Al-Inshiqaaq 84:2

Al-Inshiqaaq · from ayah 2

84:2

وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۟ۙوَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And has responded to its Lord and was obligated [to do so]

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:2

اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور اسی کے ﻻئق وه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن کر مان لے گا، اور اس پر لازم ہے یہی کرے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنے رب کا حکمِ (اِنشقاق) بجا لائیں گے اور (یہی تعمیلِ اَمر) اُس کے لائق ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور یہی اس کا حق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ اپنے پروردگار کا حکم مان لے گا اور یہی اس کا حق ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے خداوند کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے یہی زیبا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ تعمیل کرے گا اپنے رب کے حکم کی اور یہی اس کے لائق بھی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے پروردگار کا حکم سن لے۔ اور وہ اسی لائق ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے رب کا حکم بجا لائے گا اور اسے یہی واجب بھی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and hearkens to the command of its Lord, doing what it should;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and will listen to (the command of) its Lord,__ and it ought to,__

— Muhammad Taqi Usmani

and will listen to (the command of) its Lord,__ and it ought to,__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And listens to and obeys its Lord -- and it must do so.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And has responded to its Lord and was obligated [to do so]

— Saheeh International

in obedience to the commands of their Lord which are incumbent on them,

— Muhammad Sarwar

And obeys its Lord and it must.

— Muhammad Habib Shakir

And it hearkeneth to its Lord, and is duteous,

— Abdul Majid Daryabadi

And hearkens to (the Command of) its Lord, and it must needs (do so);-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاِنْشِقَاق 1 اصل میں اذنت لربھا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے لفظی معنی ہیں " وہ اپنے رب کا حکم سنے گا "۔ لیکن عربی زبان میں محاورے کے طور پر اذن لہ کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے کہ اس نے حکم سنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سر تابی نہ کی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر جب (نفخہ ثانیہ کے وقت) آسمان پھٹ جاوے گا (تاکہ اس میں سے غمام یعنی بادل کی شکل کی ایک چیز کا نزول ہو جس میں فرشتے ہوں گے جس کا ذکر پارہ وقال الذین لایرجون آیت و یوم تشفق السماء والخ میں ہے) اور اپنے رب کا حکم سن لیگا (اور مان لیگا، یہاں حکم سے مراد حکم تکوینی انشاق کا ہے اور ماننے سے مراد اس کا وقوع ہے) اور وہ (آسمان بوجہ محکوم قدرت ہونے کے) اسی لائق ہے (کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو اس کا وقوع ضرور ہوجاوے) اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جاوے گی (جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے، پس اس وقت کی مقدار سے اس وقت مقدار زیادہ ہوجاوے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس میں سماجا ویں جیسا در…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ‘۔ ’اَذِنَ لَہ‘ کے معنی ہیں ’اِسْتَمِعَ لَہ‘ اس نے اس کی بات مان لی، اس کے حکم کی تعمیل کی، اس کے آگے سر جھکا دیا۔ ’حُقَّ لَہ‘ کے معنی ہیں کہ اس کے لیے واجب ہے کہ وہ ایسا کرے، اس کے لیے یہی زیبا ہے کہ وہ یہ کام کرے۔ مطلب یہ ہے کہ اس جہالت میں نہ پھنسے رہو کہ بھلا آسمان و زمین جیسی چیزوں پر کس کا زور چل سکتا ہے کہ وہ ان کو پاش پاش کر کے رکھ دے۔ اس دن اپنے رب کے حکم سے یہ بھی پاش پاش ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا اور بے چون و چرا وہ اس کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ ’وَحُقَّتْ‘۔ یعنی اس کے لیے یہی کرنا واجب ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا ہے تواس کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یعنی اس کے یہ لائق ہے کہ سنے اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پر غالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: پچھلی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی قیامت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں، عربی میں پھٹ پڑنے کو انشقاق کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام انشقاق ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذنت ................ وحقت (2:84) ” اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے “۔ کہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرے۔ آسمان کی طرف سے ” اذن “ یعنی اعلان یا اجازت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ پھٹنے میں اللہ کے حکم کی تعمیل کرے گا اور حقت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے اوپر اللہ کا یہ حق واقع ہوگیا۔ اور اس نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے اور یہ بھی ایک طرح کا اظہار ہے۔ تسلیم اور اطاعت کا کہ یہ اللہ کا مسلمہ حق ہے آسمان پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

