Al-Inshiqaaq 84:17

Al-Inshiqaaq · from ayah 17

84:17

وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ ۟ۙوَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَۙ‏

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] the night and what it envelops

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:17

اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس کی جمع کرده چیزوں کی قسم

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور رات کی اور ان تمام چیزوں کی جنہیں وہ سمیٹ لے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رات کی اور جو چیزیں اس میں جمع ہوتی ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رات کی اور ان چیزوں کی جنہیں وہ (اپنے دامن میں) سمیٹ لیتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رات کی اور اس چیز کی جسے وہ جمع کرتی ہے !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رات کی اور ان تمام چیزوں کی جن کو وہ سمیٹ لیتی ہے (اپنی سیاہ چادر میں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور رات کی اور ان چیزوں کی جنہیں وہ سمیٹ لیتی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ سمیٹے ہوئے ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور رات کی اور ان کی جو چیزیں اس میں سمٹ آتی ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and by the night and what it enfolds,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and by the night and what it envelops,

— Muhammad Taqi Usmani

and by the night and what it envelops,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the night and what it Wasaqa,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And by the night and all that it enshroudeth,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [by] the night and what it envelops

— Saheeh International

or by the night in which things all come together to rest,

— Muhammad Sarwar

And the night and that which it drives on,

— Muhammad Habib Shakir

And by the night and that which it driveth together,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 84:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–18

سورة الْاِنْشِقَاق 10 یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کردیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–20

فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَمَا وَسَقَ‘۔ رات کے بعد یہ ان چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کو رات اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس کی تشریح اہل لغت نے ’مَا جَمَعَ وَضَمَّ اِلَیْہِ‘ سے کی ہے، یعنی وہ چیزیں جن کو رات اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر حیوانات وغیرہ کو مراد لیا ہے اس لیے کہ رات میں وہ آرام کے لیے اس کے دامن میں پناہ گیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے دریاؤں، پہاڑوں اور درختوں وغیرہ کو مراد لیا ہے کہ رات ان سب پر اپنی چادر اڑھا دیتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کا تعلق اس مقسم علیہ سے سمجھ میں نہیں آتا جو اوپر مذکور ہوا درآنحالیکہ قسم کھائی جاتی ہی ہے مقسم علیہ کو ثابت کرنے کے لیے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–18

6: یعنی جن چیزوں کو رات اپنے اندھیرے میں چھپالے۔ یہاں شفق، رات اور چاند کی قسم کھائی گئی ہے۔ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ انسان بھی ایک منزل سے دوسری منزل تک سفر کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والیل وما وسق (17:84) ” اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے “۔ رات اور اس میں جو کچھ جمع ہوتا ہے ، اور جن چیزوں کو وہ اٹھالیتی ہے۔ نام لیے بغیر ہر معلوم ونامعلوم چیز جو رات کے پردے میں آجاتی ہے جو کچھ رات میں جمع ہوتا ہے ، جن چیزوں کو وہ سینے سے لگالیتی ہے۔ ان میں تمام چیزیں ، تمام زندہ مخلوق ، تمام جذبات اور تمام خفیہ جہان آجاتے ہیں۔ وہ تمام چیزیں جو زمین پر چلتی ہیں یا جو انسانی ضمیر میں خفیہ طور پر جاری وساری ہیں۔ غرض را ہوار خیال دور تک جاکر واپس ہوتا ہے اور انسانی فکر اور سوچ ان تمام مناظر کا احاطہ نہیں کرسکتی جو قرآن کے اس مختصر سے فقرے کا مدلول ہیں۔ والیل وما وسق (17:84) ” قسم ہے رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

12 یعنی آدمی اور جانور جو دن میں تلاش معاش کے لئے مکانوں سے نکل کر ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں رات کے وقت سب طرف سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 15{ بَلٰٓیج اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا۔ } ”کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب تو اسے خوب دیکھ رہا تھا۔“ اگلی تین آیات میں تین قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے یہ آیات سورة المدثر کی ان آیات کے ساتھ خاص مناسبت اور بہت گہری مشابہت رکھتی ہیں : { کَلَّا وَالْقَمَرِ - وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ - وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ۔ } ”کیوں نہیں ‘ قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے“۔ ان دونوں مقامات کے مابین ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ ان دونوں سورتوں میں قسموں پر مشتمل مذکورہ آیات سے بالکل نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ سورة المدثر میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

12 وَسَقَ کا لغوی مفہوم :۔ سورج کے طلوع ہونے کے بعد سب انسان تلاش معاش کی خاطر اور دوسرے چرند پرند اپنی پیٹ پروری کی خاطر اپنے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے ہیں اور جب رات آتی ہے تو سب آرام کے لیے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں اور یہی وسق کا مفہوم ہے یعنی کسی چیز کا اپنے منتشر اجزاء کو اکٹھا کرنا اور سمیٹ لینا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–18

