کم عقل اور یتیموں کے بارے میں احکامات
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے کہ کم عقل بیویوں کو مال کے تصرف سے روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے مال کے خرچ سے روک دینا چاہئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل بیوقوف ہو اور بےدین ہو بری طرح اپنے مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے وہ اپنے کل مال سے بھی ادا نہیں کرسکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے قبضے سے لے لے گا اور اسے بےدخل کر دے گا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 8
یہ آیت وسیع معنی کی حامل ہے۔ اس میں امت کو یہ جامع ہدایت فرمائی گئی ہے کہ مال جو ذریعہ قیام زندگی ہے، بہر حال ایسے نادان لوگوں کے اختیار و تصرف میں نہ رہنا چاہیے جو اسے غلط طریقے سے استعمال کر کے نظام تمدن و معیشت اور بالآخر نظام اخلاق کو خراب کردیں۔ حقوق ملکیت جو کسی شخص کو اپنے املاک پر حاصل ہیں اس قدر غیر محدود نہیں ہیں کہ وہ اگر ان حقوق کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا اہل نہ ہو اور ان کے استعمال سے اجتماعی فساد برپا کر دے تب بھی اس کے وہ حقوق سلب نہ کیے جاسکیں۔ جہاں تک آدمی کی ضروریات زندگی کا تعلق ہے وہ تو ضرور پوری ہونی چاہئیں، لیکن جہاں تک حقوق مالکانہ کے آزادانہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں یتیموں کے مال ان کو سپرد کردینے اور عورتوں کے مہر ان کو ادا کرنے کا حکم گذر چکا ہے جس سے بظاہر یہ مستفاد ہوسکتا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا مال بہرحال ان کے حوالہ کردینا چاہئے، خواہ ان کو معاملات کا سلیقہ بھی نہ ہو اور وہ اموال کی حفاظت پر بھی قادر نہ ہوں، اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ان آیات میں فرمایا ہے کہ کم عقلوں کو اموال سپرد نہ کرو اور ان کی جانچ کرتے رہو، جب اموال کی حفاظت اور ان کے مصارف کی سوجھ بوجھ ان کے اندر محسوس ہونے لگے تو اموال ان کے سپرد کردو۔
خلاصہ تفسیر
(اور اگر یتیم بالغ ہوجائیں جس کا مقتضی مال کا سپرد کردینا ہے جیسا آگے آتا ہے لیکن کم عقل ہوں تو)…
Read the full tafseer →وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔
سفہاء سے مراد وہی یتامی ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حکم جو تمہیں دیا گیا ہے کہ یتیموں کا مال ان کو دو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ بالکل نادان و ناسمجھ ہوں جب بھی جو کچھ ان کا ہے ان کے حوالہ کردو۔ مال کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے اس وجہ سے اس کے اندر انفرادی حق کے ساتھ خاندانی اور اجتماعی بہبود کا بھی ایک پہلو ہے۔ اس پہلو سے اس کی بربادی میں ایک ہی کا نقصان نہیں ہے بلکہ پورے خاندان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کے زیر پرورش ہوتی تو اس کے مال اور حسن و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کرلیتا لیکن اس کو دوسری عورتوں کی طرح پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا، کہ اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح ہی مت کرو، تمہارے لئے دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے (صحیح بخاری) ایک کی بجائے دو سے، تین سے حتیٰ کے چار عورتوں تک سے تم نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو ورنہ ایک ہی نکاح کرو یا اس کے بجائے لونڈی پر گزارا کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا…
