وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۟ۙوَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ
اور چاند کی جب کامل ہو جائے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the moon when it becomes full
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۟ۙوَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ
اور چاند کی جب کامل ہو جائے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the moon when it becomes full
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq
اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہو جاتا ہے
اور چاند کی جب کامل ہو جائے
اور چاند کی جب کہ وه کامل ہو جاتا ہے
اور چاند کی جب وہ بھر کو پورا ہوجائے۔
اور چاند کی جب پورا ہو
اور چاند کی جب وہ پورا دکھائی دیتا ہے،
اور چاند کی، جب وہ پورا ہوتا ہے !
اور چاند کی جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے
اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے
اور چاند کی جب کہ وہ پورا ہوجاتا ہے
اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے۔
اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے۔
اور چاند کی جب پورا ہوجائے۔
and by the moon, when it reaches its fullness:
and by the moon when it develops at the full,
and by the moon when it develops at the full,
And the moon when it Ittasaq.
And by the moon when she is at the full,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the moon when it becomes full
or by the moon when it is full,
And the moon when it grows full,
And by the moon when she becometh full.
And the Moon in her fullness:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–25
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
سورة الْاِنْشِقَاق 10 یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کردیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے…
Read the full tafseer →’وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ‘۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ’وَمَا وَسَقَ‘ تو تمام کواکب و نجوم اور تمام ثابت و سیارات پر مشتمل ہے لیکن قمر کو ان کے خاص فرد یا گل سرسبد کی حیثیت سے منتخب کر کے اس کے عروج و محاق اور کمال و زوال کو خاص طور پر نمایاں فرمایا اس لیے کہ ’یَا أَیُّہَا الْإِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ (۶) اور ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ کی حقیقت کا مظاہرہ جس طرح اس کے کمال و زوال میں ہوتا ہے اس طرح کسی دوسری چیز میں نمایاں ہو کر سامنے نہیں آتا۔ چنانچہ قرآن نے دوسرے مقام میں اس کے اس پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ فرمایا بھی ہے: ’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
6: یعنی جن چیزوں کو رات اپنے اندھیرے میں چھپالے۔ یہاں شفق، رات اور چاند کی قسم کھائی گئی ہے۔ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ انسان بھی ایک منزل سے دوسری منزل تک سفر کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے گا۔
Read the full tafseer →والقمر اذا تسق (18:84) ” اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل بن جائے “۔ یہ بھی ایک دھیما اور سحر انگیز خوبصورت منظر ہے۔ چاند جن راتوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اور زمین پر اپنا ٹھنڈا ، دھیما اور فکر انگیز نور بکھیرتا ہے۔ خاموشی ، ٹھنڈے ماحول میں کیا ہی خوبصورت نظارہ ہوتا ہے۔ مادی اور ظاہری بھی اور معنوی اور فکری بھی۔ یہ ایک ایسا نظارہ اور سفر ہے جو شام ، شفق اور ات کے چھاجانے سے ہم آہنگ ہے ، اسی نظارے کے بنیادی عناصر جمال و جلال اور خضوع وخشوع اور خاموشی اور سکون ہیں۔ یہ عظیم کائناتی مناظر ، نہایت ہی خوبصورت ، نہایت ہی فکر انگیز ، اور نہایت مرعوب کن ، تیز رفتار جھلکیوں کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں…
Read the full tafseer →13 یعنی چودھویں رات کا چاند جو اپنی حد کمال کو پہنچ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 18{ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۔ } ”اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے۔“ میری خالص ذاتی رائے کے مطابق واللہ اعلم ! سورة المدثر کی مذکورہ آیات 32 ‘ 33 ‘ 34 میں بعثت ِمحمدی ﷺ کی خبر دی گئی ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ آیات میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سورة المدثر کے مطالعے کے دوران اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ رات { وَالَّـیْلِ اِذْ اَدْبَرَ۔ } سے مراد چھ سو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے حضور ﷺ کی نبوت کے ظہور تک کا وہ طویل عرصہ ہے جس کے دوران وحی و نبوت کا سلسلہ منقطع رہا اور دنیا پر مجموعی طور پر کفر و شرک اور ضلالت و جہالت کے اندھیرے چھائے…
