Ash-Shams 91:10

Ash-Shams · from ayah 10

91:10

وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا ۟ؕوَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮهَا

اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he has failed who instills it [with corruption].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shams

All translations of 91:10

اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک وہ شخص نامراد ہوگیا جس نے اسے (گناہوں میں) ملوث کر لیا (اور نیکی کو دبا دیا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یقینا وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ نامراد ہوگا جس نے اسے خاک آلود رکھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نامراد ہوا جس نے اس کو آگاہ کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا ناکام (و نامراد) ہوگیا وہ جس نے دھنسا (و دبا) دیا اس کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ یقیناً نامراد ہوا جس نے اس کو دبا دیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ناکام ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

— محترمہ رفعت اعجاز

and he who suppresses it will be ruined.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and failure is really suffered by him who pollutes it.

— Muhammad Taqi Usmani

and failure is really suffered by him who pollutes it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed he fails who Dassaha.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he is indeed a failure who stunteth it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he has failed who instills it [with corruption].

— Saheeh International

and those who corrupt their souls will certainly be deprived (of happiness).

— Muhammad Sarwar

And he will indeed fail who corrupts it.

— Muhammad Habib Shakir

And miserable is he who hath buried it.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 91:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشَّمْس 6 یہ ہے وہ بات جس پر ان چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں۔ اب غور کیجئے کہ وہ چیزیں اس پر کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جن حقائق کو وہ انسان کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہے، ان کی شہادت میں وہ سامنے کی چند ایسی نمایاں ترین چیزوں کو پیش کرتا ہے جو ہر آدمی کو اپنے گردوپیش کی دنیا میں، یا خود اپنے وجود میں نظر آتی ہیں۔ اسی قاعدے کے مطابق یہاں دو چیزوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں اس لیے ان کے آثار اور نتائج بھی یکساں نہیں ہیں بلکہ لازماً ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک طرف سورج ہے اور دوسری طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–13

ان سات قسموں کے بعد جواب قسم میں فرمایا قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا، یعنی بامراد ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا۔ تزکیہ کے اصلی معنے باطنی پاکی کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کرکے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرلیا اور محروم ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو گناہوں کی دلدل میں دھنسادیا لفظ دسی، دس سے مشتق ہے جس کے معنے زمین میں دفن کردینے کے ہیں کما قال تعالیٰ ام ید سہ فی التراب اور بعض مفسرین نے یہاں زکی اور دسی دونوں میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع کرکے معنے یہ کئے ہیں کہ بامراد ہوا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا، اور نامراد و محروم ہوا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘۔ یہ الہام خیر و شر کا لازمی اور بدیہی تقاضا بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خیر کو اختیار اور شر سے اجتناب کرے۔ یہی طریقہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہ کھولے گا۔ اگر اس کے برعکس اس نے شر و فساد کی راہ اختیار کی تو یہ چیز اس کی بدبختی و نامرادی کا سبب بنے گی۔ ’دَسّٰھَا‘ دراصل ’دَسَّھَا‘ ’دَسَسٌ‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو خاک میں ڈھانک دینے اور مٹی میں ملا دینے کے ہیں۔ یہی لفظ بدل کر ’دَسّٰھَا‘ ہو گیا ہے اور اس تبدیلی سے اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے، یعنی اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی جس نے اسے گمراہ کرلیا وہ خسارے میں رہا جس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا، جس نے اپنے نفس کا چھپا دیا اور اسے بےکار چھوڑ دیا اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–13

2: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کر وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔ جس کا ذکر سورة الفجر کی آخری آیتوں میں گذرا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

