اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ ۟ۙاِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتۡ
جب آسمان پھٹ جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the sky has split [open]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
The Splitting Open · Meccan · 25 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ ۟ۙاِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتۡ
جب آسمان پھٹ جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the sky has split [open]
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq
جب آسمان پھٹ جائے گا
جب آسمان پھٹ جائے گا
جب آسمان پھٹ جائے گا
جب آسمان پھٹ پڑے گا۔
جب آسمان شق ہو
جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے،
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
جب آسمان پھٹ جائے گا
جب کہ آسمان پھٹ جائے گا
جب پھٹ پڑے گا آسمان (کا یہ عظیم الشان نیلگونی چھت)
جب آسمان پھٹ جائے
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
جب آسمان پھٹ جائے گا
When the sky is rent asunder
When the heaven is split asunder,
When the heaven is split asunder
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
When the sky has split [open]
When the heavens are rent asunder
When the heaven bursts asunder,
When the heaven is sundered.
When the sky is rent asunder,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر جب (نفخہ ثانیہ کے وقت) آسمان پھٹ جاوے گا (تاکہ اس میں سے غمام یعنی بادل کی شکل کی ایک چیز کا نزول ہو جس میں فرشتے ہوں گے جس کا ذکر پارہ وقال الذین لایرجون آیت و یوم تشفق السماء والخ میں ہے) اور اپنے رب کا حکم سن لیگا (اور مان لیگا، یہاں حکم سے مراد حکم تکوینی انشاق کا ہے اور ماننے سے مراد اس کا وقوع ہے) اور وہ (آسمان بوجہ محکوم قدرت ہونے کے) اسی لائق ہے (کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو اس کا وقوع ضرور ہوجاوے) اور جب زمین کھینچ کر بڑھا دی جاوے گی (جس طرح چمڑا یا ربڑ کھینچا جاتا ہے، پس اس وقت کی مقدار سے اس وقت مقدار زیادہ ہوجاوے گی تاکہ سب اولین و آخرین اس میں سماجا ویں جیسا در…
Read the full tafseer →قیامت کے دن کی ہلچل: قیامت کے بعد جو جہان نو وجود میں آئے گا وہ نئے نوامیس و قوانین کے تحت وجود میں آئے گا اس وجہ سے اس میں یہ آسمان و زمین جو آج موجود ہیں، ختم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، دوسرے آسمان و زمین نمودار ہو جائیں گے۔ ’اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ‘ کے الفاظ سے یہاں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو سورۂ انفطار میں ’اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ‘ (۱) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ کائنات کے اس سب سے بڑے حادثہ کا آج کوئی اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن نے اس ہلچل کا ذکر ان نادانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کیا ہے جو اپنے قلعوں اور محلوں پر بہت نازاں تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ…
Read the full tafseer →1۔ 1 یعنی جب قیامت برپا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: پچھلی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی قیامت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں، عربی میں پھٹ پڑنے کو انشقاق کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام انشقاق ہے۔
Read the full tafseer →گزشتہ سورت میں ہم نے آسمان کے پھٹنے کی تشریح کی ہے۔ یہاں جو بات اضافی آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کام اللہ کی اطاعت میں ہوگا۔ اور یہ کہ وہ اس بات کا ذمہ دار اور مستحق ہے کہ ایسا کرے اور اللہ کے اس حق کو ادا کرے کیونکہ اللہ کا حق ہے کہ اس کے احکام کی اطاعت کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
