Al-Inshiqaaq 84:14

Al-Inshiqaaq · from ayah 14

84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ ۟ۚۛاِنَّهٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ يَّحُوۡرَ

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, he had thought he would never return [to Allah].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Inshiqaaq

All translations of 84:14

اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ کبھی پلٹ کر (اللہ کے سامنے) نہیں جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ سمجھا کہ اسے پھرنا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ حساب کے لئے (اللہ کے پاس) ہرگز لوٹ کر نہ جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا اس نے سمجھا تھا کہ وہ کبھی (اپنے رب کی طرف) واپس نہیں لوٹے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس نے سمجھ رکھا تھا کہ وہ قطعاً (میرے پاس) لوٹ کر نہ آئے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے گمان رکھا کہ اس کو کبھی لوٹنا نہیں ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی (ہمارے پاس) لوٹ کر آنا ہی نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اس نے خیال کر رکھا تھا کہ اسے لوٹنا نہیں ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسے گمان ہوگیا تھا کہ کبھی لوٹ کر نہیں آنا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور سوچتا تھا کہ اللہ کی طرف پھر کر نہ جائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

thinking he would never revert (to Us).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He thought he would never revert (to Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani

He thought he would never revert (to Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, he thought that he would never return!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He verily deemed that he would never return (unto Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, he had thought he would never return [to Allah].

— Saheeh International

and had thought that they would never be brought back to life again.

— Muhammad Sarwar

Surely he thought that he would never return.

— Muhammad Habib Shakir

Verily he imagined that he would not be back.

— Abdul Majid Daryabadi

Truly, did he think that he would not have to return (to Us)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 84:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة الْاِنْشِقَاق 9 یعنی اس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورة طور (آیت 26) میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر وقت انہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتار ہو کر ہم ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت برباد نہ کرلیں۔ اس کے برعکس اس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کرا رہا تھا، خواہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامان عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

فسوف یدعوا ثبوراً یعنی جس کا اعمالنامہ اس کی پشت کی طرف سے اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ وہاں اس کی تمنا کرے گا کہ کاش وہ پھر مر کر مٹی ہوجائے اور عذاب سے بچ جائے گا مگر وہاں یہ ناممکن ہوگا بلکہ اس کہ جہنم میں داخل کردیا جائیگا، اس کی ایک وجہ یہاں یہ ارشاد فرمائی کہ وہ دنیا میں اپنے اہل و عیال میں آخرت سے بےفکر ہو کر مگن اور خوش رہا کرتا تھا، بخلاف مؤمنین کے کہ ان کو دنیا کی زندگی میں کبھی بےفکری نہیں ہوتی، ہر عیش و راحت کے وقت بھی آخرت کی فکر ضرور لگی رہتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے ان کا حال بیان فرمایا ہے۔ انا کنا قبل فی اھلینا مشفقین یعنی ہم تو اپنے اہل و عیال کیساتھ آخرت سے بےفکر ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی وہ اس گمان میں رہے کہ مرنے کے بعد نہ انھیں جینا ہے نہ کسی کی طرف لوٹنا ہے تو آخر وہ اپنا یا اپنے متعلقین کا عیش کیوں مکدر کرتے؟ انھوں نے زندگی اور اس کے وسائل سے جو حظ اٹھانا تھا اٹھا لیا۔ نہ آخرت کے لیے انھوں نے کوئی فکر ہی کی اور نہ اس میں ان کا کوئی حصہ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

13۔ 1 یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کے درمیان بڑا خوش تھا،

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–16

5: سورة الحاقہ : 25 میں فرمایا گیا ہے کہ برے لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں بھی پیچھے کی طرف سے دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انہ کان ........................ یحور (14:84) ” وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔ اس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے “۔ یہ حالت تو اس کی دنیا میں تھی اور وہ تو چلی گئی۔ آج تو قرآن ہمیں قیامت کے میدان میں لے گیا ہے اور دنیا تو بیت گئی ہے اور یہاں حساب و کتاب ہورہا ہے اور قرآن انداز نے زمان ومکان کو لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔ انہ طن .................... یحور (14:84) ” اس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے “۔ رب کی طرف پلٹ کر نہیں جانا ہے۔ اگر اس نے یہ سمجھا ہوتا کہ اللہ کے سامنے جانا ہے تو یہ اس حاضری کے لئے تو تیاری کرتا اور آخرت کو کچھ تو اہمیت دیتا لیکن اس کو یقین نہ تھا بلکہ ظن یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 اسے کہاں خیال تھا کہ ایک روز خدا کی طرف واپس ہونا اور رتی رتی کا حساب دینا ہے اسی لئے گناہوں اور شرارتوں پر خوب دلیر رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

