وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۟ؕوَاِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡؕ
اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the earth has been extended
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۟ؕوَاِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡؕ
اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the earth has been extended
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq
اور جب زمین پھیلا دی جائے گی
اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی
اور جب زمین (کھینچ کر) پھیلا دی جائے گی
اور جب زمین کو کھینچ دیا جائے گا۔
اور جب زمین دراز کی جائے
اور جب زمین (ریزہ ریزہ کر کے) پھیلا دی جائے گی،
اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔
اور جب زمین پھیلا دی جائے گی
اور جب کہ زمین تان دی جائے گی
اور جب پھیلا دیا جائے گا زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو
اور جب زمین کھینچ (کر بڑھا) دی جائے۔
اور جب زمین کو پھیلا دیا جائے گا۔
اور جب زمین ہموار کردی جائے گی
and when the earth is stretched out
and when the earth will be stretched (to give room to more people) ,
and when the earth will be stretched (to give room to more people) ,
And when the earth is stretched forth,
And when the earth is spread out
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the earth has been extended
when the earth is stretched out
And when the earth is stretched,
And when the earth shall be stretched forth.
And when the earth is flattened out,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…
Read the full tafseer →سورة الْاِنْشِقَاق 2 زمین کے پھیلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں گے، اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدان بنادیا جائے گا۔ سورة طہ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ " اسے ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پاؤ گے "۔ (آیات 106۔ 107)۔ حاکم نے مستدرک میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ " قیامت کے روز زمین ایک دستر خوان کی طرح پھیلا دی جائے گی،۔ پھر انسانوں کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی "۔ اس بات کو سمجھنے کے…
Read the full tafseer →واذا الارض مدت، مد کے معنے کھینچنے اور دراز کرنے کے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز زمین کو اس طرح کھینچ کر پھیلایا جائے گا جیسے چمڑے (یا ربڑ) کے کھینچ کر بڑا کردیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود میدان حشر جو اس زمین پر ہوگا اس میں ابتداء دنیا سے قیامت تک کہ تمام انسان جمع ہوں گے تو صورت یہ ہوگی کہ ایک آدمی کے حصہ میں صرف اتنی زمین ہوگی جس پر اس کے پاؤں ہیں (رواہ الحاکم بسند جید، مظہری)
Read the full tafseer →قیامت کے دن زمین کا حال: آسمان کے بعد یہ زمین پر جو کچھ گزرے گی اس کا حال بیان ہو رہا ہے کہ زمین تان دی جائے گی۔ یعنی آج تو زمین میں بہت سی شکنیں اور سلوٹیں ہیں، نشیب و فراز ہیں، وادیاں اور کہسار ہیں، دریا اور پہاڑ ہیں۔ اس کی اونچ نیچ اور اس کی تہوں میں بے شمار چیزیں چھپی ہوئی ہیں جو نظر نہیں آ رہی ہیں لیکن اس دن یہ ایک چادر کی طرح تان دی جائے گی اور جو کچھ اس کی سلوٹوں میں ہے وہ اس کو باہر نکال کر فارغ ہو جائے گی۔ یہ اشارہ اگرچہ خاص طور پر مُردوں کے اٹھائے جانے کی طرف ہے لیکن اسلوب بیان عام ہے۔ وہ ساری چیزیں اس میں داخل ہیں جو زمین میں دفن ہیں۔ یعنی ان سرمایہ داروں کے خزانے بھی جو اس سورہ…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کردی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
Read the full tafseer →2: روایات سے اس کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ قیامت میں زمین کو ربڑ کی طرح کھینچ کر موجودہ سائز سے بڑا کردیا جائے گا، تاکہ اس میں تمام اگلے پچھلے لوگ سما سکیں۔
Read the full tafseer →واذا الارض مدت (3:84) ” اور جب زمین پھیلا دی جائے گی “۔ یہ بھی ایک جدید منظر اور مفہوم ہے۔ زمین کے پھیلنے اور اس کی لمبائی کا مفہوم کیا ہے ؟ یعنی وہ قوانین قدرت معطل ہوجائیں گے جو اس زمین کو کنٹرول کرتے ہیں اور جو اسے اس کی موجودہ شکل میں قائم رکھتے ہیں۔ یعنی موجودہ گول یا بیضوی شکل میں قائم رکھتے ہیں۔ انداز کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر یہ تبدیلی باہر کے عوامل سے پیدا ہوگی کیونکہ اس کے لئے صیغہ مجہول استعمال ہوا ہے یعنی لفظ مدت۔
Read the full tafseer →1 محشر کے دن یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی اور عمارتیں پہاڑ وغیرہ سب برابر کردیے جائیں گے تاکہ ایک سطح مستوی پر سب اولین و آخرین بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب و حائل باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2{ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ۔ } ”اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔“ اَذِنَتْ لِرَبِّہَاکا لفظی ترجمہ یوں ہوگا کہ وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے ہوئے ہے اور جو بات کان لگا کر سنی جائے اس کے مطابق عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اَذِنَتْ کا معنی اِسْتَمَعَتْ وَاِنْقَادَتْ کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے غور سے سنا اور تعمیل کی۔ حُقَّتْ یہاں مجہول ہے حَقَّ یَحِقُّ سے۔ یعنی وہ اسی لائق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ بےچون و چرا اپنے خالق کے حکم پر سرتسلیم خم کرے۔
