Explained with ayahs 16–25
پیشین گوئی
شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْاِنْشِقَاق 11
یعنی تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے، بڑھاپے سے موت، موت سے برزخ، برزخ سے دوبارہ زندگی، دوبارہ زندگی سے میدان حشر، پھر حساب و کتاب اور پھر جزا و سزا کی بیشمار منزلوں سے لازما تم کو گزرنا ہوگا۔ اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد شفق کی سرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں ان بہت سے انسانوں اور حیوانات کا سمٹ آنا جو دن کے وقت زمین پر پھیلے رہتے ہیں اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر بدر کامل بننا۔ یہ گویا چند وہ چیزیں ہیں جو اس بات کی علانیہ شہادت دے رہی ہیں کہ جس کائنات میں انسان رہتا ہے اس کے اندر کہیں ٹھیراؤ نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے…
Read the full tafseer →یہ ان لوگوں کی حالت پر اظہار تعجب ہے کہ اتنے واضح شواہد کے بعد بھی آخر ان کی کیا مت ماری ہوئی ہے کہ یہ آخرت اور جزا و سزا پر ایمان نہیں لا رہے ہیں!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہونگے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی (یہ جواب قسم ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
7: انسان اپنی زندگی میں مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے۔ بچپن، جوانی، ادھیڑ عمر اور پھر بڑھاپا، نیز اس کی سوچ میں بھی مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ یہ سارے مراحل اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ہاں اس بات کے لئے ان کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے ، اس کائنات کے مناظر میں ، اور خود انسانوں کے نفوس میں اس قدر شواہد اور آثار ہیں کہ قلب انسانی جدھر بھی متوجہ ہو ، وہ اسے دعوت نظارہ دیتے ہیں جہاں بھی زندہ فکرہو ، یہ شواہد بڑھ چڑھ کر سامنے آتے ہیں۔ یہ آثار و شواہد اس قدر کثرت سے ہیں ، اس قدر قوی ہیں اور اس قدر گہرے ہیں کہ اگر کسی بشر کا دل ان کی طرف ذرا بھی ملتفت ہو ، متوجہ ہو تو وہ اسے گھیر لیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی طرف کان دھرے ، متوجہ ہو اور ان کی بات سنے تو یہ شواہد ہر جگہ اس کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں اور بآواز بلند بھی بات کرتے ہیں۔
فمالھم .................... یسجدون (21:84) السجدة ” پھر ان…
Read the full tafseer →15 کہ ہم کو موت کے بعد بھی کسی طرف رجوع ہونا ہے اور ایک بڑا بھاری سفر درپیش ہے جس کے لئے کافی توشہ ساتھ ہونا چاہئیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آیت 19{ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ۔ } ”اسی طرح تم لازماً چڑھو گے درجہ بدرجہ۔“
یعنی جس طرح چاند درجہ بدرجہ بڑا ہو کر مرحلہ وار رات کو روشن کرتا ہے بالکل اسی طرح تم مرحلہ وار کوششوں سے غلبہ دین کی منزل تک پہنچو گے۔ واضح رہے کہ لَتَرْکَبُنَّ کے صیغے میں زور اور تاکید بھی ہے کہ تم لوگ اس منزل تک ضرور پہنچو گے۔ ظاہر ہے ہمیں یہ خبر محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے وَھُوَ الصَّادِقُ وَالْمَصْدُوْق ! آپ ﷺ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دنیا پر اسلام کا مکمل غلبہ ہو کر رہے گا۔ البتہ اسلام کے پہلے غلبے کی شان اور تھی اور دوسرے غلبے کا انداز اور ہوگا۔ یہ فرق سورة المدثر کی آیت 34 اور زیر مطالعہ…
Read the full tafseer →15 یعنی کئی طرح کے تغیرات خود ان کی ذات پر وارد ہو رہے ہیں۔ اور کئی طرح کے تغیرات وہ کائنات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر بھی انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ اللہ کے سامنے بالکل مجبور و بےبس ہیں۔ وہ کچھ ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ ان کے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ انہیں بہرحال اللہ کے فیصلہ کے مطابق اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا اور اس سے یقیناً محاسبہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
10۔ (اللہ کی آگے کمال شقاوت سے) (آیت) ” لایسجدون “۔ سجدہ “۔ یہاں اصطلاحی معنی میں نہیں، انقیاد، کمال تعظیم کی لغوی معنی میں ہے۔ (آیت) ” فمالھم لایؤمنون “۔ اپنی بصیرت پر ایسے غفلت کے پردے انہوں نے ڈال رکھے ہیں کہ مشاہدات فطرت سے ذرا سبق ایمان کا نہیں لیتے۔ (آیت) ” واذا ...... یسجدون “۔ اور اس سے بھی بڑھ کر کمال شقاوت یہ ہے کہ قرآن جو ان غفلت کے پردوں کو اٹھاتا جاتا ہے، اور اسی لیے ہے، اس سے بھی ہدایت کا اثر نہیں قبول کرتے۔ فقہاء نے آیت سے سجدۂ تلاوت کا وجوب نکالا ہے۔ یستدل بہ علی وجوب سجدۃ التلاوۃ لذمہ لتارک السجود عند سماع التلاوۃ (جصاص)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →فمالھم لا یومنون . اس استفہام سے مقصود ہے انکار اور تعجب کا اظہار۔ وعد ابرار اور وعید فجار جو اوپر گزرا ‘ اس
