Al-Inshiqaaq 84:16

Al-Inshiqaaq · from ayah 16

84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۟ۙفَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِۙ

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

— Fateh Muhammad Jalandhari

So I swear by the twilight glow

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:16

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

— مولانا فتح محمد جالندہری

مجھے شفق کی قسم! اور رات کی!

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو مجھے قسم ہے شام کے اجالے کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو مجھے قَسم ہے شفق (یعنی شام کی سرخی یا اس کے بعد کے اُجالے) کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس نہیں، میں شفق کی قسم کھاتا ہوں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس میں شام کی سرخی کی قسم کھاتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

— مولانا اسحاق مدنی

تو نہیں مجھے قسم ہے شام کی سرخی کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مجھے شام کی سرخی کی قسم

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay; I swear by the twilight;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, I swear by the twilight (after sunset) ,

— Muhammad Taqi Usmani

So, I swear by the twilight (after sunset) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But no! I swear by Ash-Shafaq;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Oh, I swear by the afterglow of sunset,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So I swear by the twilight glow

— Saheeh International

I do not need to swear by the sunset,

— Muhammad Sarwar

But nay! I swear by the sunset redness,

— Muhammad Habib Shakir

I swear by the afterglow of sunset,

— Abdul Majid Daryabadi

So I do call to witness the ruddy glow of Sunset;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–25

پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–18

سورة الْاِنْشِقَاق 10 یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کردیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–20

فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اوپر کے دعوے پر بطریق قسم شہادت: اب آخر میں تین چیزوں کو بصورت قسم شہادت میں پیش کر کے اسی دعوے کو ثابت کیا ہے جو اوپر آیت ۶ میں گزر چکا ہے کہ ’اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب ہی کی طرف جا رہا ہے اور تجھے اس کے آگے پیش ہونا ہے‘۔ ان قسموں کا مقسم علیہ ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ ہے، جس سے یہ بات نکلی کہ تیرا خدا کے آگے پیش ہونا ہے تو ایک امر شدنی لیکن یہ کام ایک ترتیب و تدریج کے ساتھ ہو گا اس لیے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاری ہے کہ ہر چیز اپنی غایت و نہایت کو ایک تدریج کے ساتھ پہنچتی ہے۔ اس خلاصۂ بحث کو سامنے رکھ کر اب اجزائے کلام پر غور کیجیے۔ ’فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۵…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 شفق جو سورج غروب ہونے پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–16

5: سورة الحاقہ : 25 میں فرمایا گیا ہے کہ برے لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں بھی پیچھے کی طرف سے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ چند مناظر ہیں ، قرآن کریم ان کی قسم کھا کر قلب انسانی کو ان کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان پر غور کرو ، اس طرح انسانی دل و دماغ کو اشارات اور تاثرات سے بھر دیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے یہ لمحات ایک خاص نوعیت رکھتے ہیں ، ان میں ایک طرف خشوع اور دھیما پن ہے اور دوسری طرف پر جلال ہیبت ہے۔ جس طرح سورت کا آغاز پر جلال دھیمے مناظر سے تھا ، یہ لمحات اور مناظر بھی ایسے ہی ہیں۔ شفق کا وقت وہ ہوتا ہے جس میں ہر چیز سہم جاتی ہے ، غروب کے بعد نفس انسانی پر بھی ایک گہری خاموشی اور خوف کے سائے پڑجاتے ہیں۔ انسانی سوچ ان کو الوداع کہتی ہے اور الوداع میں ہمیشہ خاموشی اور دکھ کے سائے ہوتے ہیں اور پھر رات کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

12 یعنی آدمی اور جانور جو دن میں تلاش معاش کے لئے مکانوں سے نکل کر ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں رات کے وقت سب طرف سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 15{ بَلٰٓیج اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا۔ } ”کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب تو اسے خوب دیکھ رہا تھا۔“ اگلی تین آیات میں تین قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے یہ آیات سورة المدثر کی ان آیات کے ساتھ خاص مناسبت اور بہت گہری مشابہت رکھتی ہیں : { کَلَّا وَالْقَمَرِ - وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ - وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ۔ } ”کیوں نہیں ‘ قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے“۔ ان دونوں مقامات کے مابین ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ ان دونوں سورتوں میں قسموں پر مشتمل مذکورہ آیات سے بالکل نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ سورة المدثر میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

12 وَسَقَ کا لغوی مفہوم :۔ سورج کے طلوع ہونے کے بعد سب انسان تلاش معاش کی خاطر اور دوسرے چرند پرند اپنی پیٹ پروری کی خاطر اپنے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے ہیں اور جب رات آتی ہے تو سب آرام کے لیے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں اور یہی وسق کا مفہوم ہے یعنی کسی چیز کا اپنے منتشر اجزاء کو اکٹھا کرنا اور سمیٹ لینا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–18