Read the full tafseer →2 زمین کو کھینچ کر لمبا کرنے کا مفہوم :۔ مُدَّتْ ۔ مَدَّ بمعنی کسی چیز کو لمبائی میں کھینچ کر پھیلانا اور اسے لمبا کردینا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سایوں کو یا بادلوں کو لمبا کرتا اور پھیلا دیتا ہے واضح رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ زمین کو کھینچ کر چپٹی بنادے گا۔ زمین کو اللہ نے پہلے ہی پھیلا دیا اور لمبا کردیا ہے۔ اس دن صرف یہ ہوگا کہ سارے سمندر خشک کرکے زمین میں شامل کردیے جائیں گے جس سے زمین کا رقبہ چار گنا ہوجائے گا پھر پہاڑوں کو زمین بوس کردیا جائے گا اس کی اونچی اور نیچی سب جگہیں برابر کردی جائیں گی۔ اس طرح اسی زمین کا رقبہ اتنا زیادہ ہوجائے گا کہ اسی زمین پر سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2۔ (جیسے آج بھی ربڑ کھنچ کر بڑھا دی جاتی ہے) (آیت) ” وحقت “۔ یعنی آسمان، محکوم ومسخر قدرت ہونے کے باعث ہے ہی ایسا کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو، اس کا وقوع ضرور ہو کر رہے۔ جاہلی فلاسفہ یونان ومصر وغیرہ نے آسمان کو مستقل صاحب ارادہ و تصرف ہستی، اور خدا تعالیٰ کی محکومیت سے آزاد وخود مختار سمجھا ہے۔ آیت ان خرافات کی بھی تردید کررہی ہے۔
Read the full tafseer →واذا الارض مدت، زمین کو پھیلا دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیئے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیئے جائیں گے اور زمین کی ساری اونچ نیچ ختم کر کے ہموار میدان بنادیا جائے گا، سورة طہ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پائو گے۔
Read the full tafseer →واذا الارض مدت . جب زمین پھلائی جائے گی ‘ یعنی اس کی وسعت بڑھا دی جائے گی۔ مقاتل نے کہا : زمین کو ایسا ہموار کردیا جائے گا جیسا چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے ‘ نہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا ‘ نہ کوئی عمارت۔ حاکم ؓ نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو زمین کو اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑا پھیلایا جاتا ہے اور مخلوق کو اٹھایا جائے گا۔ حاکم ؓ نے عمدہ سند سے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن زمین کو اس طرح پھیلایا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے۔ پھر آدمی کو زمین میں صرف قدم رکھنے کی جگہ ملے گی۔ پھر سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا ‘ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جائے گی، یا یہ کہ اپنے اماکن سے علیحدہ کر کے برابر کردی جائے گی اور وہ مردوں اور خزانوں کو باہر اگل دے گی اور بالکل خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سن لے گی اور اس پر اس کا سننا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →واذا الارض مدت :”مدت“”مدیمد“ (ن) کھینچنا، پھیلانا، یعنی جس طرح چمڑے کو کھینچا جائے تو اس کی اونچ نیچ اور تمام شکنیں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ طول و عرض میں پھیل جاتا ہے، اسی طرح زمین سے پہاڑ، سمندر اور ہر قسم کی بلندی و پستی ختم ہوجائے گی، جس سے وہ ہموار ہو کر پھیل جائے گی اور اس میں آدمیوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش بہت زیادہ ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →واذالارض مدت۔ زمین کو بچھا دیا جائے گا اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، نبی کریم نے فرمایا، تمد مد الادیم، اسے چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا کیونکہ جب چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے جو اس میں سلوٹ ہوتی وہ زائل ہوجاتی ہے وہ لمبا ہوجاتا ہے اور ہموار ہوجاتا ہے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے کہا، اس کی وسعت کو اتنا اتنا وسیع کردیا جائے گا کیونہ مخلوقات کے حساب کے لیے اس پر وقوف کرنا ہوتا ہے یہاں تک کہ مخلوقات کی زیادتی کی وجہ سے ایک انسان کے لیے صرف ایک قدم کی جگہ ہوتی ہے سورة ابراہیم میں یہ بات گزرچکی ہے کہ زمین کو دوسری زمین میں بدل دیا جائے گا حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق وہی ساہرہ ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
8۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت یعنی اس نے اطاعت کی آیت وحقت۔ اور یہ اطاعت اور فرمانبرداری اس پر لازم ہے۔ 9۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے آیت واذنت لربہا وحقت اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ اسی لائق ہے کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اطاعت کی اور اس کے لیے حق تھا کہ وہ اطاعت کرے۔ 10۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا یعنی اس نے کلام سن لیا جو بھی اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام فرمایا۔ 11۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا وحقت یعنی اس نے اپنے رب کا فرمان سنا اور اطاعت کی آیت واذا الرض مدت اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ یعنی…