14 یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکم تکوینی ہوگا، آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدورو مقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذرا چون و چرا نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

آیت 2{ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ۔ } ”اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔“ اَذِنَتْ لِرَبِّہَاکا لفظی ترجمہ یوں ہوگا کہ وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے ہوئے ہے اور جو بات کان لگا کر سنی جائے اس کے مطابق عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اَذِنَتْ کا معنی اِسْتَمَعَتْ وَاِنْقَادَتْ کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے غور سے سنا اور تعمیل کی۔ حُقَّتْ یہاں مجہول ہے حَقَّ یَحِقُّ سے۔ یعنی وہ اسی لائق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ بےچون و چرا اپنے خالق کے حکم پر سرتسلیم خم کرے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 اَذنَ لَہ، کے معنی کسی کے حکم یا بات پر کان لگانا یا توجہ سے سننا تاکہ فوراً اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ واضح رہے کہ جن و انس کے سوا کائنات کی جملہ اشیاء اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کی تعمیل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ انہیں یہ اختیار ہی نہیں دیا گیا کہ وہ حکم کی سرتابی کرسکیں بالفاظ دیگر ان اشیاء کی اطاعت اضطراری ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آسمان کو پھٹ جانے کا حکم دیا جائے گا تو وہ بلا چون و چرا پھٹ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

2۔ (جیسے آج بھی ربڑ کھنچ کر بڑھا دی جاتی ہے) (آیت) ” وحقت “۔ یعنی آسمان، محکوم ومسخر قدرت ہونے کے باعث ہے ہی ایسا کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو، اس کا وقوع ضرور ہو کر رہے۔ جاہلی فلاسفہ یونان ومصر وغیرہ نے آسمان کو مستقل صاحب ارادہ و تصرف ہستی، اور خدا تعالیٰ کی محکومیت سے آزاد وخود مختار سمجھا ہے۔ آیت ان خرافات کی بھی تردید کررہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا، (یعنی اس کا حکم) سنے گا، اور پھٹنے میں اس کی تعمیل کیر گا اور اس کے لئے یہی حق ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے) یعنی اس پر لازم کردیا گیا ہے کہ سنے اور اطاعت کرے اور جب زمین ہموار کردی جائے گی۔ یعنی اس کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا جس طرح چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے اور نہ اس پر کوئی عمارت رہے گی اور نہ پہاڑ، اور مردے (وغیرہ) جو کچھ اس کے اندر ہیں انہیں باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سنے گی اور اس باہر پھینکنے میں اپنے رب کی اطاعت کرے گی اور اس کے لئے حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذنت لربھا . اور اپنے مالک کے حکم انشقاق کو سنے گا اور اطاعت کرے گا۔ و حقت . اور آسمان کے لیے حکم کی اطاعت ہی حق ہے ممکن کی چونکہ اپنی ذاتی کوئی اقتضاء نہیں ہو سکتی ‘ اس لیے مشیت واجب کی اطاعت کے سوا اس کے لیے کوئی امکان ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) جب آسمان غمام و ملائکہ کے نزول کے لیے پھٹ جائے گا اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ آسمان اسی لائق ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واذ نت لربھا وحقت :)”اذنت“ (س) کان لگانا، غور سے سننا، یعنی غور سے سن کر اطاعت کرے گا۔ اسی طرح زمین حکم سنتے ہی وہ سب کچھ باہر پھینک دے گی جو اس میں ہے۔”حقت“”ھو حقیق بکذا او محقوق بکذا“ سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس چیز کے لائق ہے۔ اس کا نئاب فاعل ”السمآئ“ کی ضمیر ہے۔ بیضاوی نے فرمایا :”حقت“ ای جعلت حقیقۃ بالا ستمعاع والا نقیاد“ زمحشری نے فرمایا :”وھی حقیقۃ بان تنفاد ولا تمتنع“ زمین و آسمان کو اللہ کا حکم سن کر اطاعت سے انکار کی جرأت ہی نہیں، یہ صرف انسان یہ ہے کہ اللہ کے احکام نہ کان لگا کر سنتا ہے اور نہ اطاعت کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

