فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا ۟ۙفَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا
اس سے حساب آسان لیا جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He will be judged with an easy account
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا ۟ۙفَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا
اس سے حساب آسان لیا جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
He will be judged with an easy account
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq
اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا
اس سے حساب آسان لیا جائے گا
اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا
اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔
اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا
تو عنقریب اس سے آسان سا حساب لیا جائے گا،
سو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا، نہایت آسان حساب۔
تو اس سے جلد ہی آسان سا حساب لیا جائے گا
اس کا حساب تو نہایت آسان ہوگا
تو اس سے بڑا ہی آسان (اور برائے نام سا) حساب لیا جائے گا
سو اس سے آسان حساب لیاجائے گا
تو اس سے لیا جائے گا بہت ہی آسان حساب۔
اس سے حساب کتاب لیا جائے گا
shall be called to an easy accounting,
he will be called to account in an easy manner,
he will be called to account in an easy manner,
He surely will receive an easy reckoning,
He truly will receive an easy reckoning
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
He will be judged with an easy account
will be easy,
He shall be reckoned with by an easy reckoning,
His account shall presently be taken by an easy reckoning.
Soon will his account be taken by an easy reckoning,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…
Read the full tafseer →سورة الْاِنْشِقَاق 6 یعنی اس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی۔ اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں فلاں کام تو نے کیوں کیے تھے اور تیرے پاس ان کاموں کے لیے کیا عذر ہے۔ اس کی بھلائیوں کے ساتھ اس کی برائیاں بھی اس کے نامہ اعمال میں موجود ضرور ہوں گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں سے بھاری ہے، اس کے قصوروں سے در گزر کیا جائے گا اور اسے معاف کردیا جائے گا۔ قرآن مجید میں بد اعمال لوگوں سے سخت حساب فہمی کے لیے سوء الحساب (بری طرح حساب لینے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (الرعد، آیت 18) ، اور نیک لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ " یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کرلیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فاما من اوتی کتبہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا و ینقلب الی اھلہ مسرورا۔ اس میں مومنین کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جاویں گے اور انسے بہت آسان حساب لے کر جنت کی بشارت دے دیجائے گی اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوش خوش واپس ہوگا۔ صحیح کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من حوسب یوم القیمتہ عذب یعنی قیامت کے روز جس سے حساب لیا جائے وہ عذاب سے نہ بچے گا۔ اس پر حضرت صدیقہ عائشہ نے سوال کیا کہ کیا قرآن میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے یحاسب حسابایسرا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت میں جس کو حساب یسیر فرمایا وہ درحقیت مکمل حساب نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے۔ فرمایا کہ اس دن جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے وہ تو سستے چھوٹیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال ناموں کا ان کے دہنے ہاتھ میں دیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہو گا کہ وہ نجات کے حق دار ہیں، ان کی نیکیاں ان کی بدیوں پر غالب اور وہ عفو و صفح کے حق دار ہیں۔ معلوم ہوا کہ جہاں تک حساب کا تعلق ہے وہ تو ان کا بھی ہو گا لیکن ان کے نیک اعمال کا وزن زیادہ ہو گا اس وجہ سے ان کی معمولی غلطیوں سے درگزر کی جائے گی۔ برعکس اس کے جن کے برے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا ان کی ایک ایک غلطی پر گرفت ہو گی اور وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