قد افلح ........................ دسھا (10:91) ” یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ مطلب یہ ہے کہ ان فطری قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ انسان کے اندر ایک قوت مدرکہ ہے اور اس قوت مدرکہ کی وجہ سے انسان ایک ذمہ دار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس قوت مدرکہ کو جس شخص نے نفس کی تطہیر کے لئے اور اس کے اندر بھلائی کی استعداد کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا اور خیر کی صلاحیت کو شریر غالب کردیا تو یہ شخص کامیاب ہوگیا ، اور جس شخص نے اپنی قوت عقلیہ کو تاریک کردیا اور اس کو چھپا کر دبا کر کمزور کردیا تو وہ ناکام ہوا۔ غرض انسان کی مسﺅلیت اس وجہ سے ہے کہ وہ قوت عقلیہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 خاک میں ملا چھوڑنے سے یہ مراد ہے کہ نفس کی باگ یکسر شہوت و غضب کے ہاتھ میں دے دے۔ عقل و شرع سے کچھ سروکار نہ رکھے۔ گویا خواہش اور ہویٰ کا بندہ بن جائے۔ ایسا آدمی جانوروں سے بدتر اور ذلیل ہے۔ (تنبیہ) " قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا " جواب قسم ہے اور اس کو مناسبت قسموں سے یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی دن کا اجالا، اور رات کا اندھیرا، آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی کو ایک دوسرے کے مقابل پیدا کیا اور نفس انسانی میں خیر و شر کی متقابل قوتیں رکھیں اور دونوں کو سمجھنے اور ان پر چلنے کی قدرت دی۔ اسی طرح متضاد و مختلف اعمال پر مختلف ثمرات و نتائج مرتب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

آیت 10{ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } ”اور ناکام ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔“ یہ اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔ ان دو آیات میں انتہائی اختصار کے ساتھ انسان کی حقیقی کامیابی اور ناکامی کا معیار بیان کردیا گیا ہے۔ دَسَّ یَدُسُّ کے معنی کسی چیز کو مٹی میں دفن کردینے کے ہیں۔ سورة النحل آیت 59 میں ہم پڑھ چکے ہیں : { اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِط } اس آیت میں قبل از اسلام زمانے کے عربوں کی ایک خاص ذہنیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ یا تو اسے ذلت آمیز طریقے سے زندہ رکھتا ہے یا زندہ دفن کردیتا ہے۔ یہاں ”دَسّٰی“ دراصل دَسَّسَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 آیت نمبر 9 اور نمبر 10 جواب قسم ہے۔ یعنی ابتدا سورة سے آیت نمبر 8 تک جتنی باہم متضاد اشیاء کی قسمیں کھائی گئی ہیں وہ اس حقیقت پر کھائی گئی ہیں کہ جس نے اپنے نفس کو کفر و شرک سے، فاسد عقائد سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک کرلیا۔ وہ کامیاب ہوگیا اور جس شخص نے اپنے ضمیر کی آواز کو جو اسے خیر و شر پر متنبہ کرتی رہتی ہے، خاک میں دبا دیا وہ نامراد ہوگیا۔ یعنی جس طرح سورج اور چاند ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ دن اور رات مختلف اور متضاد ہیں۔ زمین اور آسمان ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فجور اور تقویٰ یا خیر اور شر ایک دوسرے کی ضد ہے۔ اسی طرح خیر و شر کی بنیاد پر اٹھنے والے اعمال کے نتائج بھی یقیناً ایک دوسرے سے متضاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

5۔ (فسق وفجور سے) آیت میں اسی الہام فطری کی تشریح ہے۔ یعنی انسان کی طبیعت میں یہ القاء کردیا گیا کہ نجات و فلاح اس کے لئے ہے، جس نے نفس کو راہ فجور سے پاک کرکے طریق طاعت وتقوی اختیار کرلیا اور عقاب دنیا بھی اس کیلئے ہے، جس نے اپنے کو فجور سے مغلوب ہوجانے دیا، دوسرے لفظوں میں نجات و عقاب دونوں کی کوشش انسان کے اپنے اختیار کی چیز ہے، اس میں تردید ہوگئی ہندو اور بدھ عقیدہ کی کہ ہر عمل انسانی پچھلے جہنم کے ” کرم “ کا ناگزیر نتیجہ ہوتا ہے، اور اس طرح انسان اس سے جکڑا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–12

