Al-Inshiqaaq 84:15

Al-Inshiqaaq · from ayah 15

84:15

بَلٰۤی ۛۚ— اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًا ۟ؕبَلٰٓى ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا

ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But yes! Indeed, his Lord was ever of him, Seeing.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:15

پلٹنا کیسے نہ تھا، اُس کا رب اُس کے کرتوت دیکھ رہا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیوں نہیں، حاﻻنکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیوں نہیں ؟ اس کا پروردگار اسے یقینی طور پر دیکھ رہا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہاں کیوں نہیں بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیوں نہیں! بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب اسے خوب دیکھنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیوں نہیں آئے گا اس کا پروردگار تو اسے دیکھ رہا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں، کیوں نہیں ! اس کا رب تو اس کو اچھی طرح دیکھ رہا تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیوں نہیں اس کا رب تو اسے ہر حال میں دیکھ رہا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

ضرور ہے اس کا پروردگار اسے خوب دیکھتا رہتا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب تو اسے خوب دیکھ رہا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیوں نہیں ! اس کا رب اس کو دیکھتا تھا

— محترمہ رفعت اعجاز

But no; (how would he not revert)? His Lord was ever watching him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No! Indeed his Lord was watchful over him.

— Muhammad Taqi Usmani

No! Indeed his Lord was watchful over him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but lo! his Lord is ever looking on him!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But yes! Indeed, his Lord was ever of him, Seeing.

— Saheeh International

This is a fact. Their Lord is Well-Aware of (all that they do).

— Muhammad Sarwar

Yea! surely his Lord does ever see him.

— Muhammad Habib Shakir

Yea! his Lord had ever been beholding him.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, nay! for his Lord was (ever) watchful of him!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–18

سورة الْاِنْشِقَاق 10 یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کردیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

فسوف یدعوا ثبوراً یعنی جس کا اعمالنامہ اس کی پشت کی طرف سے اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ وہاں اس کی تمنا کرے گا کہ کاش وہ پھر مر کر مٹی ہوجائے اور عذاب سے بچ جائے گا مگر وہاں یہ ناممکن ہوگا بلکہ اس کہ جہنم میں داخل کردیا جائیگا، اس کی ایک وجہ یہاں یہ ارشاد فرمائی کہ وہ دنیا میں اپنے اہل و عیال میں آخرت سے بےفکر ہو کر مگن اور خوش رہا کرتا تھا، بخلاف مؤمنین کے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں کبھی بےفکری نہیں ہوتی، ہر عیش و راحت کے وقت بھی آخرت کی فکر ضرور لگی رہتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے ان کا حال بیان فرمایا ہے۔ انا کنا قبل فی اھلینا مشفقین یعنی ہم تو اپنے اہل و عیال کیساتھ آخرت سے بےفکر ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک برسر موقع استدراک: یہ ان کے اس ظن پر، جس کا اوپر حوالہ ہے، برسر موقع استدراک ہے کہ انھوں نے یہ گمان جو کیا تو بالکل غلط کیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کا رب ان کو دیکھ رہا تھا، تو جب دیکھ رہا تھا تو آخر یہ کس طرح روا تھا کہ وہ اپنے حضور میں پیشی کے لیے نہ بلاتا؟ یہ بات تو اس کی قدرت، حکمت، عدل اور رحمت سب کے منافی ہوتی! قیامت اور جزا و سزا کے حق میں یہ دلیل قرآن میں جگہ جگہ بیان ہو چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–16