4: انسان کی پوری زندگی کسی نہ کسی کوشش میں خرچ ہوتی ہے۔ جو نیک لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ہر انسان کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ محنت کرتا کرتا اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وہ لوگ جن کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، ان سے اللہ راضی ہوگا ، یہ ایک بخت ہوں گے ، ایمان دار اور نیکوکار ہوں گے ، اللہ ان سے راضی ہوجائے گا اور ان کی نجات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ حساب ہوگا۔ اللہ کے کارندے زیادہ بازپرس نہیں کریں گے اور نہ حساب میں گہرائیوں تک جائیں گے۔ اس کی تصویر کشی احادیث رسول میں کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان احادیث کو پڑھ لیاجائے تو مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے ساتھ حساب میں مناقشہ کیا گیا اسے ضرور سزا ہوگی۔ فرماتی ہیں میں نے کہا : اللہ نے نہیں کہا ” اس سے ہلکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 آسان حساب یہ ہی کہ بات بات پر گرفت نہ ہوگی۔ محض کاغذات پیش ہوجائیں گے اور بدون بحث و مناقشہ کے سستے چھوڑ دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 8{ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ } ”تو اس سے لیا جائے گا بہت ہی آسان حساب۔“ اس حساب کی کیفیت کیا ہوگی ؟ اس کی وضاحت حضرت عائشہ رض کی روایت کردہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں آئی ہے۔ حضرت عائشہ رض بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ حُوْسِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عُذِّبَ ”قیامت کے روز جس کا حساب لیا جائے گا اسے تو ضرور عذاب دیا جائے گا“۔ اس پر میں نے عرض کیا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے : { فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا 4 } تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَـیْسَ ذَاکِ الْحِسَابُ ، اِنَّمَا ذَاکِ الْعَرْضُ ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 آسان حساب کیا ہے ؟ آسان حساب یہ ہے کہ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری نکلا اس سے اس کی برائیوں کے متعلق یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ تم نے فلاں برا کام کیوں کیا تھا ؟ کیا تمہارے پاس اس کے لیے کوئی عذر ہے ؟ بلکہ اس کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہوا میں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے جلد ہی آسان سا حساب لیا جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا : یہ محض پیشی ہوگی۔ انہیں ان کے اعمال بتا دیئے جائیں گے اور جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5۔ (کہ میں تو خوب سستا چھوٹ آیا) (آیت) ” حسابا یسیرا “۔ حساب کی آسانی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ سرے سے کوئی باز پرس ہی نہ ہو۔ اور محض ضابطہ کی پیشی ہو کر رہ جائے۔
Read the full tafseer →فسوف یحاسب حساباً یسیراً جس کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا، مطلب یہ ہے کہ اس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی، اس سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں کام تو نے کیوں کیا ؟ ال بتہ جس سے سخت حساب لیا جائے گا اس سے ہر بدی کے لئے سخت مناقشہ کیا جائے گا، بخاری شریف کی ایک حدیث جو حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا من حوسب یوم القیامۃ عذب، یعنی روز قیامت جس سے حساب لیا گیا وہ مارا گیا، اس پر حضرت عائشہ ؓ نے سوال کیا کہ کیا قرآن میں حق تعالیٰ نے نہیں فرمایا یحاسب حساباً یسیراً ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آیت میں جس کو حساب یسیر فرمایا گیا درحقیقت وہ مکمل حساب نہیں ہے، بلکہ…
Read the full tafseer →اس کا حساب آسان ہوگا۔ اس سے مراد مؤمن ہیں۔ بخاری نے اپنی سند سے ابن ابی ملیکہ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اگر کوئی بات ایسی سنتی تھیں جس کا مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آتا تو سمجھ لینے کے لیے اس بات کو (حضور ﷺ سے) دریافت کرلیتی تھیں چناچہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ جس سے حساب لیا گیا (پس) اس کو عذاب دیا گیا تو حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہے : فَسَوْفَ یُحَاسِبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا (پھر حساب فہمی کے لیے عذاب کس طرح لازم ہے ؟ ) فرمایا : یہ (حساب جس کا ذکر آیت میں ہے) صرف ایک پیشی ہوگی جس کی پوچھ گچھ کے ساتھ حساب فہمی ہوگی وہ ہلاک ہوجائے گا۔ امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(7۔ 9) سو جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ملے گا مثلا ابو سلمہ سو اس کے حساب کی صرف پیشی ہوگی اور وہ آخرت میں اپنے متعلقین کے پاس خوش خوش آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ و گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ ! جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً) (الانشقاق : 8، 8) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): 3939)”جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا۔