وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا ۟وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰٮهَا
اور رات کی جب اُسے چھپا لے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the night when it covers it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا ۟وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰٮهَا
اور رات کی جب اُسے چھپا لے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the night when it covers it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shams
اور رات کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) ڈھانک لیتی ہے
اور رات کی جب اُسے چھپا لے
قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے
اور رات کی جب وہ اس پر چھا کر اسے چھپالے۔
اور رات کی جب اسے چھپائے
اور رات کی قَسم جب وہ سورج کو (زمین کی ایک سمت سے) ڈھانپ لے،
اور رات کی جب وہ اس (سورج) کو ڈھانپ لے !
اور رات کی جبکہ وہ اسے ڈھانپ لے
اور رات جب اسے ڈھانک لے
اور رات کی جب کہ وہ اسے ڈھانک لیتی ہے
اور رات کی جب وہ آفتا کو چھپالے۔
اور قسم ہے رات کی جب وہ اس (سورج) کو ڈھانپ لیتی ہے۔
اور رات کی جب اسے ڈھانک لے
and by the night as it envelopes the sun;
and by the night when it envelops him,
and by the night when it envelops him,
By the night as it Yaghshaha.
And the night when it enshroudeth him,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the night when it covers it
by the night when it covers the earth with darkness,
And the night when it draws a veil over it,
By the night; when it envelopeth him,
By the Night as it conceals it;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…
Read the full tafseer →سورة الشَّمْس 2 یعنی رات کی آمد پر سورج چھپ جاتا ہے اور اس کی روشنی رات بھر غائب رہتی ہے۔ اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ رات سورج کو ڈھانک لیتی ہے، کیونکہ رات کی اصل حقیقت سورج کا افق سے نیچے اتر جانا ہے، جس کی وجہ سے اس کی روشنی زمین کے اس حصے تک نہیں پہنچ سکتی جہاں رات طاری ہوگئی ہو۔
Read the full tafseer →چوتھی قسم والیل اذا یغشھا، یعنی قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب پر چھا جائے یعنی آفتاب کی روشنی کو مستور کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ…
Read the full tafseer →4۔ 1۔ یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔
Read the full tafseer →والیل اذا یغشھا (4:91) ” اور رات کی قسم جبکہ وہ ڈھانک لیتی ہے “۔ یہاں لفظ یغشیٰ ” ڈھانک لینا “ بمقابلہ جلی ” نمایا کرنا ، روشن کرنا “ استعمال ہوا ہے ، اس لئے کہ رات تمام چیزوں کو اپنے سینے سے لگا کر ڈھانپ لیتی ہے اور چھپا لیتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کے دل کو بےحد متاثر کرتا ہے ، اور انسانی زندگی پر جس طرح دن کے اثرات ہوتے ہیں ، اسی طرح رات کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمان اور آسمان کی ساخت اور اس کی تعمیر پر قسم کھائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →15 یعنی جب رات کی تاریکی خوب چھا جائے اور سورج کی روشنی کا کچھ نشان دکھائی نہ دے۔
Read the full tafseer →آیت 4{ وَالَّـیْلِ اِذَا یَغْشٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے رات کی جب وہ اس سورج کو ڈھانپ لیتی ہے۔“ ان دونوں آیات کا مفہوم یوں ہوگا کہ دن سورج کو نمایاں کردیتا ہے جبکہ رات اسے ڈھانپ لیتی ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی جب رات کی تاریکی چھا جائے اور سورج کی روشنی کا نشان تک باقی نہ رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ یعنی اس کی روشنی کا کچھ اثر نہ باقی رہ جائے، (آیت) ” جلھا۔ یغشھا “۔ دونوں میں ضمیر ھا آفتاب یا (آیت) ” الشمس “ کی جانب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
والقمر اذا تلھا یعنی سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو جیسا کہ مہینے کے نصف اول میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →واللیل اذا یغشھا . اور رات کی قسم جب رات سورج کو یا آفاق کو یا زمین کو ڈھانک لے۔ تینوں آیات میں اِذَا (ظرف زمان) کا تعلق جمہور کے نزدیک فعل قسم سے ہے لیکن بحر مواج کے مؤلف نے لکھا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ قسموں کا وقوع ان اوقات میں مراد نہیں ‘ نہ اس کو قمر اور نہار اور لیل کی صفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ظرف زمان فعل کی صفت ہوتا ہے۔ یعنی وقوع فعل زمانہ میں ہوتا ہے ‘ کسی امر حسی کی صفت نہیں ہوتا۔ اس لیے (بر مسلک جمہور) تاویل کی ضرورت ہے اور مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ چاند کے اس انجلاء کی قسم جو سورج کے پیچھے چلنے کے وقت اس کو حاصل ہوتا ہے اور دن کے اس نمود کی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔
Read the full tafseer →والیل اذا یغشھا : جب رات سورج کی روشنی کو مکملط ور پر چھپا کر خوب اندھیری وہ جاتی ہے۔
Read the full tafseer →یعنی سورج کی ڈھانپ لے یعنی سورج غروب ہوتا ہے تو اس کی روشنی کو رات ختم کردیتی ہے یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ تاریکیوں کے ساتھ دنیا کو ڈھانپ لیتی ہے تو آفاق تاریک ہوجاتے ہیں ضمیر ایسے اسم کی طرف لوٹ رہی ہے جو پہلے مذکور نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2۔ ابن جریری نے عرفی کی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلہا اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے یعنی دن کے پیچھے آئے آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو بچھایا یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اس میں پیدا فرمایا آیت فالہمہا فجورہا یعنی اس کو فرمانبرداری اور نافرمانی پر مطلع کردیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلا ہا میں تلا ہا سے مراد ہے پیچھے آنا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن ذی حمامہ (رح) سے روایت کیا کہ جب رات آتی ہے تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں چھا جا میرے بندوں پر میری عظیم مخلوق میں اور رات کا خوف اور ڈر ہے…
Read the full tafseer →وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا : اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس (سورج) کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
پھر فرمایا ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ004﴾ (اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو چھپالے) یہ بھی اسناد مجازی ہے اور مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رات کی جب خوب اچھی طرح تاریک ہوجائے اور دن کی روشنی پر چھا جائے۔ ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ005﴾ (اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا) ﴿ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ006﴾ (اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا) ۔ ﴿ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ007﴾ (اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو اچھی طرح بنایا) ۔ ان تینوں آیتوں میں جو ما موصولہ ہے یہ مَنْ کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بھی قسم کھائی اور اپنی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
3:۔ ” ولنہار “ اسی دن جب سورج کو ظاہر دیتا ہے اور وہ افق پر نمایاں ہوجاتا ہے اور رات جب سورج کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ ” والسماء “ آسمان اور اس کی بلندی، زمین اور اس کی ہمواری اور پستی یہ بھی شاہد ہیں کہ نفس زکیہ اور نفس خبیثہ برابر نہیں ہیں۔ ما دونوں جگہوں میں مصدریہ ہے ای بنیانہا و طحوھا (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىہَا 4 ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…
Read the full tafseer →وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰھَا۔ (الشمس : 4) (اور قسم ہے رات کی جب وہ اسے ڈھانک لے۔ ) رات کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سورج افق سے نیچے اتر جاتا ہے۔ چناچہ اس کی روشنی زمین کے جس حصے تک نہیں پہنچ سکتی وہاں رات طاری ہوجاتی ہے۔ اور یہ رات اس وقت تک رہتی ہے جب تک سورج افق سے نمودار نہیں ہوجاتا۔ اسی کو رات کے سورج کو ڈھانک لینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ قسمیں آفاق کی ایسی نشانیاں ہیں جو زوجین کی نسبت رکھتی ہیں ان قسموں میں آفاق کی ایسی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آپس میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یعنی سورج اور چاند ایک دوسرے کا جوڑا ہیں۔ اور دن اور رات ایک دوسرے کے لیے زوج ہیں۔ اس سے قرآن کریم نے کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…
Read the full tafseer →4 : وَالَّـیْلِ اِذَا یَغْشٰھَا (اور رات کی جب وہ اس کو چھپالے) جب رات سورج کو چھپالے اور آفاق سماء کو اندھیر کر دے۔ ایک تحقیق : اس قسم کے مواقع میں جہاں بار بار وائو لائی گئی ہے۔ اول وائو بالاتفاق قسمیہ ہے۔ دوسری وائوبعض کے ہاں قسمیہ ہے۔ خلیل نحوی (رح) کے نزدیک وائو دوم عاطفہ ہے دلیل یہ ہے کہ قسم کا قسم پر داخل کرنا تکمیل قسم سے پہلے جائز نہیں۔ غور تو فرمائو۔ اگر تم اس کی بجائے فاء کا کلمہ لاتے یا ثمؔ لاتے تو معنی اپنی حالت پر رہتا کیونکہ یہ دونوں حروف عطف میں سے ہیں۔ اسی طرح وائو کا حکم ہے۔ جنہوں نے قسم کیلئے قرار دیا : تو ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر وائو عطف کی ہوتی تو دو عاملوں پر عطف ہوتا…
