Explained with ayahs 1–10
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ :
حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة الشَّمْس 5
الہام کا لفظ " لَہْمَ " سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ " لَھَمَ الْشَّیََٔ وَ الْتَھَمَہٗ " کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور " اَلْھَمْتُہُ الْشَّیََٔ " کے معنی ہیں میں نے فلاں چیز اس کو نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتار دی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کس خیال کو غیر شعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کردینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات و میلات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس…
Read the full tafseer →فالھمھا فجورھا وتقوھا، الہام کے معنے دل میں ڈالنا، فجور کے معنے کھلا گناہ اور تقویٰ کا مفہوم معروف و مشہور ہے۔ یہ جملہ بھی ساتویں قسم ونفس وماسوھا کے ساتھ مربوط ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا، پھر اسکے دل میں فجور اور تقویٰ دونوں کا الہام کردیا، مراد یہ ہے کہ نفس انسانی کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے گناہ اور اطاعت دونوں کے مادے اور استعداد رکھدی ہے پھر انسان کو ایک خاص قسم کا اختیار اور قدرت دے دی کہ وہ اپنے قصد واختیار سے گناہ کی راہ اختیار کرلے یا اطاعت کی، جب وہ اپنے قصد واختیار سے ان میں سے کوئی راہ اختیار کرتا ہے تو اسی قصد واختیار پر اس کو ثواب یا عذاب ملتا ہے، اس تفسیر سے وہ…
Read the full tafseer →’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘۔ یہ عمل تسویہ کی تفصیل ہے۔ انسان کی تخلیق کا تکمیلی مرحلہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک نور یزدانی ودیعت فرمایا جس سے اس کے اندر یہ شعور بیدار ہوا کہ کیا چیز اس کے لیے نیکی اور خیر ہے اور کیا چیز بدی اور شر۔ سابق سورہ میں اسی حقیقت کی طرف ’وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘ (البلد ۹۰: ۱۰) کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے اور اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ قیامہ اور سورۂ دہر کی تفسیر میں اس کے ہر پہلو پر جامع بحث ملے گی۔
Read the full tafseer →8۔ 1 الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھایا اور انہیں انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدکاری کا شور ودیعت کردیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ونفس وما ............................ من دسھا (7:91 تا 10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی ، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ ان چار آیات میں اسلام کا نظریہ نفس بیان کیا گیا ہے۔ اس کی طرف سورة ماقبل ، سورة البلد میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
وھدینہ الندین (10:90) ” اور ہم نے اسے دورا ہیں دکھادیں “۔ نیز سورة دھر میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔
انا ھدینہ ........................ کفورا (3:76) ” ہم نے اسے راہ دکھادی۔ اب وہ یا تو شکر گزار بنے گا یا ناشکرا “۔ اس نظریہ کا…
Read the full tafseer →1 یعنی اول تو اجمالی طور پر عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کے ذریعہ سے بھلائی میں فرق کرنے کی سمجھ دی۔ پھر تفصیلی طور پر انبیاء و رسل کی زبانی کھول کھول کر بتلادیا کہ یہ راستہ بدی کا اور یہ پرہیزگاری کا ہے۔ اس کے بعد قلب میں جو نیکی کا رجحان یا بدی کی طرف میلان ہو، ان دونوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ گو القاء اول میں فرشتہ واسطہ ہوتا ہے۔ اور ثانی میں شیطان۔ پھر وہ رجحان و میلان کبھی مندہ کے قصد و اختیار سے مرتبہ عزم تک پہنچ کر صدور فعل کا ذریعہ بن جاتا ہے جس کا خالق اللہ اور کاسب بندہ ہے۔ اسی کسب خیرو شر پر مجازات کا سلسلہ بطریق تسبیب قائم ہے۔ وھذٰا لمسئلہ من معضلات المسائل و تفصیلھا یطلب من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 8{ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ } ”پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا۔“
اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8 الہام اور وحی کا فرق :۔ فَاَلْھَمَھَا : الہام کے معنی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلیٰ کی جانب سے بغیر کسی واسطہ کے دل میں ڈال دی جائے اور بمعنی سمجھ اور بصیرت عطا فرمانا۔ توفیق دینا، الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ نصوص شرعیہ کے خلاف ہو۔ وحی اور الہام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الہام کا اطلاق صرف ذوی العقول پر ہوتا ہے جبکہ وحی عام ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ الہام کا تعلق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ جبکہ وحی میں بہت زیادہ وسعت ہوتی ہے۔
خ الہام کی تین صورتیں :۔ الہام کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو وہ ہے جسے ہم فطری وحی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک پرندے کے…
Read the full tafseer →4۔ (تکوینی اور تخلیقی اعتبار سے) یعنی قلب میں جو نیکی کا رجحان ہے یا بدی کا میلان ہوتا ہے، دونوں کا خالق اللہ ہی ہے، گوالقاء اول الذکر میں واسطہ فرشتہ ہوتا ہے، اور القاء ثانی الذکر میں واسطہ شیطان ہوتا ہے (تھانوی (رح)) اس میں تردید آگئی اس مسیحی عقیدہ کی کہ ہر انسان فطرۃ گنہگا ار ہی بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ (آیت) ” فالھمھا “۔تعقیب کے لئے ہے، مراد یہ ہے کہ انسان کی جب مادی وجسمانی ترکیب مکمل ہوئی تو اسے فطرت اخلاقی عطاہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
فالھمھا فجور ھا وتقوھا الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے خیر و شر کی پہچان کرا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل و فطرت میں خیر و شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا، تاکہ وہ نیکی کو اختیار کریں اور بدی سے اجتناب کریں۔
Read the full tafseer →فالھمھا فجورھا و تقواھا . صاحب کشاف کی تقلید میں بیضاوی نے بھی لکھا ہے کہ آیت مذکورہ میں مَا کو
مصدری قرار دینے سے عبارت میں اختلال پیدا ہوجائے گا کیونکہ سوّٰی فعل کو فاعل سے مجرد کرنا ضروری ہوگا اور اَلْھَمَ فعل ہے اس کا عطف مَا سوّٰی پر ہوگا تو مصدر پر فعل کا عطف ہوجائے گا اس لیے مَا مصدری نہیں (بلکہ مَن کے معنی میں ہے اور) سوّٰی کا فاعل اللہ ہے اسی طرح الھَمَ کا فاعل بھی وہی ہے لیکن بحر مواج کے مؤلف نے لکھا ہے کہ الھم کا عطف سوّٰی پر ہے (اس لیے جس طرح مَا کی وجہ سے سوّٰی بمعنی مصدری ہے اسی طرح الھم بھی بمعنی مصدری ہے) اس طرح مصدر پر فعل کا عطف لازم نہیں آئے گا۔
نفسٍ کی تنوین اظہار کثرت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(7۔ 10) اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کے تمام اعضاء کو درست بنایا اور پھر اس کو ان باتوں کا القاء کیا ہے جو کرنے کی ہیں اور ان باتوں کا جن سے بچنا چاہیے، وہ کامیاب ہوا جس کو حق نے ہدایت و توفیق اور معرفت عطا فرمائی اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(فالھمھا فجورھا و تقومھا : لھم یلھم لھما“ (س) ”الشیء“ کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔”الھم اللہ یلھم الھاماً“ (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انیباء ؓ عنہماکے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیز گاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورة دہر (3) اور سورة بلد (10)۔
