Explained with ayahs 16–25
پیشین گوئی
شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْاِنْشِقَاق 11
یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے، بڑھاپے سے موت، موت سے برزخ، برزخ سے دوبارہ زندگی، دوبارہ زندگی سے میدان حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بیشمار منزلوں سے لازما تم کو گزرنا ہوگا۔ اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں ان بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے اس کے اندر کہیں ٹھیراؤ نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے…
Read the full tafseer →’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘۔ یہ ان قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ فرمایا کہ جس طرح یہ چیزیں خدا کے قانون میں بندھی ہوئی سب اسی کی طرف رواں دواں ہیں اسی طرح بھی ایک مرحلہ کے بعد دوسرا مرحلہ طے کرتا ہوا کشاں کشاں جاتا خدا ہی کی طرف ہے۔ نہ یہ ممکن ہے کہ اپنی جگہ ہی پر ٹکا رہ جائے اور نہ اس کا امکان ہے کہ کسی اور سمت میں نکل جائے، البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کے مطابق، جو اس پوری کائنات میں جاری ہے، درجہ بدرجہ اور مرحلہ بہ مرحلہ ہو گا اس وجہ سے نہ اس کو عجلت کرنی چاہیے اور نہ کسی حقیقت کی اس بنا پر تکذیب کرنی چاہیے کہ وہ اس کی طلب پر اس کو دکھائی نہیں گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہونگے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی (یہ جواب قسم ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
7: انسان اپنی زندگی میں مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے۔ بچپن، جوانی، ادھیڑ عمر اور پھر بڑھاپا، نیز اس کی سوچ میں بھی مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ یہ سارے مراحل اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔
Read the full tafseer →لترکبن ........................ طبق (19:84) ” تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک مشکل حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے “۔ یعنی ایک صورت حال کے بعد دوسری صورت حال سے تمہیں دوچارہونا پڑے گا۔ جس طرح اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ یہاں ایک حال سے دوسرے حال کی تبدیلی کے لئے ” سواری “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ عربی میں مشکلات سے دوچارہونے کے لئے معاملات ، خطرات ، حالات اور مشکلات پر سوار ہونے کا محاورہ عام ہے۔ کیا جاتا ہے۔
ان المضطر یر کب الصعب من الامور وھو عالم برکوبہ ” مشکلات میں گھرا ہوا شخص مشکلات پر سوار ہوجاتا ہے اور وہ اس بات کو جانتا ہے کہ وہ ان پر کس طرح سوار ہو یعنی قابو پائے “…
Read the full tafseer →14 یعنی دنیا کی زندگی میں مختلف دور سے بتدریج گزر کر اخیر میں موت کی سیڑھی ہے، پھر عالم برزخ کی، پھر قیامت کی، پھر قیامت میں خدا جانے کتنے احوال و مراتب درجہ بدرجہ طے کرنے ہیں۔ جیسے رات کے شروع میں شفق کے باقی رہنے تک ایک قسم کی روشنی رہتی ہے۔ جو فی الحقیقت بقیہ ہے آفتاب کے اثرات کا، پھر شفق غائب ہونے پر دوسرا دور تاریکی کا شروع ہوتا ہے جو سب چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس میں چاند بھی نکلتا ہے اور درجہ بدرجہ اس کی روشنی بڑھتی ہے آخر چودھویں شب کو ماہ کامل کا نور اس تاریک فضاء میں ساری رات اجالا رکھتا ہے۔ گویا انسانی احوال کے طبقات رات کی مختلف کیفیات سے مشابہ ہوئے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آیت 19{ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ۔ } ”اسی طرح تم لازماً چڑھو گے درجہ بدرجہ۔“
یعنی جس طرح چاند درجہ بدرجہ بڑا ہو کر مرحلہ وار رات کو روشن کرتا ہے بالکل اسی طرح تم مرحلہ وار کوششوں سے غلبہ دین کی منزل تک پہنچو گے۔ واضح رہے کہ لَتَرْکَبُنَّ کے صیغے میں زور اور تاکید بھی ہے کہ تم لوگ اس منزل تک ضرور پہنچو گے۔ ظاہر ہے ہمیں یہ خبر محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے وَھُوَ الصَّادِقُ وَالْمَصْدُوْق ! آپ ﷺ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دنیا پر اسلام کا مکمل غلبہ ہو کر رہے گا۔ البتہ اسلام کے پہلے غلبے کی شان اور تھی اور دوسرے غلبے کا انداز اور ہوگا۔ یہ فرق سورة المدثر کی آیت 34 اور زیر مطالعہ…
Read the full tafseer →14 اس مقام پر تین باتوں کی قسم کھائی گئی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں حرکت ہی حرکت ہے، سکون اور ٹھہراؤ نہیں۔ پھر یہ حرکت بھی یکدم واقع نہیں ہوجاتی بلکہ اس میں تدریج کا اصول کام کر رہا ہے۔ سورج غروب ہوتا ہے تو یک دم تاریکی نہیں چھا جاتی بلکہ کچھ دیر تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ رات بھی بتدریج اپنے مکینوں کو اپنی اپنی قرار گاہ کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ چاند بھی مکمل ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اس میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ تاہم مکمل ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح تم بھی بتدریج منزل بہ منزل اپنی آخری منزل کی طرف بڑھے چلے جارہے ہو اور تمہیں وہاں جاکر دم لینا ہے۔ پہلے انسان نطفہ تھا۔ رحم مادر میں ہی…