آیت 13{ اِنَّہٗ کَانَ فِیْٓ اَہْلِہٖ مَسْرُوْرًا۔ } ”یقینا دنیا میں وہ اپنے اہل و عیال میں بہت خوش و خرم تھا۔“ دنیا میں وہ حرام کی کمائی سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ عیش کرتا رہا اور آخرت کے محاسبے کا کبھی تصور بھی ذہن میں نہ لایا۔ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی شخص اپنی روزی تو سو فیصد حلال ذرائع سے کما رہا ہے لیکن وہ اللہ کے دین کا حق ادا نہیں کر رہا تو ایسے شخص کی حلال ذرائع سے کمائی ہوئی وہ روزی بھی حلال نہیں۔ اس لیے کہ اس نے اپنی روزی کمانے کی اس تگ و دو میں جو وقت ‘ صلاحیتیں اور وسائل صرف کیے ہیں ان میں دین کے حقوق کا حصہ بھی شامل تھا۔ گویا اپنے وقت ‘ وسائل اور اپنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 حار کا لغوی مفہوم :۔ یَحُوْر : حار بمعنی گھوم پھر کر اسی جگہ واپس آجانا جہاں سے چلا تھا۔ گویا اس لفظ کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ (1) گھومنا (2) رجوع کہتے ہیں۔ حار الماء فی الغدیر یعنی پانی حوض میں گھومنے لگا اور محور اس ڈنڈے کو کہتے ہیں جس کے گرد چرخی گھومتی ہے۔ یعنی اسے یہ خیال تک نہیں تھا کہ دنیا کے ان مختلف اقسام کے دھندوں کے بعد بالآخر مجھے اپنے پروردگار کے پاس ہی پہنچنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–15

7۔ (اس کے اقوال، احوال، اعمال سب کو) اور اس وقت جو اسے فی الفور سزا نہیں ملی، تو اس لیے کہ حکمت الہی، اور مشیت مطلق جزاء کا ایک وقت خاص مقرر کرچکی تھی۔ (آیت) ” انہ ...... مسرورا “۔ یہ دنیا میں اس طرح مگن اور سرمست تھا کہ آخرت کی طرف سے بالکل بےپرواوغافل ہی ہوگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–15

الی اھلہ مسروراً ” اہل “ سے مراد اہل خاندان دوست و احباب بھی مراد ہوسکتے ہیں جن کو حساب یسیر کے بعد چھوڑ دیا گیا ہوگا اور جنت میں ملنے والے حور و غلمان بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انہ ظن ان لن یجور . یہ قیامت کا انکار کرتے ہوئے خیال رکھتا تھا کہ حساب فہمی کے لیے مالک کے پاس لوٹ کر جانا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) اس نے خیال کر رکھا تھا کہ آخرت میں اللہ کی طرف لوٹنا نہیں، کیوں نہ ہوتا اس کا رب اس کی پیدائش کے دن سے، اسے خوب دیکھتا تھا کہ اس کو مرنے کے بعد ہمارے پاس آنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–15

انہ ظن ان لن یحور…:”حار یحور حوراً“ (ن) لوٹنا۔ پیٹھ کے پیچھے اعمال نامہ ان لوگوں ملے گا جن کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے اور نہ کوئی حساب کتاب ہوگا۔ فرمایا، کیوں نہیں ! یقیناً تمہارا حساب ضرور ہونا تھا، تمہارا رب تمہارے اعمال و اقوال اور احوال سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا اور تمہارا اعمال نامہ بھی تیار کروا رہا تھا، مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت تمہیں مہلت دے رکھی تھی، اب وہ مہلت ختم ہوگئی، اب اپنے انکار اور بےفکری کا نتیجہ بھگتو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