Read the full tafseer →5: یتیموں کے سرپرستوں کی ذمہ داریاں بیان کی جارہی ہیں کہ ایک طرف تو انہیں یتیموں کے مال کو امانت سمجھ کر انتہائی احتیاط سے کام لینا ہے، دوسری طرف یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ یتیموں کا پیسہ ایسے وقت ان کے حوالے کیا جائے جب ان میں روپے پیسے کی ٹھیک ٹھیک دیکھ بھال کی سمجھ اور اسے صحیح مصرف پر خرچ کرنے کا سلیقہ آچکا ہو۔ جب تک وہ ناسمجھ ہیں، ان کا مال ان کی تحویل میں نہیں دینا چاہیے اور اگر وہ خود مطالبہ کریں کہ ان کا مال ان کے حوالے کردیا جائے تو انہیں مناسب انداز میں سمجھا دینا چاہیے۔ اگلی آیت میں اسی اصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وقتاً فوقتاً ان یتیم بچوں کو آزماتے رہنا چاہیے کہ آیا…
Read the full tafseer →(آیت) ” ولا توتوا السفہآء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیما وارزقوھم فیھا واکسوھم وقولوا لھم قولا معروفا “۔ (5)
نادانی اور دانائی کا پتہ بلوغ کے بعد چل جاتا ہے ۔ بالعموم نادان اور دانا کے درمیان ہو ہی جاتی ہے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ قانون کے اندر اس کیلئے کوئی فارمولا وضع کردیا جائے ، ہر خاندان اس بات کی تمیز اچھی طرح کرلیتا ہے کہ اس کے اندر نادان کون ہے اور دانا کون ہے ۔ اسے اچھی طرح تجربہ ہوتا ہے کہ یہ راشد ہے اور یہ سفیہ ہے نیز سوسائٹی سے بھی کسی شخص کے معاملات اور تصرفات پوشیدہ نہیں ہوتے ۔ لہذا جانچ پڑتال اس بات کی ہوگی کہ یتیم بالغ ہوگیا ہے یا نہیں ۔ یہاں آیت میں اس بلوغ کی…
Read the full tafseer →9 یعنی بےسمجھ لڑکوں کے ہاتھ میں ان کا وہ مال مت دے دو کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے آدمیوں کے لئے سامان معیشت بنایا ہے، بلکہ اس کی پوری حفاظت رکھو اور اندیشہ ہلاکت سے بچاؤ اور جب تک ان کو نفع نقصان کا ہوش نہ آئے، اس وقت تک ان کو اس میں سے کھلاؤ پہناؤ اور تسلی کرتے رہو کہ یہ سب مال تمہارا ہی ہے، ہم تو تمہاری خیر خواہی کرتے ہیں۔ جب سمجھدار ہوجاؤ گے تم کو ہی دے دیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 5 وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا
معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو نادانوں اور ناسمجھ لوگوں سُفَہاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے۔ ایسے بچے اگر یتیم ہوجائیں تو وہ وراثت میں ملنے والے مال کو اللوں تللوں میں اڑا سکتے ہیں۔ لہٰذا یہاں ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مال کے بےجا استعمال کی معاشرتی سطح پر روک تھام ہونی چاہیے۔ یہ تصور ناقابل قبول ہے کہ میرا مال ہے ‘ میں جیسے چاہوں خرچ کروں ! چناچہ اس مال کو اَمْوَالَکُمْ“ کہا گیا کہ یہ اصل میں معاشرے کی مشترک بہبود کے لیے ہے۔ اگرچہ انفرادی ملکیت ہے ‘ لیکن…
Read the full tafseer →8 نادان کے حقوق کی ملکیت کی حد :۔ اس آیت میں نادان سے مراد صرف نادان یتیم ہی نہیں بلکہ کوئی بھی فرد ہوسکتا ہے مثلاً چھوٹا بھائی نادان ہے تو بڑا بھائی اسے اس کا مال نہ دے اور چھوٹا عقلمند اور بڑا نادان ہے تو چھوٹا بھائی اس کا مال اس کے تصرف میں نہ رکھے۔ وجہ یہ ہے کہ مال تو ذریعہ قیام زندگی ہے اگر کسی نادان کے ہتھے چڑھ جائے گا تو وہ فضول، ناجائز یا گناہ کے کاموں میں اجاڑ دے گا اور اس کے برے اثرات تمام معاشرہ پر پڑیں گے۔ حقوق ملکیت جو کسی شخص کو اپنی املاک پر ہوتے ہیں اتنے غیر محدود نہیں کہ اگر وہ اس چیز کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا اہل نہ ہو تب بھی اس کے حقوق سلب نہ کیے جاسکیں۔ ایسی صورتوں…