14 یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکم تکوینی ہوگا، آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدورو مقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذرا چون و چرا نہ کرے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ۔ } ”جب آسمان پھٹ جائے گا۔“ نوٹ کیجیے ! ان تمام سورتوں کا بنیادی موضوع ”تذکیر آخرت“ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 اَذنَ لَہ، کے معنی کسی کے حکم یا بات پر کان لگانا یا توجہ سے سننا تاکہ فوراً اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ واضح رہے کہ جن و انس کے سوا کائنات کی جملہ اشیاء اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کی تعمیل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ انہیں یہ اختیار ہی نہیں دیا گیا کہ وہ حکم کی سرتابی کرسکیں بالفاظ دیگر ان اشیاء کی اطاعت اضطراری ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آسمان کو پھٹ جانے کا حکم دیا جائے گا تو وہ بلا چون و چرا پھٹ جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2۔ (جیسے آج بھی ربڑ کھنچ کر بڑھا دی جاتی ہے) (آیت) ” وحقت “۔ یعنی آسمان، محکوم ومسخر قدرت ہونے کے باعث ہے ہی ایسا کہ جس امر کی مشیت اس کے متعلق ہو، اس کا وقوع ضرور ہو کر رہے۔ جاہلی فلاسفہ یونان ومصر وغیرہ نے آسمان کو مستقل صاحب ارادہ و تصرف ہستی، اور خدا تعالیٰ کی محکومیت سے آزاد وخود مختار سمجھا ہے۔ آیت ان خرافات کی بھی تردید کررہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا، (یعنی اس کا حکم) سنے گا، اور پھٹنے میں اس کی تعمیل کیر گا اور اس کے لئے یہی حق ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے) یعنی اس پر لازم کردیا گیا ہے کہ سنے اور اطاعت کرے اور جب زمین ہموار کردی جائے گی۔ یعنی اس کی وسعت میں اضافہ کردیا جائے گا جس طرح چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے اور نہ اس پر کوئی عمارت رہے گی اور نہ پہاڑ، اور مردے (وغیرہ) جو کچھ اس کے اندر ہیں انہیں باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کا حکم سنے گی اور اس باہر پھینکنے میں اپنے رب کی اطاعت کرے گی اور اس کے لئے حق…
Read the full tafseer →اذا السماء انشقت . جب آسمان پھٹ جائے گا۔ السَّمَآءُ انْشَقَّتْ محذوف کا فاعل ہے اور انشقّت مذکور اس محذوف کی تفسیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) جب آسمان غمام و ملائکہ کے نزول کے لیے پھٹ جائے گا اور اپنے رب کا حکم سن لے گا اور وہ آسمان اسی لائق ہے۔
Read the full tafseer →(اذا السمآء انشقت : دوسری جگہ فرمایا :(وفتحت السمآء فکانت ابواباً) (النبا : 19)”اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہوجائے گا۔“ اور فرمایا :(یوم تشقق السمآء بالغمام و نزل الملٓئکۃ تنزیلاً) (الفرقان 25)”جس دن آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹے گا اور فرشتے گروہ درگروہ در گروہ اتارے جائیں گے۔“ یہ نفخہ ثانیہ کے ساتھ ہوگا، آگے زمین سے مردوں کے نکلنے کے ذکر سے بھی یہی معلمو ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اذالسماء انشقت۔۔۔ تا۔۔۔ وحقت۔ اذالسماء انشقت۔ جب آسمان بادلوں کی صورت میں پھٹ جائے گا، غمام، سفید بادل کی مثل ہے ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے اس کی مثل روایت نقل کی ہیی، حضرت علی سے مروی ہے کہ آسمان کہکشاں سے پوچھے گا کہا، کہاں آسمان کا دراوزہ ہے۔ یہ قیامت کی نشانیاں میں سے ایک ہے۔ واذنت لربھا وحقت۔ وہ اپنے رب کا حکم سنے گا اور سننا اس پر لازم ہے، یہی معنی حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے کہ، حضرت ابن عباس نے رسول اللہ کا یہ ارشاد نقل کی ا ہے، ما اذن اللہ لشی کا ذنہ لنبی یتغنی بالقرآن۔ اللہ تعالیٰ کسی شی کو توجہ سے نہیں سنتا جیسے وہ اپنے نبی کی آواز کو سنتا ہے جو قرآن کریم کو…
Read the full tafseer →1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا السماء انشقت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابو داوٗ دوالنسائی وابن مردویہ نے ابو رافع (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی انہوں نے آیت اذا السماء انشقت پڑھی اور سجدہ کیا میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ سجدہ کیوں کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کے پیچھے سجدہ کیا اور میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے قیامت کے دن ملاقات کروں گا۔ سجدۂ قرآن کا ذکر 4۔ ابن ابی شیبہ ومسلم وابو داوٗد…