Read the full tafseer →9۔ (اور ایک حالت پر قائم ودائم رہنا ہرگز نہیں ہے) (آیت) ” عن طبق “۔ عن یہاں بعد کے مرادف ہے۔ حالابعد حال (معالم، عن ابن عباس ؓ وعن للمجاوزۃ وقال غیرواحدھی بمعنی بعد والمجاوزۃ والبعدیۃ متقاربان (روح) آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان ایسی مخلوق نہیں، جسے شروع سے آخر تک ایک حالت پر جامد رکھا جائے۔ سارا نظام عالم گواہ ہے کہ انسان ایک ترقی پذیر مخلوق بنایا گیا ہے، ابھی زندہ تھا ابھی مردہ ہوجائے گا۔ ابھی مردہ سے پھر زندہ کردیا جائے گا۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ آیا ہے کہ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کی امت کے لیے مخصوص ہے۔ یہ مان لینے کے بعد آیت سے مراد مراتب قرب میں ترقی ہوگی۔ مرشد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →لترکبن طبقا عن طبق . اگر لَتَرْکَبُنَّ صیغۂ واحد مذکر مخاطب بر قراءت ِ ابن کثیر و حمزہ و کسائی پڑھا جائے تو خطاب
رسول اللہ ﷺ کو ہوگا۔ بر قول شعبی ؓ و مجاہد ؓ یہ مطلب ہوگا کہ اے محمد ! تم ضرور ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : الذی خلق سبع سمٰوٰت طباقًا (گویا عن طبق سے مراد ہے۔ آسمان بالائے آسمان کیونکہ اللہ نے سات آسمان منزل در منزل بنائے ہیں) پس اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے معراج کی بشارت ہے۔ قصۂ معراج کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان کا ذکر سورة اسراء اور سورة النجم میں ہوچکا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرب خداوندی اور علو مرتبہ میں درجہ بدرجہ ترقی دینا مراد ہو۔ بخاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(16۔ 19) میں قسم کھا کر کہتا ہوں شفق کی اور رات اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ کر جمع کرلیتی ہے اور چاند کی جب تیرہویں چودہویں اور پندرہویں رات کا ہوجائے کہ تم لوگوں کو ایک حالت کے بعد دوسری حالت کو بہر صورت پہنچنا ہے۔
یعنی پیدا ہونے کے بعد موت اور پھر جنت میں داخل ہونا ہے یا دوزخ میں، یا مطلب یہ ہے کہ شب معراج میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان پر آپ کو چڑھنا ہے۔
Read the full tafseer →(1) لترکبن طبقاً عن طبق : قرآن مجید میں مذکور قسمیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی تاکید کے لئے آتی ہیں اور عام طور پر اس کے یقینی ہونے کی دلیل ہوتی ہیں۔ یہاں جس بات کو ثابت کرنے کیلئے قسمیں کھائی گئی ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ تم ضروری ہی ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے جاؤ گے۔ اب قسموں پر غور کیجیے ! تینوں آیات میں مذکور چیزوں کا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہونا صاف واضح ہے، یعنی دن بھر کی دھوپ کے بعد سورج غروب ہو کر شفق پھیل جاتی ہے، پھر رات چھا جاتی ہے۔ اللہ کی مخلوق دن کو پھیل جاتی ہے اور رات کو جمع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح چاند پہلی رات خنجر نما شکل میں ہوتا ہے، پھر بدلتے بدلتے مہ کامل بن جات…
Read the full tafseer →لترکبن طبقا عن طبق۔ ابوعمرو، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، ابوالعالیہ، مسروق، ابو وائل، مجاہد، نخعی، شعبی، ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے اسے لترکبن باء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، کہ یہ نبی کریم کو خطاب ہے یعنی اے محمد آپ ایک حال کے بعد دوسرے حال پر چڑھیں گے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، امام شعبی نے کہا، اے محمد ﷺ آپ ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان، ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ اور ایک رتبہ کے بعد دوسرے رتبہ پر اللہ تعالیٰ کے قریب چڑھیں گے۔
حضرت ابن مسعود نے کہا، آپ ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں آسمان پر چڑھیں گے یعنی وہ حالات جن کی صفت اللہ تعایل نے بیان کی ہے یعنی آسمان کا پھٹنا، اس کا لپیٹنا جانا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
49۔ عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی تم کو ایک امر کے بعد دوسرے امرت کی طرت بتدریج چڑھنا ہے۔
51۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لترکبن طبقا عن طبق ایک حال کے بعد دوسرا حال کی طرف چڑھنا ہے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کے بارے میں ہے۔
52۔ ابی عبید فی القراءات و سعید بن منصور وابن منیع وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی باء کے فتح کے ساتھ اور فرمایا تمہارے نبی نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔
53۔ ابو عبید فی القراء ات و سعید بن منصور وابن منیع وعبد بن حمید وابن جریر…
Read the full tafseer →[لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ : تم لوگ لازماً چڑھو گے ایک منزل پر ایک منزل سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
اللہ جل شانہ نے ان آیات میں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم کھائی جو آرام کرنے کے لیے رات کو اپنے اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں اور چاند کی قسم کھائی جبکہ وہ پورا ہوجائے یعنی بدر بن کر آشکارا ہوجائے، قسم کھا کر فرمایا تم ضرور ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے یعنی احوال کے اعتبار سے مختلف طبقات سے گزرو گے ایک حال گزشتہ حال سے شدت میں بڑھ کر ہوگا پہلا حال موت کا اور دوسرا حال برزخ کا اور تیسرا حال قیامت کا ہوگا پھر ان حالات میں بھی تکثر و تعدد ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ0020 ﴾ (پھر کیا بات ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے) جب دنیا کے احوال سے گزر رہے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
7:۔ ” فلا اقسم “ یہ قیامت میں احوال مختلفہ پر شواہد ہیں۔ شفق وہ سرخی جو غروب آفتاب کے بعد نمودار ہوتی ہے اس پر بھی کئی حالات آتے ہیں۔ رات اور رات جن چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے رات پر بھی کتنے ہی حالات وارد ہوتے ہیں۔ اور چاند جب کامل ہوجائے اس پر کئی حالات آتے ہیں جس طرح غروب آفتاب کے بعد شفق اس کے بعد رات اور اس کے مختلف حصے، پھر طلوع اسی طرح چاند پہلے دن سے لے کر تام اور بدر ہونے تک مختلف حالات سے گذرتا ہے۔ یہ شواہد ہیں کہ قیامت کے دن تم بھی مختلف احوال سے گذرو گے۔ ایک درجہ سے دوسرے درجہ پر اور ایک حال سے دوسرے حال میں پہنچو گے۔ یہ عذاب اور ثواب دونوں کے مختلف درجات و احوال کی طرف اشارہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(گذشتہ سے پیوستہ)
جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…
Read the full tafseer →لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ 19 ۭ
ركب
الرُّكُوبُ في الأصل : كون الإنسان علی ظهر حيوان، وقد يستعمل في السّفينة، والرَّاكِبُ اختصّ في التّعارف بممتطي البعیر، وجمعه رَكْبٌ ، ورُكْبَانٌ ، ورُكُوبٌ ، واختصّ الرِّكَابُ بالمرکوب، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] ، فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ
) رک ب ) الرکوب
کے اصل معنی حیوان کی پیٹھ پر سوار ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] تاکہ ان سے سواری کا کام لو اور ( سواری کے علاوہ یہ چیزیں ) موجب زینت ( بھی ) ہیں ۔ مگر کبھی کشتی وغیرہ سواری ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فَـلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۔ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ ۔ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۔ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ (الانشقاق : 16 تا 19)
(پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے۔ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھنا ہے۔ )
قیامت پر تین شواہد
اس سے پہلے قیامت پر جو دلیل پیش کی گئی ہے اس پر یہ تین شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات اور اس کے قانون میں ایک نظام تدریج کام کررہا ہے۔ ایک چیز وجود میں آتی ہے پھر وہ رفتہ رفتہ ارتقاء پذیر ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فہم القرآن
ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔
خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →19 : لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ (تم لوگوں کو ضرور ایک حالت کے بعددوسری حالت میں پہنچنا ہے) اے انسانوں، جب ضمیر جنس انسان کی طرف لوٹائیں۔ ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچنا ہے ہر حالت دوسری کے ساتھ شدت و ہول میں مطابقت رکھنے والی ہے الطبق جو دوسرے کے مطابق ہو عرب کہتے ہیں ما ھذا بطبق لذا۔ ای لا یطابقہ یہ اس کے مطابق نہیں اسی وجہ سے ڈھکنے کو الطبق ؔ کہتے ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ الطبق یہ طبقۃ کی جمع ہو اور اس کا معنی مرتبہ ہو جیسے کہتے ہیں ھو علی طبقاتٍ وہ کئی مرتبوں پر ہے اب معنی ہوگا تم حالات کے بعد دوسرے حالات میں پہنچو گے وہ حالات سختی میں ایک دوسرے سے کم زیادہ مرتبہ رکھتے ہونگے۔…
