وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىهَا ۟وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰٮهَا
اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the earth and He who spread it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىهَا ۟وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰٮهَا
اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the earth and He who spread it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shams
اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا
اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا
قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی
اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے بچھایا۔
اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم،
اور زمین کی قَسم اور اس (قوت) کی قَسم جو اسے (امرِ الٰہی سے سورج سے کھینچ دور) لے گئی،
اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا !
اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا
اور زمین اور جیسا کچھ اس کو بچھایا
اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا
اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے بچھایا
اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔
زمین کی اور جس نے اسے بنایا پھیلایا
and by the earth and by Him Who stretched it out;
and by the earth, and the One who spread it,
and by the earth, and the One who spread it,
By the earth and Ma Tahhaha.
And the earth and Him Who spread it,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the earth and He who spread it
by the earth and that (Power) which spread it out
And the earth and Him Who extended it,
By the earth and Him Who spread it forth,
By the Earth and its (wide) expanse:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الشَّمْس 3 یعنی چھت کی طرح اسے زمین پر اٹھا کھڑا کیا۔ اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں ما کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی " مَا بَنَاهَا "، اور " مَا طَحَاهَا " اور " مَا سَوَّاهَا " اس لفظ ما کو مفسرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں میں لیا ہے اور وہ ان آیتوں کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم، اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں ہیں کہ ان تین فقروں کے بعد یہ فقرہ کہ " پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی " اس سلسلہ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ دوسرے مفسرین نے یہاں ما کو من یا…
Read the full tafseer →اسی طرح چھٹی قسم والارض وما طحھا میں بمعنے مصدر لے کر ترجمہ یہ ہوا کہ قسم ہے زمین اور اسکے بچھانے پھیلانے کی، کیونکہ طحو مصدر کے معنے بچھانے پھیلانے کے آتے ہیں۔ اس میں آسمان کے ساتھ بنانیکا اور زمین کے ساتھ بچھانے پھیلانے کا ذکر بھی اسی حالت کمال کو بتلانے کے لئے ہے کہ قسم ہے آسمان کی اس حالت میں جبکہ اس کی تخلیق وتکوین مکمل ہوگئی، اور قسم ہے زمین کی جبکہ اس کو پھیلا کر اس کی تخلیق مکمل کردی گئی۔ حضرت قتادہ وغیرہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔ کشاف اور یبضاوی و قرطبی نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ صرف ما کو بمعنے من لے کر اس کی مراد حق تعالیٰ کی ذات لی ہے کہ قسم ہے آسمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آسمان و زمین کی ساخت میں انسان کے لیے سبق: یہ آسمان اور زمین کی ساخت، ان کی عظمت اور ان کی فیض بخشی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی اپنے بنانے والے کی عظیم قدرت، بے نہایت حکمت اور غیر محدود ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے ناممکن نہیں ہے، اس کی حکمت اتھاہ اور اس کی رحمت و ربوبیت ہمہ گیر ہے۔ اس کی اس قدرت، حکمت اور ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اس میں شتر بے مہار بنا کے نہ چھوڑے بلکہ دیکھے کہ جن کے لیے اس نے یہ سب کچھ بنایا وہ اس میں کیا بنا رہے ہیں اور پھر ان کے رویہ کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کی یہ تمام قدرت و حکمت اور یہ ساری…
