Explained with ayahs 1–15
زمین مردے اگل دے گی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…
Read the full tafseer →سورة الْاِنْشِقَاق 3
مطلب یہ ہے کہ جتنے مرے ہوئے انسان اس کے اندر پڑے ہوں گے سب کو نکال کر وہ باہر ڈال دے گی، اور اسی طرح ان کے اعمال کی جو شہادتیں اس کے اندر موجود ہوں گی وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آجائیں گی، کوئی چیز بھی اس میں چھپی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
والقت مافیھا وتخلت، یعنی اگل دیگی زمین ہر اس چیز کو جو اس کے بطن میں ہے اور بالکل خالی ہو جاویگی زمین کے بط میں خزائن و دفائن اور معاون بھی ہیں اور ابتدائے دنیا سے مرنیوالے انسانوں کے اجسام و ذرات بھی زمین ایک زلزلہ کے ساتھ یہ سب چیزیں اپنے بطن سے باہر نکالدے گی۔
Read the full tafseer →’وَاَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَتَخَلَّتْ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ زمین ان چیزوں کے بوجھ سے اسی طرح بوجھل ہے جس طرح ایک حاملہ اپنے حمل سے بوجھل ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اس بوجھ سے فارغ ہونے میں وہی راحت و فراغت محسوس کرے گی جو ایک حاملہ حمل کے بعد محسوس کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 1 یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: اس سے مراد وہ مردے ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں کہ ان کو قبروں سے باہر نکال دیا جائے گا۔ البتہ آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ زمین کے اندر جو اور چیزیں مثلا معدنیات وغیرہ ہیں، انہیں بھی باہر نکال دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →والقت ............................ وتخلت (4:84) ” جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی “۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ یہ زمنی گویا ایک زندہ اور صاحب ارادہ چیز ہے ، اور یہ وہ اپنے اندر کی چیزوں کو باہر پھینک کر خالی ہورہی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ مخلوقات جن کا گننا مشکل ہے ، جو صدیوں سے اس کے اندر دفن ہورہی ہیں اور نہ اس کے زمانے کا علم ہے اور نہ لوگوں کی تعداد کا۔ زمین کے پیٹ کے اندر جو معدنیات ، پانی اور دوسری چیزیں ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہوے ، سب باہر آجائیں گی۔ صدیوں سے یہ زمین ان چیزوں کو اٹھائے ہوئے ہے۔ جب قیامت برپا ہوگی تو یہ سب چیزوں اور سب رازوں…
Read the full tafseer →2 زمین اس دن اپنے خزانے اور مردوں کے اجزاء اگال ڈالے گی اور ان تمام چیزوں سے خالی ہوجائے گی جن کا تعلق اعمال عباد کے مجازات سے ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4{ وَاَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ۔ } ”اور وہ نکال باہر کرے گی جو کچھ اس کے اندر تھا اور خالی ہوجائے گی۔“
سورة الزلزال میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے : { وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا۔ } ”اور جب زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی“۔ قیامت کے دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کے اجسام اور ان کے تمام اجزاء کو نکال کر باہرکرے گی۔ اس کے علاوہ بھی زمین میں جو کچھ معدنیات اور خزانے مخفی ہیں وہ قیامت کے دن نکال کر باہر پھینک دے گی۔
Read the full tafseer →3 جتنے مردے اس میں مدفون ہیں یا مردوں کے ذرات اس میں مل جل گئے ہیں وہ سب نکال کر باہر کردے گی اور سطح زمین پر لے آئے گی۔ اسی طرح اس میں جو معدنیات، تیل کے چشمے اور جلنے والی گیسوں کے خزانے موجود ہیں سب باہر اگل دے گی۔ اسی طرح لوگوں کے اعمال کی جو شہادتیں اس کے اندر موجود ہوں گی جنہیں موقعہ کی شہادت یا قرائن شہادت کہتے ہیں۔ وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آجائیں گی اور کوئی چیز اس میں چھپی ہوئی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3۔ (آیت) ” ما فیھا کے عموم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو بطن زمین کے اندر ہے، مردوں کے جسم، خزانے وغیرہا (آیت) ” اذنت، حقت “۔ دونوں پر حاشیے ابھی گزر چکے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ان کا تعلق آسمان سے تھا، اس آیت میں زمین سے ہے۔ مقصود دونوں جگہ یہ ہے کہ جس حاکم علی الاطلاق کی اطاعت سے آسمان و زمین تک کو مفر نہیں، انسان اس کے احکام تشریعی سے انکار کی جرأت کررہا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