اذالسماء انشقت۔۔۔ تا۔۔۔ وحقت۔ اذالسماء انشقت۔ جب آسمان بادلوں کی صورت میں پھٹ جائے گا، غمام، سفید بادل کی مثل ہے ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے اس کی مثل روایت نقل کی ہیی، حضرت علی سے مروی ہے کہ آسمان کہکشاں سے پوچھے گا کہا، کہاں آسمان کا دراوزہ ہے۔ یہ قیامت کی نشانیاں میں سے ایک ہے۔ واذنت لربھا وحقت۔ وہ اپنے رب کا حکم سنے گا اور سننا اس پر لازم ہے، یہی معنی حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے کہ، حضرت ابن عباس نے رسول اللہ کا یہ ارشاد نقل کی ا ہے، ما اذن اللہ لشی کا ذنہ لنبی یتغنی بالقرآن۔ اللہ تعالیٰ کسی شی کو توجہ سے نہیں سنتا جیسے وہ اپنے نبی کی آواز کو سنتا ہے جو قرآن کریم کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–3

8۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت یعنی اس نے اطاعت کی آیت وحقت۔ اور یہ اطاعت اور فرمانبرداری اس پر لازم ہے۔ 9۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے آیت واذنت لربہا وحقت اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ اسی لائق ہے کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے اطاعت کی اور اس کے لیے حق تھا کہ وہ اطاعت کرے۔ 10۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا یعنی اس نے کلام سن لیا جو بھی اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام فرمایا۔ 11۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذنت لربہا وحقت یعنی اس نے اپنے رب کا فرمان سنا اور اطاعت کی آیت واذا الرض مدت اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَذِنَتْ لِرَبِهَا : اور وہ کان دھرے گا اپنے رب (کے حکم) کے لیے ][ وَحُقَّتْ : اس حال میں کہ وہ اس لائق کیا گیا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة الانشقاق کی پندرہ آیات کا ترجمہ ہے۔ ان آیات میں اولاً آسمان و زمین کا حال بیان فرمایا ہے پھر انسان کے اعمال والی محنت اور حاصل محنت یعنی آخرت کے دن کی کامیابی اور ناکامیابی کو بتایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم کو سن لے گا اور مان لے گا اور حکم ماننا اس کے لیے ضروری ہی ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے نافرمانی اور سرتابی کی مجال نہیں ہے اور جبکہ زمین کو پھیلا دیا جائے گا یعنی اس وقت جو اس کا انبساط اور پھیلاؤ ہے اس سے زیادہ پھیلا دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو نکال کر باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی، جو اموات اس میں دفن ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” اذا السماء “ تخویف اخروی۔ آخرت کے ابتدائی احوال کا بیان۔ جب آسمان پھٹ جائیں گے آسمانوں کا پھٹنا اللہ کے امر سے ہوگا۔ جب اللہ کا امر ہوگا آسمان اس کے امر کی اطاعت کریں گے اور ان کے لائق ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو سنیں اور اس کی تعمیل کریں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے نفاذ سے کنایہ ہے۔ آسمانوں میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو ان کے توڑنے پھوڑنے پر قدرت خداوندی کی تاثیر سے مانع ہو۔ والمعنی انہ لم یوجد فی جرم السماء ما یمنع من تاثیر قدرۃ اللہ تعالیٰ فی شقھا وتفریق اجزائہا الخ “ (کبیر ج 8 ص 509) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–15