Read the full tafseer →یعنی اسے پہچان کروادی، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہی روایت کیا ہے یعنی اسے فجور اور تقوی کے راستہ کی پہچان کرادی یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے مجاہد نے یہ بھی کہا اے اطاعت اور معصیت کی پہچان کرادی۔ محمد بن کعب سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں سے کسی کے ساتھ بھلائی کی امید کرتا ہے تو اس کے دل میں بھلائی کا الہام کرتا ہے تو وہ اس پر عمل کرتا ہے اور جب اس کے بارے میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو برائی کا الہام کرتا ہے تو وہ اس پر عمل کرتا ہے فراء نے کہا، فالھمھا کا معنی ہے اسے خیر اور شر کے راستہ کی پہچان کرادی جس طرح فرمایا، وھدینہ النجدین۔ البلد) ہم نے اسے دونوں راستوں کی پہچان کرادی…
Read the full tafseer →16۔ الحاکم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فالہمہا یعنی اس کو آگاہ کردیا، فجورہا وتقوٰہا اس کی برائی اور اس کی نیکی۔
تقدیر کے متعلق سوال و جواب
7۔ احمد ومسلم وابن جریر وابن المنذر آپ بتائیے جو لوگ آج عمل کرتے ہیں۔ اور اس میں کچھ مشقت اٹھاتے ہیں یہ وہ شے ہے جس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے ان کے بارے میں اور وہ ان پر اتنی مقدار میں ہی پورا ہوتا ہے۔ جتنا پہلے ہوچکا ہے یا دونوں میں وہ اس عمل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جو ان کے پاس ان کے نبی لے کر آئے ہیں۔ اور اس کو ان پر حجت بنایا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ جن کا ان پر فیصلہ کیا گیا ہے اس آدمی نے پھر وہ عمل کیوں…
Read the full tafseer →[فَاَلْهَمَهَا : پھر اس نے الہام کیا اس میں ][ فُجورَهَا : اس کی نافرمانی ][ وَتَقْوٰىهَا : اور اس کی پرہیزگاری (کا شعور)]
ل ھـ م
[ لَھْمًا (س) کسی چیز کو ایک ہی مرتبہ میں نگل جانا۔ ہڑپ کر جانا۔]
(افعال) اِلْھَاماً نگلوانا۔ کسی کے دل میں کوئی بات القا کردینا۔ (لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القا کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملائِ اعلیٰ کی جانب سے دل میں ڈالی جاتی ہے۔ مفردات)
(آیت۔ 8) یہ آیت جوابِ قسم نہیں ہے بلکہ یہ سابقہ آیت میں قسم وَنَفْسٍ کا جز ہے۔ ان قسموں کا جوابِ قسم آگے آیات۔ 9 ۔ 10 ۔ میں آیا ہے۔ دَسّٰچھَا۔ یہ اگر مادہ ” دسس “ کے ثلاثی مجرد سے ہوتا تو یہ دَسَّھَا ہوتا۔ نہ سین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
﴿ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ008﴾ (پھر نفس کو اس کے فجور اور تقویٰ کا الہام فرما دیا) جب اسے عقل و فہم سے اور اعضاء صحیحہ ظاہرہ و باطنہ سے نواز دیا تو اسے احکام کا مکلف بھی بنا دیا وہ اپنے خالق ومالک کو پہچاننے کا بھی اہل ہے اور اس کے اعضاء معبود حقیقی کی عبادت کرنے کی بھی قوت رکھتے ہیں، پھر چونکہ امتحان بھی مقصود تھا اس لیے انسان کے لیے دونوں راستے واضح فرما دیئے جسے ﴿ وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾ میں بیان فرمایا نفس انسانی میں فجور کے جذبات بھی ابھرتے ہیں یعنی معاصی کی طرف بھی ابھار ہوتا ہے اور خیر کے جذبات بھی امنڈتے ہیں خیر اور شر دونوں چیزیں نفس انسانی میں پیدا ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4:۔ ” ونفس “ یہاں بھی ما مصدریہ ہے تسویہ سے مراد یہ ہے کہ اس کی ظاہری و باطنی قوتوں میں اعتدال پیدا کی اور اس کے اعضاء متناسب بنائے۔ ای انشاھا وابدعہا مستعدۃ لکمالہا وذلک بتعدیل اعضائہا وقوھا الظاہرۃ والباطنۃ (روح ج 30 ص 142) ۔ ” فالہمہا فجورھا وتقاھا “ پیدا کرنے کے بعد اس کو فجور وتقوی، طاعت و معصیت اور نیکی اور بدی کی راہیں دکھا دیں تاکہ وہ اپنے اختیار سے دونوں میں سے ایک راہ کو منتخب کرلے۔
Read the full tafseer →فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰىہَا 8
لهم
الْإِلْهَامُ : إلقاء الشیء في الرّوع، ويختصّ ذلک بما کان من جهة اللہ تعالی، وجهة الملإ الأعلی. قال تعالی: فَأَلْهَمَها فُجُورَها وَتَقْواها[ الشمس/ 8] وذلک نحو ما عبّر عنه بِلَمَّةِ المَلَك، وبالنّفْث في الرّوْع کقوله عليه الصلاة والسلام : «إنّ للملک لمّة وللشیطان لمّة» وکقوله عليه الصلاة والسلام : «إنّ روح القدس نفث في روعي» وأصله من الْتِهَامِ الشیء، وهو ابتلاعه، والْتَهَمَ الفصیل ما في الضّرع، وفرس لهم : كأنه يَلْتَهِمُ الأرض لشدّة عدوه .