Read the full tafseer →[اِذَا السَّمَاۗءُ انشَقَّتْ : جب آسمان پھٹ جائے گا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة الانشقاق کی پندرہ آیات کا ترجمہ ہے۔ ان آیات میں اولاً آسمان و زمین کا حال بیان فرمایا ہے پھر انسان کے اعمال والی محنت اور حاصل محنت یعنی آخرت کے دن کی کامیابی اور ناکامیابی کو بتایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم کو سن لے گا اور مان لے گا اور حکم ماننا اس کے لیے ضروری ہی ہے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے نافرمانی اور سرتابی کی مجال نہیں ہے اور جبکہ زمین کو پھیلا دیا جائے گا یعنی اس وقت جو اس کا انبساط اور پھیلاؤ ہے اس سے زیادہ پھیلا دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو نکال کر باہر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی، جو اموات اس میں دفن ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” اذا السماء “ تخویف اخروی۔ آخرت کے ابتدائی احوال کا بیان۔ جب آسمان پھٹ جائیں گے آسمانوں کا پھٹنا اللہ کے امر سے ہوگا۔ جب اللہ کا امر ہوگا آسمان اس کے امر کی اطاعت کریں گے اور ان کے لائق ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو سنیں اور اس کی تعمیل کریں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے نفاذ سے کنایہ ہے۔ آسمانوں میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو ان کے توڑنے پھوڑنے پر قدرت خداوندی کی تاثیر سے مانع ہو۔ والمعنی انہ لم یوجد فی جرم السماء ما یمنع من تاثیر قدرۃ اللہ تعالیٰ فی شقھا وتفریق اجزائہا الخ “ (کبیر ج 8 ص 509) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…
Read the full tafseer →اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ 1 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ اذا قیل شرطیہ فیقدر بعد ھا فعل والتقدیر اذا انشقت السماء انشقت فالسماء فاعل بفعل محذوف وقیل لیست بشرطیۃ بلھی منصوبۃ باذکرالمحذوف وھی مبتداء وخبرھا اذا لثانیۃ والو او مزیدۃ والتقدیر وقت انشقاق السماء وقت مد الارض واذنت معطوف علی انشقت ومعنی اذنت اطاعت فی الانشقاق ولم تاب ولم تمنع بمشتق من الاذن وھو الاستماع للشیء والاصغا رالیہ واستعمال الاذن فی الاستماع کثیر فی کلام العرب وحقت الجملۃ حال من فاعل اذنت قال الضحاک ومعنی حقت حق لھا ان تطیع ربھا ای لاتمنع ما ارادہ اللہ بھا واذ الارض مثل اذا السماء الخ ومعنی مدت بسطت وصارت قاعا وقیل زید فی سع تھا من المدد وھو الزیادۃ والقت ما فیھا من الکنوز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اِذَا السَّمَـآئُ انْشَقَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ وَاَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ ۔ وَاَذِنَتْ لِرَبِّـھَا وَحُقَّتْ ۔ (الانشقاق : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا، اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے، اور فارغ ہوجائے گی۔ اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی، اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے۔ ) وقوعِ قیامت سے بپا ہونے والی ہلچل قیامت نام ہی ایک ہمہ گیر انقلاب کا ہے جس میں پہلا جہان مٹ جائے گا اور جہانِ نو وجود میں آئے گا۔ پہلے قوانین کو ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔ جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب…
Read the full tafseer →1 : اِذَا السَّمَآ ئُ انْشَقَّتْ (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں پھٹ کر سوراخ ہوجائیں گے)
Read the full tafseer →1 ۔” اذا السماء انشقت “ اس کا پھٹ جانا قیامت کی علامات میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…
