Al-Inshiqaaq 84:6

Al-Inshiqaaq · from ayah 6

84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰی رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ ۟ۚيٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ‌ۚ

اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O mankind, indeed you are laboring toward your Lord with [great] exertion and will meet it.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:6

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے انسان ! تو اپنے پروردگار کے پاس پہنچنے تک مسلسل کسی محنت میں لگا رہے گا، یہاں تک کہ اس سے جا ملے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے آدمی! بیشک تجھے اپنے رب کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے انسان! تو اپنے رب تک پہنچنے میں سخت مشقتیں برداشت کرتا ہے بالآخر تجھے اسی سے جا ملنا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے انسان ! بیشک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے انسان تو تکلیف سہہ سہہ کر کشاں کشاں اپنے پروردگار کی طرف جارہا ہے پھر تو اس سے ملنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے خداوند ہی کی طرف جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے انسان تو یقینا کشاں کشاں جا رہا ہے اپنے رب کی طرف سو (تو مان یا نہ مان بہرکیف) تجھے آخرکار اس سے ملنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے انسان تو کام میں جتا رہتا ہے اپنے پروردگار کے پاس پہنچنے تک پھر اس سے جا ملے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے انسان ! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے انسان تو اپنے رب کی طرف پہنچنے میں خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O man, you are striving unto your Lord and you will meet Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O man, you have to work hard constantly to reach your Lord, and then you have to meet Him.

— Muhammad Taqi Usmani

O man, you have to work hard constantly to reach your Lord, and then you have to meet Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning, and you will meet.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou, verily, O man, art working toward thy Lord a work which thou wilt meet (in His presence).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O mankind, indeed you are laboring toward your Lord with [great] exertion and will meet it.

— Saheeh International

Human being, you strive hard to get closer to your Lord, and so you will certainly receive the recompense (of your deeds).

— Muhammad Sarwar

O man! surely you must strive (to attain) to your Lord, a hard striving until you meet Him.

— Muhammad Habib Shakir

O man! verily thou art toiling toward thy Lord a painful toiling, and art about to meet Him.

— Abdul Majid Daryabadi

O thou man! Verily thou art ever toiling on towards thy Lord- painfully toiling,- but thou shalt meet Him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْاِنْشِقَاق 5 یعنی وہ ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے، اس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے لیے ہے، لیکن در حقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب کی طرف اور آخر کار وہیں تجھے پہنچ کر رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

یایھا الانسان انک کا دح، کدح کے معنے کسی کام میں پوری جدوجہد اور اپنی توانائی صرف کرنے کے ہیں، او الی ربک سے مراد الی لقاء ربک ہے یعنی انسان کی ہر سعی وجدوجد کی انتہا اس کے رب کی طرف ہونیوالی ہے۔ رجوع الی اللہ۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خطاب فرما کر اس کے غور و فکر کے لئے ایک ایسی راہ دکھائی ہے کہ اس میں کچھ بھی عقل و شعور ہو تو وہ اپنی جدوجہد کا رخ صحیح سمت کی طرف پھیر سکتا ہے جو اس کو دنیا و دنیا میں سلامتی اور عافیت کی ضمانت دے۔ پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی کہ انسان نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کافر اپنی فطرت سے اس کا عادی ہے کہ کچھ نہ کچھ حرکت کرے اور کسی نہ کسی چیز کو اپنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دنیا کے فریب خواروں کو تنبیہ: خطاب باعتبار الفاظ اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر انہی مغروروں کی طرف ہے جو اپنے عیش دنیا میں مگن اور آخرت سے بالکل نچنت تھے۔ فرمایا کہ اے انسان تو بھی کشاں کشاں جا اپنے رب ہی کی طرف رہا ہے اور بالآخر اسی کے حضور تیری پیشی ہونی ہے؛ تجھے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ دنیا کے پرستار اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں اپنی اصل منزل ہمیشہ بھولے رہتے ہیں۔ انھیں کامیابیوں کے بعد کامیابیاں اور فتوحات کے بعد جو فتوحات حاصل ہوتی ہیں ان میں وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ ان سے باہر ہو کر وہ کسی چیز پر غور ہی نہیں کر سکتے۔ ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری کامیابی کے حصول کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–8