Read the full tafseer →19 ۔” لترکبن طبقا عن طبق “ اہل مکہ، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” لترکبن “ باء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اے محمد ! (ﷺ ) آپ ضرور سوار ہوں گے۔ شعبی اور مجاہد نے کہا آسمان کے بعد آسمان۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ ان پر چڑھیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر درجہ کے بعد درجہ اور مرتبہ کے بعد مرتبہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور بلندی میں۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ” لترکبن طبقا عن طبق “ ایک حال کے بعد دوسرا حال۔ کہا یہ تمہارے نبی ہیں اور کہا گیا ہے اس سے آسمان کو مراد لیا ہے جو ایک رنگ کے بعد دوسرا رنگ تبدیل کرتا ہے۔ پس کبھی سرخ چمڑے کی طرح ہوتا اور کبھی زیتون کے پتلے تیل کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ) اور چاند کی جب چاند ماہ کامل نور بن جانے پرنور سے لبریز ہوجائے اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ کا یہ ارشاد ہے (لَتَرْكَبُنَّ ) اے لوگو۔ تم گزرتے ہو۔ ( طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ) متعدد اور متباین اطوار واحوال میں سے ہے۔ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک پھر بچہ ہوتا ہے بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے پھر اس پر تکلیف اور امر ونہی کا قلم جاری ہوتا ہے پھر وہ مرجاتا ہے پھر اسے اس کے اعمال کی جزاوسزا دی جائے گی بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
شفق کسے کہتے ہیں
قول باری ہے (فلا اقسم بالشفق۔ پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی) مجاہد کا قول ہے کہ شفق نہار یعنی دن کے وقت کو کہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (واللیل وما وسق اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ شفق بیاض یعنی سفیدی کو کہتے ہیں۔
ابوجعفر محمد نے کہا ہے کہ شفق اس سیاہی کو کہتے ہیں جو سفیدی کے غائب ہوجانے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ شفق کے اصل معنی رقت یعنی پتلا پن کے ہیں۔ اسی سے پتلے کپڑے کو ” ثوب شفق “ کہا جاتا ہے۔ اسی سے شفقت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی رقت قلب کے ہیں۔ جب شفق کے اصل معنی یہ ہیں تو اس سے سرخی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(13) منکرین کی تردید کے لیے تین قسموں کا ذکرو بیان : سو منکرین کی تردید اور ان کے مزاعم باطلہ کی تفنید کے لیے یہاں پر معلوم و مشاہد حقائق میں سے تین کی قسم کھائی گئی ہے۔ پس جس طرح ان تینوں حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اس کائنات میں ٹھہراؤ نہیں بلکہ لگاتار تغیر اور انقلاب جاری وساری ہے، انسان ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، بڑھاپے سے موت اور قبر، اور وہاں سے برزخ اور آخرت۔ یہاں تک کہ یہ آخرت کے اس دار القرار میں پہنچ جائے گا جہاں اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے، یا نعمتوں میں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا الَّذِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے
تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔
احکام کی قسمیں۔
احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →ف 8 حالانکہ یہ ایمان ملانا ان کی اپنی عقل کا تقاضا اور اپنے دل کی آواز ہے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔
Read the full tafseer →(84:19) لترکین طبقا عن طبق۔ جملہ جواب قسم ہے۔ لترکبن۔ مضارع معروف بلام تاکید و نون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رکوب (باب سمع) مصدر بمعنی سواری کرنا۔ اس کے اصل معنی تو جانور کی پشت پر سوار ہونے کے ہیں لیکن یہ کشتی پر سوار ہونے کے لئے بھی مستعمل ہے جیسے فاذا رکبوا فی الفلک دعو اللہ مخلصین لہ الدین (29:65) پھر جب یہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے ہیں (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔
یہاں آیت زیر مطالعہ میں مجازا ایک منزل کے بعد دوسری منزل سے گزرنے اور ایک حال سے دوسرے حال سے گزرنے کے لئے اس کا استعمال ہوا ہے۔
طبقا مفعول فعل لترکبن کا۔ عن طبق صفت طبقا کی ہے طیق بمعنی طبقہ درجہ۔ منزل، حال،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔
تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔
تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) یعنی اس کا نور کامل ہوجائے اور یہ ایام بیض یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں تاریخوں میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[7] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ فرمایا سورج غروب ہونے کے بعد شفق کی سرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں انسان اور حیوانات کا اپنے اپنے ٹھکانوں میں جمع ہوجانا اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر ماہ کامل بننا، یہ تمام باتیں اس پر گواہ ہیں کہ کائنات میں ایک مسلسل اور درجہ بدرجہ تغیر ہر طرف پایا جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کے اپنے وجود میں بھی ٹھہراؤ نہیں ہے اور اسے درجہ بدرجہ بچپن، جوانی، بڑھاپا، موت، حشرونشر، حساب و کتاب اور جزاوسزا کی منزلوں سے گزرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
زندگی یک قلم تحولات کا نام ہے
اس سے قبل کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بعثت وحشر کے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس آیت کی وجہ استحالہ کی تردید ہے ۔ اور فرمایا کہ اس میں عقلاً کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جس طرح نظام قدرت میں تم دوسری تبدیلیاں دیکھتے ہو اور تم کو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کی ایک تبدیلی اور محول ہے ۔ جیسا کہ سورج غروب ہوتا ہے اور اس وقت ایک سرخی سی افق پر چھاجاتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ جیسا کہ چودھویں شب کا چاند سارے آسمان کو روشن کردیتا ہے ۔ اسی طرح تمہاری زندگی کا آفتاب غروب ہوتا ہے تو موت کی شفق برزخ کے کناروں پر نظر آتی…
Read the full tafseer →(19) ان مذکورہ چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم لوگوں کو یقینا ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے اور تم کو چڑھنا ہے سیڑھی پر سیڑھی۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کو باعتبار جنس خطاب فرمایا تھا یہاں اس جنس کے تمام افراد کو مخاطب بنایا اور قسمیں کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم کو ایک حالت پر ٹھہرنا نہیں ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر اور ایک کھنڈ سے دوسرے کھنڈ پر دنیوی نشیب و فراز اور چڑھائو اتار سے گزر کر موت تک پہنچنا ہے پھر عالم برزخ سے گزر کر میدان حشر ہے اور وہاں خدا جانے کتنے مختلف احوال سے گزرنا ہے۔
آخر میں دوزخ یا جنت آخری ٹھکانا بننا ہے یہی حالت شفق کی ہے کہ شروع شروع روشنی رہتی ہے پھر رات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ف 5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔
Read the full tafseer →تم صرف درجہ بدرجہ ان حالتوں کو پہنچو گے
19 ؎ ( ترکبن) تم ضرور سوار ہو گے رکوب سے مضارع بانون تاکید کا صیغہ جمع مذکر حاضر ( طبقا) ( طبق) اصل مادہ ط ب ق ہے اور طبقہ درجہ ، منزل ، کھنڈ ، حال ، حالت ، طبق اصل میں مطلقا ً اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز کے مطابق ہو اور عرف میں یہ الفاظ اس حال کے لیی خاص ہوگیا ہے کہ جو دوسرے حال کے مطابق ہو ۔ بعض علماء لغت نے صبق کو طبقۃ کی جمع بتایا ہے جس کے معنی درجہ کے ہیں اور بعض کے خیال میں یہ اسم جنس جمع ہے جو واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے اور زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ تم کو ضرور ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچنا ہے۔ گویا ایک منزل سے دوسری منزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (So, I swear by the twilight [ after sunset ], and by the night and what it envelops, and by the moon when it develops at the full...84:16-18) In these verses Allah takes oath by four phenomena and reinforces what was asserted in:
إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ
'you have to work hard constantly to reach your Lord'
If we consider the four phenomena by which oath is taken, it bears evidence to the subject which is forthcoming in the complement of the oath, that is, the condition of man never remains the same at all…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
11 That is, "You will not remain in one and the same state, but will have to pass through countless stages gradually, from youth to old age, from old age to death, from death to barzakh (the intermediary state between death and Resurrection) , from barzakh to Resurrections from Resurrection to the Plain of Assembly, then to the Reckoning, and then to the meting out of rewards and punishments. An oath has been sworn by three things to confine this:
(1) by the twilight,
(2) by the darkness of night and the gathering together in it of aII those human beings and animals who remain scattered in…
Read the full tafseer →