان بھی مقصود تھا اس لیے انسان کے لیے دونوں راستے واضح فرما دیئے جسے ﴿ وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾ میں بیان فرمایا نفس انسانی میں فجور کے جذبات بھی ابھرتے ہیں یعنی معاصی کی طرف بھی ابھار ہوتا ہے اور خیر کے جذبات بھی امنڈتے ہیں خیر اور شر دونوں چیزیں نفس انسانی میں پیدا ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5:۔ ” قد افلح “ یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے مذکورہ بالا شواہد اس پر گواہ ہیں کہ جس طرح وہ برابر نہیں ہیں اسی طرح نفس زکیہ اور نفس خبیثہ بھی برابر نہیں ہیں۔ نفس زکیہ کامیاب اور بامراد ہے اور نفس خبیثہ ذلیل و خوار اور ناکام ہے۔ جس نے اپنے نفس کو خبائث اعتقاد اور و رذائل اخلاق سے پاک کرلیا وہ تو کامیاب اور بامراد ہے اور جس نے اس کو اعتقادی خباثتوں میں ملوث کر کے ذلیل و خوار کیا وہ ناکام مراد ہوا۔
Read the full tafseer →قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىہَا 9 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ (الشمس : 9، 10) (یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔ ) یہ جوابِ قسم ہے یہ ہے جوابِ قسم جس کے لیے ان چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں۔ ہم گزشتہ آیات کی وضاحت میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی جن نشانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام چیزیں آپس میں ایک دوسرے کے متضاد اور نسبت تخالف رکھتی ہیں۔ سورج اور چاند اپنے ظہور اور فروغ اور اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے بالکل ایک دوسرے سے متضاد اور ایک دوسرے کے متخالف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…
Read the full tafseer →9 : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (یقینا وہ مراد کو پہنچا جس نے اس کو پاک کرلیا) یہ جواب قسم ہے تقدیر کلام یہ ہے : لقد افلح۔ قول الزجاج : کلام کی طوالت لام کا عوض بن گئی۔ ایک قول یہ ہے : جواب قسم محذوف ہے۔ یہی قول اظہر ہے۔ اس کی تقدیر اس طرح ہے لیُدَمْدِمَنّ اللہ علیہم اہل مکہ پر اللہ تعالیٰ تکذیب رسول کی وجہ سے تباہ کن عذاب نازل فرمائیں گے۔ جیسا کہ ثمود پر تکذیب ِصالح (علیہ السلام) کی وجہ سے اترا۔ حل کلام : قدافلح یہ کلام فالہمہا کے تابع ہے۔ اور بطور استطراد لایا گیا ہے جواب قسم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ من ؔ زکّٰھا جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا اور اس کی درستی کردی اور پاکیزگی والا بنادیا۔
Read the full tafseer →9 ۔” قدافلح من رکاھا “ اور یہ موضع قسم ہے یعنی کامیاب ہوا اور نیک بخت ہوا وہ نفس جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا۔ یعنی اس کی اصلاح کی اور گناہوں سے اس کو پاک کیا اور طاعت کی توفیق دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…
Read the full tafseer →(قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کیا اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا وہ کامیاب ہوا۔
Read the full tafseer →(7) فائز المرام لوگوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور فائز المرام لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاک کرلیا اپنی جان کو " یعنی اس نے پاک کردیا اس کو کفر و شرک کی غلاظتوں اور فسق و فجور اور معاصی وذنوب کی نجاستوں اور آلائشوں سے اور اس نے اپنے رب کی رضا و خوشنودی کے لیے طہارت و پاکیزگی کی زندگی گزاری ہوگی۔ وباللہ التوفیق وھو المسیر لکل عسیر۔ بہرکیف اس سے الہام خیر و شر کے لازمی نتیجے اور بدیہی تقاضے کو واضح فرما دیا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز بخشی تو اس کا فرض ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →ف 16 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جس نے اپنی جان کو سنوارا (یعنی اسے شرک و کفر سے بچایا) اس نے مراد پا لی۔ “ مگر پہلا ترجمہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ دعا کرتے تھے : اللھم ات نفسی تقواھا ورکدا انت خیر من رکاھا انت ولیھا ومولاھا اے اللہ ! تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ دے اور اسے پاک کر تجھ سے بڑھ کر کوئی اسے پاک نہیں کرسکتا تو ہی اس کا کار ساز اور مولیٰ ہے۔ فتح (مقدیر بحوالہ حمد نسائی)