4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–9

4: انسان کی پوری زندگی کسی نہ کسی کوشش میں خرچ ہوتی ہے۔ جو نیک لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا میں محنت کرتے ہیں، اور جو دنیا پرست ہیں، وہ صرف دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ہر انسان کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ محنت کرتا کرتا اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یایھا الانسان (6:84) ” جس کو رب نے مہربان کرکے اس طرح بنایا ، جس کو اللہ نے پوری مخلوقات کے مقابلے میں انسانیت کی منفرت صفت دی۔ اس کو تو یہ چاہئے کہ یہ اپنے رب کی معرفت میں سب سے آگے ہو ، اور اس پوری کائنات اور ارض وسما کے مقابلے میں اللہ کے سامنے زیادہ سرتسلیم خم کرنے والاہو ، اللہ نے اس کے جسم میں اپنی روح پھونکی ، اسے یہ قوت دی اور یہ فہم دیا کہ وہ رب تک رسائی حاصل کرسکے اور اپنے نور کا دیا اس کی ذات میں جلایا ، اور اس کے اندر یہ تڑپ رکھی کہ وہ اللہ کے فیوض حاصل کرے ، اور ان کے ذریعہ روحانی پاکیزگی اختیار کرے اور لامحدود بلندیوں تک عروج حاصل کرے۔ اور اس کمال کی انتہاﺅں تک جاپہنچے جن تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی رب تک پہنچنے سے پہلے ہر آدمی اپنی استعداد کے موافق مختلف قسم کی جدوجہد کرتا ہے کوئی اس کی طاعت میں محنت و مشقت اٹھاتا ہے، کوئی بدی اور نافرمانی میں جان کھپاتا ہے۔ پھر خیر کی جانب میں ہو یا شر کی، طرح طرح کی تکلیفیں سہ سہ کر آخر پروردگار سے ملتا اور اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 6{ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ۔ } ”اے انسان ! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔“ یہ دنیا انسان کے لیے دارالمِحن یعنی مشقتوں کا گھر ہے۔ انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو سورة البلد میں یوں بیان فرمایا گیا : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔ } کہ انسان تو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ گویا مشقتیں برداشت کرنا ‘ دکھ اٹھانا اور سختیاں جھیلنا انسان کا مقدر ہے۔ اس سے کسی انسان کو رستگاری نہیں۔ مزدور ہے تو وہ صبح سے شام تک جسمانی سختیاں سہہ رہا ہے۔ کارخانہ دار ہے تو انتظامی گتھیوں کو سلجھانے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

4 کَدْحا کا لغوی مفہوم :۔ کَدْحاً ۔ کَدَحَ بمعنی کام میں بہت محنت کرنا۔ تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرنا۔ بمشقت کوئی کام کرتے جانا اور اس کی صورت یہ ہوتی کہ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے وہ درپے ہوجاتا ہے اور وہ کام ابھی پورا بھی نہیں ہوچکتا کہ کوئی اور خواہش یا خواہشیں انسان کے دل میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ پہلی خواہش کی تکمیل کے بعد، بعد والی خواہش کی تکمیل کے لیے کمر ہمت باندھ لیتا ہے اور اسی طرح اس کی تمام زندگی بیت جاتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواہش کرنے والا انسان ایک دنیادار ہے اور اس کی تمام تر خواہشات کا محور دنیوی مفادات کا حصول ہے۔ یا وہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر انسان مرتے دم تک کسی نہ کسی شغل میں، اچھا ہو یا برا، بہرحال لگاہی رہتا ہے۔ (آیت) ” کا دح، کدحا “۔ کدح کے معنی سعی وجہد کے ہیں۔ الکدح سعی الانسان وجھدہ فی الامر (معالم) جب مشقت وتعب انسان کے لیے زندگی میں بہر صورت ناگزیر ہے، جب تو یہ بات اور زیادہ دیکھ لینے کی ہے کہ انسان خیر یا شرکس قسم کا کسب اعمال کررہا ہے۔ (آیت) ” یایھا الانسان “۔ خطاب جنس انسانی سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–7

