Explained with ayahs 1–15
زمین مردے اگل دے گی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الْاِنْشِقَاق 5
یعنی وہ ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے، اس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے لیے ہے، لیکن در حقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب کی طرف اور آخر کار وہیں تجھے پہنچ کر رہنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فاما من اوتی کتبہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا و ینقلب الی اھلہ مسرورا۔ اس میں مومنین کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جاویں گے اور انسے بہت آسان حساب لے کر جنت کی بشارت دے دیجائے گی اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوش خوش واپس ہوگا۔
صحیح کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من حوسب یوم القیمتہ عذب یعنی قیامت کے روز جس سے حساب لیا جائے وہ عذاب سے نہ بچے گا۔ اس پر حضرت صدیقہ عائشہ نے سوال کیا کہ کیا قرآن میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے یحاسب حسابایسرا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت میں جس کو حساب یسیر فرمایا وہ درحقیت مکمل حساب نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے۔ فرمایا کہ اس دن جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے وہ تو سستے چھوٹیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال ناموں کا ان کے دہنے ہاتھ میں دیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہو گا کہ وہ نجات کے حق دار ہیں، ان کی نیکیاں ان کی بدیوں پر غالب اور وہ عفو و صفح کے حق دار ہیں۔ معلوم ہوا کہ جہاں تک حساب کا تعلق ہے وہ تو ان کا بھی ہو گا لیکن ان کے نیک اعمال کا وزن زیادہ ہو گا اس وجہ سے ان کی معمولی غلطیوں سے درگزر کی جائے گی۔ برعکس اس کے جن کے برے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا ان کی ایک ایک غلطی پر گرفت ہو گی اور وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
4: انسان کی پوری زندگی کسی نہ کسی کوشش میں خرچ ہوتی ہے۔ جو نیک لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ہر انسان کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ محنت کرتا کرتا اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وہ لوگ جن کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، ان سے اللہ راضی ہوگا ، یہ ایک بخت ہوں گے ، ایمان دار اور نیکوکار ہوں گے ، اللہ ان سے راضی ہوجائے گا اور ان کی نجات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ حساب ہوگا۔ اللہ کے کارندے زیادہ بازپرس نہیں کریں گے اور نہ حساب میں گہرائیوں تک جائیں گے۔ اس کی تصویر کشی احادیث رسول میں کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان احادیث کو پڑھ لیاجائے تو مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے ساتھ حساب میں مناقشہ کیا گیا اسے ضرور سزا ہوگی۔ فرماتی ہیں میں نے کہا : اللہ نے نہیں کہا ” اس سے ہلکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 آسان حساب یہ ہی کہ بات بات پر گرفت نہ ہوگی۔ محض کاغذات پیش ہوجائیں گے اور بدون بحث و مناقشہ کے سستے چھوڑ دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 6{ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ۔ } ”اے انسان ! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔“
یہ دنیا انسان کے لیے دارالمِحن یعنی مشقتوں کا گھر ہے۔ انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو سورة البلد میں یوں بیان فرمایا گیا : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔ } کہ انسان تو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ گویا مشقتیں برداشت کرنا ‘ دکھ اٹھانا اور سختیاں جھیلنا انسان کا مقدر ہے۔ اس سے کسی انسان کو رستگاری نہیں۔ مزدور ہے تو وہ صبح سے شام تک جسمانی سختیاں سہہ رہا ہے۔ کارخانہ دار ہے تو انتظامی گتھیوں کو سلجھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 آسان حساب کیا ہے ؟ آسان حساب یہ ہے کہ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری نکلا اس سے اس کی برائیوں کے متعلق یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ تم نے فلاں برا کام کیوں کیا تھا ؟ کیا تمہارے پاس اس کے لیے کوئی عذر ہے ؟ بلکہ اس کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا گیا وہ تباہ ہوا میں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے جلد ہی آسان سا حساب لیا جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا : یہ محض پیشی ہوگی۔ انہیں ان کے اعمال بتا دیئے جائیں گے اور جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5۔ (کہ میں تو خوب سستا چھوٹ آیا) (آیت) ” حسابا یسیرا “۔ حساب کی آسانی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ سرے سے کوئی باز پرس ہی نہ ہو۔ اور محض ضابطہ کی پیشی ہو کر رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
