وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا ۟وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا
اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the soul and He who proportioned it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا ۟وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا
اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the soul and He who proportioned it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shams
اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا
اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی
اور انسانی جان کی، اور اس کی جس نے اسے سنوارا۔
اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا
اور انسانی جان کی قَسم اور اسے ہمہ پہلو توازن و درستگی دینے والے کی قَسم،
اور نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک بنایا !
اور جان کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک کرکے بنایا
اور نفس اور جیسا کچھ اس کو سنوارا۔
اور قسم ہے نفس انسانی کی اور اس ذات کی جس نے اس کو درست کیا
اور جان کی اور اس کی جس نے اسے درست بنایا۔
اور قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا کہ اس کو سنوارا۔
اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے اعضاء کو برابر کیا
and by the soul and by Him Who perfectly proportioned it,
and by the soul, and the One who made it well,
and by the soul, and the One who made it well,
By Nafs, and Ma Sawwaha (Who apportioned it).
And a soul and Him Who perfected it
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the soul and He who proportioned it
and by the soul and that (Power) which designed it
And the soul and Him Who made it perfect,
By the soul and Him Who propertioned it,
By the Soul, and the proportion and order given to it;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…
Read the full tafseer →سورة الشَّمْس 4 ہموار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامت راست اور اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنے دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے موزوں ترین تھا۔ اس کو دیکھنے، سننے، چھونے، چکھنے اور سونگھنے کے ایسے حواس عطا کیے جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بنا پر اس کے لیے بہترین ذریعہ علم بن سکتے تھے۔ اس کو قوت عقل و فکر، قوت استدلال و استنباط، قوت خیال، قوت حافظہ، قوت تمیز، قوت فیصلہ، قوت ارادی اور دوسری ایسی ذہنی قوتیں عطا کیں جن کی بدولت وہ دنیا میں اس کام کے قابل ہوا جو انسان کے کرنے کا ہے۔ اس کے علاوہ ہموار کرنے میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اسے پیدائشی گناہ گار…
Read the full tafseer →ساتویں قسم ونفس وماسوھا، اس میں ما کو مصدریہ لیا جائے تو معنے یہ ہیں کہ قسم ہے انسانی جان کی اور اسکے درست ومتناسب کرنے کی اور گرما کو بمعنے من لیا جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ قسم ہے نفس کی اور اسکے برابر و درست کرنیوالے کی۔ تسویہ یعنی درست اور برابر کرنے کا مفہوم اس سے پہلے سورتوں میں آچکا ہے۔
Read the full tafseer →آفاقی شہادت کے بعد نفسیاتی شہادت: آفاقی شہادتوں کے بعد یہ نفسیاتی شہادت کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر خود اپنے نفس پر غور کرے تو یہ حقیقت واضح ہو گی کہ خالق نے اس کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت کر دیا ہے۔ یہ شعور ظاہر ہے کہ اسی لیے ودیعت ہوا ہے کہ انسان ان میں سے نیکی کو اختیار کرے اور بدی سے اپنے کو بچائے۔ اور اس سے یہ بات بھی بدیہی نتیجہ کے طور پر نکلی کہ فلاح وہی پائے گا جو اپنے کو بدی سے پاک رکھے گا اور وہ نامراد ہو گا جو اس کو گناہوں سے آلودہ کرے گا۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ اپنے آپ کو غیرمسؤل اور شتر بے مہار سمجھنے کا تصور انسان کے…