Read the full tafseer →یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹکر ایک دوسرے سے الگ ہوجائے گا اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آسمان پھٹ پڑے گا اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور یہی اس لائق ہے "۔ سو زمین و آسمان کے ان عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اس کے لائق بھی یہی ہے کہ اپنے خالق ومالک کا حکم پوری طرح بجا لائے سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اپنے خالق ومالک کے حکم ماننا اس کا حق بھی ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی، اور اسی میں مخلوق کی بہتری اور بھلائی بھی ہے، سو انسان سوچے کہ جس خالق ومالک کا حکم آسمان و زمین کے یہ عظیم الشان کرے بھی اس قدر مستعدی اور خوشی سے سنتے مانتے اور اس کی تعمیل کرتے ہیں، اس کا حکم اگر یہ انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے یا فرشتوں کے اترنے کے لے پھٹ جائے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : یوم تشقق السمآء بالغمام و نزل المئکتہ تنزیلاً جس روز بادل کے ساتھ آسمان پھٹے گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتارے جائیں گے۔ “ (فرقان 25)
Read the full tafseer →(84:1) اذا السماء انشقت : اذا بمعنی جب، اس وقت، ناگہاں ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اکثر و بیشتر شرطیہ ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں بعض کے نزدیک اذا شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے جس کے مضمون پر آئندہ آیات دلالت کر رہی ہیں۔ یعنی جب ایسا ایسا ہوگا تو انسان اپنی کوشش کو پالے گا۔ اور اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ خوش خوش لوٹے گا۔ اور اگر پیٹھ کے پیچھے سے اس کو اعمال نامہ دیا گیا تو ہلاکت کو پکارے گا۔ (مظہری) مولانا عبد الحق اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ اذا : اذا کرکے یہ تو بیان فرما دیا کہ جب ایسا ہوگا اور جب ایسا ہوگا۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ جب یہ ہوگا تو کیا ہوگا ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حالات قیامت۔ (ف 1) یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکم تکوینی ہوگا آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدور ومقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذراچوں چرانہ کرے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة انشقاق 1: یہ سورة مکی ہے اور اس میں مسائل معاد سے زیادہ تر بحث کی گئی ہے ۔ جیسا کہ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے ۔ فرمایا کہ جب قیامت آجائے گی اور اللہ کا حکم ہوگا کہ یہ قبہ زرنگار توڑ دیا جائے ۔ تاکہ فرشتے اس میں آجاسکیں اور یہ بساط ارضی کھینچ کو بڑھا دی جائے تو اس میں ان کو قطعاً تخلف نہیں ہوگا ۔ دونوں انتہائی عاجزی سے اللہ کے حکموں کی اطاعت کریں گے ۔
Read the full tafseer →(1) جب آسمان پھٹ جائے۔
Read the full tafseer →جب آسمان پھٹ جائے گا ( اذا السماء انشقت) 1 ؎ (انشقت) کا اصل مادہ ش ق ق ہے اور اس کے معنی ہیں وہ پھٹ گئی۔ انشقاق سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ یہ لفظ آسمان کے پھٹ جانے کے لیے بولا گیا ہے اور یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے اور اب دوبارہ بتائی جا رہی ہے کہ آسمان کا لفظ اردو زبان میں مذکر تصور ہوتا ہے لیکن عربی زبان میں اس کو مؤنث استعمال کرتے ہیں جیسے سورج اردو میں مذکر استعمال ہوتا ہے اور عربی میں مؤنث۔ اس لیے لفظ (انشقت) کا استعمال ہوا ہے کہ وہ پھٹ گئی۔ یعنی آسمان ۔ یہ بات قبل ازیں بیسیوں بار عرض کی جا چکی ہے کہ قیامت کے روز جس طرح ہر ایک چیز کے لیے فنا لازم ہے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Commentary The present Surah depicts the conditions that will prevail on the Day of Judgment, such as reckoning and accountability, reward of good and torment of evil. The heedless man is asked to look into himself and his environs, which will lead him to believe in Allah and the Qur'an. [ The powerful opening of the Surah sketches some of the scenes of universal upheaval ]. First, it speaks about the sky that will split apart. Then it goes on to speak about the earth that will be stretched and will throw up whatever it contains - whether natural treasures, or buried treasures, or dead human…
Read the full tafseer →