Read the full tafseer →(91:9) قد افلح من زکہا۔ جمہور کے نزدیک یہ اور اگلا جملہ جواب قسم ہے۔ اور جواب قسم کا لام مقدرہ ہے۔ تقدیرکلام یوں ہے :۔ لقد افلح ۔۔ الخ۔ یا زجاج کے مطابق طول کلام لام کا عوض ہوا۔ (تفسیر مدارک التنزیل) بعض علماء کا قول ہے کہ :۔ فالھمھا فجورھا وتقوھا کے بعد یہ اور اس کے بعد آنے والا جملہ معترضہ ہے اور دونوں فریق (کافرو مومن) کے فرق کو واضح کرنے کے لئے اس کو ذکر کیا گیا ۔ اور قسم کا جواب محذوف ہے۔ جس پر آیت کذبت ثمود بطغوھا دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو تباہ کردیا۔ پس تکذیب ثمود کی طرح جب کفار مکہ بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
طریقہ فلاح ونجات کیا ہے ؟ (ف 2) اس میں کوئی شک نہیں کہ فراغ اور نجات اسی کے واسطے ہے جو نفس کو پاکیزہ بنائے گناہوں کی نجاست سے پاک کرے اور توبہ صدق دل سے کرکے نیک کاموں میں مشغول ہو، یہ بات جب ہی حاصل ہوتی ہے کسی پیر متبع شریعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر مجاہدہ میں مشغول ہوتا ہے بغیر اس کے نفس کا پاکیزہ رہنا بہت مشکل ہے افسوس ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کو علم تصوف کا شوق نہیں رہا بلکہ شوق بالکل جاتا ہی رہا، وہابیت اور نیچریت کے دریا ایسے موج زن ہوگئے کہ لوگوں کے دلوں سے تصوف کا شوق دھودیا، اب اتباع سنت اسی کا نام ہے کہ نفس کو بےقید رکھاجائے اور اس پر دین داری کا وہ گھمنڈ ہے کہ تمام دنیا کو بےایمان…
Read the full tafseer →[5] یعنی اپنے نفس کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
کامیاب کون ہے ؟ سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مظاہر فطرت کو پیش فرمایا ہے کہ تم ان پر غور کرو اور بتاؤ کہ انسان کو منصہ شہود پر لانے کا مقصد کیا ہے ۔ آفتاب کو دیکھو اور دھوپ ملاحظہ کرو چاند کو دیکھو جب کہ وہ غروب آفات کے بعد اس کی جگہ بقع ارض کو نور وضیا بخشتا ہے ۔ دن کو دیدہ عمق سے دیکھو جب کہ خدا اس کو لوگوں کے لئے جلوہ گر کرتا ہے ۔ رات کو دیکھو جب کہ وہ آفتاب کی روشنی پر چھاجاتی ہے ۔ آسمان کی بلندیوں کو دیکھو اور اس ذات کے متعلق سوچو جس نے اس کو پیدا کیا ہے ۔ زمین کو دیکھو اور یہ ملاحظہ کرو کہ اس ذات نے کیونکر اس کو ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ پھر نفس انسانی کی منزلوں کی طرف نظریں…
Read the full tafseer →(9) مذکور بالا اشیاء کی میں قسم کھا کر کہتا ہوں کے بیشک وہ شخص مراد کو پہنچا جس نے اس نفس کو پاک رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔
Read the full tafseer →جس نے نفس کو پاک کیا وہ اپنے مقصود کو پا گیا 9 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کی اس آیت نے مزید وضاحت کردی ۔ ایک تو یہ کہ ہر فرد و بشر اپنے تزکیہ نفس کا خود ذمہ داری ہے کسی ایک نفس کے متعلق بھی کسی دوسرے نفس سے باز پرس نہیں ہوگی خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیا ہو ؟ اس لیے واضح الفاظ میں ہر انسان کو ذمہ دار قرار دے کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ دونوں جہانوں میں کامیاب و کامران ہوا اور جس نے اسے گناہوں کی خاک میں دبا دیا وہ خائب وخاسرہوا ۔ غور کریں کہ اس سے زیادہ وضاحت اور کس طرح کی جاسکتی ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے ، اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10﴾ (success is really attained by him who purifies it, and failure is really suffered by him who pollutes it....91:10). This is the subject of the seven oaths. The primitive meaning of tazkiyah is 'inner cleanliness', signifying 'he who obeyed Allah and purified his inner and outer selves.' Verse [ 10] signifies 'he who caused his soul to sink in the swamp of sins will be deprived'. The word dassa is derived from the basic word dass' which denotes 'to bury in the ground' as for instance it occurs elsewhere in the Qur'an, thus: أَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5 The word ilham is derived from Jahm which means to swallow. According to this very basic meaning, the word ilham is used terminologically for Allah's inspiring a man with a concept or idea unconsciously. Inspiring the human self with its wickedness and its piety and virtue has two meanings: (1) That the Creator has placed in it tendencies to both good and evil, and this is the thing that every man feels in himself. (2) That Allah has endowed every man's unconscious mind with the concept that there is a moral good and there is a moral evil, that good morals and acts and evil morals and acts…
Read the full tafseer →