Read the full tafseer →13 اِتَّسَقَ کا بھی مادہ وَسَقَ ہی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اس چیز کے سب اجزاء مجتمع ہوگئے اور وہ مکمل ہوگئی یعنی چاند ہلال سے بڑھتا بڑھتا بدر کامل بن گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
8۔ یعنی بدرکامل بن جائے۔ (آیت) ” فلا ..... اقسم “۔ جن چیزوں کی قسمیں آگے آرہی ہیں، یہ سب زبان حال سے گواہی سے دے رہی ہیں، وقوع آخرت پر۔ اقسام قرآنی کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر (پ 14) کا ضمیمہ۔ (آیت) ” بالشفق “۔ جس طرح شفق سے رات کا آغاز ہوتا ہے، موت سے عالم آخرت کی ابتداء ہوتی ہے۔ (آیت) ” والیل “۔ جس طرح دن کے بعد رات میں ایک نئی حیات نومی کا تجربہ ہوتا ہے، حیات ناسوتی کے بعد ایک نئی حیات برزخی ملتی ہے۔ (آیت) ” وما وسق “۔ اس کے عموم میں وہ سارے جاندار بھی آجاتے ہیں، جو رات کو آرام لینے کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جاتے ہیں، (آیت) ” والقمر اذا اتسق “۔ چاند کہاں تو غائب ہوتا ہے اور کہاں پھر بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →والقمر اذا تسق . اور قسم ہے چاند کی جب وہ مکمل ہوجاتا ہے اور اس کی چاندنی روشن راتوں میں پوری ہو جاتی ہے۔ اِتَّسَقَ باب افتعال سے ہے وسق اس کا مجرد ہے وسق کا معنی ہے ‘ جمع کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(16۔ 19) میں قسم کھا کر کہتا ہوں شفق کی اور رات اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ کر جمع کرلیتی ہے اور چاند کی جب تیرہویں چودہویں اور پندرہویں رات کا ہوجائے کہ تم لوگوں کو ایک حالت کے بعد دوسری حالت کو بہر صورت پہنچنا ہے۔ یعنی پیدا ہونے کے بعد موت اور پھر جنت میں داخل ہونا ہے یا دوزخ میں، یا مطلب یہ ہے کہ شب معراج میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان پر آپ کو چڑھنا ہے۔
Read the full tafseer →(والقمر اذا اثسق :”اثسق“ اوپر مذکور ”وسق“ سے باب افتعال ہے، جمع ہونا، یعنی چودھویں رات کا پورا چاند بن جائے۔
Read the full tafseer →والقمر اذاتسق۔ یعنی چاند کی قسم جب وہ چاند مکمل ہوجائے مجمتع ہوجائے حجرت حسن بصری نے کہا، اتسق کا معنی ہے جب وہ بھرجائے اور مجمتعم ہوجائے، حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی ہے درست ہوجائے، قتادہ نے کہا، جب وہ گھومے، فراء نے کہا اتساقہ کا معنی ہے اس کا بھرجانا اور چودہویں رات کا مکمل ہوجانا، یہ وسق سے افتعال کا وزن ہے جس کا معنی جمع کرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے میں نے اسے جمع کیا تو وہ جمع ہوگئے جس طرح یہ کہتا جاتا ہے، وصلتہ فاتصل، یہ جملہ کہا جاتا ہے امر فلان متسق فلاں کا معاملہ درست اور منظم ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، اتسق الشی جب وہ پے درپے آئے۔
Read the full tafseer →43۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا اتسق اور چاند کی جو وہی پورا ہوجائے یعنی جب وہ پورا ہوجائے۔ 44۔ الطستی فی مسائلہ والطبرانی وابن الانباری فی الوقف والابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والقمر اذا اتسق کے بارے میں پوچھاتو فرمایا کہ اتساقہ سے مراد ہے اس کا جمع ہونا پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے ابن صرمہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ ان لنا قلائصا نقانقا مستوسقات لویجدن سائقا ترجمہ بیشک ہمارے پاس شتر مرغ کی مثل لمبی ٹانگوں والی اونٹنیاں ہیں وہ جمع ہوجاتی…
Read the full tafseer →[وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ : اور چاند کی جب وہ کامل ہوا ] [اِتِّسَاقًا : (افتعال) کسی چیز کے متفرق اجزا کا اکٹھا ہونا۔ جمع ہونا، اس طرح کہ وہ چیز پوری ہوجائے۔ کامل ہوجائے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
اللہ جل شانہ نے ان آیات میں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم کھائی جو آرام کرنے کے لیے رات کو اپنے اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں اور چاند کی قسم کھائی جبکہ وہ پورا ہوجائے یعنی بدر بن کر آشکارا ہوجائے، قسم کھا کر فرمایا تم ضرور ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے یعنی احوال کے اعتبار سے مختلف طبقات سے گزرو گے ایک حال گزشتہ حال سے شدت میں بڑھ کر ہوگا پہلا حال موت کا اور دوسرا حال برزخ کا اور تیسرا حال قیامت کا ہوگا پھر ان حالات میں بھی تکثر و تعدد ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ0020 ﴾ (پھر کیا بات ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے) جب دنیا کے احوال سے گزر رہے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