8۔ یعنی بدرکامل بن جائے۔ (آیت) ” فلا ..... اقسم “۔ جن چیزوں کی قسمیں آگے آرہی ہیں، یہ سب زبان حال سے گواہی سے دے رہی ہیں، وقوع آخرت پر۔ اقسام قرآنی کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر (پ 14) کا ضمیمہ۔ (آیت) ” بالشفق “۔ جس طرح شفق سے رات کا آغاز ہوتا ہے، موت سے عالم آخرت کی ابتداء ہوتی ہے۔ (آیت) ” والیل “۔ جس طرح دن کے بعد رات میں ایک نئی حیات نومی کا تجربہ ہوتا ہے، حیات ناسوتی کے بعد ایک نئی حیات برزخی ملتی ہے۔ (آیت) ” وما وسق “۔ اس کے عموم میں وہ سارے جاندار بھی آجاتے ہیں، جو رات کو آرام لینے کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جاتے ہیں، (آیت) ” والقمر اذا اتسق “۔ چاند کہاں تو غائب ہوتا ہے اور کہاں پھر بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والیل وما وسق . مَا وَسَقَ سے مراد ہیں وہ مویشی جو دن میں ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں اور رات کو انکے ٹھکانوں پر جمع کردیتی ہے۔ منصور نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ ما وسق کا معنی یہ ہے کہ جس چیز کو رات اپنی لپیٹ میں لے ‘ لے اور تاریکی میں چھپالے۔ سعید بن جبیر ؓ نے کہا : رات میں جو کچھ کیا جائے (سب ما وسق میں داخل ہے) یعنی قسم ہے شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ دیتی ہے یا جن کو رات اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یا اس کی جو رات میں کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–19

(16۔ 19) میں قسم کھا کر کہتا ہوں شفق کی اور رات اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ کر جمع کرلیتی ہے اور چاند کی جب تیرہویں چودہویں اور پندرہویں رات کا ہوجائے کہ تم لوگوں کو ایک حالت کے بعد دوسری حالت کو بہر صورت پہنچنا ہے۔ یعنی پیدا ہونے کے بعد موت اور پھر جنت میں داخل ہونا ہے یا دوزخ میں، یا مطلب یہ ہے کہ شب معراج میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان پر آپ کو چڑھنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(والیل وما وسق :”وسق“ (ض) جمع کرنا اور اٹھا لینا۔ ساٹھ (60) صاع غلے کا ایک سوق ہوتا ہے، اسے وسق کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہ غلے کی خاصی مقدار جمع کئے ہوتا ہے۔”وما وسق“ کے عموم میں تمام آدمی اور جانور آجاتے ہیں، کیونکہ وہ سب دن بھر چلنے پھرنے کے بعد رات کو آرام کے لئے اپنے اپنے ٹھکانے پر جمع ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والیل وماوسق۔ جس کو جمع کرے اور لپیٹے، اس کا اصل معنی بادشاہ کا غضب ہے اس کا دبدبہ ہے اگر یہ رحمت کے دروازے سے بندوں کی طرف نہ آتی تو بندے اسکے آنے کو برداشت نہ کرسکتے لیکن یہ رات رحمت کے دروازے سے نکلی تو اس کے ساتھ مل گئی تو مخلوق اس کی طرف سکونت پذیر ہوگئی پھر لوگ متفرق ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے اور منقبض ہوئے اور ہر ایک اپنے ٹھکانہ کی طرف لوٹ ایا یا تو اس کی ہولناکی سے خوفزدہ ہو کر اسمیں سکون پایا اللہ تعالیٰ کے فرمان، جعل لکم الیل والنھار فیہ، القصص 73) اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایاتا کہ اسمیں سکون حاصل کرو، اور فرمایا، ولتبتغوا من فضلہ، الجاثیہ 12) تاکہ تم دن کے وقت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

39۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللی وما وق سے مراد ہے کہ قسم ہے رات کی اور ان کی جو اس میں داخل ہو۔ 40۔ ابو عبید فی فضائلہ وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وللیل وما وسق یعنی قسم ہے رات کی اور ان کی جن کو جمع کیے ہوئے ہے۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل وما وسق یعنی قسم ہے رات کی اور ان کی جو اس میں پناہ لیتی ہیں اور جن کو وہ جمع کیے ہوتی ہے یعنی سانپ بچو اور کیڑے، مکوڑے وغیرہ۔ 42۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما وسق سے مراد ہے قسم ہے رات کی اور جو کچھ اس میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–20