فالھمھا فجور ھا وتقوھا الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے خیر و شر کی پہچان کرا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل و فطرت میں خیر و شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا، تاکہ وہ نیکی کو اختیار کریں اور بدی سے اجتناب کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و قد خاب من دسھا . یعنی جس کے اندر اللہ نے گمراہی پیدا کردی ‘ اور تخلیق ضلال کی وجہ سے اس کو ہلاک کردیا ‘ وہ نامراد رہا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس نے خود گمراہی کو اختیار کر کے اپنے نفس کو ہلاک کرلیا وہ نامراد رہا۔ دسَّا اصل میں دسس تھا۔ آخری سین کو حرف علت (الف) سے بدل دیا جیسے تقضّٰی اصل میں تقضض تھا۔ تدسُّسٌ کا معنی ہے ‘ چھپانا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَمْ یدسہٗ ............ 1 ؂ زجاج کے قول کی تشریح یہ ہے کہ فطری طور پر نفس انسانی کو دو قوتیں دی گئی ہیں۔ نظریہ اور عملیہ۔ نظریہ کو علمیہ اور فکریہ اور اعتقادیہ بھی کہا جاسکتا ہے اس کا کام خالص فکری ‘ علمی امور کو جاننا ‘ غور کرنا ‘ کائنات اور خالق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–10

(7۔ 10) اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کے تمام اعضاء کو درست بنایا اور پھر اس کو ان باتوں کا القاء کیا ہے جو کرنے کی ہیں اور ان باتوں کا جن سے بچنا چاہیے، وہ کامیاب ہوا جس کو حق نے ہدایت و توفیق اور معرفت عطا فرمائی اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وقد خاب من دسھا):”’ سا“ ”’ س یدس دسا“ (ن) سے مبالغے کے لئے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں ”’ سس“ تھا، دوسرے سین کو الف کردیا، جیسے ”تقضض البازی“ (باز شکار ٹوٹ پڑا) کو ”تقضی البازی“ کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(ام یدسہ فی التراب) (النحل : 59) ”یا اسے مٹی میں دبا دے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

یہ جواب قسم ہے اور لقد افلح کے معنی میں ہے زجاج نے کہا، لام اس لیے حذف ہوا کیونکہ کلام طویل ہوچکی تھی پس اس کا طویل ہوناہی اس کا عوض بن گیا، ایک قول یہ کیا گیا جواب محذوف ہے سورج کی قسم، اس کی قسم اور اس کی قسم تمہیں ضرور اٹھایاجائے گا۔ زمخشری نے کہا، اللہ تعالیٰ اہل مکہ پر ایسا عذاب مسلط کرے گا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ کو جھٹلایا جس طرح اس نے قوم ثمود پر عذاب کو مسلط کردیا کیونکہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا۔ قدافلح من زکاھا۔ ایسی کلام ہے جو پہلی کلام کے تابع ہے کیونکہ، فالھمھا فجورھا وتقواھا۔ بطور استطر اومذکور ہے، یہ جواب قسم نہیں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بغیر حذف کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

12۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحہا۔ یعنی قسم ہے آفتاب کی اور اس کی روشنی کی آیت والقمر اذا تلٰہا اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے آیت والنہار اذا جلٰہا اور دن کی جب وہ اسے روشن کردے آیت والنہار اذا جلٰہا یعنی اور رات کی قسم جب وہ چھاجائے اور آیت والسماء اما بناہا یعنی قسم ہے آسمان کی اور اسے بنانے والے کی فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بنایا آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اسے پھیلانے کی آیت فالہمہا فجورہا وتقوہا اور اس کو اس کی شقاوت کی پہچان کرائی آیت قد افلح من زکہا یعنی یقیناً وہ فلاح پا گیا جس نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَدْ خَابَ : اور نامراد ہوگیا وہ جو ][ مَنْ دَسّٰـىهَا : خاک آلود کرتا رہا اس (نفس) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ0010﴾ (اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے اسے میلا کیا) ۔ یہ سابقہ آیت پر معطوف ہے گزشتہ آیت میں یہ بتایا کہ جس نے اپنے نفس کو پاک اور صاف ستھرا کرلیا وہ کامیاب ہوگیا اور اس آیت میں یہ بتایا کہ جس نے اپنے نفس کو دبا دیا یعنی اس کو کفر و شرک و معاصی میں لگایا وہ ناکام رہا یہ لفظ تدسیس سے ماضی کا صیغہ ہے اصل میں دسسہا تھا مضاعف کے آخری حرف کو حرف علت سے بدل دیتے ہیں۔ یہاں پر بھی ایسا ہی ہوا ہے تدسیس لغت میں چھپانے کو کہتے ہیں یہاں چونکہ من زکھا کے مقابلہ میں وارد ہوا ہے اس لیے مفسرین نے یہ معنی لیے ہیں کہ جس نے اپنے نفس کو کفر و معصیت میں دبا کر چھپا دیا اسے انوار ایمان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