“ عائشہ ؓ نے عرض کی :”یا رسول اللہ ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فاما من اوتی کتبہ بییمینہ، فسوف یحاسب حسابایسیرا۔ ونقلب الی اھلہ مسرروا۔ اس میں کوئی مناقشہ نہیں حضرت عائشہ کی حدیث میں رسول اللہ کی حدیث میں اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز جس کا محاسبہ کیا جائے گا اس کو عذاب دیا جائے گا، حضرت عائشہ نے کہا میں نے عرض کی یارسول اللہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، فامامن اوتی کتابہ بیمینہ، فسوف یحاسب حسابایسیرا۔ فرمایا وہ حساب نہیں وہ تو پیشی ہے قیامت کے روز جس کے حساب پر مناقشہ ہو اسے عذاب دیا جائے گا، اے امام بخاری اور امام مسلم اور امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اھل سے مراد جنت میں حورعین ہیں مسرورا سے مراد خوش…
Read the full tafseer →22۔ احمد وابن جریر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بعض نماز میں یہ دعا فرماتے تھے آیت اللہم حاسبنی حسابایسیرا۔ اے اللہ میرا اس ان حساب کیجیے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یارسول اللہ ! آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا کہ اس کے اعمال نامہ میں دیکھا جائے پھر اس سے درگذر کردیا جائے۔ کیونکہ جس سے سخت حساب لیا گیا پس وہ ہلاک ہوگیا۔ 23۔ ابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت فسوف یحاسب حساب یسیرا تو اس سے آسانی کے ساتھ حساب لیاجائے گا۔ یعنی اس کے گناہوں کو پہچانا جائے گا پھر اس سے درگذر کردیا جائے گا۔ 24۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عائشہ ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →[فَسَوْفَ يُحَاسَبُ : تو جلد ہی اس سے حساب لیا جائے گا ][ حِسَابًا يَّسِيْرًا : ایک ہلکا سا حساب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
﴿يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ ﴾ اس میں انسان کی زندگی کا حاصل اور خلاصہ بیان فرمایا دنیا میں رہتے بستے ہیں کچھ نہ کچھ محنت اور عمل کرتے ہی ہیں جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں فرشتے اسے لکھتے ہیں زندگی سب کی گزر رہی ہے اعمال بھی ہو رہے ہیں دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے قیامت قریب آتی جا رہی ہے مرنے والے مر رہے ہیں اپنے اعمال ساتھ لے جا رہے ہیں اسی طرح دنیا رواں دواں ہے حتیٰ کہ اچانک قیامت آجائے گی، پہلا صور پھونکا جائے گا، تو اس سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے میدان حشر میں جمع ہوں گے حساب ہوگا اعمال نامے دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
5:۔ ” فاما من اوتی “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ دنیا میں ایمان لائے اور نیک کام کیے قیامت کے دن ان کے اعمالنامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان کا حساب نہایت آسان ہوگا اور وہ خوش و خرم اور شاداں وفرحان جنت میں اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ ” و اما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ “ کفار و مشرکین کو ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور وہ ہلاکت و موت کی تمنا کریں گے تاکہ ان کو عذاب نہ ہو، لیکن ان کی یہ آرزو کبھی پوری نہیں ہوگی اور ان کو جہنم میں داخل کردیا جائیگا۔ ” وراء ظہرہ “ سے مراد یہ ہے کہ اس کا سینہ چیر کر اس کا بایاں ہاتھ پیٹ سے باہر نکال دیا جائے گا اور اس طرح بائیں ہاتھ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…
Read the full tafseer →فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا 8 ۙ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، وقال عزّ وجل : وَيُرْسِلَ عَلَيْها حُسْباناً مِنَ السَّماءِ [ الكهف/ 40] ، قيل : معناه : نارا، وعذابا وإنما هو في الحقیقة ما يحاسب عليه فيجازی بحسبه، وفي الحدیث أنه قال صلّى اللہ عليه وسلم في الریح : «اللهمّ لا تجعلها عذابا ولا حسبانا»، قال تعالی: فَحاسَبْناها حِساباً شَدِيداً [ الطلاق/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔ تفسیر ¦ فقال یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ بِیَمِیْـنِہٖ ۔ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ وَّیَنْقَلِبُ اِلٰٓی اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا۔ (الانشقاق : 7 تا 9) (پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا۔ اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے لوگوں کی طرف نہایت شادمند لوٹے گا۔ ) قیامت کے روز اصحاب الیمین کا انجام اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کے قبول یا عدم قبول کے حوالے سے دو طرح کے لوگ وجود میں آتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو دارالعمل سمجھا اور قیامت کو دارالجزاء جان کر اس کے لیے تیاری کی۔ اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے تیار کیا۔ اور زندگی اس طرح گزاری جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فہم القرآن ربط کلام : انسان جب اپنے رب کے حضور پیش کیا جائے گا تو اس وقت اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ہر انسان اپنے اعمال نامے کے مطابق اپنے رد عمل کا اظہار کرے گا۔ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش وخرم جا کر کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ ہے اس کے بارے میں مجھے پہلے سے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ملنے والا ہے وہ بڑی عیش کی زندگی میں ہوگا اور اسے جنت عالیہ میں داخل کیا جائے گا۔ (الحاقہ : 19 تا 22) اور جس کو اس کے پیچھے سے اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنی موت کو آواز دے گا لیکن اسے موت نہیں…
Read the full tafseer →انتقام کا سبب ایمان باللہ : 8 : فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا (اس سے آسان حساب لیا جائے گا) نرم و آسان اور وہ آسان یہ ہے کہ حسنات پر بدلہ دیا جائے اور سیئات سے درگزر کیا جائے۔ حدیث شریف میں وارد ہے۔ من یحاسب یعذب۔ جس کا محاسبہ ہوگیا وہ عذاب میں پڑا آپ سے عرض کیا گیا پھر اس ارشاد الٰہی کا کیا مطلب ہے فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ تو فرمایا اس میں اعمال کے پیش ہونے کا ذکر ہے۔ اور میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس سے حساب میں مناقشہ کیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔ ] رواہ البخاری : 103، مسلم : 2876[
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8-7 ۔…” فاما من اوتی کتابہ “ اپنے اعمال کا دفتر۔ ” بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا “ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب کوئی چیز سنتیں اور اس کو نہ پہچانتیں تو اس میں مراجعت (سوال و جواب) کرتیں حتیٰ کہ اس کو پہچان لیتیں اور بیشک نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کا حساب کیا گیا وہ عذاب دیا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ” فسوف یحاسب حسابا یسیرا “ ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو اعمال کا پیش کرنا ہے لیکن جس کا حساب تفصیل سے سختی کے ساتھ لیا گیا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہوگی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہوگی اس لیے اللہ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا (فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ ) پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ خوش بخت لوگ ہیں۔ (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا) تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا یہ اللہ کے حضور آسان پیشی ہوگی اللہ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا حتی کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤں گا۔ (وَّيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا) اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(6) کامیاب اور فائز المرام لوگوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو اس سے بڑا ہی آسان حساب لیا جائے گا "۔ سو اس میں داہنے ہاتھ والوں سے آسان حساب لینے کی عظیم الشان خوشخبری ہے کہ ان سے حساب کے ضمن میں کوئی سوال اور مناقشہ نہیں کیا جائے گا بلکہ محض بیشی پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی خطاوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما لیا جائے گا، اور نیکیوں کی جزا سے نوازا دیا جائے گا، جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی روایت میں مروی و منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " من حوسب عذب "۔ یعنی " جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں ڈال دیا گیا "۔ تو اس پر ام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 16 یعنی اس کے گناہ اسے بتلائے ضرور جائیں گے لیکن ان پر کوئی باز پرس اور جرح نہ ہوگی بلکہ وہ معاف کردیئے جائیں گے صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’ دجس کا حساب لیا گیا وہ تباہ ہوگیا۔ “ میں نے عرض کیا۔” کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ جس کو اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ملے گا اس سے تو آسانی سے حساب لیا جائیگا۔ “ فرمایا :” یہ حساب نہیں ہوگا یہ صرف پیشی ہوگی اور جس سے حساب لینے میں باز پرس کی گئی وہ تباہ ہوگیا۔ شوکانی)