اللہ جل شانہ نے ان آیات میں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم کھائی جو آرام کرنے کے لیے رات کو اپنے اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں اور چاند کی قسم کھائی جبکہ وہ پورا ہوجائے یعنی بدر بن کر آشکارا ہوجائے، قسم کھا کر فرمایا تم ضرور ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے یعنی احوال کے اعتبار سے مختلف طبقات سے گزرو گے ایک حال گزشتہ حال سے شدت میں بڑھ کر ہوگا پہلا حال موت کا اور دوسرا حال برزخ کا اور تیسرا حال قیامت کا ہوگا پھر ان حالات میں بھی تکثر و تعدد ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ0020 ﴾ (پھر کیا بات ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے) جب دنیا کے احوال سے گزر رہے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–19

7:۔ ” فلا اقسم “ یہ قیامت میں احوال مختلفہ پر شواہد ہیں۔ شفق وہ سرخی جو غروب آفتاب کے بعد نمودار ہوتی ہے اس پر بھی کئی حالات آتے ہیں۔ رات اور رات جن چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے رات پر بھی کتنے ہی حالات وارد ہوتے ہیں۔ اور چاند جب کامل ہوجائے اس پر کئی حالات آتے ہیں جس طرح غروب آفتاب کے بعد شفق اس کے بعد رات اور اس کے مختلف حصے، پھر طلوع اسی طرح چاند پہلے دن سے لے کر تام اور بدر ہونے تک مختلف حالات سے گذرتا ہے۔ یہ شواہد ہیں کہ قیامت کے دن تم بھی مختلف احوال سے گذرو گے۔ ایک درجہ سے دوسرے درجہ پر اور ایک حال سے دوسرے حال میں پہنچو گے۔ یہ عذاب اور ثواب دونوں کے مختلف درجات و احوال کی طرف اشارہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–25

(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ۝ 17 ۙ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–25

ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–19

فَـلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۔ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ ۔ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۔ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ (الانشقاق : 16 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے۔ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھنا ہے۔ ) قیامت پر تین شواہد اس سے پہلے قیامت پر جو دلیل پیش کی گئی ہے اس پر یہ تین شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات اور اس کے قانون میں ایک نظام تدریج کام کررہا ہے۔ ایک چیز وجود میں آتی ہے پھر وہ رفتہ رفتہ ارتقاء پذیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–25

فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ (اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ لیتی ہے) وسقؔ جمع کرنے اور ملانے کے معنی میں ہے اور اس سے مراد ستارے اور ظلمت ہیں نمبر 2۔ جو رات میں تہجد وغیرہ کام کیے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” واللیل وما وسق “ یعنی جمع کیا اور ملایا۔ کہا جاتا ہے ” وسقتہ اسقہ وسقا “ یعنی میں نے اس کو جمع کیا اور ” استوثقت الابل “ جب وہ جمع کیے جائیں اور ملائے جائیں اور معنی قسم ہے رات کی اور اس کی جو جمع کیا جائے اور ملایا جائے جو دن میں چوپایوں میں سے منتشر تھے کیونکہ رات جب آتی ہے تو ہر چیز اپنے ٹھکانہ کی طرف لوٹتی ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جو لپیٹے اور ملائے اور اس پر تاریکی کرے اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں جو آگے آئے تاریکی یا ستاروں میں سے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اور جو اس میں عمل کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ) اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکٹھا کرلیت ہے یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–20

شفق کسے کہتے ہیں قول باری ہے (فلا اقسم بالشفق۔ پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی) مجاہد کا قول ہے کہ شفق نہار یعنی دن کے وقت کو کہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (واللیل وما وسق اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ شفق بیاض یعنی سفیدی کو کہتے ہیں۔ ابوجعفر محمد نے کہا ہے کہ شفق اس سیاہی کو کہتے ہیں جو سفیدی کے غائب ہوجانے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ شفق کے اصل معنی رقت یعنی پتلا پن کے ہیں۔ اسی سے پتلے کپڑے کو ” ثوب شفق “ کہا جاتا ہے۔ اسی سے شفقت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی رقت قلب کے ہیں۔ جب شفق کے اصل معنی یہ ہیں تو اس سے سرخی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–19