Read the full tafseer →16 ۔ (آیت) ” ولا تؤتوا السفھآء “ سیاق میں سفھاء سے مراد وہ یتیم ہیں جو عمر کے اعتبار سے بالغ ہوچکے ہیں لیکن صرف مال کا سلیقہ وانتظام ان میں پیدا نہیں ہوا ہے۔ اور وہ بےتکان اور بےتحاشا اسراف میں مشغول رہتے ہیں۔ المبذرین اموالھم الذین ینفقونھا فی مالا ینبغی ولا قدرۃ لھم علی اصلاحھا (مدارک) وصف الیتامی بانھم سفھاء باعتبار خفۃ احلامہم و اضطراب اراءھم لما فیھم من الصغر وعدم التدرب (روح) لیس السفہ فی ھولاء صفۃ ذم ولا یفید معنی العصیان للہ تعالیٰ وانھا سموا سفھاء لخفۃ عقولھم ونقصان تمیزھم عن القیام بحفظ المال (جصاص) سفہ وسفاہت سے یہاں کسی معصیت یا جرم اخلاقی کی طرف اشارہ کرنا نہیں بلکہ محض ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ (الآیۃ) اس آیت کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کی سرپرستی میں ہوتی تو وہ اس کے مال و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کو لیتا، لیکن اس کا دوسری عورتوں کی طرف پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا ہے اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح مت کرو۔ تمہارے لیے دوسری عورتوں سے نکاح کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ (بخاری شریف) بلکہ ایک کے بجائے چار تک نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو، ایک سے زائد کرنے کی اجازت ہے،…
Read the full tafseer →و لا توتوا السفھاء اموالکم اور نہ دو اپنے مال بیوقوفوں کو یعنی اپنی عورتوں اور بچوں کو۔ (1) [ بیہقی نے شعب میں اور حاکم نے تصحیح کے ساتھ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تین شخص ہیں جو اللہ سے دعا کرتے ہیں اور ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ایک وہ شخص جس کی بیوی بد خلق ہو اور اس نے اس کو طلاق نہ دی ہو اور (دوسرا) وہ شخص جس کا کسی پر کچھ مال ہو (یعنی مال کا دعوی کرے) اور شہادت پیش نہ کرے اور (تیسرا) وہ شخص جو سفیہ کو اس کا مال دیدے حالانکہ اللہ نے فرمایا : و لا تؤْتوا السفہاء اموالکم۔ (از مفسر (رح) ] عورتوں اور بچوں کو سفیہ اس لیے فرمایا : کہ یہ سبک عقل ہوتے ہیں۔ ضحاک، مجاہد، زہری اور کلبی وغیرہ…
Read the full tafseer →(5) اور تم ان کم عقل یتیم عورتوں اور لڑکوں کو وہ مال جو تمہارے لیے مایہ زندگی ہے، مت دو باقی اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور تم ہی اس چیز کے نگران ومحافظ رہو کیوں کہ تم صحیح مصارف کو زیادہ جانتے ہو اور ان کی تسلی کے لیے معقول بات کہتے رہو کہ ابھی دوں گا وغیرہ۔