انہ ظن ان لن یحور۔ اسے زندہ کرکے ہر گرز دوبارہ نہیں اٹھایاجائے گا کہ اس کا محاسبہ کیا جاتا پھر اس کو ثواب دیا جائے گا یا سزادی جائے گی، یوں باب ذکر کیا جاتا ہے، حاریحور جب وہ لوٹے، لبید نے کہا : وما المرء الا کا لشھاب وضوئہ، یحور رمادا بعد اذاھوا ساطع۔ انسان نہیں ہے مگر ایک شہابچے اور اس کی روشنی کی مانند پہلے وہ روشن ہوتا ہے پھر خاکستر ہوجاتا ہے۔ عکرمہ اور داؤد بن ابی ہند نے کہا : یحور یہ حبشی زبان کالفط ہے اس کا معنی ہے لوٹنا ہے، یہ بھی جائز ہے کہ دو کلمے متفق ہوجائیں کیونکہ دونوں کلمہ اشتقاق ہیں اس سے، الخبز الحواری ہے کیونکہ یہ روٹی سفید ہوجاتی ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما من اوتی کتبہ وراء ظہرہ اور لیکن جس کو اعمال نامہ پیٹھ پیچھے دیا گیا۔ یعنی اس کا بایاں ہاتھ اس کے پیٹ پیچھے کردیا جائے گا۔ اور اس سے وہ اپنے اعمال نامہ کو لے گا۔ 31۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ ظن ان لن یحور بیشک اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 32 عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان لن یحور یعنی وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔ 34 عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انهٗ ظَنَّ : بیشک اس نے گمان کیا ][ ان لَّنْ يَّحُوْرَ : کہ وہ ہرگز واپس نہیں ہوگا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–14

ایسے شخص کی بربادی کا سبب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ0013﴾ (بیشک جب وہ دنیا میں تھا تو اپنے کنبہ خاندان میں خوش تھا) یعنی ایمان سے اور ایمان والے اعمال سے غافل تھا قیامت کو نہیں مانتا تھا اور وہاں کی حاضری کا یقین نہیں رکھتا تھا دنیا کی مستی اور مسرت اور اکڑ مکڑ میں زندگی گزارتا رہا، مزید فرمایا ﴿ اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ0014﴾ (بےشک اس کا خیال تھا کہ اسے واپس نہیں ہونا ہے) یعنی میدان حساب میں نہیں جانا اسی غلط گمان کی وجہ سے وہ ایمان نہ لایا بلی (ہاں اس کو ضرور اپنے رب کی طرف لوٹنا ہوگا اور حساب کے لیے پیش ہوگا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

قانون مجازات و مراتب جہود علمیہ درحیات انسانی : قال اللہ تعالیٰ : اذا لسمآء انشقت ......... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) گزشتہ سورتوں میں بعث بعدالموت اور حشر ونشر کے احوال کا ذکر تھا اور دلائل سے اس موضوع کو ثابت کرتے ہوئے انسان کو فکر آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی تو اب اس سورت میں قیامت کے کچھ ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں قانون مجازات بیان کرتے ہوئے یہ بتایا جارہا ہے، انسانی اعمال اور اس کی جدوجہد کے مختلف اور متفاوت درجات ہیں اور ہر انسان کی زندگی مصروف عمل ہے اور وہ اپنے فکری اور عملی قوی کو محنت ومشقت میں ڈالے ہوئے ہے اب یہ کہ وہ سعادت کا راستہ اور منزل اختیار کرتا ہے یا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

6:۔ ” انہ کان “ کافر دنیا میں اپنے اہل و عیال میں نہایت خوش وخرم رہتا تھا اور آخرت کی اسے کوئی فکر ہی نہ تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوگا اور نہ اسے حساب کتاب دینا ہوگا۔ بھلا یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے وہ ضرور اسے دوبارہ زندہ کر کے اس کے اعمال کی اس کو جزاء دے گا۔ لن یجور ای لن یرجع حیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–15