5: سورة الحاقہ : 25 میں فرمایا گیا ہے کہ برے لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں بھی پیچھے کی طرف سے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بلی ان ................................ بہ بصیرا (15:84) ” پلٹنا کیسے نہ تھا ، اس کا رب اس کے کرتوت دیکھ رہا تھا “۔ اس کا ظن یہ تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہیں جانا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا رب تو اس کے حالات سے باخبر تھا ، اس کی حقیقت کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا ، اس کے تمام اقدامات ، اور تمام حرکات سے واقف تھا ، اللہ کو معلوم تھا کہ اس نے کس انجام تک پہنچنا ہے اور یہ کہ اللہ نے اس کو اس کے کیے کی سزا دینی تھی ، چناچہ ایسا ہی ہوا ، جب اللہ کے علم کے مطابق اس نے اپنی زندگی جہنم کے مطابق گزار دی ، اور اس نے ایسا ہی کرنا تھا۔ اس بدبخت کی تصویر کے بالمقابل ایک دوسرے شخص کی تصویر ہے جو نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی پیدائش سے موت تک برابر دیکھتا تھا کہ اس کی روح کہاں سے آئی، بدن کس کس چیز سے بنا۔ پھر کیا اعتقاد رکھا، کیا عمل کیا۔ دل میں کیا بات تھی۔ زبان سے کیا نکلا۔ ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا، اور موت کے بعد اس کی روح کہاں گئی اور بدن کے اجزاء بکھر کر کہاں کہاں پہنچے۔ وغیر ذٰلک۔ جو خدا آدمی کے احوال سے اس قدر واقف ہو اور ہر جزئی وکلی حالت کو نگاہ میں رکھتا ہو، کیا گمان کرسکتے ہو کہ وہ اس کو یوں ہی مہمل اور معطل چھوڑ دے گا ؟ ضرورت ہے کہ اس کے اعمال پر ثمرات و نتائج مرتب کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 15{ بَلٰٓیج اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا۔ } ”کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب تو اسے خوب دیکھ رہا تھا۔“ اگلی تین آیات میں تین قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے یہ آیات سورة المدثر کی ان آیات کے ساتھ خاص مناسبت اور بہت گہری مشابہت رکھتی ہیں : { کَلَّا وَالْقَمَرِ - وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ - وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ۔ } ”کیوں نہیں ‘ قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے“۔ ان دونوں مقامات کے مابین ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ ان دونوں سورتوں میں قسموں پر مشتمل مذکورہ آیات سے بالکل نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ سورة المدثر میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 یعنی اس کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک کے کارناموں پر اللہ کی نظر تھی کہ اس کی روح کہاں سے آئی، بدن کس کس چیز سے بنا، پھر پیدا ہو کر وہ کیسے اعمال بجا لاتا رہا۔ مرنے کے بعد اس کی روح کہاں ہے اور بدن کے اجزاء بکھر کر کہاں کہاں پہنچے۔ یہ سب باتیں اللہ کی نگاہ میں تھیں۔ اور یہ بات اللہ کی حکمت اور اس کے انصاف کے خلاف تھی کہ جیسے اعمال وہ کر رہا تھا اس کو نظر انداز کردیتا اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–15

7۔ (اس کے اقوال، احوال، اعمال سب کو) اور اس وقت جو اسے فی الفور سزا نہیں ملی، تو اس لیے کہ حکمت الہی، اور مشیت مطلق جزاء کا ایک وقت خاص مقرر کرچکی تھی۔ (آیت) ” انہ ...... مسرورا “۔ یہ دنیا میں اس طرح مگن اور سرمست تھا کہ آخرت کی طرف سے بالکل بےپرواوغافل ہی ہوگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–15

الی اھلہ مسروراً ” اہل “ سے مراد اہل خاندان دوست و احباب بھی مراد ہوسکتے ہیں جن کو حساب یسیر کے بعد چھوڑ دیا گیا ہوگا اور جنت میں ملنے والے حور و غلمان بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بلے . یہ نفی کا ایجاب ہے یعنی اللہ کی طرف واپسی لازمی ہے۔ انہ ربہ کان بہ بصیرا . یہ رجوع کو ثابت کرنے کی علّت ہے یعنی اس کی واپسی خدا کی طرف ضرور ہوگی اللہ اس کو ضرور سزا دے گا کیونکہ اللہ اس کے اعمال سے بخوبی واقف ہے ‘ دیکھ رہا ہے ‘ اس کے اعمال کو یونہی رائیگاں نہیں چھوڑے گا ‘ ضرور انتقام لے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) اس نے خیال کر رکھا تھا کہ آخرت میں اللہ کی طرف لوٹنا نہیں، کیوں نہ ہوتا اس کا رب اس کی پیدائش کے دن سے، اسے خوب دیکھتا تھا کہ اس کو مرنے کے بعد ہمارے پاس آنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–15