Read the full tafseer →6۔ 1 یا جس نے اسے ہموار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔
Read the full tafseer →والارض وما طحھا (6:91) ” اور زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم “۔ طحی الطحو سے ہے جس کے معنی بچھانے کے ہیں ، جس طرح الدحو کا مفہوم ہے بچھانا ، اور زندگی کے لئے ہموار کرنا۔ اور یہ ایک عظیم اور نمایاں حقیقت ہے جس کے اوپر انسانوں اور تمام حیوانوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ آسمان و زمین کے اندر اللہ نے جو ہم آہنگی پیدا فرمائی ہے ، یہ اسی کی برکت ہے جس کی وجہ سے یہاں زندگی ممکن ہوئی اور یہ سب کام صرف اللہ کے تدبیر اور اندازوں کی وجہ سے ہوا ۔ ہمارے لئے یہی واضح اور ظاہری حقیقت کافی ہے کہ اگر ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے کوئی چیز بھی خلل پذیر ہوجائے تو نہ اس زمین میں زندگی کا وجود ہوتا اور نہ یہ…
Read the full tafseer →17 یعنی جس حکمت سے اس کو پھیلا کر مخلوق کی بودوباش کے قابل کیا۔ یہاں بھی بعض نے " وماطحٰھا " سے اس کا پھیلانے والا مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 6{ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔“ نوٹ کیجیے ! یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کا ذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوئوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں ‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘ اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اجالا ہے ‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے ‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک…
Read the full tafseer →6 یعنی زمین کو اس طرح پھیلا دیا کہ وہ مخلوق کی بودو باش کے قابل بن جائے۔ انہیں کھانے کو رزق بھی فراہم ہوتا رہے اور رہائش بھی۔ آیت نمبر 5 کی طرح اس کے بھی دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ شکل، ترکیب اعضاء وغیرہ ہر اعتبار سے۔ (آیت) ” وما بنھا، وما طحھا، وما سوھا “۔ ماتینوں مقاموں پر من کے مرادف ہے، اور اس کے لانے سے مقصود کمال عظمت کا اظہار ہے۔ (آیت) ” السمآء الارض، نفس “۔ تینوں کا ذکر جن الفاظ میں آیا ہے، اس نے یہ بھی صاف کردیا کہ آسمان اور زمین اور جان، یہ سب مخلوق ومصنوع ہی ہیں۔ کوئی بھی ان میں سے معبود یا نیم معبود نہیں۔ (آیت) ” نفس “۔ صیغہ نکرہ، بطور اسم جنس، اظہار کثرت کے لئے ہے۔ والتنکیر للتکثیر (روح) اے نفوس (جلالین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
والسماء وما بنھا یعنی اس ذات کی قسم جس نے اس کو بنایا، اس معنی کے اعتبار سے مابمعنی من ہے اور اگر ترجمہ یہ کیا جائے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی، اس صورت میں ما مصدر یہ ہوگا۔
Read the full tafseer →والارض وما طحھا . اس آیت میں مَا بمعنی مَن ہے یا مصدری ہے یعنی زمین کی اور اس کو بچھانے والے کی یا بچھانے کی قسم۔ یہی مراد آئندہ آیت
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
والارض وما طحھا :”طحا یطحو طحوا“ (ن) اور ”’ حا یدحو دحوا“ (ن) کا ایک ہی معنی ہے، بچھانا۔ اور زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا !
Read the full tafseer →اور زمین کی اور اس کو بچانے والے کی۔ قسم ہے زمین کی اور اس کے ہموار کرنے کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ما، من کے معنی میں ہے جس کا ہم نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے یعنی جس نے اس کو پھیلایا عام مفسرین کی یہی رائے ہے کہ اس کا معنی وہی ہے جو دحاھا کا ہے۔ حضرت حسن بصری مجاہد اور دوسرے علماء کی رائے یہ ہے : طحھا اور دحاھا کا معنی ایک ہی ہے یعنی ہر جانب اسے پھیلادیا۔ طحو کا معنی پھیلانا ہے، طحا، طحوا اور طحی، یطحی، طحیا، دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ طحیت میں پہلو کے بل لیتا۔ یہ ابوعمرو سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ طحاھا کا معنی ہے اسے تقسیم کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے اسے پیدا کیا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الارض وما طحٰہا میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تقسیم کھائی ہے آیت فالہمہا فجورہا وتقوٰہا یعنی پھر خیر اور شر کو بیان فرمادیا۔
Read the full tafseer →وَالْاَرْضِ : اور قسم ہے زمین کی ][ وَمَا : اور اس کی جیسا ][ طَحٰىهَا : اس نے پھیلایا اس کو ] ط ح ی [طَحْیًا : (ض) کسی چیز کو پھیلانا۔ زیر مطالعہ ] (آیت۔ 6) طَحَا کا مادہ ” ط ح و “ بھی ہے اور ” ط ح ی “ بھی۔ ناقص واوی میں یہ دوسرے معانی کے ساتھ پھیلنا (لازم) اور پھیلانا (متعدی) دونوں معانی میں آتا ہے۔ جبکہ یایی میں یہ صرف پھیلانا (متعدی) کے معنی دیتا ہے۔ اس طرح اس آیت میں طَحَا کو واوی بھی مان سکتے تھے۔ اور یایی بھی۔ لیکن قرآن مجید کی کتابت پر جب غور کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ ھَا سے پہلے ایک دندانہ بنا ہوا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کاتبانِ وحی نے اس کو یایی مان کر لکھا تھا۔ کیونکہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
پھر فرمایا ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ004﴾ (اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو چھپالے) یہ بھی اسناد مجازی ہے اور مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رات کی جب خوب اچھی طرح تاریک ہوجائے اور دن کی روشنی پر چھا جائے۔ ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ005﴾ (اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا) ﴿ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ006﴾ (اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا) ۔ ﴿ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ007﴾ (اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو اچھی طرح بنایا) ۔ ان تینوں آیتوں میں جو ما موصولہ ہے یہ مَنْ کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بھی قسم کھائی اور اپنی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3:۔ ” ولنہار “ اسی دن جب سورج کو ظاہر دیتا ہے اور وہ افق پر نمایاں ہوجاتا ہے اور رات جب سورج کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ ” والسماء “ آسمان اور اس کی بلندی، زمین اور اس کی ہمواری اور پستی یہ بھی شاہد ہیں کہ نفس زکیہ اور نفس خبیثہ برابر نہیں ہیں۔ ما دونوں جگہوں میں مصدریہ ہے ای بنیانہا و طحوھا (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىہَا 6 أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ طحا الطَّحْوُ : کالدّحو، وهو بسط الشیء والذّهاب به . قال تعالی: وَالْأَرْضِ وَما طَحاها [ الشمس/ 6] ، قال الشاعر : طَحَا بک قلب في الحسان طروب أي : ذهب . ( ط ح وی ) طحو اور دحو دونوں ہم معنی ہیں اور ( ان کی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَالسَّمَآئِ وَمَابَنٰـھَا۔ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰـھَا۔ (الشمس : 5، 6) (اور قسم ہے آسمان کی اور جیسا کچھ اس کو بنایا۔ اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کچھ اس کو بچھایا۔ ) ان قسموں سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پر توجہ دلائی گئی ہے ان قسموں سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ قسم ہے آسمان کی ذرا اس کی بلندی کو دیکھو اور قسم ہے زمین کی ذرا اس کی فیض بخشی کی طرف توجہ کرو۔ آسمان ایک نیلگوں چھت کی طرح ہم پر تنا ہوا ہے۔ نہ اس میں کوئی ستون نظر آتا ہے اور نہ کہیں کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اس کے بنانے کی عظیم قدرت، بےنہایت حکمت اور خوبصورت صنعت پر دلالت کررہا ہے۔ اسی طرح زمین جو ربوبیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…
Read the full tafseer →6 : وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰہَا (اور زمین کی اور جس نے اس کو بچھایا )