انک کا دح کدح کے معنی کسی کام میں پوری جدوجہد اور توانائی صرف کرنے کے ہیں اور الی ربک کا مطلب ہے الی لقاء ربک یعنی ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف دنیوی زندگی تک محدود ہے، لیکن حقیقت اور واقعہ یہ ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے رب کی طرف جا رہا ہے وہی انسان کی منزل اور ٹھکانہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الانسان . عام انسانوں سے خطاب ہے۔ انک کا دح . کَدْحٌ کا معنی ہے اچھے برے کام میں اتنی محنت اور کوشش کرنا کہ محنت کا اثر کرنے والے میں پیدا ہوجائے کیونکہ کدحٌ کا لغوی معنی ہے خراش پیدا کردینا (پس کوشش اور محنت اگر انسان میں کوئی اثر پیدا کر دے تو گویا کوشش نے اس کے اندر خراش پیدا کردی) ۔ الی ربک کدحا . اپنے مالک کی طرف یعنی موت کی طرف۔ مراد یہ ہے کہ اے انسان ! تو مرنے تک (اچھے برے کام کی) کوشش میں لگا رہتا ہے۔ فملاقیہ . ہضمیر یا کَدْحًا کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخر میں تو اپنی کوشش کو یعنی کوشش کے بدلہ کو پالے گا۔ یا ضمیر ربک کی طرف راجع ہے یعنی مرنے کے بعد جب قیامت کا دن ہوگا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے انسان یعنی ابو الاسود بن کلدہ کافر تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک اپنے کفر میں پوری کوشش کررہا ہے اور پھر قیامت کے دن اپنے عمل سے جاملے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(یایھا الانسان انک اکدح…:”کا دح“”کدح یکدح“ (ف) خوب کوشش کرنا، مشقت جھیلنا، زخمی کرنا۔”الی“ کے لفظ سے اس میں رب تعالیٰ کی طرف جانے کا مفہوم ادا ہو رہا ہے، یعنی اے انسان تو زندگی بھر کسی نہ کسی کام کی مشقت میں مبتلا رہ کر آخر کار اچھے یا برے اعمال لے کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے اولا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یا ایھا الانسان انک۔۔۔ تا۔۔۔ مسرورا۔ یایھالانسان انک کا دح الی ربک کدحا۔ انسان سے مراد جنس ہے، مراد یہ ہے اے ابنی آدم، سعید نے قتادہ سے یہی روایت نقل کی ہے اے ابن آدم تیری کاوش کمزور ہے جو یہ طاقت رکھتا ہو کہ اس کی کدوکاوش اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہو تو وہ ایسا کرے امور کو بجالانے کی طاقت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد مخصوص فرد ہے، مقاتل نے کہا اس سے مراد اسود بن عبدالاسد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ابی بن خلف ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے تمام کفار ہیں اے کافر تو عمل کرنے والا ہے کلام عرب میں کدح سے مراد عمل اور کسب ہے، ابن مقبل نے کہا، وما الدھر الاتارتان فمنھا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

19۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الانسان انک کا دح ربک الی کدحا یعنی تو اپنے رب کی طرف مسلسل محنت اور کوشش کرتا رہتا ہے۔ 20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انک کا دح الی ربک کدحا یعنی بیشک تو سخت محنت کرتا ہے آیت فملقیہ یعنی تو اپنے عمل سے ملاقات کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا الْانسَان : اے انسان ][ انكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِكَ : یقینا تو تگ و دو کرنے والا ہے اپنے رب کی طرف ][ كَدْحًا : جیسا تگ و دو کرنے کا حق ہے ][ فَمُلٰقِيْهِ : پھر ملاقات کرنے والا ہے اس سے ] [کَدْحًا : (ف) کسی کام میں بہت محنت کرنا۔ کسی چیز کے لیے تگ و دو کرنا۔] [ کَادِحٌ اسم الفاعل ہے۔ تگ ودو کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 6 ۔] نوٹ۔ 2: کَدْحٌ کے معنے کسی کام میں پوری جدوجہد اور اپنی توانائی صرف کرنے کے ہیں اور اِلٰی رَبِّکَ سے مراد اِلٰی لِقَائِ ربِّکَ ہے۔ یعنی انسان کی ہر سعی اور جدوجہد کی انتہا اس کے رب کی ملاقات کی طرف ہونے والی ہے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خطاب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–12