8۔ یعنی بدرکامل بن جائے۔ (آیت) ” فلا ..... اقسم “۔ جن چیزوں کی قسمیں آگے آرہی ہیں، یہ سب زبان حال سے گواہی سے دے رہی ہیں، وقوع آخرت پر۔ اقسام قرآنی کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر (پ 14) کا ضمیمہ۔ (آیت) ” بالشفق “۔ جس طرح شفق سے رات کا آغاز ہوتا ہے، موت سے عالم آخرت کی ابتداء ہوتی ہے۔ (آیت) ” والیل “۔ جس طرح دن کے بعد رات میں ایک نئی حیات نومی کا تجربہ ہوتا ہے، حیات ناسوتی کے بعد ایک نئی حیات برزخی ملتی ہے۔ (آیت) ” وما وسق “۔ اس کے عموم میں وہ سارے جاندار بھی آجاتے ہیں، جو رات کو آرام لینے کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جاتے ہیں، (آیت) ” والقمر اذا اتسق “۔ چاند کہاں تو غائب ہوتا ہے اور کہاں پھر بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

فلا اقسم بالشفق الخ اس آی میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کے ساتھ مئوکد کر کے انسان کو پھر ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا ذکر کچھ پہلے انک کا دح الی ربک کدحاً میں آچکا ہے، یہ تینوں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اس مضمون کی شاہد ہیں جو اب قسم میں آنے والا ہے، یعنی انسان کو ایک حالت پر قرار نہیں اس کے حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–19

(16۔ 19) میں قسم کھا کر کہتا ہوں شفق کی اور رات اور ان چیزوں کی جن کو رات سمیٹ کر جمع کرلیتی ہے اور چاند کی جب تیرہویں چودہویں اور پندرہویں رات کا ہوجائے کہ تم لوگوں کو ایک حالت کے بعد دوسری حالت کو بہر صورت پہنچنا ہے۔ یعنی پیدا ہونے کے بعد موت اور پھر جنت میں داخل ہونا ہے یا دوزخ میں، یا مطلب یہ ہے کہ شب معراج میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان پر آپ کو چڑھنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فلا اقسم بالشفق : قسم سے پہلے ”لا“ کا مطلب منکرین کی بات کی نفی ہے۔ ”الشفق“ سورج غروب ہونے کے بعد آسمان کے کنارے کی سرخی جو عشاء تک رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فلا اقسم بالشفق۔۔۔۔ تا۔۔۔ لایسجدون۔ فلا اقسم بالشفق۔ معنی ہے میں قسم اٹھاتا ہوں لانافیہ صلہ (زائدہ) ہے شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج کے غروب ہونے کے وقت ہوتی ہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہوجاتا ہے، اشہب، عبداللہ بن حکم، یحییٰ بن یحییٰ اور دوسرے کثیر علماء نے امام مالک سے قول نقل کیا ہے، شفق سے مراد مغرب میں سرخی ہے جب سرخی ختم ہوجاتی ہے تو مغرب کا وقت ہوجاتا ہے اور عشاء کی نماز واجب ہوجاتی ہے، ابن وہب سے مروی ہے کہ مجھے کئی علماء نے حضرت علی بن ابی طالب، حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت شداد بن اوس، اور حضرت ابوہریرہ سے مجھے یہ خبر دی کہ ان کے نزدیک شفق سے مراد سرخی ہے، امام مالک بن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

37۔ ابن ابی شیبہ نے عوام بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے کہا آیت بالشفق سے کیا مراد ہے تو فرمایا کہ شفق سورج میں سے ہے۔ 38۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وابن المنذر وعبد بن حمید وابن امردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت الشفق سے مراد سرخی ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ : پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ] و س ق [وَسْقًا : (ض) کسی چیز کے متفرق اجزا کو اکٹھا کرنا۔ جمع کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔] نوٹ۔ 1: آیات۔ 16 تا 18 ۔ میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھا کر (یعنی شہادت کے طور پر پیش کر کے۔ مرتب) انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس ذکر بانَّکَ کَادِحٌ الٰی رَبِّکَ میں آچکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اس مضمون کی شاہد ہیں جو جو اب قسم لَتَرَکَبْنَّ طَبَاقًا عَنْ طَبَقٍ میں آنے والا ہے کہ انسان کو ایک حال پر قرار نہیں ہے۔ اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–20

