Ash-Shams 91:5

Ash-Shams · from ayah 5

91:5

وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا ۟وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰٮهَا

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] the sky and He who constructed it

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shams

All translations of 91:5

اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور قسم ہے آسمان کی، اور اس کی جس نے اسے بنایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آسمان کی قَسم اور اس (قوت) کی قَسم جس نے اسے (اذنِ الٰہی سے ایک وسیع کائنات کی شکل میں) تعمیر کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور شاہد ہے آسمان اور جیسا کچھ اس کو اٹھایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا

— مولانا اسحاق مدنی

اور آسمان کی اور اس کی جس نے اسے بنایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قسم ہے آسمان کی اور جیسا کہ اسے بنایا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

— محترمہ رفعت اعجاز

and by the sky and by Him Who made it;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and by the sky, and the One who built it,

— Muhammad Taqi Usmani

and by the sky, and the One who built it,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the heaven and Ma Banaha.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [by] the sky and He who constructed it

— Saheeh International

by the heavens and that (Power) which established them,

— Muhammad Sarwar

And the heaven and Him Who made it,

— Muhammad Habib Shakir

By the heaven and Him Who builded it,

— Abdul Majid Daryabadi

By the Firmament and its (wonderful) structure;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 91:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الشَّمْس 3 یعنی چھت کی طرح اسے زمین پر اٹھا کھڑا کیا۔ اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں ما کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی " مَا بَنَاهَا "، اور " مَا طَحَاهَا " اور " مَا سَوَّاهَا " اس لفظ ما کو مفسرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں میں لیا ہے اور وہ ان آیتوں کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم، اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں ہیں کہ ان تین فقروں کے بعد یہ فقرہ کہ " پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی " اس سلسلہ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ دوسرے مفسرین نے یہاں ما کو من یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں قسم والسما وما بنھا، اس سے میں سابق نظم کے اعتبار سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ مابنھا میں صرف ما کو مصدر یہ قرار دے کر معنے یہ لئے جاویں کہ قسم ہے آسمان اور اس کے بنانے کی جیسا قرآن کریم میں ہے۔ بما غفرلی ربی،

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

آسمان و زمین کی ساخت میں انسان کے لیے سبق: یہ آسمان اور زمین کی ساخت، ان کی عظمت اور ان کی فیض بخشی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی اپنے بنانے والے کی عظیم قدرت، بے نہایت حکمت اور غیر محدود ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے ناممکن نہیں ہے، اس کی حکمت اتھاہ اور اس کی رحمت و ربوبیت ہمہ گیر ہے۔ اس کی اس قدرت، حکمت اور ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اس میں شتر بے مہار بنا کے نہ چھوڑے بلکہ دیکھے کہ جن کے لیے اس نے یہ سب کچھ بنایا وہ اس میں کیا بنا رہے ہیں اور پھر ان کے رویہ کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کی یہ تمام قدرت و حکمت اور یہ ساری…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–8

1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والسماءوما بنھا (5:91) ” اور آسمان کی قسم اور اس ذات کی قسم “۔ ما یہاں عربی گرامر کے لحاظ سے اپنے مابعد آنے والے فعل کو مصدر بنادیتی ہے۔ آسمان سے ہم کچھ سمجھتے وہ ایک نیلگوں قبہ ہے جو ہمارے سروں پر ہے اور اس قبے کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کے اندر ستارے اور سیارے بکھرے پڑے ہیں ، اور سیارے اس کی فضاﺅں اور مداروں میں پھرتے ہیں۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تو اصل حقیقت ہم نہیں جانتے ، ہم اپنے سروں پر جو چیز دیکھ رہے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جس طرح ایک عظیم الشان عمارت ہو ، باہم پیوستہ اور نہایت مضبوط۔ یہ عظیم ہال کس طرح بنا ہوا ہے اور اس کے اجزاء کس طرح باہم پیوست ہیں اور وہ بکھر نہیں رہے۔ اور ایک ایسی فضا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