5:۔ ” قد افلح “ یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے مذکورہ بالا شواہد اس پر گواہ ہیں کہ جس طرح وہ برابر نہیں ہیں اسی طرح نفس زکیہ اور نفس خبیثہ بھی برابر نہیں ہیں۔ نفس زکیہ کامیاب اور بامراد ہے اور نفس خبیثہ ذلیل و خوار اور ناکام ہے۔ جس نے اپنے نفس کو خبائث اعتقاد اور و رذائل اخلاق سے پاک کرلیا وہ تو کامیاب اور بامراد ہے اور جس نے اس کو اعتقادی خباثتوں میں ملوث کر کے ذلیل و خوار کیا وہ ناکام مراد ہوا۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىہَا۝ 10 ۭ خاب الخَيْبَة : فوت الطلب، قال : وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] ، وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَرى [ طه/ 61] ، وَقَدْ خابَ مَنْ دَسَّاها [ الشمس/ 10] . ( خ ی ب ) خاب ( ض ) کے معنی ناکام ہونے اور مقصد فوت ہوجانے کے ہیں : قرآن میں ہے : ۔ وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] تو ہر سرکش ضدی نامراد ہوگیا ۔ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَرى [ طه/ 61] اور جس نے افتر ا کیا وہ نامراد رہا ۔ وَقَدْ خابَ مَنْ دَسَّاها [ الشمس/ 10] اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا ۔ دس الدَّسُّ : إدخال الشیء في الشیء بضرب من الإكراه . يقال : دَسَسْتُهُ فَدَسَّ وقد دُسَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–10

ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ (الشمس : 9، 10) (یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔ ) یہ جوابِ قسم ہے یہ ہے جوابِ قسم جس کے لیے ان چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں۔ ہم گزشتہ آیات کی وضاحت میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی جن نشانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام چیزیں آپس میں ایک دوسرے کے متضاد اور نسبت تخالف رکھتی ہیں۔ سورج اور چاند اپنے ظہور اور فروغ اور اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے بالکل ایک دوسرے سے متضاد اور ایک دوسرے کے متخالف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا (نامراد ہوا جس نے اس کو دبادیا) اللہ تعالیٰ نے اس کو گمراہ کردیا۔ قولِ عکرمہ : وہ نفس کامیاب ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا۔ اور وہ نفس رسوا ہوا جس کو اس نے گمراہ کردیا۔ یہ جائز ہے کہ نفس کو ملوث کرنے اور پاک کرنے کی نسبت بندے کی طرف کی جائے اور فعل عبد قرار دیا جائے۔ التدسیۃؔ کمی، کو تاہی، مخفی گناہ کرنا۔ دَسَّ اصل میں دسس ہے۔ یا توسین مکررہ کے بدلے میں لائے گئی ہے۔ پس دَسّٰی بن گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” وقد خاب من دسھا “ یعنی خسارے میں پڑا وہ نفس جس کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا، پھر اس کو خراب کیا اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ تحقیق کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، پھر اس کی اصلاح کی اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا۔ ” وقد خاب من دساھا “ اس کو ہلا ک کردیا اور گمراہ کردیا اور معصیت پر ابھارا۔ پس فعل کو نفس کے لئے بنایا ہے اور ” دساھا “ اس کی اصل ” دسسھا “ ہے تدسیس سے اور وہ کسی شے کو چھپانا ، پھر دوسری سین کو یاء سے تبدیل کردیا گیا ہے اور معنی یہاں یہ ہے اس کو پوشیدہ رکھا اور اس کے محل کو چھپایا کفرو معصیت کے ساتھ۔ زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں میں تمہیں وہی بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا) اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کو رذائل کے میل کچیلے کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کرکے جو اس کی تکمیل اور نشونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بدصورت بناتے اور بگاڑتے ہیں چھپایا وہ ناکام رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور فائز المرام لوگوں کے بالمقابل ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ ’ ’ یقینا ناکام و نامراد ہوگیا وہ جس نے اس کو دھنسا دیا "، یعنی اس نے اس کو دھنسا اور دبا دیا۔ فسق و فجور اور معاصی وذنوب کی دلدل میں، والعیاذ باللہ العظیم۔ دس اصل میں دسس تھا، تخفیف کے لیے دوسری سین کو ی سے بدل دیا گیا، اور ایسا عربی زبان و محاورہ میں عام ہے، جیسے تظن سے تظنی اور ظنیت وغیرہ، سو خواہشات نفس کی پیروی میں لگ کر معاصی وذنوب میں مبتلا ہوجانا ایک ہلاکت و تباہی کی راہ ہے، والعیاذ باللہ۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 17 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جس نے اپنی جان کو دبا دیا۔ (یعنی خاک میں ملا دیا۔ بہکادیا) وہ تباہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(91:10) وقد خاب من دسھا۔ خاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب خیبۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ نامراد ہوا۔ وہ خراب ہوا۔ اس کا مطلب فوت ہوا۔ دسھا ۔ دسی ۔ تدسیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اس نے خاک میں ملا دیا۔ اس نے چھپا دیا۔ دسھا : دس اصل میں دسس تھا۔ آخری س کو الف سے بدل دیا۔ اور تد سیس کے معنی ہیں اخفاء بمعنی چھپانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ام یدسہ فی التراب (16:59) یا اس کو مٹی میں چھپا دے۔ آیت میں ہلاک کرنا مراد ہے کیونکہ ہلاک کرنا چھپانے کو مستلزم ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 9 مذکوہ بالا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–13

طریقہ فلاح ونجات کیا ہے ؟ (ف 2) اس میں کوئی شک نہیں کہ فراغ اور نجات اسی کے واسطے ہے جو نفس کو پاکیزہ بنائے گناہوں کی نجاست سے پاک کرے اور توبہ صدق دل سے کرکے نیک کاموں میں مشغول ہو، یہ بات جب ہی حاصل ہوتی ہے کسی پیر متبع شریعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر مجاہدہ میں مشغول ہوتا ہے بغیر اس کے نفس کا پاکیزہ رہنا بہت مشکل ہے افسوس ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کو علم تصوف کا شوق نہیں رہا بلکہ شوق بالکل جاتا ہی رہا، وہابیت اور نیچریت کے دریا ایسے موج زن ہوگئے کہ لوگوں کے دلوں سے تصوف کا شوق دھودیا، اب اتباع سنت اسی کا نام ہے کہ نفس کو بےقید رکھاجائے اور اس پر دین داری کا وہ گھمنڈ ہے کہ تمام دنیا کو بےایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–13

[6] یہ ہے وہ بات جن پر ان چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ اس کو مناسبت قسموں سے یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی، دن کا اجالا اور رات کا اندھیرا، آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی کو ایک دوسرے کے مقابل پیدا کیا اسی طرح نفس انسانی میں نیکی اور بدی کے متقابل احساسات ودیعت فرمائے اور الہامی طور سے ان دونوں کا فرق سمجھا دیا۔ پھر جس طرح سورج اور چاند، دن اور رات، آسمان اور زمین ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں اسی طرح نفس کی پرہیزگاری اور بدکرداری ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں۔ لیکن بھلائی اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–13