انہ ظن ان لن یحور…:”حار یحور حوراً“ (ن) لوٹنا۔ پیٹھ کے پیچھے اعمال نامہ ان لوگوں ملے گا جن کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے اور نہ کوئی حساب کتاب ہوگا۔ فرمایا، کیوں نہیں ! یقیناً تمہارا حساب ضرور ہونا تھا، تمہارا رب تمہارے اعمال و اقوال اور احوال سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا اور تمہارا اعمال نامہ بھی تیار کروا رہا تھا، مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت تمہیں مہلت دے رکھی تھی، اب وہ مہلت ختم ہوگئی، اب اپنے انکار اور بےفکری کا نتیجہ بھگتو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

بلی، ان ربہ کان بہ بصیرا۔ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح اس نے گمان کیا بلکہ وہ ضرور ہماری طرف لوٹے گا، اللہ تعایل اس کی تخلیق سے پہلے بھی اسے دیکھتا تھا اور جانتا تھا کہ اس کالوٹنا اس کی طرف ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کیوں نہیں وہ ضرور لوٹے گا پھر جملہ نئے سرے سے شروع کیا، فرمایا، اللہ تعایل اس کی تخلیق سے لے کر اس کے دوبارہ اٹھائے جانے تک اسے دیکھ رہا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کے حق میں جو شقاوت اور سعادت مقدر ہوچکی ہے اس کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ اور لیکن جس کو اعمال نامہ پیٹھ پیچھے دیا گیا۔ یعنی اس کا بایاں ہاتھ اس کے پیٹ پیچھے کردیا جائے گا۔ اور اس سے وہ اپنے اعمال نامہ کو لے گا۔ 31۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ ظن ان لن یحور بیشک اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 32 عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان لن یحور یعنی وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 34 عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَلٰٓى ان رَبَّهٗ : کیوں نہیں یقینا اس کا رب ][ كَان بِهٖ بَصِيْرًا : اس کو ہر حال میں دیکھنے والا تھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ بَلٰۤى1ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ0015﴾ (بیشک اس کا رب اس کو دیکھنے والا ہے) وہ یہ سمجھے کہ میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں بلکہ اس کو مرنا ہے پیشی ہونی ہے۔ فائدہ : حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ تو ہلاک ہی ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ﴿فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیْرًا﴾ (جس کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامہ دیا گیا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسان حساب سے مراد یہ ہے کہ صرف اعمال نامہ پیش کردیا جائے اور پوچھ گچھ نہ کی جائے اور جس کے حساب میں چھان بین کی گئی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

6:۔ ” انہ کان “ کافر دنیا میں اپنے اہل و عیال میں نہایت خوش وخرم رہتا تھا اور آخرت کی اسے کوئی فکر ہی نہ تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوگا اور نہ اسے حساب کتاب دینا ہوگا۔ بھلا یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے وہ ضرور اسے دوبارہ زندہ کر کے اس کے اعمال کی اس کو جزاء دے گا۔ لن یجور ای لن یرجع حیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–15

(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلٰٓى۝ 0۔ اِنَّ رَبَّہٗ كَانَ بِہٖ بَصِيْرًا۝ 15 ۭ بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–15

ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔ تفسیر ¦ فقال یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلٰٓی ج اِنَّ رَبَّـہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا۔ (الانشقاق : 15) (ہاں ! کیوں نہیں، بیشک اس کا رب اس کو اچھی طرح دیکھ رہا تھا۔ ) اصحاب الشمال کی حماقت بائیں ہاتھ میں نامہ عمل لینے والے کی اصل بھول یہ تھی کہ اسے کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنا نہیں۔ یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اس کے خاتمے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ اس پر استدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیسے پلٹنا نہیں، یہ تصور ہی تو ان کی تمام خرابیوں کی جڑ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا رب ہر وقت انھیں دیکھ رہا تھا۔ ان کا کوئی عمل اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھا۔ اس کے مقرر کردہ فرشتے برابر ان کا روزنامچہ تیار کررہے تھے۔ ان کا نامہ اعمال مرتب ہورہا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–15