انک کا دح کدح کے معنی کسی کام میں پوری جدوجہد اور توانائی صرف کرنے کے ہیں اور الی ربک کا مطلب ہے الی لقاء ربک یعنی ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف دنیوی زندگی تک محدود ہے، لیکن حقیقت اور واقعہ یہ ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے رب کی طرف جا رہا ہے وہی انسان کی منزل اور ٹھکانہ ہے۔
Read the full tafseer →پس جس شخص کے دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(7۔ 9) سو جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ملے گا مثلا ابو سلمہ سو اس کے حساب کی صرف پیشی ہوگی اور وہ آخرت میں اپنے متعلقین کے پاس خوش خوش آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ و گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ ! جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً) (الانشقاق : 8، 8) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): 3939)”جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا۔“ عائشہ ؓ نے عرض کی :”یا رسول اللہ ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فاما من اوتی کتبہ بییمینہ، فسوف یحاسب حسابایسیرا۔ ونقلب الی اھلہ مسرروا۔ اس میں کوئی مناقشہ نہیں حضرت عائشہ کی حدیث میں رسول اللہ کی حدیث میں اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز جس کا محاسبہ کیا جائے گا اس کو عذاب دیا جائے گا، حضرت عائشہ نے کہا میں نے عرض کی یارسول اللہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، فامامن اوتی کتابہ بیمینہ، فسوف یحاسب حسابایسیرا۔ فرمایا وہ حساب نہیں وہ تو پیشی ہے قیامت کے روز جس کے حساب پر مناقشہ ہو اسے عذاب دیا جائے گا، اے امام بخاری اور امام مسلم اور امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اھل سے مراد جنت میں حورعین ہیں مسرورا سے مراد خوش…
Read the full tafseer →21۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں ہے جس کا حساب کیا جائے گا مگر وہ ہلاک ہوگا۔ میں نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں۔ آیت فاما من اوتی کتبہ بیمینہ۔ فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ جس کو اس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا تو عنقریب اس کا آسان حساب کیا جائے گا آپ نے فرمایا : یہ حساب کے بارے میں نہیں بلکہ یہ تو عرض کرنا ہے اور جس سے سخت حساب لیا گیا تو وہ ہلاک ہوگیا۔
Read the full tafseer →[فَاَمَا مَنْ : پس وہ جو ہے جس کو ][ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ : دی گئی اس کی کتاب ][ بِيَمِيْنِهٖ : اس کے داہنے ہاتھ میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
﴿يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ ﴾ اس میں انسان کی زندگی کا حاصل اور خلاصہ بیان فرمایا دنیا میں رہتے بستے ہیں کچھ نہ کچھ محنت اور عمل کرتے ہی ہیں جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں فرشتے اسے لکھتے ہیں زندگی سب کی گزر رہی ہے اعمال بھی ہو رہے ہیں دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے قیامت قریب آتی جا رہی ہے مرنے والے مر رہے ہیں اپنے اعمال ساتھ لے جا رہے ہیں اسی طرح دنیا رواں دواں ہے حتیٰ کہ اچانک قیامت آجائے گی، پہلا صور پھونکا جائے گا، تو اس سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔
پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے میدان حشر میں جمع ہوں گے حساب ہوگا اعمال نامے دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
5:۔ ” فاما من اوتی “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ دنیا میں ایمان لائے اور نیک کام کیے قیامت کے دن ان کے اعمالنامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان کا حساب نہایت آسان ہوگا اور وہ خوش و خرم اور شاداں وفرحان جنت میں اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ ” و اما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ “ کفار و مشرکین کو ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور وہ ہلاکت و موت کی تمنا کریں گے تاکہ ان کو عذاب نہ ہو، لیکن ان کی یہ آرزو کبھی پوری نہیں ہوگی اور ان کو جہنم میں داخل کردیا جائیگا۔ ” وراء ظہرہ “ سے مراد یہ ہے کہ اس کا سینہ چیر کر اس کا بایاں ہاتھ پیٹ سے باہر نکال دیا جائے گا اور اس طرح بائیں ہاتھ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(آسمان پھٹ جائے گا)
ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…
Read the full tafseer →فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِيَمِيْنِہٖ 7 ۙ
«أمَّا»
و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔
تفسیر ¦ فقال یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ بِیَمِیْـنِہٖ ۔ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ وَّیَنْقَلِبُ اِلٰٓی اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا۔ (الانشقاق : 7 تا 9)
(پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا۔ اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے لوگوں کی طرف نہایت شادمند لوٹے گا۔ )
قیامت کے روز اصحاب الیمین کا انجام
اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کے قبول یا عدم قبول کے حوالے سے دو طرح کے لوگ وجود میں آتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو دارالعمل سمجھا اور قیامت کو دارالجزاء جان کر اس کے لیے تیاری کی۔ اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کے لیے تیار کیا۔ اور زندگی اس طرح گزاری جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فہم القرآن
ربط کلام : انسان جب اپنے رب کے حضور پیش کیا جائے گا تو اس وقت اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ہر انسان اپنے اعمال نامے کے مطابق اپنے رد عمل کا اظہار کرے گا۔
جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش وخرم جا کر کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ ہے اس کے بارے میں مجھے پہلے سے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ملنے والا ہے وہ بڑی عیش کی زندگی میں ہوگا اور اسے جنت عالیہ میں داخل کیا جائے گا۔ (الحاقہ : 19 تا 22) اور جس کو اس کے پیچھے سے اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنی موت کو آواز دے گا لیکن اسے موت نہیں…
Read the full tafseer →7 : فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ (توجس شخص کا نامہ عمل اس کے دائیں ہاتھ میں ملے گا) کتاب سے یہاں نامہ عمل مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8-7 ۔…” فاما من اوتی کتابہ “ اپنے اعمال کا دفتر۔ ” بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا “ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب کوئی چیز سنتیں اور اس کو نہ پہچانتیں تو اس میں مراجعت (سوال و جواب) کرتیں حتیٰ کہ اس کو پہچان لیتیں اور بیشک نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کا حساب کیا گیا وہ عذاب دیا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ” فسوف یحاسب حسابا یسیرا “ ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو اعمال کا پیش کرنا ہے لیکن جس کا حساب تفصیل سے سختی کے ساتھ لیا گیا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہوگی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہوگی اس لیے اللہ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا (فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ ) پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ خوش بخت لوگ ہیں۔ (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا) تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا یہ اللہ کے حضور آسان پیشی ہوگی اللہ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا حتی کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤں گا۔ (وَّيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا) اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(6) کامیاب اور فائز المرام لوگوں کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو اس سے بڑا ہی آسان حساب لیا جائے گا "۔ سو اس میں داہنے ہاتھ والوں سے آسان حساب لینے کی عظیم الشان خوشخبری ہے کہ ان سے حساب کے ضمن میں کوئی سوال اور مناقشہ نہیں کیا جائے گا بلکہ محض بیشی پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی خطاوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما لیا جائے گا، اور نیکیوں کی جزا سے نوازا دیا جائے گا، جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی روایت میں مروی و منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " من حوسب عذب "۔ یعنی " جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں ڈال دیا گیا "۔ تو اس پر ام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے
تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔
احکام کی قسمیں۔
احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 16 یعنی اس کے گناہ اسے بتلائے ضرور جائیں گے لیکن ان پر کوئی باز پرس اور جرح نہ ہوگی بلکہ وہ معاف کردیئے جائیں گے صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’ دجس کا حساب لیا گیا وہ تباہ ہوگیا۔ “ میں نے عرض کیا۔” کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ جس کو اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ملے گا اس سے تو آسانی سے حساب لیا جائیگا۔ “ فرمایا :” یہ حساب نہیں ہوگا یہ صرف پیشی ہوگی اور جس سے حساب لینے میں باز پرس کی گئی وہ تباہ ہوگیا۔ شوکانی)
Read the full tafseer →(84:7) فاما من اوتی کتبہ بیمینہ۔بمعنی پھر، پس۔ اما تفصیل کے لئے ہے بمعنی یا۔ سو۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔
فاما الذین منوا فیعلمون انہ الحق من ربھم واما الذین کفروا فیقولون ماز اراد اللہ بھذا مثلا (2:26) سو جو لوگ ایمان کائے ہیں تو وہ یہی سمجھیں گے کہ وہ (مثال) یقینا حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے اور جو لوگ کفر اختیار کئے ہوئے ہیں وہ یہی کہتے رہیں گے کہ اللہ کا اس مثال سے مطلب کیا تھا ؟
من شرطیہ ہے اور اوتی کتبہ بیمینہ جملہ شرط ہے اوتی ماضی مجہول واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر سے وہ دیا گیا۔ اس کو ملا۔ کتبہ مضاف مضاف الیہ اس کی کتاب، اس کا اعمال نامہ۔ یمینہ اس کا دایاں ہاتھ۔ اس کا سیدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔
تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔
تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(ف 2) قیامت کے ذکر کرکے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بھر میں نیک وبد جو کچھ ہر شخص کرے گا جس وقت قیامت قائم ہوگی تو اس کا وہ سب عمل اس کے سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ہر شخص کو اس کے ہر طرح کے عمل کی جزا وسزا مل جائے گی ورنہ نیک و بدعمل تو ہر شخص کی قبر میں رکھتے ہی اس کے سامنے آجاتا ہے، چناچہ براء بن عازب کی حدیث کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کے پاس اس کی قبر میں ایک آدمی اچھی صورت کا اچھا لباس پہنے ہوئے آتا ہے اور مردے سے کہتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں اسی طرح بد آدمی کے مردہ کی قبر میں بدشکل برے لباس میں اس کے پاس آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[1] محشر کے لئے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی، سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے تاکہ ایک ہموار سطح پر تمام انسان بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
یعنی ساری زندگی میں انسان اس جدوجہد میں مبتلارہتا ہے کہ کسی خواہش و آرزو کے حصول میں کامیابی ہو اور کسی نہ کسی طریق سے اس کی محبتیں ٹھکانے لگیں ۔ دن رات دوڑ دھوپ کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ بھی وہ فارغ نہیں ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن اس نصب العین تک رسائی ہونے کو ہے ۔ جس کے لئے اس عمر بھر سعی کی اور تگ ودو جاری رکھی ۔ مگر شرط کامرانی یہ ہے کہ یہ عمل پیہم ، یہ شوق وصال اور یہ تگ ودو واللہ کو پسند آجائے اور وہ ازراہ تکریم و اعزاز اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیں ۔ ورنہ ہلاکت ہے ۔ اور جہنم کی آگ ہے اور یہ سارے اعمال بےکار اور اکارت ہیں ۔
حل لغات :۔ وحقت ۔ اور اس…
Read the full tafseer →(7) پس جس شخص کا نامہ اعمال اور لکھنا اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 1۔ جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے پس زمین اپنی موجودہ مقدار سے بہت زیادہ وسیع ہوجائے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس پر سما سکیں جیسا کہ در منثور میں بسند جید حاکم کی روایت سے مرفوعا وارد ہے، تمد الارض یوم القیامة مد الادیم الخ، پس یہ انشقاق اور یہ امتداد دونوں حساب کے مقدمات میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →پس جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا
7 ؎ کامیابی کی علامت اور ناکامی کی علامت جو قیامت کے روز ظاہر ہوگی وہ یہی ہے جس کا ذکر اس سے قبل بھی کیا جا چکا ہے کہ کامیاب لوگوں کے داہنے ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا اور ناکام لوگوں کے بائیں ہاتھ میں اور یہ علامت ایسی علامت ہے کہ کسی کو کوئی شبہ نہ رہے گا کہ کون کامیاب ہوا اور کون ناکام ؟ اور نہ ہی اس میں کوئی دیر لگے گی ، ہاں ! کسی کو کسی طرح کا کوئی شبہ ہوگا تو وہ بلا روک ٹوک اپنا نکال سکے گا اور جو بھی اس سلسلہ میں کوشش کرے گا وہ یقینا نادم ہوگا کہ میں نے کیا کیا ۔ زیر نظر آیت میں کامیاب ہونے والوں کا ذکر ہے کیونکہ یہ وہی لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ﴿7﴾ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ﴿8﴾ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ﴿9﴾
(So, as for him whose book [ of deeds ] will be given to him in his right hand, he will be called to account in an easy manner, and he will go back to his people joyfully....7-9)
This verse describes the condition of the believers. Their books of deeds will be given to them in their right hands. An easy reckoning will be taken from them and the welcome news of Paradise will be given to them. They will return to their families joyfully.
It is reported in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 That is, "You may if you so like think that alI your efforts and endeavours in the world are confined to worldly life and motivated by worldly desires, yet the truth is that you are moving, consciously or unconsciously, towards your Lord and you have ultimately to appear before Him in any case.."
Read the full tafseer →