Read the full tafseer →یہاں بےسمجھوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال کے انتظام کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں چھوٹے بچے اور ناتجربہ کار بیوی بھی آجاتی ہے اور نادان یتیم بھی، یعنی اگر یتیم ناتجربہ کار اور کم عقل ہوں تو وصی یا متولی کو چاہیے کہ یتیم کے مال سے اس کے کھانے پینے اور لباس کا انتظام کرتا رہے، مگر وہ مال اس کے سپرد نہ کرے۔ ابوموسیٰ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تین آدمی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ایک وہ آدمی جس کی بیوی بدخلق تھی پھر اس نے اسے طلاق نہیں دی اور ایک آدمی جس کا کسی شخص کے ذمے مال تھا مگر اس نے اس پر کوئی گواہ نہیں بنایا اور ایک وہ آدمی جس نے کسی سفینہ (بےوقوف) کو اپنا مال…
Read the full tafseer →آیت نمبر 5۔
اس آیت میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے یتیموں کو مال دینے، عورتوں کو مہر دینے کو بیان کردیا تو وضاحت فرمائی کہ بیوقوف اور غیر بالغ کو مال دینا جائز نہیں، یہ آیت یتیموں کے لئے وصی، ولی، اور کفیل کے ثبوت پر دلالت کرتی ہے علماء کا اجماع ہے کہ مسلمان، آزاد معتبر، عادل شخص کو وصی بنانا جائز ہے اور آزاد عورت کو وصی بنانے میں اختلاف ہے عوام اہل العلم نے کہا : آزاد عورت کو وصی بنانا جائز ہے، امام احمد (رح) نے اس سے حجت پکڑی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت حفصہ ؓ کو وصی بنایا تھا، عطا بن ابی رباح ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس شخص کو فرمایا جس نے اپنی عورت کو وصی بنایا تھا،…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنا مال اپنی بیوی کو دے دیا تو اس نے ناحق کاموں میں خرچ کر ڈالا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت :” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم “۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تو اپنے مال کی طرف قصد نہ کر کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو عطا کیا اور تیرے لئے اس کو زندگانی کا ذریعہ بنایا کہ اس کو اپنی بیوی کو اور اپنے بیٹوں کو دے دے پھر تو مجبور ہوجائے اس مال کی طرف جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن تو روک لے اپنے مال کو اور اس کو مناسب طریقے…
Read the full tafseer →( وَلاَ تُؤْتُوا : اور تم مت دو ) (السُّفَہَـآئَ : نادانوں کو ) (اَمْوَالَـکُمُ : اپنے مال الَّتِیْ : جن کو) (جَعَلَ : بنایا ) (اللّٰہُ : اللہ نے ) (لَـکُمْ : تمہارے لیے ) (قِیٰمًا : کھڑے ہونے کا ذریعہ (معیشت میں) ) (وَّارْزُقُوْہُمْ : اور رزق دو ان کو ) (فِیْہَا : اس میں سے ) (وَاکْسُوْہُمْ : اور پہنائو ان کو ) (وَقُوْلُوْا : اور کہو ) (لَہُمْ : ان سے ) (قَوْلاً مَّعْرُوْفًا : بھلی بات)
ترکیب :
” نِحْلَۃً “ حال ہے۔ ” مِنْہُ “ کی ضمیر ” صَدُقٰتٍ “ کے لیے ہے۔ ” ھَنِیْئًا مَّرِیْئًا “ حال ہے ” کُلُوْہُ “ کی ضمیر مفعولی کا ‘ جو ” شَیْئٍ “ کے لیے ہے۔ ” جَعَلَ “ کا مفعول ” الَّتِیْ “ ہے۔
نوٹ 1:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
عورتوں کے مہر ادا کرنے کا حکم
شریعت مطہرہ میں عورت کی ایک حیثیت ہے جب کوئی مرد اس سے نکاح کرے تو اس کا مہر مقرر کرے اور جس قدر مہر پر وہ راضی ہو اتنے مہر پر نکاح ہوگا، مہر کی مقدار مقرر کرنے کے لیے اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی پھر جب مہر مقرر کردیا تو اس کا ادا کرنا فرض ہے، اور مرد جب تک مہر ادا نہ کرے بیوی کا قرض دار رہے گا اگر عورت پورا مہر یا کچھ حصہ معاف کر دے یا کچھ حصہ لینے کے بعد واپس کر دے تو اس کو رکھ لینا جائز ہے البتہ اس میں ایک شرط لازم ہے اور وہ یہ کہ عورت نے جو کچھ دیا ہو یا معاف کیا ہو وہ اس نے طیب نفس کے ساتھ دیاہو، طیب نفس کا معنی یہ ہے کہ اچھی طرح خوب خوشی سے دل کی گہرائی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