(13) منکرین کی تردید کے لیے تین قسموں کا ذکرو بیان : سو منکرین کی تردید اور ان کے مزاعم باطلہ کی تفنید کے لیے یہاں پر معلوم و مشاہد حقائق میں سے تین کی قسم کھائی گئی ہے۔ پس جس طرح ان تینوں حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اس کائنات میں ٹھہراؤ نہیں بلکہ لگاتار تغیر اور انقلاب جاری وساری ہے، انسان ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، بڑھاپے سے موت اور قبر، اور وہاں سے برزخ اور آخرت۔ یہاں تک کہ یہ آخرت کے اس دار القرار میں پہنچ جائے گا جہاں اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے، یا نعمتوں میں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا الَّذِیْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 6 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جن چیزوں کو راستہ سمیٹتی ہے “ اور وہ اس لحاظ سے کہ دن میں تمام جاندار و بےجان چیزیں بکھری ہوتی ہیں رات کو اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:17) والیل وما وسق۔ اس کا عطف الشفق پر ہے۔ اور میں قسم کھاتا ہوں رات کی اور میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے رات اکٹھا کرلیتی ہے۔ ما موصولہ وسق اس کا صلہ دونوں مل کر اقسم کا مقسم بہٖ ۔ وسق وسق (ضرب) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے سمیٹ کر جمع کرلیا۔ مجاہد کا قول ہے کہ :۔ ماوسق کا معنی یہ ہے کہ جس چیز کو رات اپنی لپیٹ میں لے لے اور تاریکی میں چھپالے ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ :۔ رات میں جو کچھ کیا جائے (سب ما وسق میں داخل ہے) یعنی قسم ہے شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ دیتی ہے یا جن کو رات اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یا ان کی جو رات میں کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی آدمی اور جانور جو دن میں تلاش معاش کے لیے مکانوں سے نکل کر ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں رات کے وقت سب طرف سے سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[6] یعنی وہ چیزیں جو عادتہً دن کی روشنی میں منتشر رہتی ہیں اور رات کے وقت سمٹ کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہیں۔ انسان اپنے گھر میں، حیوان اپنے گھروں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں، کاروبار میں پھیلا ہوا سامان سمیٹ کر یکجا کردیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–18

ف 1: جس شخص کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا ، وہ اللہ کی نظروں میں حقیروذلیل ٹھہرے گا ۔ دنیا میں اس شخص کی کیفیت یہ تھی کہ عاقبت کے متعلق کبھی اس نے سوچا ہی نہ تھا ۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہمیشہ اپنے متعلقین اور وابستگان میں اسی طرح خوش وخرم زندہ رہے گا ۔ نہ کبھی مرے گا اور نہ مر کر اللہ کے حضور میں پیش ہوگا ۔ مگر کیونکر ایسا ہونا ممکن تھا ۔ جب کہ موت وبعثت اس ذات کے اتخیار میں ہے ۔ جو سب کچھ جانتی اور دیکھتی ہے ۔ جو یہ علم رکھتی ہے ۔ کہ بعض لوگ میرے نام کے اچھالنے کی پاداش میں سخت تکلیف وعسرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اور بعض ایسے ہیں کہ میرے دشمن ہیں ۔ مگر دنیا میں میں نے ان کو کسی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

ف 4۔ مراد وہ سب جاندار ہیں جو رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے اپنے ٹھکانے آجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور رات کے رب کی بھی جب وہ سب کچھ سمیٹ لیتی ہے 17 ؎ ( وسق) کا مادہ و س ق ہی ہے واحد مذکرغائب ماضی معروف وسق مصدر ( ضرب) سمیٹ کر جمع کرلیا۔ یعنی سمیٹ کر جمع کرتی ہے ۔ رات آتے ہی جو کچھ سمیٹنے لگتی ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ چو پائے ، آدمی ، پرندے سب کو رات سمیٹ کر ہر ایک کو ٹھکانے پر پہنچا دیتی ہے اور اس مادہ سے لفظ ( اتسق) کا بھی ہے اور یہی دونوں الفاظ ہیں جو قرآن کریم میں اس مادہ کے بیان ہوئے ہیں اور وہ بھی صرف اس مقام پر علاوہ ازیں کسی بھی دوسری جگہ پر دونوں الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ رات کو اور جو کچھ رات سمیٹ کر اکٹھا کرلیتی ہے سب کو استشہاد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور بات کو مؤکد کرنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–20

فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (So, I swear by the twilight [ after sunset ], and by the night and what it envelops, and by the moon when it develops at the full...84:16-18) In these verses Allah takes oath by four phenomena and reinforces what was asserted in: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ 'you have to work hard constantly to reach your Lord' If we consider the four phenomena by which oath is taken, it bears evidence to the subject which is forthcoming in the complement of the oath, that is, the condition of man never remains the same at all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–18

10 That is, it was against God's justice and His wisdom that He should overlook the misdeeds that he was committing and should not summon him before Himself to render his account of the deeds.

Read the full tafseer →