سے یہ کلام تعلق رکھتا ہے۔ درمیان میں جملہ فلا اقسم بطور معترضہ ذکر کیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کلام کا ربط آیت : لترکبن طبقا عن طبق سے ہو کیونکہ تبدیل احوال سے تبدیل کرنے والے کی ہستی کا پتہ چلتا ہے پھر کیا وجہ کہ اس کو نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(20۔ 22) ان مکہ کے کافروں کو کیا ہوا کہ یہ ایمان نہیں لاتے یا یہ کہ عبد یا لیل ثقفی کی اولاد کو مخاطب کیا جارہا ہے اور یہ تین تھے۔ مسعود، حبیب، ربیعہ۔ ان میں حبیب مشرف بااسلام ہوگئے اور بعد میں ربیعہ ایمان لائے اور جس وقت حضرت محمد ان کے سامنے قرآن حکیم پڑھتے ہیں تو یہ توحید خداوندی کے لیے نہیں جھکتے بلکہ یہ تو الٹا جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →فما لھم لایومنوکن : یعنی جب ایک حلات پر قرار نہیں تو یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ انہیں یہ ضد کیوں ہے کہ ہمیں مر کر اسی حالت میں رہنا ہے ؟
Read the full tafseer →فمالھم لایومنون۔ یعنی کون سی چیز انہیں ایمان سے روکتی ہے جب کہ جب کہ ان کے لیے آیات واضح ہوگئی اور دلائل قائم ہوگئے یہ استفہام انکاری ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ تعجب ہے ان پر تعجب کرو کہ وہ ان آیات کے ہوتے ہوئے ایمان ترک کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
49۔ عبد بن حمید نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی تم کو ایک امر کے بعد دوسرے امرت کی طرت بتدریج چڑھنا ہے۔
51۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لترکبن طبقا عن طبق ایک حال کے بعد دوسرا حال کی طرف چڑھنا ہے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کے بارے میں ہے۔
52۔ ابی عبید فی القراءات و سعید بن منصور وابن منیع وابن جریر وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت لترکبن طبقا عن طبق یعنی باء کے فتح کے ساتھ اور فرمایا تمہارے نبی نے ایک حال کے بعد دوسرے حال کی طرف چڑھنا ہے۔
53۔ ابو عبید فی القراء ات و سعید بن منصور وابن منیع وعبد بن حمید وابن جریر…
Read the full tafseer →[فَمَا لَهُمْ : تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ][ لَا يُؤْمِنُوْنَ : (کہ) یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
اللہ جل شانہ نے ان آیات میں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم کھائی جو آرام کرنے کے لیے رات کو اپنے اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں اور چاند کی قسم کھائی جبکہ وہ پورا ہوجائے یعنی بدر بن کر آشکارا ہوجائے، قسم کھا کر فرمایا تم ضرور ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے یعنی احوال کے اعتبار سے مختلف طبقات سے گزرو گے ایک حال گزشتہ حال سے شدت میں بڑھ کر ہوگا پہلا حال موت کا اور دوسرا حال برزخ کا اور تیسرا حال قیامت کا ہوگا پھر ان حالات میں بھی تکثر و تعدد ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ0020 ﴾ (پھر کیا بات ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے) جب دنیا کے احوال سے گزر رہے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی :
قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
8:۔ ” فما لہم “ یہ زجر ہے ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے حالانکہ ان کے اعراض و انکار کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں اور جب ان کو قرآن پڑھ سنایا جاتا ہے تو عاجزی اور خشوع و خضوع نہیں کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔ ” بل الذین کفروا یکذبون “ ماقبل سے ترقی ہے وہ قرآن کو سن کر نہ صرف سجدہ نہیں کرتے، بلکہ وہ تو سرے سے اس کو مانتے ہی نہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں لیکن جو کچھ وہ جمع کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور اس کی ان کو پوری پوری سزا دے گا۔ ” ما یوعون “ جو کفر و عداوت وہ اپنے دلوں میں جمع کر رہے ہیں۔ بما یجمعون فی الصدور من الکفر والعداوۃ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(گذشتہ سے پیوستہ)
جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…
Read the full tafseer →فَمَا لَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 20 ۙ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فَمَا لَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَاِذَا قُرِیَٔ عَلَیْہِمُ الْقُرْاٰنُ لاَ یَسْجُدُوْنَ ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُکَذِّبُوْنَ ۔ (الانشقاق : 20 تا 22)