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں کو ان کی پیٹھ کی طرف سے ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا ان کی دنیا میں حالت یہ تھی کہ وہ اپنے اہل و عیال میں خوش باش تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں واپس نہیں پلٹنا۔ ان کے اس عقیدہ کی تردید کرنے کے ساتھ یہ حقیقت بتلائی ہے کہ تم نے ہر صورت اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اس سورت کی آیت 9 میں ارشاد ہوا کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش و خرم جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کا ذکرہوا جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کی طرف سے دیا جائے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اس کے جہنم جانے کا بنیادی سبب یہ ہوگا کہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : بَلٰٓی اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا (کیوں نہ ہوتا اس کا رب اس کو خوب دیکھتا تھا) بلٰی لن یحور کی نفی کے بعد ایجاب کیلئے آیا ہے ای بلی لیحورنَّ کیوں نہیں ضرور بضرور وہ لوٹے گا۔ ان ربہ کان بہٖ اس کا رب اس کے اعمال کو بصیرًا دیکھنے والا ہے۔ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں پس ضروری ہے کہ اس کو لوٹا کر اس پر بدلہ دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔ پھر فرمایا ” بلی “ یعنی ویسے نہیں ہے جو اس نے گمان کیا بلکہ وہ ہماری طرف لوٹے گا اور اٹھایا جائے گا۔ ” ان ربہ کان بہ بصیرا “ اس کو پیدا کیا یہاں تک کہ اس کو اٹھایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(بَلٰٓى ڔ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًا) ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بےکار چھوڑ دے اس کو حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(11) منکرین کے زعم باطل کی تردید : سو منکرین کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے فرمایا گیا کہ " لوٹنا کیوں نہیں تھا جبکہ اس کا رب اس کو پوری طرح دیکھ رہا تھا " کلمہ " بلی " نفی کے بعد اثبات و ایجاب کے لیے آتا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ بنتا ہے کیوں نہیں ؟ یعنی ایسا کیوں نہیں جبکہ اس کے وجود و ایجاب کے لیے یہ اور وجہ پائی جاتی ہے، سو اس اعتبار سے یہاں پر اس ارشاد کا مطلب و مفہوم یہ بنے گا کہ لوٹنا کیوں نہیں ؟ جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و حکمت اور رحمت و عنایت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، اور نہ لوٹنا اس کی ان صفات عالیہ کے خلاف اور عقل و نقل کے تقاضوں کے منافی ہے، اسی لیے اس کے بعد ارشاد فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اس کا بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا کوئی عمل ایسا نہیں تھا جو اس کے مالک سے پوشیدہ تھا، اس لئے اس کا یہ سمجھنا کہ شاید وہ اس پر پکڑ سے محفوظ رہے، قطعی غلط اور بےبنیاد تھا۔5 شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج کے غروب ہوجانے کے بعد عشا تک آسمان کے کنارہ پر رہتی ہے۔ فلا اقم کا لفظی ترجمہ میں قسم نہیں کھاتا ہوں “ کیونکہ اس میں لا زائد ہے۔ تفصیلی بحث سورة قیاء کے شروع میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:15) بلی۔ ہاں۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :۔ ّ 1) نفی ماقبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی۔ تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ بھی نفی ما قبل کی تردید کے لئے ہے۔ (2) اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہو خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے :۔ الیس ذید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں) ۔ اور جواب میں کہا جائے بلی۔ یا استفہام توبیخی ہو جیسے :۔ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3-4) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی پیدائش سے موت تک برابر دیکھتا تھا کہ اس کی روح کہاں سے آئی بدن کس کس چیز سے بنا، پھر کیا اعتقادرکھا کیا عمل کیا، دل میں کیا بات تھی زبان سے کیا نکلا ، ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا، اور موت کے بعد اس کی روح کہاں گئی اور بدن کے اجزا بکھر کر کہاں پہنچے وغیرہ ذالک۔ جو خدا آدمی کے احوال سے اس قدرواقف ہو اور ہر جزئی وکلی خالت کو نگاہ میں رکھتا ہو کیا گمان کرسکتے ہو کہ وہ اس کو یوں ہی مہمل چھوڑ دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] لہذا اس کے لئے کس طرح روا تھا کہ اس کو اپنے حضور پیشی کے لئے نہ بلاتا ؟ یہ بات اس کی قدرت، حکمت، عدل اور رحمت سب کے منافی ہوتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–18