والقت مافیھا وتخلت یعنی ہر اس چیز کو اگل دے گی جو اس کے بطن میں ہے اور بالکل خالی ہوجائے گی زمین کے بطن میں خزائن و دفائن و معاون بھی ہیں اور ابتداء آفرینش سے مرنے والوں کے اجسام و ذرات بھی، زمین ایک زلزلہ کے ساتھ یہ سب چیزیں اپنے بطن سے باہر نکال دے گی، کوئی چیز بھی چھپی ہوئی یا دبی ہوئی نہیں رہ جائے گی، یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس لئے کہ آگے کا مضمون خود بتارہا ہے کہ اے انسانچ تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، تو اس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے تیرا اعمال نامہ تجھے دیئے جانے والا ہے اور تیرے اعمال نامہ کے مطابق تیری جزاء یا سزا کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →والقت مافیھا و تخلت . اور زمین اپنے اندر کے تمام مردے اور خزانے باہر پھینک دے گی اور کوشش
کے ساتھ (اندر سے) خالی ہوجائے گی ‘ اس کے اندر کوئی چیز نہیں رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جائے گی، یا یہ کہ اپنے اماکن سے علیحدہ کر کے برابر کردی جائے گی اور وہ مردوں اور خزانوں کو باہر اگل دے گی اور بالکل خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سن لے گی اور اس پر اس کا سننا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →(والقت مافیھا وتخلت : یعنی تمام فوت شدہ لوگوں کو حشر کے لئے باہر پھینک دے گی اور وہ خزانے اور بنی آدم کے اعمال کی شہادتیں جو اس کے بطن میں ہیں سب نکال باہر پھینکے گی۔ ”تخلت“ ”خلا یخلو“ (ن) (خالی ہونا) سے باب تفعل ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، یعنی بالکل خلای ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →والقت مافیھا وتخلت۔ وہ اپنے مردوں کو نکال دے گی اور ان سے خالی ہوجائے گی ابن جبیر نے کہا، اس کے بطن میں جو مردے ہوں گے انہیں باہر پھینک دے گی اور اس کے اوپر جو زندہ ہوں گے ان سے خالی ہوجائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے بطن میں جو خزانہ اور معدنیات ہوں گی ان کو باہر پھینک دے گی اور ان سے خالی ہوجائے گی یعنی ان کا پیٹ خالی ہوجائے گا اس کے پیٹ میں کوئی چیز نہ ہوگی، یہ امر کے عظیم ہونے کی خبر دے رہی ہے جس طرح مصیبت کے وقت حاملہ حمل کو گرادیتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے اوپر جو پہاڑ اور سمندر ہیں ان سے خالی ہوجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس میں جو چیز ودیعت رکھی گئی تھی اس کو پھینک دے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
12۔ عبد بن حمید نے مجاہد رحمہا للہ سے اسی طرح روایت کیا۔
13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقت ما فیہا یعنی سونے کے کنگن (باہر ڈال دے گی) ۔
14۔ الفریابی وعبد بن حمید والحاکم وصححہ والبیہقی نے الدلائل میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ بیت اللہ زمین سے دو ہزار سال پہلے موجود تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واذا الارض مدت۔ یعنی زمین بیت اللہ کے نیچے سے پھیلائی گئی مکمل طور پر۔
15۔ الحاکم نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق انسان، جن، چوپائے اور جنگلی جانور سب کو اٹھائیں گے۔ جب وہی دن ہوگا تو…
Read the full tafseer →[وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا : اور وہ ڈال دے گی وہ جو اس میں ہے ][ وَتَخَلَّت؛اور خود خالی ہوجائے گی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة الانشقاق کی پندرہ آیات کا ترجمہ ہے۔ ان آیات میں اولاً آسمان و زمین کا حال بیان فرمایا ہے پھر انسان کے اعمال والی محنت اور حاصل محنت یعنی آخرت کے دن کی کامیابی اور ناکامیابی کو بتایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم کو سن لے گا اور مان لے گا اور حکم ماننا اس کے لیے ضروری ہی ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے نافرمانی اور سرتابی کی مجال نہیں ہے اور جبکہ زمین کو پھیلا دیا جائے گا یعنی اس وقت جو اس کا انبساط اور پھیلاؤ ہے اس سے زیادہ پھیلا دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو نکال کر باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی، جو اموات اس میں دفن ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3:۔ ” واذا الارض “ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ قیامت کے دن زمین کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا تاکہ اولین و آخرین اس میں سما سکیں۔ ” والقت ما فیہا “ زمین اپنے اندر مدفون مردوں کو باہر پھینک دے گی۔ اور اپنے پیٹ کی ہر چیز کو باہر نکال کر خالی ہوجائے گی۔ یہ بھی امر الٰہی ہوگا اور کیا مجال زمین کی کہ وہ امر الٰہی سے سرتابی کرے۔ ” اذا “ کا جواب محذوف ہے جس پر مابعد قرینہ ہے ای یلاقی الانسان ما کدح الخ “ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(آسمان پھٹ جائے گا)
ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…
Read the full tafseer →وَاَلْقَتْ مَا فِيْہَا وَتَخَلَّتْ 4 ۙ
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اذا قیل شرطیہ فیقدر بعد ھا فعل والتقدیر اذا انشقت السماء انشقت فالسماء فاعل بفعل محذوف وقیل لیست بشرطیۃ بلھی منصوبۃ باذکرالمحذوف وھی مبتداء وخبرھا اذا لثانیۃ والو او مزیدۃ والتقدیر وقت انشقاق السماء وقت مد الارض واذنت معطوف علی انشقت ومعنی اذنت اطاعت فی الانشقاق ولم تاب ولم تمنع بمشتق من الاذن وھو الاستماع للشیء والاصغا رالیہ واستعمال الاذن فی الاستماع کثیر فی کلام العرب وحقت الجملۃ حال من فاعل اذنت قال الضحاک ومعنی حقت حق لھا ان تطیع ربھا ای لاتمنع ما ارادہ اللہ بھا واذ الارض مثل اذا السماء الخ ومعنی مدت بسطت وصارت قاعا وقیل زید فی سع تھا من المدد وھو الزیادۃ والقت ما فیھا من الکنوز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اِذَا السَّمَـآئُ انْشَقَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَاَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ (الانشقاق : 1 تا 5)
(جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا، اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے، اور فارغ ہوجائے گی۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی، اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے۔ )
وقوعِ قیامت سے بپا ہونے والی ہلچل
قیامت نام ہی ایک ہمہ گیر انقلاب کا ہے جس میں پہلا جہان مٹ جائے گا اور جہانِ نو وجود میں آئے گا۔ پہلے قوانین کو ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن
ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔
جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب…
Read the full tafseer →4 : وَاَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَتَخَلَّتْ (اور اپنے اندر کی چیزوں کو باہر اگل دیگی اور خالی ہوجائے گی) القتؔ یعنی اپنے اندر کے تمام خزانے اور مردوں کو باہر پھینک دے گی۔ تخلت اور بالکل خالی ہوجائے گی یہاں تک کہ اس کے باطن میں کوئی چیز نہ رہے گی گویا کہ اس نے خالی ہونے میں بڑے تکلف سے کام لیا ہے عرب کہتے ہیں مکرم الکریم جب کہ وہ سخاوت میں اپنی پوری ہمت صرف کر دے اور اپنی طبیعت سے بڑھ کر تکلف کرے۔
Read the full tafseer →4 ۔” والقت “ نکال دیا ” مافیھا “ مردوں اور خزانوں میں سے۔ ” وتخلت “ اس سے خالی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…
Read the full tafseer →(وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا) اور جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر ڈال دے گی۔ یعنی تمام مردوں اور مدفون خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی (وَتَخَلَّتْ ) ور ان سے خالی ہوجائے گی۔ کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے زمین اپنے خزانوں کو نکال کر باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کی مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی ور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →(3) زمین کے اپنے اندر سے سب کچھ باہر نکال پھینکنے کا ذکرو بیان : ارشاد فرمایا گیا کہ " اور یہ نکال پھینکے گی وہ سب کچھ جو کہ اس کے اندر ہے اور پوری طرح فارغ ہوجائے گی "۔ یعنی اس روز یہ زمین ان تمام خزائن و دفائن اور مردوں وغیرہ کو جو کہ اس کے اندر ہیں ان سب کو نکال کر باہر پھینکے گی اور بالکل خالی ہوجائے گی ( فتح القدیر، محاسن التاویل وغیرہ) اگرچہ " مافیھا " کا اصل اور بڑا مقصد مردے ہی ہیں، لیکن یہ اپنے عموم کے اعتبار سے ان سب ہی چیزوں کو شامل ہے جو اس کے اندر موجود ہیں، سو یہ اپنے اندر کے ان تمام بوجھوں کو اس طرح باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی جس طرح کہ ایک حاملہ بچہ جننے کے بعد اپنے حمل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے
تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔
احکام کی قسمیں۔
احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 13” جب یہ باتیں ہوجائیں تو سمجھ لو کہ قیامت آگئی۔ “ …” اذا “ کا یہ جواب محذوف ہے۔
Read the full tafseer →(83:4) والقت ما فیہا۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے جس کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ القت ماضی واحد مؤنث غائب القاء (افعال) مصدر سے جس کے معنی ڈالنا۔ نکال ڈالنا۔ دونوں کے ہیں۔
ما موصولہ فیہا۔ اس کا صلہ موصول اور صلہ مل کر مفعول انشقت کا۔ اور وہ (زمین) نکال پھینکے گی جو کچھ اس میں ہے (از قسم مردہ انسان ، حیوان، جن ، دفینے، خزانے وغیرہ۔ جیسا کہ اور جگہ ہے واخرجت الارض اثقالہا (99:2) جب زمین اپنے بوجھ۔ یعنی دفینے وغیرہ نکال پھینکے گی۔
وتخلت : اس کا عطف والقت پر ہے۔ تخلت ماضی واحد مؤنث غائب تخلی (تفعل) مصدر سے بمعنی خالی ہونا۔ تفعل کے وزن پر فعل میں تکلف کی خاصیت پائی جاتی ہے لہٰذا ترجم ہوگا :۔ اور (زمین) بہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔
تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔
تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →(ف 3) یعنی زمین میں اس دن اپنے خزانے اور مردوں کے اجزا اگل ڈالے گی اور ان تمام چیزوں سے خالی ہوجائے گی جن کا تعلق اعمال عباد کے حالات سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[1] محشر کے لئے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی، سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے تاکہ ایک ہموار سطح پر تمام انسان بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة انشقاق
1: یہ سورة مکی ہے اور اس میں مسائل معاد سے زیادہ تر بحث کی گئی ہے ۔ جیسا کہ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے ۔ فرمایا کہ جب قیامت آجائے گی اور اللہ کا حکم ہوگا کہ یہ قبہ زرنگار توڑ دیا جائے ۔ تاکہ فرشتے اس میں آجاسکیں اور یہ بساط ارضی کھینچ کو بڑھا دی جائے تو اس میں ان کو قطعاً تخلف نہیں ہوگا ۔ دونوں انتہائی عاجزی سے اللہ کے حکموں کی اطاعت کریں گے ۔
Read the full tafseer →(4) اور جو کچھ اس میں ہے اسے وہ زمین نکال پھینکے اور خالی ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 1۔ جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے پس زمین اپنی موجودہ مقدار سے بہت زیادہ وسیع ہوجائے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس پر سما سکیں جیسا کہ در منثور میں بسند جید حاکم کی روایت سے مرفوعا وارد ہے، تمد الارض یوم القیامة مد الادیم الخ، پس یہ انشقاق اور یہ امتداد دونوں حساب کے مقدمات میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو نکال پھینکے گی اور خالی ہوجائے گی
4 ؎ ( القت) کا مادہ ل قہے۔ اس نے نکال ڈالا ۔ القاء سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ تخلت مادہ اس کا خ ل و ہے ۔ وہ خالی ہوجا ئیگی ۔ زمین کے پیٹ میں کیا کیا کچھ مدفون ہے ، پہاڑوں کے نیچے ابھی کیا کیا کچھ پڑا ہے اور سمندروں کی تہہ میں ابھی کیا کچھ محفوظ کردیا گیا ہے اور ان سارے بوجھوں سے زمین فی الحال گویا حاملہ ہے اور حاملہ کا حمل اس روز وضع ہونا ضروری ہے اس لیے زمین بھی اپنے ان بوجھوں سے فارغ ہونا چاہے گی اور وہ یقینا خالی پیٹ ہوگی تب ہی جا کر اس کائنات کا خاتمہ ہوگا ۔ اس وقت زمین اپنے بوجھ نکالنے لگی ہوتی ہے اور کتنی معدنیات ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (and it will throw up whatever it contains, and will become empty...84:4) The earth will, with one convulsion, throw up whatever it contains in its belly, whether natural treasures or buried treasures, or mines, or dead human bodies and their remains and particles.
Read the full tafseer →3 That is, it will throw out aII dead bodies of men and also the traces and evidences of their deeds lying within it. so that nothing remains hidden and buried in it.
Read the full tafseer →