کامیاب کون ہے ؟ سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مظاہر فطرت کو پیش فرمایا ہے کہ تم ان پر غور کرو اور بتاؤ کہ انسان کو منصہ شہود پر لانے کا مقصد کیا ہے ۔ آفتاب کو دیکھو اور دھوپ ملاحظہ کرو چاند کو دیکھو جب کہ وہ غروب آفات کے بعد اس کی جگہ بقع ارض کو نور وضیا بخشتا ہے ۔ دن کو دیدہ عمق سے دیکھو جب کہ خدا اس کو لوگوں کے لئے جلوہ گر کرتا ہے ۔ رات کو دیکھو جب کہ وہ آفتاب کی روشنی پر چھاجاتی ہے ۔ آسمان کی بلندیوں کو دیکھو اور اس ذات کے متعلق سوچو جس نے اس کو پیدا کیا ہے ۔ زمین کو دیکھو اور یہ ملاحظہ کرو کہ اس ذات نے کیونکر اس کو ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ پھر نفس انسانی کی منزلوں کی طرف نظریں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے اس نفس کو گناہوں میں دبا دیا - نفس کا تزکیہ یہی کہ شہوانی اور غضبی حملوں سے اس کو محفوظ رکھا اور شیطانی القا کا مقابلہ کرے اور ہر موقعہ پر غضب اور شہوت کی طاقتوں کو ناکام بنائے اور انپی عقل کو شریعت الٰہیہ کا تابع کردے اس سے نفس کی تطہیر اور تزکیہ ہوتا ہے اور ایسا شخص اپنے مقصد میں کامیا اور فائزالمرام ہوتا ہے اور جو شخص عقل کو غضب اور شہوت کے ماتحت کردے اور خواہشات کا بندہ بن جائے اور فسق وفجور میں نفس کو دبا دے تو سمجھو اس نے نفس کو خاک میں ملادیا اور خاک میں دبا دیا اور ایسا شخص ناکام ونامراد ہوا۔ اسی سلسلے میں آگے قوم وثمود کی تباہی کا ذکر فرمایا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–13

ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جس نے اسے مٹی میں گاڑ دیا وہ نامراد ہو گیا 10 ؎ ( دسھا) اس کو خاک میں ملایا اس کو گاڑ دیا ۔ ( دسی) تدسیۃ سے جس کے معنی چھپانے اور گم نام کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مزکر غائب ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب جس طرح تزکیہ اس کا ذاتی فعل قرار دیا بالکل اسی طرح گناہوں کی طرف مائل ہونے اور زمین کی طرف جھک جانے کو بھی اس کا ذاتی فعل قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا جس نے اپنے نفس کی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ اور گناہوں کے ڈھیر کے نیچے اس گوہر یکتا کو دبا دیا اور اپنی قوتوں کا غلط استعمال کر کے نا شکری کی انتہاء کردی اور وہ شخص اپنی بد نصیبی اور محرومی کا جیتا بھی ماتم کرے کم ہے۔ پھر اگر اس نے اس زندگی کے اندر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–13

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10﴾ (success is really attained by him who purifies it, and failure is really suffered by him who pollutes it....91:10). This is the subject of the seven oaths. The primitive meaning of tazkiyah is 'inner cleanliness', signifying 'he who obeyed Allah and purified his inner and outer selves.' Verse [ 10] signifies 'he who caused his soul to sink in the swamp of sins will be deprived'. The word dassa is derived from the basic word dass' which denotes 'to bury in the ground' as for instance it occurs elsewhere in the Qur'an, thus: أَمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 This is for which an oath has been sworn by the things mentioned in the above verses. Let us now consider how those things bear upon it. The rule that Allah has followed in the Qur'an is that to bear testimony to the truths that He wants to impress on the human mind, he cites some of the most conspicuous, common-place things which every man sees in his surroundings, or in his own self. Accordingly here, pairs of contradictory things have been cited, each unlike the other in its effects and results, rather opposite and reverse. The first pair is of the sun and the moon. The light of the sun…

Read the full tafseer →