Explained with ayahs 1–15
زمین مردے اگل دے گی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…
Read the full tafseer →سورة الْاِنْشِقَاق 4
یہ صراحت نہیں کی گئی کہ جب یہ اور یہ واقعات ہوں گے تو کیا ہوگا، کیونکہ بعد کا یہ مضمون اس کو آپ سے آپ ظاہر کردیتا ہے کہ اسے انسان تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے، تیرا نامہ اعمال تجھے دیا جانے والا ہے، اور جیسا تیرا نامہ اعمال ہوگا اس کے مطابق تجھے جزا یا سزا ملنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
والقت مافیھا وتخلت، یعنی اگل دیگی زمین ہر اس چیز کو جو اس کے بطن میں ہے اور بالکل خالی ہو جاویگی زمین کے بط میں خزائن و دفائن اور معاون بھی ہیں اور ابتدائے دنیا سے مرنیوالے انسانوں کے اجسام و ذرات بھی زمین ایک زلزلہ کے ساتھ یہ سب چیزیں اپنے بطن سے باہر نکالدے گی۔
Read the full tafseer →’وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ‘۔ اس آیت کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اور زمین دونوں اس دن اپنے رب کے حکم کی اطاعت کریں گے اور یہ اطاعت ہی ان کے لیے زیبا ہے اور یہ بالکل رضامندانہ ہوگی۔ قرآن میں دوسری جگہ آسمان و زمین کی اس رضامندانہ اطاعت کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
’فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائۡتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیۡنَ‘ (حٰم السجدہ ۴۱: ۱۱)
(پس اس نے آسمان اور زمین دونوں کو حکم دیا کہ حاضر ہو، رضامندانہ خواہ مجبورانہ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں رضامندانہ)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: اس سے مراد وہ مردے ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں کہ ان کو قبروں سے باہر نکال دیا جائے گا۔ البتہ آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ زمین کے اندر جو اور چیزیں مثلا معدنیات وغیرہ ہیں، انہیں بھی باہر نکال دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →واذنت ................ وحقت (5:84) ” اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لئے حق یہی ہے “۔ اذن کے معنی یہاں اطاعت رب کے ہیں اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے کے ہیں۔ جس طرح یہ تعبیر آسمان کے لئے بھی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اعتراف کررہی ہوگی ، اللہ کا اس پر حق ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔ انداز بیان میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ گویا زمین ، آسمان ، ذی روح مخلوق ہیں۔ یہ اللہ کا حکم سنتے ہیں اور بالا رادہ تعمیل کرتے ہیں ، فوراً لبیک کہتے ہیں اور اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح ایک شخص اطاعت کا اقرار واعتراف کرتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ اس پر ایسا کرنا حق ہے اس لئے وہ سر تسلیم…
Read the full tafseer →3 زمین و آسمان جس کے حکم تکوینی کے تابع و منقاد ہوں، آدمی کو کیا حق ہے کہ اس کے حکم تشریعی سے سرتابی کرے۔
Read the full tafseer →آیت 5{ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ۔ } ”اور وہ بھی اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔“
جس طرح اطاعت وانقیاد کا مظاہرہ آسمان کرے گا ‘ اسی طرح زمین بھی حکم الٰہی بجا لائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4 کَدْحا کا لغوی مفہوم :۔ کَدْحاً ۔ کَدَحَ بمعنی کام میں بہت محنت کرنا۔ تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرنا۔ بمشقت کوئی کام کرتے جانا اور اس کی صورت یہ ہوتی کہ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے وہ درپے ہوجاتا ہے اور وہ کام ابھی پورا بھی نہیں ہوچکتا کہ کوئی اور خواہش یا خواہشیں انسان کے دل میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ پہلی خواہش کی تکمیل کے بعد، بعد والی خواہش کی تکمیل کے لیے کمر ہمت باندھ لیتا ہے اور اسی طرح اس کی تمام زندگی بیت جاتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواہش کرنے والا انسان ایک دنیادار ہے اور اس کی تمام تر خواہشات کا محور دنیوی مفادات کا حصول ہے۔ یا وہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3۔ (آیت) ” ما فیھا کے عموم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو بطن زمین کے اندر ہے، مردوں کے جسم، خزانے وغیرہا (آیت) ” اذنت، حقت “۔ دونوں پر حاشیے ابھی گزر چکے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ان کا تعلق آسمان سے تھا، اس آیت میں زمین سے ہے۔ مقصود دونوں جگہ یہ ہے کہ جس حاکم علی الاطلاق کی اطاعت سے آسمان و زمین تک کو مفر نہیں، انسان اس کے احکام تشریعی سے انکار کی جرأت کررہا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