(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ۝ 2 ۙ وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ اذا قیل شرطیہ فیقدر بعد ھا فعل والتقدیر اذا انشقت السماء انشقت فالسماء فاعل بفعل محذوف وقیل لیست بشرطیۃ بلھی منصوبۃ باذکرالمحذوف وھی مبتداء وخبرھا اذا لثانیۃ والو او مزیدۃ والتقدیر وقت انشقاق السماء وقت مد الارض واذنت معطوف علی انشقت ومعنی اذنت اطاعت فی الانشقاق ولم تاب ولم تمنع بمشتق من الاذن وھو الاستماع للشیء والاصغا رالیہ واستعمال الاذن فی الاستماع کثیر فی کلام العرب وحقت الجملۃ حال من فاعل اذنت قال الضحاک ومعنی حقت حق لھا ان تطیع ربھا ای لاتمنع ما ارادہ اللہ بھا واذ الارض مثل اذا السماء الخ ومعنی مدت بسطت وصارت قاعا وقیل زید فی سع تھا من المدد وھو الزیادۃ والقت ما فیھا من الکنوز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

اِذَا السَّمَـآئُ انْشَقَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَاَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ (الانشقاق : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا، اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے، اور فارغ ہوجائے گی۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی، اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے۔ ) وقوعِ قیامت سے بپا ہونے والی ہلچل قیامت نام ہی ایک ہمہ گیر انقلاب کا ہے جس میں پہلا جہان مٹ جائے گا اور جہانِ نو وجود میں آئے گا۔ پہلے قوانین کو ختم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔ جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ (اور اپنے رب کا حکم سن لے گا وہ اسی لائق ہے) یعنی آسمان انشقاق کیلئے اپنے رب کا حکم سن کر اس کو قبول کرے گا اور مانے گا۔ انکار نہ کرے گا اور نہ تعمیل سے باز رہے گا۔ : اس کا حق بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حکم سنے اور اس کی اطاعت کرے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا بنایا اور تربیت دیا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” واذنت لربھا “ یعنی اپنے رب کے انشقاق کے امر کو سن لیا اور اس کی اطاعت کی۔ یہ اذن سے ہے اور وہ توجہ سے سننا۔ ” وحقت “ اور اس کا حق ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا) اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کہ کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جاسکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

(1) آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آسمان پھٹ پڑے گا اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور یہی اس لائق ہے "۔ سو زمین و آسمان کے ان عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اس کے لائق بھی یہی ہے کہ اپنے خالق ومالک کا حکم پوری طرح بجا لائے سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اپنے خالق ومالک کے حکم ماننا اس کا حق بھی ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی، اور اسی میں مخلوق کی بہتری اور بھلائی بھی ہے، سو انسان سوچے کہ جس خالق ومالک کا حکم آسمان و زمین کے یہ عظیم الشان کرے بھی اس قدر مستعدی اور خوشی سے سنتے مانتے اور اس کی تعمیل کرتے ہیں، اس کا حکم اگر یہ انسان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:2) واذنت لربھا واؤ عاطفہ اذنت کا عطف انشقت پر ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے۔ اذنت ماضی واحد مؤنث غائب اذن (باب سمع) مصدر۔ اذن لہ۔ سننا کان لگا کر سننا۔ اذن (باب سمع) مصدر سے۔ اذن لہ اجازت دینا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : الا من اذن لہ الرحمن (79:38) مگر جس کو (خدا) رحمن اجازت بخشے۔ آیت زیر مطالعہ میں اذنت اذن مصدر سے ہے اگرچہ باب و مادہ دونوں کا ایک ہی ہے۔ وحقت یہ اذنت کی ضمیر فاعل سے حال ہے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب حق (باب ضرب) مصدر سے حق علی واجب ہونا۔ لازم ہونا۔ حق لک ان تفعل تمہارے لئے اس کا کرنا موزون ہے۔ حقت وہ اسی لائق ہے۔ اس کے لئے حق یہی ہے (کہ سنے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