دوبارہ تفویض اموال بسوئے مبذرین ومسرفین وحفظ واموال یتامی۔
قال تعالیٰ ولا توتوا السفہاء۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ حسیبا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ اوپر کی آیتوں میں اللہ نے یہ حکم دیا تھا کہ یتیموں کے مال جو تمہارے تصرف میں ہیں وہ ان کے حوالے کردو اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ وہ اموال ان کو کب سپرد کیے جائیں یعنی وجب وہ عاقل وبالغ ہوجائیں اور اپنے مال کی حفاظت کرسکیں اور بیوقوف اور فضول خرچ نہ ہوں چناچہ فرماتے ہیں اور مت دو بیوقوفوں اور بےعقلوں کو اپنے اموال جن کو اللہ نے تمہارے گزران اور قیام معیشت کا ذریعہ بنایا ہے اور تمہاری دینی اور دنیوی مصلحتوں اور ضرورتوں کا بقاء مال پر رکھا ہے گزران معاش اور حج اور جہاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
7 چوتھا حکم رعیت۔ (سن رشد سے پہلے یتیموں کو ان کا مال نہ دو ۔ جب دو اس پر گواہ بنا لو) ۔ یہ حکم یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے سے متعلق ہے۔ یعنی جب تک یتیم کم عقل اور نابالغ ہوں اس وقت تک ان کے اموال ان کے حوالے نہ کرو۔ البتہ ان کی خوراک و پوشاک وغیرہ کے اخراجات انہی کے مال سے اٹھاؤ اور یتیموں سے کہہ دو کہ تمہارا مال ہمارے پاس محفوظ ہے ہم اس کے امین اور محافظ ہیں۔ جب تم بالغ ہوجاؤ گے اور اپنے نفع اور نقصان کو سمجھنے لگو گے تو تمہارا مال تمہارے حوالے کردیا جائیگا۔ اور جب یتامی سنِ رشد کو پہنچ جائیں اور تم ان کے اموال ان کے سپرد کرنے لگو تو اصولی طور پر گواہ بنا لو تاکہ تم پر تہمت خیانت کا شبہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
انسان کی تخلیق اور اس کے اجتماعی حقوق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کھانے سے منع فرمایا نیز یہ کہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ ناانصافی مت کرو اگر تم ان کے حقوق ادا نہ کرسکتے ، مقررمہر نہیں دے سکتے اور ان کے ساتھ معاشرتی سلوک بھی نہیں کرپاتے تو پھر ان کی ساتھ نکاح نہ کرو ، بلکہ ان کے بجائے دوسری عورتوں سے نکاح کروجو تم کو پسند ہوں۔ اس کے بعدتعدد ازواج کا مسئلہ بھی بیان فرمادیا اور یہ بھی واضح کردیا کہ زیادہ عورتوں کی صورت میں اگر تم ان کے درمیان انصاف نہ کر سوکو تو پھر ایک ہی نکاح کافی ہے اس سے زیادہ مت کرو ، البتہ تم اپنی مملوکہ لونڈیوں سے بغیر نکاح کے استفادہ حاصل کرسکتے…
Read the full tafseer →وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللہُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 5
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : السفہاء جمع سفیہ بمعنی بیوقوف مفعول اول ‘ اموالکم مفعول ثانی ‘ قیما میں تین وجہ ہیں۔ اس کو قیاما بھی پڑھا ہے جو مصدر ہے قام یقوم کا یہ مفعول ثانی جعل بمعنی صیّر کا ای جعل اللہ لکم سبب قیام دوسرا یہ کہ جمع قیمۃ کی ہے کدیمۃ ودیم والمعنی ان الاموال کالقیم للنفوس اے بہ بقاء النفوس سوم یہ کہ اصل قیاماتہا الف کو حذف کردیا۔
تفسیر : یہ ان احکام کی تیسری قسم ہے۔ اس آیت میں تین حکم ہیں : (1) یہ کہ یتیم اگر سفیہ یعنی بیوقوف ہو اس کو مال کی حفاظت اور تجارت کا طریقہ نہ آتا ہو اور اس کے اطوار سے معلوم ہو کہ وہ اڑا ڈالے گا تو اس کا وہ مال حوالہ نہ کرو جو تمہاری تفویض میں ہے (اموالکم کے یہی معنی ہیں)…