﴿يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ ﴾ اس میں انسان کی زندگی کا حاصل اور خلاصہ بیان فرمایا دنیا میں رہتے بستے ہیں کچھ نہ کچھ محنت اور عمل کرتے ہی ہیں جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں فرشتے اسے لکھتے ہیں زندگی سب کی گزر رہی ہے اعمال بھی ہو رہے ہیں دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے قیامت قریب آتی جا رہی ہے مرنے والے مر رہے ہیں اپنے اعمال ساتھ لے جا رہے ہیں اسی طرح دنیا رواں دواں ہے حتیٰ کہ اچانک قیامت آجائے گی، پہلا صور پھونکا جائے گا، تو اس سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے میدان حشر میں جمع ہوں گے حساب ہوگا اعمال نامے دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” یا ایہا الانسان “ یہ اعمال صالحہ بجا لانے کی ترکیب ہے۔ ” کا دح “ جاھد، ساع، (مدارک، مظہری) ۔ ” الی ربک “ ای طول حیاتک الی لقاء ربک ای الی الموت (روح ج 30 ص 79) ۔ ” ملاقیہ “ کی ضمیر مجرور ” کدح “ کی طرف راجع ہے۔ انسان تادم آخریں زندگی بھر سعی مسلسل اور عمل پیہم میں مصروف ہے اور آخر قیامت کے دن اپنی جد و جہد کا ثمرہ پائے گا۔ اس لیے انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اعمال صالحہ کا ذخیرہ جمع کرنے کی کوشش کرے۔ اگر نیک کام کرے گا تو اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں ملے گا اور اگر کفر و شرک کرے گا تو اعمالنامہ پس پشت سے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–15

(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 5–6

وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ۝ 5 يٰٓاَيُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْہِ۝ 6 ۚ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–15

ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔ تفسیر ¦ فقال یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓـاَیُّـھَا الْاِنْسَانُ اِنَّـکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰـقِیْہِ ۔ (الانشقاق : 6) (اے انسان ! تو کشاں کشاں اپنے رب ہی کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔ ) دنیا کے فریب خوردگان کو تنبیہ کائنات کی سب سے بڑی دو مخلوقات کی کامل اطاعت وانقیاد اور ان کے حیرت انگیز انجام کو ذکر کرنے کے بعد انسان سے فرمایا جارہا ہے کہ اے انسان ! جس طرح زمین و آسمان کو دیکھتے ہوئے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ دونوں اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آخر ایک روز شکست و ریخت کا شکار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں نئی خدمت تفویض کردے گا۔ لیکن تم نے دیکھا کہ وہ دنوں اپنے انجام سے دوچار ہوئے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔ جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : یٰٓـاَیُّھَا الْاِنْسَانُ (اے انسان) اس میں جنس انسان کو خطاب کیا گیا ہے۔ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا (تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک کوشش کر رہا ہے) کَادِحٌ کوشش کرنے والا ہے۔ اِلٰی رَبِّکَ (ؔ اپنے رب کی ملاقات تک) کَدْحًا وہ موت ہے اور موت کے بعد والی حالت کو لقاء سے مثال دی۔ فَمُلٰقِیْہِ (پھر اس سے جا ملے گا) اس میں ضمیر کدح کی طرف راجع ہے اور کدحؔ عمل کیلئے نفس کی تگ و دو اور مشقت اٹھانا یہاں تک کہ اثر نفس میں معلوم ہو اس سے مراد مشقت کا بدلہ ہے اگر اچھا ہوا تو اچھابدلہ اور اگر برا ہوا تو برا بدلہ۔ ایک قول یہ ہے : ملاقیہ ای لقاء الکدح تو مشقت کو ملنے والا ہے۔ یعنی ایسی کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔ اور کہا گیا ہے اس کا جواب ” یایھا الانسان انک کا دح الی ربک کدحا “ اور اس کا مجاز ” اذا السماء انشقت لقی کل کا دح ماعملہ “ ہے یعنی جب آسمان پھٹ جائے تو ہر کوشش کرنے والے اپنے عمل سے ملے گا اور کہا گیا ہے اس کا جواب ” واذنت “ ہے اور اس وقت وائوزائد ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے قول ” کا دح الی ربک کدحا “ کا معنی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے علم میں کوشش کی اور ” الکدح “ انسان کی سعی و کوشش کرنا خیر اور شر کے امر میں حتیٰ کہ وہ اس میں اثر کرے اور قتادہ ، کلبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں تو عمل کر اپنے رب کے لئے عمل کرنا۔ ” فملاقیہ “ یعنی اپنے علم کی جزاء کو ملنے والا ہے خیر ہو یا شر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–6

(وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۔ يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ ۝ۚ ) اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے اے انسان تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے یعنی تم اللہ کی طرف جانے میں کوشاں ہو اس کے اوامر ونواہی پر عمل کرتے ہو بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے۔ پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(5) انسان کو اپنے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور غافل انسان کو اس کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اے انسان ! تجھے بالآخر یقینا اپنے رب سے ملنا ہے " یعنی ضمیر مجرور کا مرجع رب ہے کہ اس کے حضور بہرحال تمہیں پیش ہونا ہوگا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا مرجع وہی " کدح " ہو جو کہ " کا دح " سے ماخوذ ہے ( القاسمی وغیرہ) یعنی ہر کسی کو اپنے کیے کا بدلہ بہرحال پانا ہوگا، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ سو ایسا نہیں کہ انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح یونہی مر کھپ کر ختم ہوجائے۔ پس تو اے انسان ہمیشہ ایسے کاموں کی فکر و کوشش میں رہا کر جو تیرے لیے رضائے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی دنیا میں اپنی استعداد و فطرت کے مطابق نیکی یا برائی میں جدوجہد کر رہا ہے۔15 یعنی اپنے مالک سے جا ملے گا یا اپنی جدوجہد کے نتیجہ سے دوچار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:6) یایھا الانسان۔ یا حرف ندا ہے۔ ایھا جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا یاء کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے الانسان میں منادی پر چونکہ الف لام داخل ہے اس لئے حرف نداء کے بعد الف لام بڑھا دیا گیا ہے یایھا الانسان۔ اے آدمی۔ اے انسان۔ مؤنث کی مثال ہے۔ یایتھا النفس المطمئنۃ (89:27) اے اطمینان پانے والی روح۔ الانسان منادی ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) بعض نے کہا ہے کہ الانسان سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اور اس کے معنی یہ لئے ہیں کہ اے انسان ! یعنی اے نبی کریم ﷺ آپ ابلاغ رسالت میں اور ارشاد و تعلیم میں جو کوشش بلیغ اور سرگرمی دکھا رہے ہیں آپ اس کا نیک بدلہ ضرور پائیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–7

(ف 2) قیامت کے ذکر کرکے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی بھر میں نیک وبد جو کچھ ہر شخص کرے گا جس وقت قیامت قائم ہوگی تو اس کا وہ سب عمل اس کے سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ہر شخص کو اس کے ہر طرح کے عمل کی جزا وسزا مل جائے گی ورنہ نیک و بدعمل تو ہر شخص کی قبر میں رکھتے ہی اس کے سامنے آجاتا ہے، چناچہ براء بن عازب کی حدیث کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کے پاس اس کی قبر میں ایک آدمی اچھی صورت کا اچھا لباس پہنے ہوئے آتا ہے اور مردے سے کہتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں اسی طرح بد آدمی کے مردہ کی قبر میں بدشکل برے لباس میں اس کے پاس آتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–7

[1] محشر کے لئے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی، سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے تاکہ ایک ہموار سطح پر تمام انسان بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب باقی نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–14