Read the full tafseer →7۔ 1 یا جس نے اس درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب اسے مناسب الا عضاء بنایا بےڈھنگا نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ونفس وما ............................ من دسھا (7:91 تا 10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی ، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ ان چار آیات میں اسلام کا نظریہ نفس بیان کیا گیا ہے۔ اس کی طرف سورة ماقبل ، سورة البلد میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ وھدینہ الندین (10:90) ” اور ہم نے اسے دورا ہیں دکھادیں “۔ نیز سورة دھر میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔ انا ھدینہ ........................ کفورا (3:76) ” ہم نے اسے راہ دکھادی۔ اب وہ یا تو شکر گزار بنے گا یا ناشکرا “۔ اس نظریہ کا…
Read the full tafseer →18 کہ اعتدال مزاج کا اور حواس ظاہری و باطنی اور قوائے طبیعیہ حیوانیہ و نفسانیہ سب اس کو دیے اور نیکی بدی کے راستوں پر چلنے کی استعداد رکھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 8{ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ } ”پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا۔“ اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔
Read the full tafseer →7 انسان فطرتاً نیک اور موحد پیدا کیا گیا :۔ یعنی نفس کو پیدا کرنے کے بعد اس میں وہ تمام ظاہری اور باطنی قوتیں رکھ دیں جن سے کام لے کر وہ ایسے سب کام سرانجام دے سکے جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ سَوّٰھَا کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ انسان پیدائشی طور پر نہ گنہگار پیدا ہوا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور اسی غرض سے انہوں نے کفارہ مسیح کا عقیدہ اختراع کیا اور نہ ہی انسان شرپسند پیدا ہوا ہے جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کا خیال ہے۔ بلکہ انسان کی فطرت میں راستی اور سچائی ودیعت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کے جذبہ سے مل جل کر رہنا چاہتا ہے، دوسروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ شکل، ترکیب اعضاء وغیرہ ہر اعتبار سے۔ (آیت) ” وما بنھا، وما طحھا، وما سوھا “۔ ماتینوں مقاموں پر من کے مرادف ہے، اور اس کے لانے سے مقصود کمال عظمت کا اظہار ہے۔ (آیت) ” السمآء الارض، نفس “۔ تینوں کا ذکر جن الفاظ میں آیا ہے، اس نے یہ بھی صاف کردیا کہ آسمان اور زمین اور جان، یہ سب مخلوق ومصنوع ہی ہیں۔ کوئی بھی ان میں سے معبود یا نیم معبود نہیں۔ (آیت) ” نفس “۔ صیغہ نکرہ، بطور اسم جنس، اظہار کثرت کے لئے ہے۔ والتنکیر للتکثیر (روح) اے نفوس (جلالین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
والسماء وما بنھا یعنی اس ذات کی قسم جس نے اس کو بنایا، اس معنی کے اعتبار سے مابمعنی من ہے اور اگر ترجمہ یہ کیا جائے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی، اس صورت میں ما مصدر یہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ونفس وما سواھا . میں ہے۔ یعنی نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کی تخلیق متوازن کی اور تقاضاءِ حکمت کے موافق اس کی تخلیق کا فیصلہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(7۔ 10) اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کے تمام اعضاء کو درست بنایا اور پھر اس کو ان باتوں کا القاء کیا ہے جو کرنے کی ہیں اور ان باتوں کا جن سے بچنا چاہیے، وہ کامیاب ہوا جس کو حق نے ہدایت و توفیق اور معرفت عطا فرمائی اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
والارض وما طحھا :”طحا یطحو طحوا“ (ن) اور ”’ حا یدحو دحوا“ (ن) کا ایک ہی معنی ہے، بچھانا۔ اور زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا !
Read the full tafseer →اس میں مامصدریہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ، ما، من کے معنی میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے نفس کے بارے میں دو قول ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر نفس مراد ہے سوی کا معنی تیار کرنا ہے۔ مجاہد نے کہا، سواھا، کا معنی ہے اس کی خلقت کو درست کیا ہے اور اسے متعدل بنایا۔ یہ تمام اسماء قسم کے طور پر مجرور ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کی قسم اٹھائی کیونکہ اسمیں اس کی صنعت کے عجائب ہیں جو اس پر دلالت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الارض وما طحٰہا میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تقسیم کھائی ہے آیت فالہمہا فجورہا وتقوٰہا یعنی پھر خیر اور شر کو بیان فرمادیا۔
Read the full tafseer →[وَنَفْسٍ : اور قسم ہے نفس کی ][ وَمَا : اور اس کی جیسا ][ سَوّٰىهَا : اس نے سنوارا اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
پھر فرمایا ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ004﴾ (اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو چھپالے) یہ بھی اسناد مجازی ہے اور مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رات کی جب خوب اچھی طرح تاریک ہوجائے اور دن کی روشنی پر چھا جائے۔ ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ005﴾ (اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا) ﴿ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ006﴾ (اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا) ۔ ﴿ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ007﴾ (اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو اچھی طرح بنایا) ۔ ان تینوں آیتوں میں جو ما موصولہ ہے یہ مَنْ کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بھی قسم کھائی اور اپنی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4:۔ ” ونفس “ یہاں بھی ما مصدریہ ہے تسویہ سے مراد یہ ہے کہ اس کی ظاہری و باطنی قوتوں میں اعتدال پیدا کی اور اس کے اعضاء متناسب بنائے۔ ای انشاھا وابدعہا مستعدۃ لکمالہا وذلک بتعدیل اعضائہا وقوھا الظاہرۃ والباطنۃ (روح ج 30 ص 142) ۔ ” فالہمہا فجورھا وتقاھا “ پیدا کرنے کے بعد اس کو فجور وتقوی، طاعت و معصیت اور نیکی اور بدی کی راہیں دکھا دیں تاکہ وہ اپنے اختیار سے دونوں میں سے ایک راہ کو منتخب کرلے۔
Read the full tafseer →وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىہَا 7 نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…
Read the full tafseer →وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا۔ (الشمس : 7) ( اور قسم ہے نفس کی اور جیسا کچھ اس کو سنوارا۔ ) آفاقی شہادتوں کے بعد نفسیاتی شہادت آفاقی شہادتوں کے بعد نفسیاتی شہادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نفس انسانی کی قسم کھائی گئی ہے۔ لیکن خاص طور پر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس کو پیدا فرمایا تو اس کا تسویہ بھی فرمایا۔ یعنی اسے ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامت راست اور اپنے ہاتھ پائوں اور اپنے دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے موزوں ترین تھا۔ اسے حواس کی دولت عطا فرمائی جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بنا پر علم کا بہترین ذریعہ بن سکتے تھے۔ پھر اسے جوہرِعقل سے نوازا، فکری قوت عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…
Read the full tafseer →7 : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا (اور جان کی اور جس نے اس کو درست بنایا) ان تمام میں ماؔ مصدریہ ہے ای بناء ھا وطحوھا وتسویۃ خلقھا فی احسن صورۃ۔ آسمان اور اس کے بنانے اور زمین اور اس کے بچھانے اور نفس کی تخلیق بہترین صورت میں کرنے میں) بعض کے ہاں یہ ما مصدر یہ والی صورت فالھمھاؔ میں نہیں چلتی کیونکہ عبارت میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے صحیح وجہ اس میں یہ ہے کہ ما ؔ موصولہ ہو۔ رہا یہ سوال کہ منؔ کی بجائے ماؔ کو لایا گیا۔ تو وجہ ترجیح یہ ہے کہ اس میں وصفیت کا معنی پایا جاتا ہے۔ مَنْ میں ایسا نہیں گویا اس طرح فرمایا۔ والسماء والقادر العظیم الذی بناھا و نفس و الحکیم الباھر الحکمۃ الذی سواھا۔ قسم ہے…
Read the full tafseer →7 ۔” ونفس وما سواھا “ اس کی تخلیق کو ٹھیک کیا اور اس کے اعضاء کو برابر بنایا۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں مراد وہ تمام جن وانس ہیں جن کو پیدا کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا) اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے منتقل ہونے، حرکت، تغیر وتبدل تاثر اور انفعالات نفسیہ مثلا، ہم وغم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور اس ہیبت میں اس کو درست کرنا جو…