(آسمان پھٹ جائے گا) ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ۝ 14 ۚ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ حور الحَوْرُ : التّردّد إمّا بالذّات، وإمّا بالفکر، وقوله عزّ وجلّ : إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ [ الانشقاق/ 14] ، أي : لن يبعث، وذلک نحو قوله : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–15

ترکیب ¦ انک الخ الجملۃ نداء الکدح السعی فی الشیء بحھدہ کدح ورزیدن وکار کردن و کوشش نمودن۔ دردی خراشیدن یقال بہ کدح وکدوح ای خدوش وفی الحدیث فی وجھہ کدوح وھو یکدح بعیالہ ای یکسب لھم از صراح فامامن فیہ معنی الشرط فسوف جو ابہ وینقلب معطوف علی یحاسب مسرورا حال وراء ظہرہ ظرف لاوتی لن یحور قال الراغب الاصفہانی الحور الترد فی الامرو محاورۃ الکلام مراجعۃ والمحارالمرجع۔ الحور الرجوع یقال حاریحورا اذا رجع ومنہ قولہ (علیہ السلام) اللھم انی اعوذبک من الحور بعد الکور یعنی من الرجوع الی انقصان بعد الزیادۃ بلٰی ایجاب للمنفی بلن اے بلی یحور۔ ان ربہ جواب قسم مقدر فالجملۃ تعلیل لما افادتہ بلی۔ تفسیر ¦ فقال یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

اِنَّـہٗ کَانَ فِیْٓ اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا۔ اِنَّـہٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ ۔ (الانشقاق : 13، 14) (وہ اپنے گھر والوں میں مگن رہا۔ اس نے گمان کر رکھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں۔ ) اصحاب الشمال کی بدبختی کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے اصحاب الشمال یہ بدبختوں کا گروہ ہے جو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ انھوں نے دہرے جرم کا ارتکاب کیا۔ نہ اپنی فکر کی اور نہ اپنے اہل کی۔ اپنی ذات میں مگن اور اپنی دنیا میں گم یہ سمجھتے رہے کہ دنیا ہی ہماری منزل ہے اور موت آکر اس سفر کو ختم کردے گی۔ کوئی آخرت نہیں جس کی طرف ہمیں پلٹنا ہو۔ اور یہی تصور انھوں نے اپنے اہل و عیال میں پیدا کیا۔ انھیں بھی دنیوی لذتوں کا رسیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–15

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں کو ان کی پیٹھ کی طرف سے ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا ان کی دنیا میں حالت یہ تھی کہ وہ اپنے اہل و عیال میں خوش باش تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں واپس نہیں پلٹنا۔ ان کے اس عقیدہ کی تردید کرنے کے ساتھ یہ حقیقت بتلائی ہے کہ تم نے ہر صورت اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اس سورت کی آیت 9 میں ارشاد ہوا کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش و خرم جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کا ذکرہوا جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کی طرف سے دیا جائے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اس کے جہنم جانے کا بنیادی سبب یہ ہوگا کہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : اِنَّہٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ (اس نے خیال کر رکھا تھا کہ اس کو لوٹنا نہیں ہے) یہ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف ہرگز نہ لوٹے گا۔ یہ بعث بعد الموت کی تکذیب کرتا تھا۔ قول ابن عباس ؓ : میں نے اسکی تفسیر اس وقت جانی جب میں نے ایک دیہاتی عورت کو کہتے سنا جو اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھی۔ حُویریْ تو لوٹ جا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” انہ ظن ان لن یحور “ کہ وہ ہماری طرف ہرگز نہیں لوٹے گا اور ہرگز نہیں اٹھایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–14

(وَّيَصْلٰى سَعِيْرًا) اور دوزخ میں داخل ہوگا۔ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں (کان فی اھلہ مسرورا) اپنے گھروالوں میں مسرور رہتا تھا اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) محرومی کے اصل سبب کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ایسے شخص کو محرومی کے اصل سبب کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں "۔ بلکہ دنیاوی زندگی ہی میں کھا پی کر اور عیش و عشرت کر کے ختم ہوجانا ہے اور بس، اس کے بعد نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ کوئی حساب و کتاب ہونا ہے، سو حق و ہدایت کے نور سے محروم مادہ پرستوں کا ہمیشہ یہی حال رہا، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اسی غلط فہمی اور محرومی نے ان کو تباہ کردیا، اسی لیے ایسوں سے اعراض برنے اور ان سے منہ موڑ دینے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے فَأَعْرِضْ عَن مَّن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–25