یعنی ساری زندگی میں انسان اس جدوجہد میں مبتلارہتا ہے کہ کسی خواہش و آرزو کے حصول میں کامیابی ہو اور کسی نہ کسی طریق سے اس کی محبتیں ٹھکانے لگیں ۔ دن رات دوڑ دھوپ کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ بھی وہ فارغ نہیں ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن اس نصب العین تک رسائی ہونے کو ہے ۔ جس کے لئے اس عمر بھر سعی کی اور تگ ودو جاری رکھی ۔ مگر شرط کامرانی یہ ہے کہ یہ عمل پیہم ، یہ شوق وصال اور یہ تگ ودو واللہ کو پسند آجائے اور وہ ازراہ تکریم و اعزاز اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیں ۔ ورنہ ہلاکت ہے ۔ اور جہنم کی آگ ہے اور یہ سارے اعمال بےکار اور اکارت ہیں ۔ حل لغات :۔ وحقت ۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اے انسان تو اپنے پروردگار کے پاس جانے کے وقت پوری کوشش کے ساتھ عمل کررہا ہے پھر تو اس عمل کی جزا سے ملنے والا ہے - کدح کے معنی کسی چیز میں نہایت مشقت کے ساتھ کوشش کرنے کے ہیں عرب کا محاورہ ہے کدح جلدہ مطلب یہ ہے کہ مر نے کے وقت تک اے انسان تو ہر کام میں خواہ وہ اچھا ہو یا برا ہو پوری کوشش اور محنت کرتا ہے اور اس عمل میں پوری طرح جدوجہد کرتا ہے اور مرنے کے وقت تک تیری پوری کوشش جاری ہے بالآخر تو اس عمل کی جزا سے ملنے والا اور ملاقات کرنے والا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انسان سے مراد سیدالمرسلین ﷺ ہوں اور ملاقیہ کی ضمیر پروردگار کی طرف راجع ہو جیسا کہ بعض نے کہا ہے لیکن صحیح اور راجح قول وہی ہے جو ہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–7

ف 1۔ جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے پس زمین اپنی موجودہ مقدار سے بہت زیادہ وسیع ہوجائے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس پر سما سکیں جیسا کہ در منثور میں بسند جید حاکم کی روایت سے مرفوعا وارد ہے، تمد الارض یوم القیامة مد الادیم الخ، پس یہ انشقاق اور یہ امتداد دونوں حساب کے مقدمات میں سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے انسان تو خوب کوشش کرنے والا ہے پس اپنے رب کی طرف کوشش کر 6 ؎ ( کا دح) کا اصل مادہ ل د ح ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر کدح مصدر و اسم مصدر فتح الفظ کدح لازم بھی ہے اور معتدی بھی ۔ اول صورت میں کوشش کرنے اور مشقت اٹھانے کے معنی ہوں گے ۔ کدح فی العمل اس نے کام کرنے میں کوشش کی مشقت اٹھائی کدح لعیالہ اس نے اپنے اہل و عیال کے لیے کوشش کی اور اگر معتدی ہو تو چھیلنے اور خراش پیدا کرنے کے معنی ہوں گے جیسے کدح وجھہ اس نے چہرے کو چھیل دیا لیکن زیر نظر آیت میں پہلے معنی مراد ہیں دوسرے نہیں ۔ دوڑنے والا ۔ محنت و مشقت کرنے والا ، کوشش کرنے والا ۔ انسان سے مراد سارے انسان ہی لیے جاسکتے ہیں اور وہ خاص انسان بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ (0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord, then you have to meet Him...84:6) The word kadh means to 'exert one's efforts fully', and 'to your Lord' means 'to meet your Lord'. In other words, every effort of man would end at his Lord. Return to Allah Mankind is addressed in this verse and shown a road that if he were to think about it carefully, and use his sense and intelligence, he could exert his efforts in the right direction that will ensure for him welfare, well-being and safety in this world,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

5 That is, "You may if you so like think that alI your efforts and endeavours in the world are confined to worldly life and motivated by worldly desires, yet the truth is that you are moving, consciously or unconsciously, towards your Lord and you have ultimately to appear before Him in any case.."

Read the full tafseer →