(تو پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے۔ اور جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ بلکہ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلا رہے ہیں۔ )
مخالفین کے ایمان نہ لانے پر تعجب کا اظہار
ان شواہد کے ذکر کے بعد اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آخرت میں جزاء و سزا کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جبکہ ان کے واضح ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ اور جس قرآن نے ایسے اہم حقائق کو نہایت سادہ دلائل کے ساتھ قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فہم القرآن
ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔
خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →20 : فَمَا لَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ (پس ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ ایمان نہیں لاتے )
Read the full tafseer →20 ۔” فمالھم لا یومنون “ یہ استفہام انکار کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ) اور چاند کی جب چاند ماہ کامل نور بن جانے پرنور سے لبریز ہوجائے اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ کا یہ ارشاد ہے (لَتَرْكَبُنَّ ) اے لوگو۔ تم گزرتے ہو۔ ( طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ) متعدد اور متباین اطوار واحوال میں سے ہے۔ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک پھر بچہ ہوتا ہے بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے پھر اس پر تکلیف اور امر ونہی کا قلم جاری ہوتا ہے پھر وہ مرجاتا ہے پھر اسے اس کے اعمال کی جزاوسزا دی جائے گی بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
شفق کسے کہتے ہیں
قول باری ہے (فلا اقسم بالشفق۔ پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی) مجاہد کا قول ہے کہ شفق نہار یعنی دن کے وقت کو کہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (واللیل وما وسق اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ شفق بیاض یعنی سفیدی کو کہتے ہیں۔
ابوجعفر محمد نے کہا ہے کہ شفق اس سیاہی کو کہتے ہیں جو سفیدی کے غائب ہوجانے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ شفق کے اصل معنی رقت یعنی پتلا پن کے ہیں۔ اسی سے پتلے کپڑے کو ” ثوب شفق “ کہا جاتا ہے۔ اسی سے شفقت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی رقت قلب کے ہیں۔ جب شفق کے اصل معنی یہ ہیں تو اس سے سرخی کی…
Read the full tafseer →(14) منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : یعنی اس سب کے باوجود منکرین کا انکار قابل تعجب اور لائق افسوس ہے اسی لیے ان کے انکار اور انکے حال بد پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ یہ پھر بھی ایمان نہیں لاتے، اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو یہ لوگ ( اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز نہیں ہوتے "۔ اور اتنے کھلے شواہد اور معقول دلائل کے باوجود یہ لوگ حق کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتے، اور یہی حال ہوتا ہے عناد اور ہٹ دھرمی کا کہ اس کے نتیجے میں انسان کھلے اور واضح حق کے آگے بھی چھپنے اور سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے
تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔
احکام کی قسمیں۔
احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 9 یعنی اپنے رب کے حضور عاجزی اور تابعداری اختیار نہیں کرتے اور نہ نماز پڑھتے ہیں۔ اس مقام پر سجدہ تلاوت مسنون ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔
Read the full tafseer →(84:20) فما لہم لا یؤمنون : ما استفہامیہ ہے پھر ان کو کیا ہوا کہ ایمان نہیں لاتے۔
علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔ اس استفہام سے مقصود ہے انکار اور تعجب کا اظہار۔ وعدہ ابرار اور وعید فجار جو اوپر گزرا اس سے یہ کلام تعلق رکھتا ہے درمیان میں جملہ فلا اقسم بطور معترضہ ذکر کیا گیا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کلام کا ربط آیت لترکبن طبقا عن طبق سے ہو کیونکہ تبدیل احوال سے تبدیل کرنے والے کی ہستی کا پتہ چلتا ہے پھر کیا وجہ کہ اس کو نہیں مانتے۔ (تفسیر مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔
تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔
تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) یعنی اس کا نور کامل ہوجائے اور یہ ایام بیض یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں تاریخوں میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[7] یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ فرمایا سورج غروب ہونے کے بعد شفق کی سرخی، دن کے بعد رات کی تاریکی اور اس میں انسان اور حیوانات کا اپنے اپنے ٹھکانوں میں جمع ہوجانا اور چاند کا ہلال سے درجہ بدرجہ بڑھ کر ماہ کامل بننا، یہ تمام باتیں اس پر گواہ ہیں کہ کائنات میں ایک مسلسل اور درجہ بدرجہ تغیر ہر طرف پایا جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کے اپنے وجود میں بھی ٹھہراؤ نہیں ہے اور اسے درجہ بدرجہ بچپن، جوانی، بڑھاپا، موت، حشرونشر، حساب و کتاب اور جزاوسزا کی منزلوں سے گزرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
زندگی یک قلم تحولات کا نام ہے
اس سے قبل کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بعثت وحشر کے عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس آیت کی وجہ استحالہ کی تردید ہے ۔ اور فرمایا کہ اس میں عقلاً کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جس طرح نظام قدرت میں تم دوسری تبدیلیاں دیکھتے ہو اور تم کو کوئی تعجب نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کی ایک تبدیلی اور محول ہے ۔ جیسا کہ سورج غروب ہوتا ہے اور اس وقت ایک سرخی سی افق پر چھاجاتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ جیسا کہ چودھویں شب کا چاند سارے آسمان کو روشن کردیتا ہے ۔ اسی طرح تمہاری زندگی کا آفتاب غروب ہوتا ہے تو موت کی شفق برزخ کے کناروں پر نظر آتی…
Read the full tafseer →(20) سو ان منکرین قیامت کو کیا ہوگیا کہ یہ لوگ نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ف 5۔ وہ حالتیں ایک موت ہے اس کے بعد احوال برزخ، اس کے بعد احوال قیامت، پھر خود ان میں بھی تعدد تکثیر ہے، اور ان قسموں کا مناسب مقام ہونا اس طرح ہے کہ رات کے احوال کا مختلف ہونا کہ اول شفق نمودار ہوتی ہے، پھر زیادہ رات آتی ہے تو سب سو جاتے ہیں اور پھر ایک رات کا دوسری رات سے نور قمر کی زیادت و نقصان میں مختلف ہونا یہ سب اختلاف احوال بعد الموت کے مشابہ ہے، نیز موت سے عالم آخرت شروع ہوتا ہے جیسے شفق سے رات شروع ہوتی ہے، پھر لبث برزگ لوگوں کے سو رہنے کے مشابہ ہے اور چاند کا پورا ہونا بعد محاق کے حیوة قیامت کے بعد فناء عالم کے مشابہ ہے۔
Read the full tafseer →پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ؟
20 ؎ تم کو کیا ہوا ہے کہ تم باوجود ایک انسان ہونے کے ایمان نہیں لاتے یا ایمان نہیں لانا چاہتے حالانکہ ان تغیرات کو تم روزانہ اپنی زندگی پر بھی ملاحظہ کر رہے ہو اور اپنے ارد گرد ماحول کو بھی دیکھ رہے ہو اور اللہ تعالیٰ کی اس وسیع و عریض کائنات میں ہر آن مشاہدہ کر رہے ہو پھر ان سارے تغیرات میں سے گزرنے کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو ۔ قیامت کے بپا میں جو حکمتیں قدرت الٰہی نے پنہاں رکھی ہیں ان پر نظر رکھنے کے لے تم تیار ہی نہیں ہو ۔ کتنے نادان ہو تم لیکن تمہارے خیال میں تم ہی دانایان وم و وطن ہو کہ اقتدار میں تمہارا بہت حصہ رکھا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (So, I swear by the twilight [ after sunset ], and by the night and what it envelops, and by the moon when it develops at the full...84:16-18) In these verses Allah takes oath by four phenomena and reinforces what was asserted in:
إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ
'you have to work hard constantly to reach your Lord'
If we consider the four phenomena by which oath is taken, it bears evidence to the subject which is forthcoming in the complement of the oath, that is, the condition of man never remains the same at all…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
11 That is, "You will not remain in one and the same state, but will have to pass through countless stages gradually, from youth to old age, from old age to death, from death to barzakh (the intermediary state between death and Resurrection) , from barzakh to Resurrections from Resurrection to the Plain of Assembly, then to the Reckoning, and then to the meting out of rewards and punishments. An oath has been sworn by three things to confine this:
(1) by the twilight,
(2) by the darkness of night and the gathering together in it of aII those human beings and animals who remain scattered in…
Read the full tafseer →