قدرت کے کرشمے تشریح : ہم مسلمان لوگ تو اس پوری سورت کے مفہوم کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ یقین سے مانتے بھی ہیں اسی لیے اقوام عالم میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں اللہ کے خوف سے دور رہ کر جانوروں کی طرح بےربط اور بےضبط نہیں گزار سکتے کیونکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری زندگیاں ایک بہت بڑے نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے پاک صاف اور پر سکون طریقوں سے گزارنا ضروری ہیں۔ ہم شتر بےمہار نہیں ہیں بلکہ مسلمان ' اللہ کے بندے اور رسول ﷺ کے پیرو کار اہل کتاب ' اہل حدیث قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے سامنے جواب دیکر انعام حاصل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

سورة انشقاق۔ آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے پروردگار کا حکم سن کر اطاعت کرے گایہی اسے زیب دیتا ہے اور زمین کھینچ کر پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اسکے اندر دفن ہے انسان ، حیوان ، یامع دنیات ہر شے نکال حاضر کرے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اسے یہی سزا وار ہے۔ احکام کی قسمیں۔ احکام دو طرح سے ہیں اول تکوینی جو حکما نافذ کیے جاتے ہیں جن کا ہرـذرہ پابند ہے حتی کہ جن اور انسان بھی زمین وآسمان اور سب کچھ جو ان میں ہے جیسے انسان کی پیدائش شکل و صورت ، قد کاٹھ ، عقل وخرد وغیرہ ذالک اور دوسرے تشریعی احکام جن میں قانون بتاکرعمل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی جزا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اپنے اعمال کی کسی باز پرس کا اندیشہ نہ تھا، اس لئے جو دل میں آتا کرتا تھا۔” حور “ کے لفظی معنی پلٹنے کے بھی ہیں اور کایا پلٹ ہونے کے بھی اس لئے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھتا تھا کہ اسے جو دولت اور خوشحالی حاصل ہے، وہ کبھی کم نہ ہوگی اور اسے کبھی غریبی و بدحالی کا منہ نہ دیکھنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(84:14) انہ ظن ان لن یحور۔ تحقیق اس نے سمجھ رکھا تھا کہ اس نے کبھی پلٹ کر جانا ہی نہیں ہے۔ ظن : ظن (باب نصر) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس نے خیال کیا۔ اس نے سمجھا۔ اس نے گمان کیا۔ ان مصدریہ لن یحور مضارع منفی تاکید بلن واحد مذکر غائب حور (باب نصر) مصدر سے بمعنی پلٹنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن۔ تخلت۔ خالی ہوگئی۔ اذنت۔ سن لیا۔ حقت۔ اس لائق ہے۔ کا دح۔ مشقت اٹھانے والا۔ وراء ظھرہ۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے۔ ثبور۔ موت۔ لن یحور۔ ہرگز واپس نہ ہوگا۔ شفق۔ سرخی۔ وسق۔ سمٹ کر آگئی۔ اتسق۔ وہ مکمل ہوگیا۔ ترکبن۔ تم ضرور چڑھو گے۔ قری۔ تلاوت کیا گیا۔ یوعون۔ وہ محفوط کئے ہوتے ہیں۔ تشریح : قرآن کریم میں ارشاد ہے ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ “ دوسری جگہ فرمایا ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کرسکتے “ یہ دونوں آیتیں ہر انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ اگر انسان اپنے اردگرد دیکھے تو اپنے وجود سے لے کر باہر تک دنیا تک قدم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–14