اللہ جل شانہ نے ان آیات میں شفق کی اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم کھائی جو آرام کرنے کے لیے رات کو اپنے اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں اور چاند کی قسم کھائی جبکہ وہ پورا ہوجائے یعنی بدر بن کر آشکارا ہوجائے، قسم کھا کر فرمایا تم ضرور ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچو گے یعنی احوال کے اعتبار سے مختلف طبقات سے گزرو گے ایک حال گزشتہ حال سے شدت میں بڑھ کر ہوگا پہلا حال موت کا اور دوسرا حال برزخ کا اور تیسرا حال قیامت کا ہوگا پھر ان حالات میں بھی تکثر و تعدد ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ0020 ﴾ (پھر کیا بات ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے) جب دنیا کے احوال سے گزر رہے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–19

7:۔ ” فلا اقسم “ یہ قیامت میں احوال مختلفہ پر شواہد ہیں۔ شفق وہ سرخی جو غروب آفتاب کے بعد نمودار ہوتی ہے اس پر بھی کئی حالات آتے ہیں۔ رات اور رات جن چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے رات پر بھی کتنے ہی حالات وارد ہوتے ہیں۔ اور چاند جب کامل ہوجائے اس پر کئی حالات آتے ہیں جس طرح غروب آفتاب کے بعد شفق اس کے بعد رات اور اس کے مختلف حصے، پھر طلوع اسی طرح چاند پہلے دن سے لے کر تام اور بدر ہونے تک مختلف حالات سے گذرتا ہے۔ یہ شواہد ہیں کہ قیامت کے دن تم بھی مختلف احوال سے گذرو گے۔ ایک درجہ سے دوسرے درجہ پر اور ایک حال سے دوسرے حال میں پہنچو گے۔ یہ عذاب اور ثواب دونوں کے مختلف درجات و احوال کی طرف اشارہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–25

(گذشتہ سے پیوستہ) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ۝ 16 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–25

ترکیب ¦ فلا لا زائدۃ کمامر۔ الشفق الحمرۃ التی تبدو بعد غروب الشمس وسمی شفقا لرقتہ ومنہ الشفقۃ علی الانسان وھی رقۃ القلب علیہ والیل عطف علی الشفق وکذا ما وسق الوسق فی اللغۃ ضم الشیء بعضہ الی بعض یقال استوسقت الابل اذا اجمعت وانضمت والراعی یسقھا ای یجمعھا ای جمع وضم ماکان منتشرا فی النہار لان اللیل اذا اقبل اویٰ کل شیء الیٰ منزلہ قال قتادۃ والضحاک و مقاتل بن سلیمان ای ماحمل من الظلمۃ ومن الکواکب وقال سعید بن جبیر ای ما عمل فیہ من التھجد والاستغفار۔ والقمر معطوف علی اللیل التسق ھوا فتعل من الوسق وھو الجمع ای تکامل فی النور۔ لترکبن جواب القسم لترکبن بفتح التاء وضم الباء صیغۃ جمع المذکر الحاضرمن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–19

فَـلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۔ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ ۔ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ۔ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ ۔ (الانشقاق : 16 تا 19) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔ اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کی جبکہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے۔ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھنا ہے۔ ) قیامت پر تین شواہد اس سے پہلے قیامت پر جو دلیل پیش کی گئی ہے اس پر یہ تین شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات اور اس کے قانون میں ایک نظام تدریج کام کررہا ہے۔ ایک چیز وجود میں آتی ہے پھر وہ رفتہ رفتہ ارتقاء پذیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–25

فہم القرآن ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔ خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : فَلآَ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ (پس میں قسم کھاکر کہتا ہوں۔ شفق کی) اس میں سرخی کے بعد سفیدی کی قسم اٹھائی۔ نمبر 2۔ سرخی کی قسم اٹھائی

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” فلا اقسم بالشفق “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ مکمل دن ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں جو دن میں سے باقی رہا اور ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین رحمہما اللہ نے فرمایا ہے وہ سرخی جو سورج کے غروب ہونے کے بعد افق کے باقی رہ جاتی ہے اور ایک قوم نے کہا ہے وہ سفیدی جو اس سرخی کے بعد آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–25

16۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی ہے پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–20