( ل ھ م ) الالھام ( افعال ) کے معنی کسی کے دل میں کوئی بات القا کردینا کے ہیں ۔ لیکن یہ لفظ ایسی بات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…
Read the full tafseer →فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْـٰوھَا۔ (الشمس : 8)
(پھر اس کے دل میں ڈال دی، اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری۔ )
الہام کی وضاحت
علامہ ابن منظور الہام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں اللّٰھُمَّ : الابتلاع لَہَمَ الشی لَہْمًا وَلَہَمًا وَتَلَہَّمَہ وَالتَہَمَہ ابتلعہ مرۃ ” یک بارگی کسی چیز کو نگل جانا، اسی سے الہام مشتق ہے۔ والالہام : مایلقی فی الروع ” دل میں کسی چیز کو ڈال دینا۔ “
علامہ راغب اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں الالہام : القاء الشی فی الروع ویختص ذلک لما کان من جہۃ اللہ تعالیٰ اومن جہۃ الملاء الاعلیٰ (المفردات) ” یعنی الہام کسی چیز کے دل میں ڈالنے کو کہتے ہیں اور الہام اس خیال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن
ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔
سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…
Read the full tafseer →8 : فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا (پھر اس کو بدکرداری اور پرہیزگاری کا القاء کیا) اس کو طاعت و معصیت بتلا دی۔ یعنی سمجھا دی کہ ان میں سے ایک حسن اور دوسری قبیح ہے۔
Read the full tafseer →فجور اور تقوی کے متعلق احادیث کا تذکرہ
8 ۔” فالھمھا فجورھا توقواھا “ علی بن ابی طلحہ کی روایت میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس کے لئے خیر وشر کو واضح کیا اور عطیہ کی روایت میں فرمایا کہ اس کو طاعت و معصیت کا علم دیا اور ابوصالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کو معرفت دی کہ وہ کیا کرے اور کس سے بچے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس کو اس کا فجور اور تقویٰ لازم کردیا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس میں یہ بنادیا یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو تقویٰ کی توفیق دینے کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے اس کو فجور (گناہوں) کے ساتھ ذلیل کرنے کے ساتھ اور زجاج (رح) نے اس کو اختیار کیا ہے اور الہام کو توفیق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا) اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے منتقل ہونے، حرکت، تغیر وتبدل تاثر اور انفعالات نفسیہ مثلا، ہم وغم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور اس ہیبت میں اس کو درست کرنا جو…
Read the full tafseer →(6) نیکی اور بدی کے الہام کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے اس کو الہام کردیا اس کی ابدی اور پرہیزگاری کا " یعنی اس کی طبیعت و فطرت میں یہ تمیز و معرفت رکھ دی کہ فلاں بات بری ہے تاکہ وہ اس سے بچ سکے، اور فلاں بات اچھی ہے، تاکہ اس کو وہ اپنا سکے، اور اس طرح وہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرسکے، نیز اس الہام میں یہ بات بھی داخل ہے و شامل ہے کہ اس میں خیر و شر کی اہلیت و استعداد رکھ دی، کیونکہ اسی میں اس کی ابتلاء و آزمائش کا سامان ہے کہ یہ شر کے جذبات کو دبا کر خیر کے جذبات کو اس پر غالب کرے اور اس طرح ابتلا و آزمائش میں سرفراز وفائز المرام ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے
تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔
آیات 151
اسرار ومعارف۔
قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 15 یہ بتلانا عقل و فطرت سے بھی ہوا اور پھر انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے بھی اچھی باتیں اس لئے بتلائی گئیں کہ انہیں اتخیار کرے اور بری باتیں اس لئے کہ ان سے بچے۔
Read the full tafseer →(91:8) فالھمھا فجورھا وتقوھا :عاطفہ بمعنی پھر۔ الہم کا عطف سوی پر ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ فجورھا مضاف مضاف الیہ مل کر الہم کا مفعول۔ اسی طرح تقوھا مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے الہم کا۔
الہم ماضی واحد مذکر غائب الہام (افعال) مصدر سے جس کے معنی کسی چیز کو دل میں ڈال دینے کے ہیں۔