والقت مافیھا وتخلت یعنی ہر اس چیز کو اگل دے گی جو اس کے بطن میں ہے اور بالکل خالی ہوجائے گی زمین کے بطن میں خزائن و دفائن و معاون بھی ہیں اور ابتداء آفرینش سے مرنے والوں کے اجسام و ذرات بھی، زمین ایک زلزلہ کے ساتھ یہ سب چیزیں اپنے بطن سے باہر نکال دے گی، کوئی چیز بھی چھپی ہوئی یا دبی ہوئی نہیں رہ جائے گی، یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ آگے کا مضمون خود بتارہا ہے کہ اے انسانچ تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، تو اس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے تیرا اعمال نامہ تجھے دیئے جانے والا ہے اور تیرے اعمال نامہ کے مطابق تیری جزاء یا سزا کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →واذنت لربھا وحقت . خزانوں اور مردوں کو اندر سے باہر پھینکنے کے حکم کو سن کر اطاعت کرے گی اور
اس کی یہ اطاعت حق ہوگی۔ اِذَا کی خبر محذوف ہے ‘ جس کے مضمون پر آئندہ آیات دلالت کر رہی ہیں یعنی جب ایسا ایسا ہوگا تو انسان اپنی کوشش کو پائے گا ‘ اس کے دائیں ہاتھ میں کتابچہ دیا جائے گا تو وہ خوش خوش لوٹے گا اور بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو ہلاکت کو پکارے گا۔
چونکہ دونوں جملوں میں سے ہر جملہ ایک قسم کی مخصوص قدرت کا حامل ہے اس لیے ہر جملہ کے ساتھ اِذَا الگ الگ لایا گیا۔
ابو القاسم ختلی نے الدیباج میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : اذا السمآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جائے گی، یا یہ کہ اپنے اماکن سے علیحدہ کر کے برابر کردی جائے گی اور وہ مردوں اور خزانوں کو باہر اگل دے گی اور بالکل خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سن لے گی اور اس پر اس کا سننا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →واذنت لربھا وحقت : تفصیل کیلئے دیکھیے اسی سورت کی آیت (2) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →واذنت لربھا وحقت۔ وہ مردوں کو باہر پھینکنے میں اپنے رب کا حکم سنے گی اور اللہ تعالیٰ کا حکم سننا اس کا حق ہے اذآ کے جواب میں اختلاف ہے، فراء نے کہا، اذنت ہے واؤ زائدہ ہے اسی طرح القت ہے، ابن انباری نے کہا، ایک مفسر نے کہا، اذا السماء نشقت، کا جواب اذنت ہے اور گمان یہ کیا کہ واؤ زائدہ ہے یہ غلط ہے کیونکہ سب واؤ کو زائدہ ذکر نہیں کرتے مگر جب وہ حتی، اذا کے ساتھ استعمال ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، حتی اذآ جاء وھا فتحت ابوابھا۔ زمر 71) وہ جب اس کے پاس آئیں گے تو کھول دیے جائیں گے اس کے دروازے تیزی کے ساتھ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فلما اسلما وتلہ للجبیبن۔ جب دونوں نے سراطاعت خم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
12۔ عبد بن حمید نے مجاہد رحمہا للہ سے اسی طرح روایت کیا۔
13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقت ما فیہا یعنی سونے کے کنگن (باہر ڈال دے گی) ۔
14۔ الفریابی وعبد بن حمید والحاکم وصححہ والبیہقی نے الدلائل میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ بیت اللہ زمین سے دو ہزار سال پہلے موجود تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واذا الارض مدت۔ یعنی زمین بیت اللہ کے نیچے سے پھیلائی گئی مکمل طور پر۔
15۔ الحاکم نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق انسان، جن، چوپائے اور جنگلی جانور سب کو اٹھائیں گے۔ جب وہی دن ہوگا تو…
Read the full tafseer →[وَاَذِنَتْ لِرَبِهَا : اور وہ کان دھرے گی اپنے رب (کے حکم) کے لیے ][ وَحُقَّتْ : اس حال میں کہ وہ اس لائق کی گئی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة الانشقاق کی پندرہ آیات کا ترجمہ ہے۔ ان آیات میں اولاً آسمان و زمین کا حال بیان فرمایا ہے پھر انسان کے اعمال والی محنت اور حاصل محنت یعنی آخرت کے دن کی کامیابی اور ناکامیابی کو بتایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم کو سن لے گا اور مان لے گا اور حکم ماننا اس کے لیے ضروری ہی ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے نافرمانی اور سرتابی کی مجال نہیں ہے اور جبکہ زمین کو پھیلا دیا جائے گا یعنی اس وقت جو اس کا انبساط اور پھیلاؤ ہے اس سے زیادہ پھیلا دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو نکال کر باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی، جو اموات اس میں دفن ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3:۔ ” واذا الارض “ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ قیامت کے دن زمین کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا تاکہ اولین و آخرین اس میں سما سکیں۔ ” والقت ما فیہا “ زمین اپنے اندر مدفون مردوں کو باہر پھینک دے گی۔ اور اپنے پیٹ کی ہر چیز کو باہر نکال کر خالی ہوجائے گی۔ یہ بھی امر الٰہی ہوگا اور کیا مجال زمین کی کہ وہ امر الٰہی سے سرتابی کرے۔ ” اذا “ کا جواب محذوف ہے جس پر مابعد قرینہ ہے ای یلاقی الانسان ما کدح الخ “ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(آسمان پھٹ جائے گا)
ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ 5 يٰٓاَيُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْہِ 6 ۚ
إنس
الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اذا قیل شرطیہ فیقدر بعد ھا فعل والتقدیر اذا انشقت السماء انشقت فالسماء فاعل بفعل محذوف وقیل لیست بشرطیۃ بلھی منصوبۃ باذکرالمحذوف وھی مبتداء وخبرھا اذا لثانیۃ والو او مزیدۃ والتقدیر وقت انشقاق السماء وقت مد الارض واذنت معطوف علی انشقت ومعنی اذنت اطاعت فی الانشقاق ولم تاب ولم تمنع بمشتق من الاذن وھو الاستماع للشیء والاصغا رالیہ واستعمال الاذن فی الاستماع کثیر فی کلام العرب وحقت الجملۃ حال من فاعل اذنت قال الضحاک ومعنی حقت حق لھا ان تطیع ربھا ای لاتمنع ما ارادہ اللہ بھا واذ الارض مثل اذا السماء الخ ومعنی مدت بسطت وصارت قاعا وقیل زید فی سع تھا من المدد وھو الزیادۃ والقت ما فیھا من الکنوز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اِذَا السَّمَـآئُ انْشَقَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَاَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ (الانشقاق : 1 تا 5)
(جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا، اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے، اور فارغ ہوجائے گی۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی، اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے۔ )
وقوعِ قیامت سے بپا ہونے والی ہلچل
قیامت نام ہی ایک ہمہ گیر انقلاب کا ہے جس میں پہلا جہان مٹ جائے گا اور جہانِ نو وجود میں آئے گا۔ پہلے قوانین کو ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن
ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔
جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب…
Read the full tafseer →5 : وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ (اور اپنے رب کا حکم سن لے گی اور وہ اسی لائق ہے) اذنت ؔ اپنے اندر کی ہر چیز نکالنے اور خالی ہونے کا حکم۔ حقتؔ اس کو حق بنتا ہے کہ وہ اطاعت کرے اور سرتابی نہ کرے۔ اذا کا جواب حذف کردیا گیا تاکہ اندازہ کرنے والا اندازے کے ہر راستہ پر جائے۔ نمبر 2۔ ان اجو بہ پر اکتفاء کیا جو ایسے مواقع پر سورة تکویر وانفطار میں مذکورہ ہے۔ نمبر 3۔ اس کے جواب پر ملاقیہ دلالت کرتا ہے ای اذا السماء انشقت لاقی الانسان کدحہ۔
Read the full tafseer →5 ۔” واذنت لربھا وحقت “ اور اذا کے جواب میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے اس کا جواب محذوف ہے اس کی تقدیر جب یہ اشیاء ہوں گی تو انسان ثواب و عقاب دیکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۔ يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ ۚ ) اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے اے انسان تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے یعنی تم اللہ کی طرف جانے میں کوشاں ہو اس کے اوامر ونواہی پر عمل کرتے ہو بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے۔ پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔
Read the full tafseer →(4) زمین کی شان اطاعت و فرمانبرداری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور یہ زمین اپنے رب کا حکم بجا لائے گی "۔ اور یہی اس کے لائق بھی ہے کہ یہ اپنے خالق ومالک جل جلالہ کا حکم پوری طرح بجا لائے سبحانہ وتعالی۔ جس خالق ومالک کے حکم کے آگے زمین و آسمان کے یہ عظیم الشان بھی اس طرح عاجز اور سرافگندہ ہیں، اور اس کے حکم و ارشاد کے اس طرح پابند ہیں، اس کا حکم اگر یہ انسان ضعیف نہ مانے اور اس کے مقابلے میں یہ انکار و استکبار سے کام لے، اور تمردو سرکشی کا مظاہرہ کرے تو اس سے بڑھ کر ظالم، بےانصاف اور محروم القسمت کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ " اذا " کا جواب یہاں پر محذوف ہے، جس سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے
تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔
احکام کی قسمیں۔
احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 13” جب یہ باتیں ہوجائیں تو سمجھ لو کہ قیامت آگئی۔ “ …” اذا “ کا یہ جواب محذوف ہے۔