16 یعنی جس شان و عظمت کا اس کو بنایا۔ اور بعض کے نزدیک " مابناھا " سے مراد اس کا بنانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 6{ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔“ نوٹ کیجیے ! یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کا ذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوئوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں ‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘ اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اجالا ہے ‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے ‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مَا کو مَن کے معنی میں لیا جائے اور اس کی مثالیں بھی قرآن میں موجود ہیں۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر مذکور ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ما کو ما کے معنی میں ہی سمجھا جائے اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ اور آسمان کی قسم جیسا کہ اسے شان و عظمت والا بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–7

3۔ شکل، ترکیب اعضاء وغیرہ ہر اعتبار سے۔ (آیت) ” وما بنھا، وما طحھا، وما سوھا “۔ ماتینوں مقاموں پر من کے مرادف ہے، اور اس کے لانے سے مقصود کمال عظمت کا اظہار ہے۔ (آیت) ” السمآء الارض، نفس “۔ تینوں کا ذکر جن الفاظ میں آیا ہے، اس نے یہ بھی صاف کردیا کہ آسمان اور زمین اور جان، یہ سب مخلوق ومصنوع ہی ہیں۔ کوئی بھی ان میں سے معبود یا نیم معبود نہیں۔ (آیت) ” نفس “۔ صیغہ نکرہ، بطور اسم جنس، اظہار کثرت کے لئے ہے۔ والتنکیر للتکثیر (روح) اے نفوس (جلالین)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–7

والسماء وما بنھا یعنی اس ذات کی قسم جس نے اس کو بنایا، اس معنی کے اعتبار سے مابمعنی من ہے اور اگر ترجمہ یہ کیا جائے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی، اس صورت میں ما مصدر یہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والسماء وما بنھا . آسمان کی قسم اور اس کی جس نے اس کو بنایا یعنی اللہ کی ما ‘ من کے معنی میں ہے۔ عطاء اور کلبی کا یہی قول ہے۔ سوال اس وقت سوء ادب لازم آئے گا۔ قسم کے وقت غیر اللہ کی ‘ اللہ پر تقدیم سوء ادب ہے کیونکہ اللہ کی عظمت کے مقابلہ میں دوسری ہر چیز بےمقدار ہے۔ جواب اس وقت ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہوگی یہی کمال ادب ہے (یعنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قسمیں پہلے کھائیں اور آخر میں عظیم الشان ہستی کی قسم کھائی) ۔ زجاج اور فراء نے کہا : مَا مصدری ہے یعنی آسمان اور اس کے بنانے (یا بناوٹ) کی قسم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

والسمآء وما بنھا :”والسمآء وما بنھا :”بنی یبنی بنائ“ (ض) بنانا۔ واضح رہے کہ عام طور پر ”من“ علم والوں، مثلاً اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں کے لئے آتا ہے، جبکہ ”ما“ ان کے علاوہ کے لئے آتا ہے، مگر بعض اوقات کسی خاص مقصد کی وجہ سے اس کا الٹ بھی ہوجاتا ہے اور ”ما“ علم والوں کیلئے بھی آجاتا ہے، جیسا کہ ”ما“ یہاں اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایاچ یہاں ”من“ کے بجائے ”ما“ اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ یہاں ”الذی“ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ قرآن مجید میں ”ما“ کا لفظ علم والوں کے لئے متعدد مقامات پر آیا ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے والے کی جس طرح فرمایا : بماغفرلی ربی (یاسین 27) میرے رب کے بخشنے کے ساتھ، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مبرد نے اسی کو اختیار کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے قسم ہے اس کی جس نے اس کو بنایا : یہ حضرت حسن بصری اور مجاہد کا قول ہے یہی طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے یعنی جس نے اسے پیدا کیا اور اسے بلند کیا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اہل حجاز سے یہ منقول ہے کہ سبحان ماسبحتک کا معنی ہے پاک ہے وہ ذات جس کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر چیز۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–5