Read the full tafseer →(5) نفس انسانی اور اس کو درست کرنے والے کی قسم اور اس سے مقصود ؟ سو آفاقی شہادتوں کے ذکرو بیان کے بعد نفسی شہادتوں کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے نفس انسانی کی اور اس ذات کی جس نے اس کو برابر کیا، اور اس کو عظیم الشان قوتوں اور ظاہری و باطنی خوبیوں سے نوازا، اس کو احسن تقیم ( بہترین ساخت) پر پیدا فرمایا، قامت راس و مستقیم سے سرفراز فرمایا، جو ہر عقل سے بہرہ ور فرمایا، اور اس کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا اور خلعت و جود سے نوازا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے ( آیت، الروم 30 پ 21) اور اس کو اس قابل بنایا کہ یہ وحی و ہدایت کے نور سے مستفید و فیضیاب ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 15 یہ بتلانا عقل و فطرت سے بھی ہوا اور پھر انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے بھی اچھی باتیں اس لئے بتلائی گئیں کہ انہیں اتخیار کرے اور بری باتیں اس لئے کہ ان سے بچے۔
Read the full tafseer →(91:7) ونفس وما سوھا۔ واؤ قسمیہ۔ نفس۔ نفس انسانی، انسانی جان واؤ ثانی عاطفہ یا قسمیہ ہے۔ ما مصدریہ یا موصولہ ہے۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ بمعنی کسی چیز کو بلندی یا پستی میں برابر بنانا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما مصدریہ کے) اور قسم ہے انسان کی جان کی اور اس کی آراستگی کی۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما موصولہ کے) اور قسم ہے انسانی جان کی اور اس کی کہ جس نے اس کو آراستہ کیا۔ فائدہ : علامہ پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔ (آیات 5-6-7 میں) اول دوسرا۔ تیسرا واؤ باتفاق علماء واؤ قسمیہ ہے اور اس کے بعد والے واؤ میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بھی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔
Read the full tafseer →[3] یعنی اس کو ایسا جسم اور دماغ عطا کیا، ایسے حواس بخشے اور ایسی قوتیں اور قابلیتیں دیں جن کی بدولت وہ دنیا میں ان کاموں کے کرنے کے قابل ہوا جو انسان کے کرنے کے ہیں۔
Read the full tafseer →(7) اور قسم ہے انسان جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا - آسمان کی قسم اور اس کی قسم جس نے اپنی حکمت اور اپنی خالقیت سے اس کو بنایا اور محیط کیا اور زمین کی قسم اور اس کی قسم جس نے اپنی حکمت کے موافق اس کو بچھایا اگر ھا کو مصدر یہ لیا جائے جیسا کہ بعض کا قول ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ والسماء وبناء ھا والارض وبسطھا و سطحبھا علی الماء نفس سے مراد خواہ جس انسانی ہو خواہ قوت مدبرہ ہو مطلب یہ ہے کہ حواس ظاہری اور باطنی اور قوائے طبیعیہ نفسانیہ سب سے اس کو مزین و آراستہ کیا یعنی جسم کی ساخت اور بناوٹ میں بھی اعتدال اور مزاج میں بھی اعتدال قوت مفکرہ اور مخلیہ غرض ہو تمام قوتیں عطا فرمائیں جو کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔
Read the full tafseer →قسم ہے انسان اور اس کے درست کرنے والے رب کی 7 ؎ (نفس) اسم مفرد و نکرہ مجرور جان مراد شخص نفسا ً اسم مفرد نکرہ منصوب ، خان ، مراد شخص سب سے زیادہ استعمال قرآن کریم میں مجرور کا ہوا ہے اور اس کے بعد منصوب کا اور معنی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ زیر نظر آیت میں مجرور استعمال ہوا ہے اور یہ ایک ترجمہ تو وہ ہے جو ہم نے متن کے تحت درج کردیا ہے اور دوسرے معنی ہیں قسم ہے انسان کے رب کی اور جیسا کہ اس نے اس کو درست کیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ، اس کو ظاہری ساخت اور اس کے ظاہری اور باطنی حواس میں غور و فکر اور فہم و ادراک کی صلاحیتیں جس علیم و حکیم نے رکھی ہیں اس نے…
Read the full tafseer →وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (and by the soul, and the One who made it well,...91:7) If, in this phrase, the particle ma is taken to function as infinitival particle, it signifies 'by the human soul and its perfection'. If ma is taken in the sense of man , it signifies 'by the soul and the One who proportioned it'. The
Read the full tafseer →4 "Balanced it" : gave man such a body which by virtue of its erect stature, its hands and feet, and its brain was most appropriate for him to live as man in the world. He blessed him with the senses of sight, hearing, touch, taste and smell which on account of their combination and their characteristics could become the best means of obtaining knowledge for him. He endowed him with the faculties of thinking and reasoning, imagination, memory, discrimination, judgement, will-power and such other mental powers by virtue of which he is able to perform the functions fit for man in the world. In…
Read the full tafseer →