Read the full tafseer →(84:5) واذنت لربھا وحقت اور اپنے رب کا حکم کان لگا کر سنے گی اور اس کو بجا لائے گئ۔ نیز ملاحظہ ہو 84:2) متذکرۃ الصدر۔
فائدہ : جن علماء کے نزدیک اذا (84:1-3) شرطیہ ہے (اور اس کا جواب شرط محذوف سمجھا گیا ہے مندرجہ ذیل جواب محذوف نقل ہوا :
(1) جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے اذا ۔۔ بعثتم جب ۔۔ تو تم قبروں سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے
(2) جواب شرط آیت 84:6 ہے ای یایھا الانسان ۔۔ الخ۔
(3) جو اسب شرط قول ربانی : فاما من ۔۔ الخ ہے یہ قول المبرد اور الکسائی کا ہے۔
(4) جواب شرط فلملاقیۃ ہے۔ یہ قول اخفش کا ہے۔ (تفسیر حقانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔
تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔
تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →(ف 1) زمین وآسمان جس کے حکم تکوینی کے تابع ومنقاد ہوں آدمی کو کیا حق ہے کہ اس کے حکم تشریعی سے سرتابی کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[1] محشر کے لئے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی، سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے تاکہ ایک ہموار سطح پر تمام انسان بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة انشقاق
1: یہ سورة مکی ہے اور اس میں مسائل معاد سے زیادہ تر بحث کی گئی ہے ۔ جیسا کہ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے ۔ فرمایا کہ جب قیامت آجائے گی اور اللہ کا حکم ہوگا کہ یہ قبہ زرنگار توڑ دیا جائے ۔ تاکہ فرشتے اس میں آجاسکیں اور یہ بساط ارضی کھینچ کو بڑھا دی جائے تو اس میں ان کو قطعاً تخلف نہیں ہوگا ۔ دونوں انتہائی عاجزی سے اللہ کے حکموں کی اطاعت کریں گے ۔
Read the full tafseer →(5) اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے اور وہ اسی لائق ہے (تو اس وقت آدمی سزاوجزا کو دیکھے گا) ۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو کھینچ کر بڑھا دیا جائے اور زمین میں جو کچھ ہے وہ زمین اس کو باہر نکال دے یعنی مردے اور دفینے اور مختلف دھاتیں جو کانوں میں ہیں سب باہر نکال پھینکے اور زمین بالکل ایک صاف چٹیل میدان ہوجائے نہ کوئی پہاڑ نہ درخت اور نہ دریا کوئی آڑ باقی نہ رہے۔
غرض مخلوق کے کھڑے ہونے اور حساب وکتاب دینے کے لئے زمین کو بالکل ہموار کے پھیلا دیا جائے گا۔ اور زمین بھی اس حکم تکوینی کی تعمیل کے لئے کان لگائے ہوئے ہے جو حکم سنتے ہی حکم کو بجا لائے گا اور زمین کو یہی لائق وزیبا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 1۔ جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے پس زمین اپنی موجودہ مقدار سے بہت زیادہ وسیع ہوجائے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس پر سما سکیں جیسا کہ در منثور میں بسند جید حاکم کی روایت سے مرفوعا وارد ہے، تمد الارض یوم القیامة مد الادیم الخ، پس یہ انشقاق اور یہ امتداد دونوں حساب کے مقدمات میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ اپنے رب کے لیے کان لگائے گی اور حکم کی فرمانبرداری کے لیے تیار ہو گی
5 ؎ اس آیت کی تفسیر وہی ہے جو اوپر آیت 2 میں گزر چکی کیونکہ یہ آیت بالکل وہی آیت ہے جو اوپر آیت نمبر 2 میں گزر چکی ہے اور اس میں فرق ہے تو فقط یہ ہے کہ آیت 2 میں آسمانوں کا رب کریم کی بات کا سنتا اور فرمانبرداروں کا جوا اپنی گردن میں ڈالنا تھا اور زیر نظر آیت میں زمین کے کان لگا کر بات سننے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبردار ہونے کا بیان ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا کی ہرچیز ہی رب ذوالجلال والاکرام کی فرمانبردار ہے اور وہی سب کا خالق ومالک ہے ، اس کے سامنے کسی کی مجال ہے کہ وہ حکم عدولی کرے اور پھر ان سب کا فرمانبردار ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (and it will throw up whatever it contains, and will become empty...84:4) The earth will, with one convulsion, throw up whatever it contains in its belly, whether natural treasures or buried treasures, or mines, or dead human bodies and their remains and particles.
Read the full tafseer →4 Here, it has not been expressly told what will happen when such and such an event takes place, for the subsequent theme by itself explains this, as if to say: "O man, you are moving towards your Lord and are about to meet Him; you will be given your conduct book; and rewarded or punished according to your deeds."
Read the full tafseer →