Read the full tafseer →4 ۔” واللیل اذا یغشاھا “ یعنی سورج کو ڈھانپتی ہے جب وہ غائب ہوجاتا ہے تو آفاق کو تاریک کردیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…
Read the full tafseer →(وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا) اور رات کی جب اسے چھپالے۔ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہوجائے۔ اس عالم میں اندھیرے اور اجالے۔ سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ، بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(2) رات کی قسم اور اس میں درسہائے عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ اس کو ڈھانک لیتی ہے، کیونکہ رات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ سورج غروب ہوجاتا ہے اور رات کی تاریکی کے ظہور اور اس کے آمد سے دن کا اجالا ختم ہوجاتا ہے، اور سورج کی روشنی چھپ جاتی ہے اور بعینہ یہی منظر سامنے ہوتا ہے کہ رات کی سیاہ چادر نے دن کے وجود اور اس کی روشنی کو ڈھانک لیا، سو روزانہ اس قدر باقاعدگی اور پابندی سے اس عمل کا وجود میں آنا کس قدر کھلا ثبوت اور واضح دلیل ہے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کی سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ کہ شب و روز کا یہ ادلنا بدلنا اور اس قدر پر حکمت طریقے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 14 بنانے سے مراد یہ ہے کہ اس کے اعضا اور قویٰ کو ٹھیک کی۔
Read the full tafseer →(91:4) والیل اذا یغشھا۔ واؤ قسمیہ اذا ظرف زمان۔ یغشی مضارع واحد مذکر غائب غشی (باب سمع) مصدر سے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجعالشمس ہے۔ قسم ہے رات کی جب وہ آفتاب کو چھپالے۔ اس پر پردہ ڈال دے۔ ڈھانک دے اس کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔
Read the full tafseer →(4) اور قسم ہے رات کی جب و ہ آفتاب اور اس کے انوار کو بالکل چھپالے۔ ضحا ضحوہ اور ضح سب کے معنی روشنی کے ہیں بعض نے دھوپ اور بعض نے گرمی ترجمہ کیا ہے مگر مطلب سب کا ایک ہی ہے اور مراد یہ ہے کہ جب آفتاب بلند ہوجائے اور اس کی روشنی اور دھوپ پھیل جائے، چاند کی روشنی چونکہ آفتاب کے غروب کے بعد ہوتی ہے اور چاند غروب آفتاب کے بعد نمایاں ہوتا ہے اور نیز چاند کی روشنی مستفاد ہے۔ آفتاب کے نور سے اس لئے فرمایا اذاتلہا چونکہ آفتاب کی حرارت اور چاند کی برودت کو کھیتوں کے تیار ہونے اور پھلوں کے پکنے اور میٹھا ہونے میں بڑا دخل ہے اس لئے ان کی قسم کھا کر مخلوق کو متوجہ فرمایا ہے مزرعہ آخرت کی جانب کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 10۔ مراد اللہ تعالیٰ ہے اور مخلوق کی قسم کو خالق کی قسم پر مقدم فرمانا دلیل ہے مدلول کی طرف انتقال ہے کہ مصنوع دلیل ہے صانع پر، پس اس میں استدلال علی التوحید کی طرف بھی اشارہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →اور رات کے رب کی قسم جب وہ آفتاب کو چھپا لے 4 ؎ پانچویں شہادت رات کے آنے کی ہے جس کا نتیجہ وہی ذکر کیا گیا ہے جو ہر ایک انسان مشاہدہ کر رہا ہے کہ جب رات آتی ہے تو جس علاقہ میں رات ہوتی ہے اس علاقہ میں سورج کو اپنے اندھیروں میں لپیٹ لیتی ہے اب چاہے یوں کہہ لو کہ رات سورج کو لپیٹ لیتی ہے اور چاہے اس طرح کہو کہ سورج رات کو آنے کی دعوت دے دیتا ہے کہ میں جا رہا ہوں تم مرری جگہ اپنا اندھیرا میرے آنے تک ڈال دو اور اتنے حصہ کو سیاہ کر دو یعنی میرے پہلے جانے کی تصدیق کر دو اور ہم روز مرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ رات دن کی کمی بیشی ہوتی ہے تو اس کے لیے بھی ایک نظام قائم ہے بغیر نظام کے وہ نہیں آتی اور…
Read the full tafseer →The fourth oath is taken thus: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا (and by the night when it envelops him,...91:4). In other words, when it [ the night ] sets in, the brightness of the sun is concealed [ and only darkness prevails ]. '
Read the full tafseer →2 That is, when the night comes, the sun hides and its light remains hidden throughout the night. This state has been described, saying that the night covers up the sun, for the night actually signifies the sun's hiding behind the horizon because of which its light cannot reach that part of the earth where the night has fallen.
Read the full tafseer →