2۔ ابن جریری نے عرفی کی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلہا اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے یعنی دن کے پیچھے آئے آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو بچھایا یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اس میں پیدا فرمایا آیت فالہمہا فجورہا یعنی اس کو فرمانبرداری اور نافرمانی پر مطلع کردیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلا ہا میں تلا ہا سے مراد ہے پیچھے آنا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن ذی حمامہ (رح) سے روایت کیا کہ جب رات آتی ہے تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں چھا جا میرے بندوں پر میری عظیم مخلوق میں اور رات کا خوف اور ڈر ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالسَّمَاۗءِ : اور قسم ہے آسمان کی ][ وَمَا : اور اس کی جیسا ][ بَنٰىهَا : اس نے بنایا اس (آسمان) کو ] ترکیب : آیات۔ 5 تا 7 میں مَا کا لفظ آیا ہے۔ اس کو مصدر یہ بھی مانا گیا ہے اور موصولہ بھی۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ ذوی عقول کے لیے مَنْ موصولہ آتا ہے اور غیر ذوی عقول کے لیے مَا آتا ہے۔ لیکن عربی میں کبھی کبھی مَا بھی ذوی عقول کے لیے آجاتا ہے۔ یعنی کبھی مَا بھی مَنْ کے معنی میں آجاتا ہے۔ اس لحاظ سے دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم مَا مصدر یہ مان کر ترجمہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–7

پھر فرمایا ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ004﴾ (اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو چھپالے) یہ بھی اسناد مجازی ہے اور مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رات کی جب خوب اچھی طرح تاریک ہوجائے اور دن کی روشنی پر چھا جائے۔ ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ005﴾ (اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا) ﴿ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ006﴾ (اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا) ۔ ﴿ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ007﴾ (اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو اچھی طرح بنایا) ۔ ان تینوں آیتوں میں جو ما موصولہ ہے یہ مَنْ کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بھی قسم کھائی اور اپنی ذات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–6

3:۔ ” ولنہار “ اسی دن جب سورج کو ظاہر دیتا ہے اور وہ افق پر نمایاں ہوجاتا ہے اور رات جب سورج کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ ” والسماء “ آسمان اور اس کی بلندی، زمین اور اس کی ہمواری اور پستی یہ بھی شاہد ہیں کہ نفس زکیہ اور نفس خبیثہ برابر نہیں ہیں۔ ما دونوں جگہوں میں مصدریہ ہے ای بنیانہا و طحوھا (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالسَّمَاۗءِ وَمَا بَنٰىہَا۝ 5 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–10

ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

وَالسَّمَآئِ وَمَابَنٰـھَا۔ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰـھَا۔ (الشمس : 5، 6) (اور قسم ہے آسمان کی اور جیسا کچھ اس کو بنایا۔ اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کچھ اس کو بچھایا۔ ) ان قسموں سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پر توجہ دلائی گئی ہے ان قسموں سے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ قسم ہے آسمان کی ذرا اس کی بلندی کو دیکھو اور قسم ہے زمین کی ذرا اس کی فیض بخشی کی طرف توجہ کرو۔ آسمان ایک نیلگوں چھت کی طرح ہم پر تنا ہوا ہے۔ نہ اس میں کوئی ستون نظر آتا ہے اور نہ کہیں کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اس کے بنانے کی عظیم قدرت، بےنہایت حکمت اور خوبصورت صنعت پر دلالت کررہا ہے۔ اسی طرح زمین جو ربوبیت کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” والسمآء وما بناھا “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ” من بناھا وخلقھا “ جیسے اللہ تعالیٰ کے قول ” فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “ میں من طاب کا معنی ہے۔ عطاء فرماتے ہیں ” والذی بناھا “ مراد ہے یعنی اس کی قسم جس نے اس کو بنایا اور فراء اور زجاج رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” ما “ مصدر کے معنی میں ہے یعنی اور اس کی تعمیر کی جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” بما غفرلی ربی “ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–6