آسان حساب کیسے ہوگا ؟ (ف 3) آسان حساب کی بابت مسند امام احمد، مستدرک حاکم، عبد بن حمید، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ عنہافرماتی ہیں میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ حضور آسانی سے حساب ہوجانے کی قیامت کے دن کیا صورت ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا آسانی سے حساب ہوجانے کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ اپنے بندوں کے نامہ اعمال پر فقط نظر ڈالے گا اور درگذر فرماکرحساب میں زیادہ کریدنہ فرمائے گا، کیونکہ جس شخص کے حساب میں کریدنکالی جائے گی وہ ضرور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں گی قیامت کے دن اس کا حساب آسانی سے ہوگا۔ ایک بدمزاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[3] یعنی پیٹھ کے پیچھے سے اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تاکہ اس کی اور اس کے اعمال کی نامبارکی اس برتاؤ ہی سے واضح ہوجائے۔ اگرچہ یہاں بائیں ہاتھ کا ذکر نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے کیونکہ نیک لوگوں کے نامہ اعمال کا ان کے داہنے ہاتھ میں دئیے جانے کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ نیز سورة الحاقہ میں واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ مجرموں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے (آیت 52 صفحہ 4241) ۔ پیٹھ کے پیچھے سے دئیے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مجرموں کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–14

یعنی ساری زندگی میں انسان اس جدوجہد میں مبتلارہتا ہے کہ کسی خواہش و آرزو کے حصول میں کامیابی ہو اور کسی نہ کسی طریق سے اس کی محبتیں ٹھکانے لگیں ۔ دن رات دوڑ دھوپ کرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ بھی وہ فارغ نہیں ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن اس نصب العین تک رسائی ہونے کو ہے ۔ جس کے لئے اس عمر بھر سعی کی اور تگ ودو جاری رکھی ۔ مگر شرط کامرانی یہ ہے کہ یہ عمل پیہم ، یہ شوق وصال اور یہ تگ ودو واللہ کو پسند آجائے اور وہ ازراہ تکریم و اعزاز اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیں ۔ ورنہ ہلاکت ہے ۔ اور جہنم کی آگ ہے اور یہ سارے اعمال بےکار اور اکارت ہیں ۔ حل لغات :۔ وحقت ۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–16

ف 3۔ مراد اس سے کفار ہیں اور پشت کی طرف سے ملنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں گی تو بایاں ہاتھ بھی پشت کی طرف ہوگا۔ دوسری صورت مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ہاتھ پشت کی طرف نکال دیا جائے گا۔ کذا فی الدر المنثور۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے سمجھ رکھا ہے کہ اسے کبھی واپس نہیں لوٹنا ہے 14 ؎ ( یحور) کا اصل ما ح و ر ہے ۔ واحدمذکر غائب مضارع منفی منصوب حور مصدر ۔ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جب دنیا کی زندگ گزار رہے تھے تو ان کو کبھی بھول کر بھی اس کا خیال نہ آیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں بس ان کو اس دنیا کی ہوس نے اس قدر مصروف بنا دیا تھا کہ آخرت ان کو یاد ہی نہ تھی اور اگر کوئی ان کو یاد دلاتا تھا تو وہ اس کو برا بھلا کہتے تھے اور مست ہاتھی کی طرح اس کے پیچھے پڑجاتے تھے اور ان کی جی چاہتا تھا کہ آخرت کا نام لینے والوں کو وہ کہیں اٹھا کر پھینک دیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے نہ آئیں گویا وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا (He had been joyful among his people...84:13). This verse tells us that those who will be given their Record in their left hands from behind their backs, they will desire death and destruction under the impression that this might end their misery. But it will not be possible for them to die. One of the reasons given here for his misery is that he used to live joyfully among his people in the world, and he was completely oblivious of the Hereafter. The believers, on the other hand, never for a moment were oblivious of the Hereafter in the life of this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

9 That is, his way of life was different from that of God's righteous men, about whom in Surah At-Tur: 26, it has been said that they lived among their kinsfolk in fear and dread of God, i.e. they fear lest they should ruin their own Hereafter on account of their absorption in the love of children and endeavours for the sake of their well-being and prosperity in the world. On the contrary, this tnan lived a life free from every care and worry and helped his children and kinsfolk also to enjoy life fully, no matter what wicked and inunoral methods he had to use to procure the means of…

Read the full tafseer →