Read the full tafseer →(84:8) فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے ہے سوف فعل مضارع پر داخل ہوکر مستقبل کے لئے مختص کردیتا ہے اور زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ عنقریب، اب ہی۔ حسابا یسیرا موصوف و صفت مل کر فعل یحاسب کا مفعول۔ یسیرا ، یسر (باب سمع) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ آسان سہل ۔ اس کا آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا۔ حضرت امام احمد کی روایت ہے کہ :۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ حساب یسیر کیا ہوگا ؟ فرمایا اس کا کتابچہ دیکھ کر درگزر کی جائے گی۔ البتہ جس کے حساب فہمی پوچھ گچھ کے ساتھ کی جائے گی وہ ہلاک ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
آسان حساب کیسے ہوگا ؟ (ف 3) آسان حساب کی بابت مسند امام احمد، مستدرک حاکم، عبد بن حمید، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ عنہافرماتی ہیں میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ حضور آسانی سے حساب ہوجانے کی قیامت کے دن کیا صورت ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا آسانی سے حساب ہوجانے کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ اپنے بندوں کے نامہ اعمال پر فقط نظر ڈالے گا اور درگذر فرماکرحساب میں زیادہ کریدنہ فرمائے گا، کیونکہ جس شخص کے حساب میں کریدنکالی جائے گی وہ ضرور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں گی قیامت کے دن اس کا حساب آسانی سے ہوگا۔ ایک بدمزاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[2] آسان حساب کی شکل یہ ہے کہ سرے سے کوئی بازپرس نہ ہو اور محض ضابطے کی پیشی ہو کر رہ جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
یعنی ساری زندگی میں انسان اس جدوجہد میں مبتلارہتا ہے کہ کسی خواہش و آرزو کے حصول میں کامیابی ہو اور کسی نہ کسی طریق سے اس کی محبتیں ٹھکانے لگیں ۔ دن رات دوڑ دھوپ کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ بھی وہ فارغ نہیں ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن اس نصب العین تک رسائی ہونے کو ہے ۔ جس کے لئے اس عمر بھر سعی کی اور تگ ودو جاری رکھی ۔ مگر شرط کامرانی یہ ہے کہ یہ عمل پیہم ، یہ شوق وصال اور یہ تگ ودو واللہ کو پسند آجائے اور وہ ازراہ تکریم و اعزاز اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیں ۔ ورنہ ہلاکت ہے ۔ اور جہنم کی آگ ہے اور یہ سارے اعمال بےکار اور اکارت ہیں ۔ حل لغات :۔ وحقت ۔ اور اس…
Read the full tafseer →(8) سو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 2۔ آسان حساب کے مراتب مختلف ہیں ایک یہ کہ اس پر اصلا عذاب مرتب نہ ہو، بعض کے لئے تو یہ ہوگا اور حدیث میں اسی کی تفسیر آئی ہے کہ جس حساب میں مناقشہ نہ ہو صرف پیشی ہوجائے اور یہ غیر معذبین کے لئے ہوگا، دوسرا یہ کہ اس پر عذاب مخلد نہ ہو اور یہ عام مومنین کے لئے ہوگا اور مطلب عذاب اس کے منافی نہیں۔
Read the full tafseer →تو اس سے جلد ہی آسان حساب لیا جائے گا 8 ؎ وہ لوگ جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ موصول ہوں گے لاریب ان میں ان کی ہر نیکی اور بدی کی تفصیل موجود ہوگی لیکن ان سے ایک ایک بات کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا اور جب وہ کامیاب ہوگئے تو اب بات کی ضرورت بھی نہ رہی کہ اس کی تفصیل بتائی جائے یہ تو ایک قسم کا رزلت کارڈ ہے اور سند تو اس کے بعد آئے گی۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا حساب تو بہت ہی آسان ہوگا کہ جوں ہی میدان حشر میں اکٹھے ہوئے اور ملاقات ہوتے ہی ان کا اعمال نامہ ان کو داہنے ہاتھ میں دے دیا گیا تو اس سے زیادہ آسانی اور کیا ہوگی ، ہاں ! اعمالنامہ تو ان کو بھی اسی وقت دے دیا جائے گا جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿7﴾ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ﴿8﴾ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ﴿9﴾ (So, as for him whose book [ of deeds ] will be given to him in his right hand, he will be called to account in an easy manner, and he will go back to his people joyfully....7-9) This verse describes the condition of the believers. Their books of deeds will be given to them in their right hands. An easy reckoning will be taken from them and the welcome news of Paradise will be given to them. They will return to their families joyfully. It is reported in the…
Read the full tafseer →6 That is, his reckoning will be less severe: he will not be asked why he had done such and such a thing and what excuses he had to offer for it. Though his evil deeds also will be there alongwith his good deeds in his records, his errors will be overlooked and pardoned in view of his outweighing good deeds . ln the Holy Qur'an, for the severe reckoning of the wicked people the words su-al-hisab (heavy reckoning) have been used (Ar-Ra'd: 181, and concerning the righteous it has been said: "From such people We accept the best of their deeds and overlook their evils." (AI-Ahqaf: 16) . The…
Read the full tafseer →