(وَالسَّمَاۗءِ وَمَا بَنٰىهَا) اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔ اس میں احتمال ہے کہ ماموصولہ ہو تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مامصدریہ یہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی اور مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت وانتہا ہے اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىهَا) اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا، یعنی جس نے اس کو بنایا اور اس استوار کیا، اس قدر پر حکمت نظام کے تحت اور اتنے بےحدو حساب فوائد و منافع کے ساتھ اور اس قدر عمدگی و خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ کہ اتنے طویل زمانے گزرنے کے باوجود کہ جن کا صحیح علم اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کو نہیں، نہ اس میں کوئی فتور پیدا ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی قصور، سو ان تمام امور میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ہر عقل مند انسان کے لیئے کہ حضرت خالق جل جلالہ نے کس طرح اس قدر مضبوط و محخم نظام کے تحت اور عظیم الشان فوائد و منافع سے بھری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(91:5) والسماء وما بنھا۔ واؤ قسمیہ ہے۔ واؤ دوم میں اختلاف ہے کہ قسمیہ ہے یا عاطفہ ہے۔ ما کی دو صورتیں ہیں۔ (1) ما مصدریہ ہے۔ (2) ما موصولہ بمعنی من ہے۔ بنی ماضی واحد مذکر غائب ہے بناء (باب ضرب) مصدر سے ہے۔ اس نے بنایا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اس نے آسمان کو بنایا۔ ترجمہ : (بصورت ما مصدریہ) اور قسم ہے آسمان کی اور (اس آسمان) کی بناوٹ کی (آسمان کی بناوٹ جو قدرت کاملہ کا نمونہ ہے ترجمہ :۔ (بصورت موصولہ) اور قسم ہے آسمان کی اور (قسم ہے) اس (آسمان) کے بنانے والے کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–8

(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

ف 10۔ مراد اللہ تعالیٰ ہے اور مخلوق کی قسم کو خالق کی قسم پر مقدم فرمانا دلیل ہے مدلول کی طرف انتقال ہے کہ مصنوع دلیل ہے صانع پر، پس اس میں استدلال علی التوحید کی طرف بھی اشارہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور آسمان اور اس کے بنانے والے رب کی قسم 5 ؎ یہ چھٹی شہادت آسمان کی شہادت ہے کہ آسمان پر نظر غائر ڈالر کہ اس کو بنانے والے نے اس کو کس طرح بنا دیا ہے کہ سورج جو اس زمین سے بھی سینکڑوں گنا بڑا ہے وہ اس خلا میں اس طرح تیرتا نظر آتا ہے جیسے تیرے اس بہت بڑے صحن میں ایک جگنو چمک رہا ہو اور وہ اس سے زیادہ اس کی اس خلا میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ تیری یہ زمین بھی تو اس خلا میں ایک سیارہ ہے جیسے کہ دوسرے سیارے اور ستارے نظر آ رہے ہیں پھر یہ کہ جن جن چیزوں کا نام لیا جا رہا ہے ان سب کا پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور صرف پیدا ہی کرنے والا نہیں بلکہ ان سب کو ایک نظام میں منسلک کرنے والا بھی ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The fifth oath is: وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا (and by the sky, and the One who built it...91:5). Most clearly the context suggests that the ma may be taken as infinitival particle [ masdariyyah ], signifying 'by the sky and its make ' as elsewhere in the Qur'an غَفَرَ‌ لِي رَ‌بِّي '...how my Lord has forgiven me [ 36:27] ' (1) 1. It should be kept in mind that the translation of the text is not based on this construction. It is based on taking 'ma' as mousulah in the sense of 'the one' as adopted by Maulana Thanawi, and explained by the author in the following verse. word taswiyah means, to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

3 "Who established it": Who established it like a vault over the earth. In this verse and in the two succeeding verses, the word ma has been used. A section of the commentators has taken this ma as an infinitive, and interpreted these verses to mean "By the heaven and its being established, by the earth and its being spread out, and by the human self and its being balanced. " But this meaning is not correct for the reason that the following sentence: "then inspired it with its wickedness and its piety", does not fit in with the context. Other commentators have taken ma here in the meaning of…

Read the full tafseer →