حالات قیامت۔ (ف 1) یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکم تکوینی ہوگا آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدور ومقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذراچوں چرانہ کرے ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة انشقاق 1: یہ سورة مکی ہے اور اس میں مسائل معاد سے زیادہ تر بحث کی گئی ہے ۔ جیسا کہ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے ۔ فرمایا کہ جب قیامت آجائے گی اور اللہ کا حکم ہوگا کہ یہ قبہ زرنگار توڑ دیا جائے ۔ تاکہ فرشتے اس میں آجاسکیں اور یہ بساط ارضی کھینچ کو بڑھا دی جائے تو اس میں ان کو قطعاً تخلف نہیں ہوگا ۔ دونوں انتہائی عاجزی سے اللہ کے حکموں کی اطاعت کریں گے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اور اپنے پروردگار کا حکم سن لے اور وہ آسمان اسی لائق ہے - یہ آسمان کا پھٹنا شاید اس وقت ہوگا جب بادلوں میں فرشتوں کا نزول ہوگا۔ جیسا کہ سورة فرقان میں ہے ہوسکتا ہے کہ یہ پھٹنا پہلے نفخہ کا پھٹنا ہو اور ہوسکتا ہے کہ دوسرے نفخہ کے وقت پھٹنا واقع ہو بہرحال مطلب یہ ہے کہ جب حضرت حق جل مجدہ کا تکوینی حکم آسمان کا ہوگا تو وہ اسی وقت اس حکم کی تعمیل کریگا۔ پھر فرمایا کہ آسمان نے کان لگا رکھے ہیں کہ کب حکم ہو اور کب پھٹ جائو۔ اذنت کے معنی سمعت ہوتے ہیں چناچہ حکم ہوتے ہی پھٹ جائے گا اور آسمان کا مقہور اور مقدور ہونے کی وجہ سے لائق بھی یہی ہے کہ اپنے خالق وہ مالک کے حکم کے سامنے گردن جھکا دے ۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ یہاں حکم سے مراد انشقاق کا حکم تکوینی ہے اور ماننے سے مراد اس کا وقوع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اپنے رب کے لیے کان لگائے گا اور یہی اسے سزا وار ہے 2 ؎ (اذنت) کا اصل مادہ اذن ہے اور اس کے معنی ہیں کہ اس نے سن لیا اذن جس کے معنی سننے کے ہیں ، ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب (حقت) وہ اس لائق ہے ، وہ ثابت کی گئی ، وہ مطابق کی گئی ، وہ لائق بنائی گئی ، حق سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ، یہ بھی اس آسمان ہی کے متعلق ہے کہ آسمان پھٹ گیا ، کیوں ؟ اسے لیے کہ اس نے اپنے رب کا حکم کان لگا کر اچھی طرح سن لیا ہے کہ اب مجھے پھٹنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو حکم مل گیا تو وہ کیسے ثابت اور قائم رہ سکتا ، اس کے لیے پھٹنا ضروری ہے اور وہ اسی لیے پھٹ گیا ہے یا پھٹ رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary The present Surah depicts the conditions that will prevail on the Day of Judgment, such as reckoning and accountability, reward of good and torment of evil. The heedless man is asked to look into himself and his environs, which will lead him to believe in Allah and the Qur'an. [ The powerful opening of the Surah sketches some of the scenes of universal upheaval ]. First, it speaks about the sky that will split apart. Then it goes on to speak about the earth that will be stretched and will throw up whatever it contains - whether natural treasures, or buried treasures, or dead human…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Literally: "... and hears its Lord's Conmtand." However, according to Arabic usage adhina lahu dces not only mean: "He heard the Command but it means: "Hearing the Command he carried it out promptly like an obedient servant. "

Read the full tafseer →