Read the full tafseer →6 ۔” والارض وما طحاھا “ اس کو بچھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(وَالسَّمَاۗءِ وَمَا بَنٰىهَا) اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔ اس میں احتمال ہے کہ ماموصولہ ہو تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مامصدریہ یہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی اور مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت وانتہا ہے اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىهَا) اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
Read the full tafseer →(4) زمین اور اس کے بچھانے والے کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا، اس قدر پر حکمت طریقے اور ان تمام فوائد و منافع کے ساتھ جو اس کے اندر موجود ہیں، اور جن سے اس کی بیشمار مخلوق طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی رہی اور آج تک لگاتار ہورہی ہیں، اور ہر لحظہ اور ہر لمحہ مستفید ہوتی ہے، اور اس قدر کہ اس کا احاطہ و شمار بھی اس وحدہ لا شریک کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، سو زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس قدر پر حکمت اور حیرت انگیز طریقے سے بچھا دینا اس خالق ومالک کی عظیم الشان قدرت اور بےحدو حساب رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر اور زندہ جاوید ثبوت ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 15 یہ بتلانا عقل و فطرت سے بھی ہوا اور پھر انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے بھی اچھی باتیں اس لئے بتلائی گئیں کہ انہیں اتخیار کرے اور بری باتیں اس لئے کہ ان سے بچے۔
Read the full tafseer →(91:6) والارض وما طحھا : واؤ قسمیہ، واؤ ثانی قسمیہ یا عاطفہ۔ ما مصدریہ یا موصولہ۔ طحی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ طحی وطحو (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھیلانا۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے :۔ اللیث نے کہا ہے کہ طحو۔ دحو کے ہم معنی ہے جس کے معنی بسط یعنی پھیلانے کے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض ہے۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما مصدریہ) اور قسم ہے زمین کی اور اس کی فراخی اور کشائش کی۔ (یعنی کیا ہی اس میں وسعت اور کشائس رکھی ہے) ۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما موصولہ) اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو وسعت بخشی فراخ و کشادہ بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔
Read the full tafseer →[2] یعنی جس حکمت سے اس کو پھیلا کر مخلوق کو بودوباش کے قابل کیا۔
Read the full tafseer →(6) اورقسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔
Read the full tafseer →اور زمین اور اس کو بچھانے والے رب کی قسم 6 ؎ یہ ساتویں شہادت ہے کہ غور کرو اس زمین پر جس زمین پر تم بس رہے ہو اس زمین کو بچھانے والے نے اس کو کس طرح بچھا دیا ہے اور پھر صرف بچھا ہی نہیں دیا بلکہ اس میں اتنی صلاحیتیں ودیعت کردی ہیں کہ ہر ایک چیز کو اس زمین سے نکالا جا رہا ہے اور اس میں واپس لوٹایا جا رہا ہے اور چیزیں اتنی ہیں کہ اگر ان کو شمار کیا جائے تو ان کا شمار کرنا اتنا آسان نہیں بلکہ ان کو جاننا اور سب کا علم رکھنا بھی آسان کام نہیں ہے اپنے ارد گرد اگر تم نظر دوڑائو گے تو معلوم ہوگا کہ واقعی ان کا علم حاصل کرنا اور جاننا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن ان کا تعلق مکمل طور پر اس زمین کے ساتھ…
Read the full tafseer →The sixth oath is: وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا (and by the earth, and the One who spread it...91:6). The ma in this phrase too stands for masdariyyah or infinitival particle, signifying 'by the earth and its expanse'. The word tahwun means 'to spread'. Thus in the two verses above attention has been focused on the great Designer and Architect of the sky and earth [ that is, the universe ], and on the perfection and complete freedom from flaw or defect in the design and creation of the universe. Sayyidna Qatadah and others reported this interpretation. Kashshaf, Baidawi and Qurtubi preferred…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3 "Who established it": Who established it like a vault over the earth. In this verse and in the two succeeding verses, the word ma has been used. A section of the commentators has taken this ma as an infinitive, and interpreted these verses to mean "By the heaven and its being established, by the earth and its being spread out, and by the human self and its being balanced. " But this meaning is not correct for the reason that the following sentence: "then inspired it with its wickedness and its piety", does not fit in with the context. Other commentators have taken ma here in the meaning of…
Read the full tafseer →