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ : اور جب زمین دراز کی جائے گی ] نوٹ۔ 1: زمین کے پھیلا دئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدان بنادیا جائے گا۔ سورة طٰہٰ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پائو گے۔ (آیات۔ 106 ۔ 107) ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی۔ پھر انسان کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة الانشقاق کی پندرہ آیات کا ترجمہ ہے۔ ان آیات میں اولاً آسمان و زمین کا حال بیان فرمایا ہے پھر انسان کے اعمال والی محنت اور حاصل محنت یعنی آخرت کے دن کی کامیابی اور ناکامیابی کو بتایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم کو سن لے گا اور مان لے گا اور حکم ماننا اس کے لیے ضروری ہی ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے نافرمانی اور سرتابی کی مجال نہیں ہے اور جبکہ زمین کو پھیلا دیا جائے گا یعنی اس وقت جو اس کا انبساط اور پھیلاؤ ہے اس سے زیادہ پھیلا دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو نکال کر باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی، جو اموات اس میں دفن ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3:۔ ” واذا الارض “ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ قیامت کے دن زمین کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا تاکہ اولین و آخرین اس میں سما سکیں۔ ” والقت ما فیہا “ زمین اپنے اندر مدفون مردوں کو باہر پھینک دے گی۔ اور اپنے پیٹ کی ہر چیز کو باہر نکال کر خالی ہوجائے گی۔ یہ بھی امر الٰہی ہوگا اور کیا مجال زمین کی کہ وہ امر الٰہی سے سرتابی کرے۔ ” اذا “ کا جواب محذوف ہے جس پر مابعد قرینہ ہے ای یلاقی الانسان ما کدح الخ “ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ 3 ۙ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اذا قیل شرطیہ فیقدر بعد ھا فعل والتقدیر اذا انشقت السماء انشقت فالسماء فاعل بفعل محذوف وقیل لیست بشرطیۃ بلھی منصوبۃ باذکرالمحذوف وھی مبتداء وخبرھا اذا لثانیۃ والو او مزیدۃ والتقدیر وقت انشقاق السماء وقت مد الارض واذنت معطوف علی انشقت ومعنی اذنت اطاعت فی الانشقاق ولم تاب ولم تمنع بمشتق من الاذن وھو الاستماع للشیء والاصغا رالیہ واستعمال الاذن فی الاستماع کثیر فی کلام العرب وحقت الجملۃ حال من فاعل اذنت قال الضحاک ومعنی حقت حق لھا ان تطیع ربھا ای لاتمنع ما ارادہ اللہ بھا واذ الارض مثل اذا السماء الخ ومعنی مدت بسطت وصارت قاعا وقیل زید فی سع تھا من المدد وھو الزیادۃ والقت ما فیھا من الکنوز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اِذَا السَّمَـآئُ انْشَقَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَاَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ (الانشقاق : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا، اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے، اور فارغ ہوجائے گی۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی، اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے۔ ) وقوعِ قیامت سے بپا ہونے والی ہلچل قیامت نام ہی ایک ہمہ گیر انقلاب کا ہے جس میں پہلا جہان مٹ جائے گا اور جہانِ نو وجود میں آئے گا۔ پہلے قوانین کو ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔ جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب…
Read the full tafseer →شاہد و مشہود : 3 : وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ (اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جائے گی) پھیلا دی جائے گی اور اس کے پہاڑ اور ٹیلے برابر کردیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →3 ۔” واذا الارض مدت “ چھوٹے چمڑے کو کھینچنا اور اس کی وسعت میں زیادتی کرنا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں برابر کی گئی چمڑے کے کھینچنے کی طرح۔ پس اس میں نہ کوئی عمارت باقی رہے گی اور نہ کوئی پہاڑ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…