الہم لہم سے ماخوذ ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں چونکہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بات ڈال دی جاتی ہے اس لئے اس کا نام الہام ہوا۔ الہم کا فاعل محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ ۔
فجور۔ مصدر ہے فجر یفجر (باب نصر) سے۔ فجور کا لغوی معنی ہے سوار کا زمین سے ایک طرف کو جھک جانا۔ جھوٹ بولنا۔ کسی کو جھوٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔
تشریح :
قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔
Read the full tafseer →[4] یعنی ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی اور برائی کے تصورات ودیعت کر دئیے ہیں۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بناء پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیروشر کے تصورات سے خالی نہیں رہا۔ اس چیز کا ہر زمانے میں پایا جانا نہ صرف اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایک خالق حکیم و دانا نے اس کو انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔
Read the full tafseer →(8) پھر اس کو اس کی بدکرداری اور تقویٰ و پرہیزگاری سے آگاہ کیا - حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اس کے لئے خیر اور شر کو بیان کردیا طاعت اور معصیت اس کو تعلیم کردی اور یہ سکھا دیا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ مطلب یہ ہے کہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ اول تو خود ہی اس باب میں رہنما ہے اور وہی بھلی بری بات سمجھاتی ہے پھر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیج کر مزیدکرم فرمایا اور برائی اور بھلائی میں فرق بتادیا اور نہایت واضح طور پر انبیاء ومرسلین نے نیکی اور بدی کا راستہ دکھادیا، پھر قلب میں جو نیکی کا رجحان یابدی کا میلان ہوتا ہے تو نیکی کا الہام بواسطہ فرشتہ اور بدی کا القاب واسطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔
Read the full tafseer →پس اللہ نے نفس انسان پر برائی اور تقویٰ اچھی طرح کھول دیا ہے
8 ؎ ( فالھمھا) الھمہ اللہ الرشد ۔ مکنہ فی قلبہ او ھداہ الیہ ۔ زیر نظر آیت کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ای القی فیھا احساسا ً تفرق بہ بین الضلال والھدیٰ ولعل ھذا الا احساس ھو الذی یسمی فی عصر نا الحاضر بالضمیر (معجم الفاظ القرآن الکریم) ( الھمھا) اس کو سمجھ دی ، اس کو القا کیا الھم الھام سے جس کے معنی کسی چیز کے دل میں ڈال دینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب ( الھام) لھم سے مآخوذ ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں چونکہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بات ڈالی جاتی ہے وہ دل کی تہوں…
Read the full tafseer →فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (then inspired it with its [ instincts on evil and piety...91:8) The word ilham denotes 'to cast into the heart'. The word fujur denotes 'open transgression'. The meaning of taqwa is well-known. This sentence is linked with the seventh oath وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا and by the soul, and the One who made it well, [ 91:7] ', signifying that Allah has equipped man with human soul which has the capacity to distinguish between good and bad, and right and wrong. In other words, in his make-up Allah has built in him a special ability to choose freely the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5 The word ilham is derived from Jahm which means to swallow. According to this very basic meaning, the word ilham is used terminologically for Allah's inspiring a man with a concept or idea unconsciously. Inspiring the human self with its wickedness and its piety and virtue has two meanings: (1) That the Creator has placed in it tendencies to both good and evil, and this is the thing that every man feels in himself. (2) That Allah has endowed every man's unconscious mind with the concept that there is a moral good and there is a moral evil, that good morals and acts and evil morals and acts…
Read the full tafseer →