ف 1: جس شخص کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا ، وہ اللہ کی نظروں میں حقیروذلیل ٹھہرے گا ۔ دنیا میں اس شخص کی کیفیت یہ تھی کہ عاقبت کے متعلق کبھی اس نے سوچا ہی نہ تھا ۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہمیشہ اپنے متعلقین اور وابستگان میں اسی طرح خوش وخرم زندہ رہے گا ۔ نہ کبھی مرے گا اور نہ مر کر اللہ کے حضور میں پیش ہوگا ۔ مگر کیونکر ایسا ہونا ممکن تھا ۔ جب کہ موت وبعثت اس ذات کے اتخیار میں ہے ۔ جو سب کچھ جانتی اور دیکھتی ہے ۔ جو یہ علم رکھتی ہے ۔ کہ بعض لوگ میرے نام کے اچھالنے کی پاداش میں سخت تکلیف وعسرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اور بعض ایسے ہیں کہ میرے دشمن ہیں ۔ مگر دنیا میں میں نے ان کو کسی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) لوٹنا کیوں نہیں، بلاشبہ اس کا پروردگار اس کو خوب دیکھتا تھا - سورة فرقان میں ثبور کے معنی گزر چکے ہیں ہلاکت اور موت کو پکارے گا یعنی عذاب کے ڈر سے موت مانگے گا ۔ لیکن اس کو موت نہ آئے گی اور وہ آگ میں داخل ہوگا۔ بیشک وہ دنیا میں اپنے مال وحشم اور جاہ و خدم اور اپنے اہل و عیال میں بےغم اور بےفکر ومگن رہا کرتا تھا اور اپنی عارضی دولت اور وجاہت پر یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ مجھ کو واپس خدا کے سامنے جانا نہیں۔ حور کے معنی ہیں رجوع کے یعنی کسی کا پہلی حالت پر لوٹ جانا۔ حدیث میں آتا ہے نعوذ باللہ من الحور بعدالکور یعنی فرمایا ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں کہ زیادتی کے بعد پھر کمی کی طرف لوٹ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–16

ف 3۔ مراد اس سے کفار ہیں اور پشت کی طرف سے ملنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں گی تو بایاں ہاتھ بھی پشت کی طرف ہوگا۔ دوسری صورت مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ہاتھ پشت کی طرف نکال دیا جائے گا۔ کذا فی الدر المنثور۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیوں نہیں ، بلا شبہ وہ اپنے رب کی نظر میں تھا 15 ؎ ( بلی) ہاں ! الف اس میں اصل ہے لیکن بعض نے کہا ہے کہ زائد ہے اور اصل میں بل ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تانیث کے لیے ہے کیونکہ اس کا امالہ ہوتا ہے۔ ( بلی) کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے ایک تونفی ما قبل کی تردید کے لیے جیسے : (زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا بلی ورتی لتبعثن) (التغابن : 64 : 7) ” کافروں کا دعویٰ کہ ہرگز وہ نہیں اٹھائیں جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا “۔ دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر دلالت کرتا ہے خواہ استفہام حقیقی ہو یا استفہام تو سیخی یا استفہام تقریری ہو ۔ اس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا (He had been joyful among his people...84:13). This verse tells us that those who will be given their Record in their left hands from behind their backs, they will desire death and destruction under the impression that this might end their misery. But it will not be possible for them to die. One of the reasons given here for his misery is that he used to live joyfully among his people in the world, and he was completely oblivious of the Hereafter. The believers, on the other hand, never for a moment were oblivious of the Hereafter in the life of this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–18

10 That is, it was against God's justice and His wisdom that He should overlook the misdeeds that he was committing and should not summon him before Himself to render his account of the deeds.

Read the full tafseer →