Read the full tafseer →(وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے حتی کہ وہ بہت وسعی ہوجائے گی جس میں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہوگی پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب فراز نظر نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →(2) کرہ ارضی کے مد اور اس کے پھیلا دیے جانے کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور جب پھیلا دیا جائے گا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو "۔ اور اس کی یہ سب اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک چٹیل میدان بنادیا جائے گا تاکہ اولین وآخرین کی سب مخلوق اس میں سما سکے، جیسا کہ سورة طہ میں فرمایا گیا فَیَذَرُہَا قَاعاً صَفْصَفاً ، لَا تَرَی فِیْہَا عِوَجاً وَلَا أَمْتاً ( طہ 106, 107 پ 16) یعنی اس روز اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو خاک بنا کے اڑا دے گا اور اس کے نتیجے میں اس زمین کو ایسا چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم نہ کوئی اونچ دیکھ سکو گے نہ نیچ، ( ابن کثیر، محاسن التاویل، خازن، اور صفوۃ، وغیرہ) سو اس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے۔ یہاں تک کہ اس میں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے اور پھر تمام اگلے اور پچھلے لوگ اس پر کھڑے ہو سکیں۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن زمین چمڑے کی طرح تان کر پھیلا دی جائے گی، پھر بھی ہر آدمی کو اس میں صرف پائوں رکھنے کی جگہ مل سکے گی (کیونکہ اگلے پچھلے تمام لوگ جمع ہوں گے۔ “ ) (فتح القدیر بحوالہ سیوطی بسید جید)
Read the full tafseer →(84:3) واذا الارض مدت اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے مدت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب مد (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ پھیلا دی گئی۔ وہ ہموار کردی گئی۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →(ف 2) محشر کے لیے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور عمارتیں پہاڑ وغیرہ سب برابر کردیے جائیں گے کہ تاریک سطح مستوری پر سب اولین وآخرین وقت کھڑے ہوسکیں اور کوئی حجاب وحائل باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[1] محشر کے لئے یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی، سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے تاکہ ایک ہموار سطح پر تمام انسان بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب باقی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة انشقاق 1: یہ سورة مکی ہے اور اس میں مسائل معاد سے زیادہ تر بحث کی گئی ہے ۔ جیسا کہ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے ۔ فرمایا کہ جب قیامت آجائے گی اور اللہ کا حکم ہوگا کہ یہ قبہ زرنگار توڑ دیا جائے ۔ تاکہ فرشتے اس میں آجاسکیں اور یہ بساط ارضی کھینچ کو بڑھا دی جائے تو اس میں ان کو قطعاً تخلف نہیں ہوگا ۔ دونوں انتہائی عاجزی سے اللہ کے حکموں کی اطاعت کریں گے ۔
Read the full tafseer →(3) اور جب زمین پھیلادی جائی گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ف 1۔ جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے پس زمین اپنی موجودہ مقدار سے بہت زیادہ وسیع ہوجائے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس پر سما سکیں جیسا کہ در منثور میں بسند جید حاکم کی روایت سے مرفوعا وارد ہے، تمد الارض یوم القیامة مد الادیم الخ، پس یہ انشقاق اور یہ امتداد دونوں حساب کے مقدمات میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →اور جب زمین پھیلا دی جائے گی 3 ؎ ( مدت) کا مادہ م د د ہے۔ واحد مؤنث غائب ماضی مجہول مد مصدر باب نصر کھینچی جائے گی ۔ چمڑے کی طرح کھینچ کر چھوڑ دی جائے گی ، نہ اس پر بلندی رہے گی نہ پستی ۔ جابر بن عبد اللہ ؓ سے مرفوعا ً مروی ہے کہ حاکم نے اس کو بیان کیا ہے قیامت کا دن وہ ہوگا کہ اس روز یہ زمین کھینچ کر پھیلا دی جائے گی کہ اس کے نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے۔ فاعا ً صفصفا ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی نہ اس میں سمندر رہیں گے اور نہ ہی پہاڑ ۔ کف دست کی طرح صاف ستھری ہوجائے گی ۔ گویا جس اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ آسمان کرے گا اسی طرح زمین بھی حکم الٰہی کا پابند ہوگی جب اس کو ہموار ہونے کا حکم ہوگا…
Read the full tafseer →وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ (and when the earth will be stretched [ to give room to more people ]...84:3) The word madda means 'to stretch, spread, expand out'. Sayyidna Jabir ibn ` Abdullah ؓ narrates that the Holy Prophet said that on the Day of Judgment the earth will be stretched out like leather (or rubber) and expanded into a smooth plain, and there will be just enough space on it for all individuals of human race to keep their feet. To understand this tradition, it is necessary to keep in mind that on the Day of Resurrection all individuals who will have been born from the inception of…
Read the full tafseer →2 "When the earth is spread out": when the oceans and rivers are filled up, the mountains are crushed to pieces and scattered away, and the earth is levelled and turned into a smooth plain. In Surah Ta Ha, the same thing has been expressed, thus: "He will turn the earth into an empty level plain, wherein you will neither see any curve nor crease." (vv 106-107) Hakim in Mustadrak has related through authentic channels on the authority of Hadrat Jabir bin 'Abdullah a saying of the Holy Prophet (upon whom be peace) to the effect: "On the Resurrection Day the earth will be flattened out and…
Read the full tafseer →