شفق کسے کہتے ہیں قول باری ہے (فلا اقسم بالشفق۔ پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی) مجاہد کا قول ہے کہ شفق نہار یعنی دن کے وقت کو کہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (واللیل وما وسق اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ شفق بیاض یعنی سفیدی کو کہتے ہیں۔ ابوجعفر محمد نے کہا ہے کہ شفق اس سیاہی کو کہتے ہیں جو سفیدی کے غائب ہوجانے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ شفق کے اصل معنی رقت یعنی پتلا پن کے ہیں۔ اسی سے پتلے کپڑے کو ” ثوب شفق “ کہا جاتا ہے۔ اسی سے شفقت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی رقت قلب کے ہیں۔ جب شفق کے اصل معنی یہ ہیں تو اس سے سرخی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(12) منکرین کے زعم باطل کی تردید موکد : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے مزاعم باطلہ کی تردید موکد کے لیے ارشاد فرمایا گیا " پس نہیں " یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا کہ ان کفار و منکرین نے سمجھ رکھا ہے، کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا نہیں، بلکہ یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور یہ کہ زندگی بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، اور اسی کا عیش و عشرت سب کچھ ہے، وغیرہ۔ سو ایسا کہنا اور سمجھنا قطعا غلط اور حق و حقیقت کے بالکل خلاف ہے، دوبارہ اٹھنا ایک قطعی اور یقینی امر ہے، سو ایسے لوگوں کے اس زعم فاسد اور گمان باطل کی تردید فرمائی گئی اور تین چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ تم لوگوں کی کشاں کشاں چلتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 6 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جن چیزوں کو راستہ سمیٹتی ہے “ اور وہ اس لحاظ سے کہ دن میں تمام جاندار و بےجان چیزیں بکھری ہوتی ہیں رات کو اپنے ٹھکانے پر آجاتی ہیں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:16) فلا اقس بالشفق :عاطفہ ہے لا زائدہ ہے اقسم مضارع واحد متکلم اقسام (افعال) مصدر سے میں قسم کھاتا ہوں نیز ملاحظہ ہو 69:38 ۔ الشفق مقسم بہ (جس کی قسم کھائی جائے) الشفق آسمان کی سرخی جو غروب آفتاب کے بعد ہوتی ہے یا وہ سفیدی جو اس سرخی کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں :۔ سور کے غروب کے وقت دن کی روشنی کا رات کی سیاہی سے ملنا شفق ہے ۔ میں شفق کی قسم کھاتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) جو سرخی کے بعد نمودار ہوتا ہے اور جس کے غائب ہونے پر امام ابوحنیفہ کے نزدیک وقت عشاء شروع ہوتا ہے یہی قول ہے کثیر صحابہ اور بعض علماء شفق سے سرخی مراد لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–18

ف 1: جس شخص کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا ، وہ اللہ کی نظروں میں حقیروذلیل ٹھہرے گا ۔ دنیا میں اس شخص کی کیفیت یہ تھی کہ عاقبت کے متعلق کبھی اس نے سوچا ہی نہ تھا ۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہمیشہ اپنے متعلقین اور وابستگان میں اسی طرح خوش وخرم زندہ رہے گا ۔ نہ کبھی مرے گا اور نہ مر کر اللہ کے حضور میں پیش ہوگا ۔ مگر کیونکر ایسا ہونا ممکن تھا ۔ جب کہ موت وبعثت اس ذات کے اتخیار میں ہے ۔ جو سب کچھ جانتی اور دیکھتی ہے ۔ جو یہ علم رکھتی ہے ۔ کہ بعض لوگ میرے نام کے اچھالنے کی پاداش میں سخت تکلیف وعسرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اور بعض ایسے ہیں کہ میرے دشمن ہیں ۔ مگر دنیا میں میں نے ان کو کسی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–16

ف 3۔ مراد اس سے کفار ہیں اور پشت کی طرف سے ملنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں گی تو بایاں ہاتھ بھی پشت کی طرف ہوگا۔ دوسری صورت مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ہاتھ پشت کی طرف نکال دیا جائے گا۔ کذا فی الدر المنثور۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس نہیں ، میں شفق کے رب کی قسم کھاتا ہوں 16 ؎ ( شفق) خیال رہے کہ ( شفق) کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بعض شام کے وقت افق کی سرخی کو (شفق) کہتے ہیں اور بعض اس کی سپیدی کو ۔ راغب نے بیان کیا ہے کہ ” سورج کے ڈوب جانے پر ، دن کی روشنی اور رات کی سیاہی کی باہمی آمیزش شفق ہوتی ہے۔ یہ معنی کنارہ آسمان کی سرخی اور سپیدی دونوں پر مشتمل ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ ” ( شفق ) اضداد میں سے ہے ، اس سرخی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جو مغرب میں آفتاب غروب ہونے پر نظر آتی ہے اور امام شافعی نے اسی کو لیا ہے اور اس سپیدی کے لیے بھی آتا ہے جو سرخی کے بعد مغربی افق پر باقی رہتی ہے اور امام ابوحنیفہ نے اسی کو اختیار کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–20

فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ (So, I swear by the twilight [ after sunset ], and by the night and what it envelops, and by the moon when it develops at the full...84:16-18) In these verses Allah takes oath by four phenomena and reinforces what was asserted in: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ 'you have to work hard constantly to reach your Lord' If we consider the four phenomena by which oath is taken, it bears evidence to the subject which is forthcoming in the complement of the oath, that is, the condition of man never remains the same at all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–18

10 That is, it was against God's justice and His wisdom that He should overlook the misdeeds that he was committing and should not summon him before Himself to render his account of the deeds.

Read the full tafseer →