7:۔ ” فلا اقسم “ یہ قیامت میں احوال مختلفہ پر شواہد ہیں۔ شفق وہ سرخی جو غروب آفتاب کے بعد نمودار ہوتی ہے اس پر بھی کئی حالات آتے ہیں۔ رات اور رات جن چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے رات پر بھی کتنے ہی حالات وارد ہوتے ہیں۔ اور چاند جب کامل ہوجائے اس پر کئی حالات آتے ہیں جس طرح غروب آفتاب کے بعد شفق اس کے بعد رات اور اس کے مختلف حصے، پھر طلوع اسی طرح چاند پہلے دن سے لے کر تام اور بدر ہونے تک مختلف حالات سے گذرتا ہے۔ یہ شواہد ہیں کہ قیامت کے دن تم بھی مختلف احوال سے گذرو گے۔ ایک درجہ سے دوسرے درجہ پر اور ایک حال سے دوسرے حال میں پہنچو گے۔ یہ عذاب اور ثواب دونوں کے مختلف درجات و احوال کی طرف اشارہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…
Read the full tafseer →وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ 18 ۙ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ إذا إذا يعبّر به عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فَـلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۔ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ ۔ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۔ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ (الانشقاق : 16 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے۔ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھنا ہے۔ ) قیامت پر تین شواہد اس سے پہلے قیامت پر جو دلیل پیش کی گئی ہے اس پر یہ تین شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات اور اس کے قانون میں ایک نظام تدریج کام کررہا ہے۔ ایک چیز وجود میں آتی ہے پھر وہ رفتہ رفتہ ارتقاء پذیر ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…
Read the full tafseer →18 : وَالْقَمَرَ اِذَا اتَّسَقَ (اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے) جب کہ وہ جمع ہو اور کامل چاند بن جائے۔ اتسق یہ باب افتعال وسق سے ہے۔
Read the full tafseer →18 ۔” والقمر اذا اتسق “ جمع ہوجائے اور سیدھا ہوجائے اور اس کانو ر مکمل ہوجائے اور وہ ایام بیض میں ہوتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں گھومے اور یہ اقسعل کے وزن پر وسق سے ہے جس کا معنی جمع ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ) اور چاند کی جب چاند ماہ کامل نور بن جانے پرنور سے لبریز ہوجائے اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ کا یہ ارشاد ہے (لَتَرْكَبُنَّ ) اے لوگو۔ تم گزرتے ہو۔ ( طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ) متعدد اور متباین اطوار واحوال میں سے ہے۔ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک پھر بچہ ہوتا ہے بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے پھر اس پر تکلیف اور امر ونہی کا قلم جاری ہوتا ہے پھر وہ مرجاتا ہے پھر اسے اس کے اعمال کی جزاوسزا دی جائے گی بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
شفق کسے کہتے ہیں قول باری ہے (فلا اقسم بالشفق۔ پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی) مجاہد کا قول ہے کہ شفق نہار یعنی دن کے وقت کو کہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (واللیل وما وسق اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ شفق بیاض یعنی سفیدی کو کہتے ہیں۔ ابوجعفر محمد نے کہا ہے کہ شفق اس سیاہی کو کہتے ہیں جو سفیدی کے غائب ہوجانے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ شفق کے اصل معنی رقت یعنی پتلا پن کے ہیں۔ اسی سے پتلے کپڑے کو ” ثوب شفق “ کہا جاتا ہے۔ اسی سے شفقت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی رقت قلب کے ہیں۔ جب شفق کے اصل معنی یہ ہیں تو اس سے سرخی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(13) منکرین کی تردید کے لیے تین قسموں کا ذکرو بیان : سو منکرین کی تردید اور ان کے مزاعم باطلہ کی تفنید کے لیے یہاں پر معلوم و مشاہد حقائق میں سے تین کی قسم کھائی گئی ہے۔ پس جس طرح ان تینوں حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اس کائنات میں ٹھہراؤ نہیں بلکہ لگاتار تغیر اور انقلاب جاری وساری ہے، انسان ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، بڑھاپے سے موت اور قبر، اور وہاں سے برزخ اور آخرت۔ یہاں تک کہ یہ آخرت کے اس دار القرار میں پہنچ جائے گا جہاں اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے، یا نعمتوں میں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا الَّذِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی یکے بعد دیگرے متعدد حالات اور مراحل سے گزرنا ہے۔ چناچہ تم پہلے نطفہ ہوتے ہو پھر وہ نطفہ خون کا لوتھڑا بنتا ہے، پھر گوشت کا ٹکڑا پھ رسا میں روح پھونکی جاتی ہے پھر تم پیدا ہوتے ہو، پھر بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھے ہوتے ہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجاتی ہے۔ موت کے بعد عالم رزخ اور عالم برزخ کے بعد قیامت کے بیشمار مراحل ہیں جن سے درجہ بدرجہ تمہیں گزرنا ہے۔ تمہارے جسم کی ساخت اور زندگی کا نظام بنایا ہی اس طریق پر گیا ہے کہ اگر تم غور کرو تو خود سمجھ سکتے ہو کہ جس طرح موت کا آنا یقینی ہے اسی طرح موت کے بعد مختلف مراحل سے گزر کر جنت یا دوزخ میں پہنچنا بھی ناگزیر ہے۔
Read the full tafseer →(84:18) والقمر اذا اتسق : اس کا عطف بھی آیت نمبر 1 پر ہے اور میں قسم کھاتا ہوں چاند کی جب وہ پورا ہوجائے۔ اتسق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتساق (افتعال) مصدر سے۔ وہ پورا ہوا ، وہ مکمل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) یعنی اس کا نور کامل ہوجائے اور یہ ایام بیض یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں تاریخوں میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
[6] یعنی وہ چیزیں جو عادتہً دن کی روشنی میں منتشر رہتی ہیں اور رات کے وقت سمٹ کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہیں۔ انسان اپنے گھر میں، حیوان اپنے گھروں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں، کاروبار میں پھیلا ہوا سامان سمیٹ کر یکجا کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
ف 1: جس شخص کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا ، وہ اللہ کی نظروں میں حقیروذلیل ٹھہرے گا ۔ دنیا میں اس شخص کی کیفیت یہ تھی کہ عاقبت کے متعلق کبھی اس نے سوچا ہی نہ تھا ۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہمیشہ اپنے متعلقین اور وابستگان میں اسی طرح خوش وخرم زندہ رہے گا ۔ نہ کبھی مرے گا اور نہ مر کر اللہ کے حضور میں پیش ہوگا ۔ مگر کیونکر ایسا ہونا ممکن تھا ۔ جب کہ موت وبعثت اس ذات کے اتخیار میں ہے ۔ جو سب کچھ جانتی اور دیکھتی ہے ۔ جو یہ علم رکھتی ہے ۔ کہ بعض لوگ میرے نام کے اچھالنے کی پاداش میں سخت تکلیف وعسرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اور بعض ایسے ہیں کہ میرے دشمن ہیں ۔ مگر دنیا میں میں نے ان کو کسی…
Read the full tafseer →(18) اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے یعنی بدربن جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 4۔ مراد وہ سب جاندار ہیں جو رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے اپنے ٹھکانے آجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اور قسم ہے چاند کے رب کی جب وہ مکمل ہو جائے 18 ؎ ( اتسق) جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ مادہ تو اس کا بھی و س ق ہی ہے ( اتسق ) وہ پورا ہوا ، مکمل ہوا تساق سے جس کے معنی پورا ہونے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ قمر کے اتساق کے معنی قدرے بھرنے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ نور اسی وقت بھرتا ہے جب وہ بدر ہوجاتا ہے یعنی مکمل ہوجاتا ہے جیسے چودہویں اور پندرہویں کا چاند اور اس کی اس حالت کو ماہ یامہ کے لفظ سے بھی یاد کرتے ہیں ۔ پھر چاند کی اس حالت کو بھی بطور شہادت بھی پیش کیا جا رہا ہے اور مقصود بات کو مؤکد کرنا ہے خصوصاً وہ بات جو آنے والی آیت میں باپن کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (So, I swear by the twilight [ after sunset ], and by the night and what it envelops, and by the moon when it develops at the full...84:16-18) In these verses Allah takes oath by four phenomena and reinforces what was asserted in: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ 'you have to work hard constantly to reach your Lord' If we consider the four phenomena by which oath is taken, it bears evidence to the subject which is forthcoming in the complement of the oath, that is, the condition of man never remains the same at all…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
10 That is, it was against God's justice and His wisdom that He should overlook the misdeeds that he was committing and should not summon him before Himself to render his account of the deeds.
Read the full tafseer →