Read the full tafseer →وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَـکُمْ قِیٰـمًاوَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا
(اور اپنے وہ مال جنھیں اللہ نے تمہارے لیے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے نادان لوگوں کے حوالہ نہ کروالبتہ انھیں کھانے اور پہننے کے لیے فراغت کے ساتھ دو اور دستور کے موافق ان کی دل داری کرتے رہو) (النسآء : 5)
سُفَہَآئَ سے مراد اور مال کی اہمیت
سابقہ آیت کریمہ میں یتیموں کے حقوق کے سلسلے میں حکم دیا گیا تھا کہ جن سرپرستوں کی تحویل میں یتیم ہوں جب وہ بالغ ہوجائیں اور اس قابل ہوجائیں کہ ان کے بزرگوں نے جو ان کے لیے مال وراثت چھوڑا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ فرامین میں یتامیٰ اور عورتوں کے مالی حقوق کی ادائیگی کا حکم تھا۔ اب فرمایا کہ یتیموں کو ان کا مال واپس لوٹاتے ہوئے اچھی طرح اندازہ کرلو کہ کہیں وہ ناتجربہ کاری یا صغر سنی کی وجہ سے اپنا مال ضائع نہ کربیٹھیں۔
قرآن مجید نے دوسری آزمائشوں کے ساتھ مال کو بھی آدمی کے لیے ایک بڑی آزمائش اور فتنہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رزق حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل ‘ نعمت ‘ زندگی کا لازمہ اور اسے تقویت کا باعث ٹھہرایا ہے۔
یتیموں کے لیے بالخصوص مال سہارا اور تقویت کا باعث ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر ان کا کمانے والا کوئی نہیں ہوتا بلکہ ان کی جائیداد کا بھی کوئی دوسرا نگران ہوتا ہے۔
یہاں…
Read the full tafseer →آیت 5 :
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآئَ اَمْوَالَکُمُ (نہ دو اپنے اموال بیوقوفوں کو) سفہاء سے مراد وہ فضول خرچ ہیں۔ جو اپنے اموال کو نامناسب مقام پر لگانے والے ہیں۔ اور ان کو اسکی درستی اور بڑھانے اور اس میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ اس میں اولیاء کو خطاب ہے اور کم عقلوں کے اموال کی نسبت اولیاء کی طرف اموالکم کہہ کر کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ اس مال کو تھامنے والے اور قریب والے ہیں۔
اموال کی حفاظت کرو :
الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَامًا (جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مایہ زندگانی بنایا ہے) یعنی تمہارے بدنوں کا قوام اور تمہارے اہل و اولاد کیلئے ذریعہ معاش بنایا ہے۔
قیمًابمعنی قیامًا ہے۔ نافع و…
Read the full tafseer →(تفسیر) 5۔ـ:
(آیت)” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما “۔
(ولا تؤتوا السفھاء سے کون مراد ہیں)
سفہاء کے متعلق مفسرین رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں ، بعض لوگوں نے کہا کہ مراد عورتیں ہیں ، ضحاک (رح) نے فرمایا کہ عورتیں میں بہت زیادہ سفیہ ہیں ۔
مجاہد (رح) نے فرمایا کہ مردون کو اس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ اپنے اموال عورتوں کے ہاتھوں میں نہ دیں کیونکہ یہ کم عقل ہیں خواہ وہ تمہاری بیویاں ہوں یا بیٹیاں ہوں یامائیں ہوں ، بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد اولاد ہے ، زہری رحمۃ اللہ علیہکا قول ہے کہ اپنے چھوٹے بچے کو مال کا مالک نہ بنا کیونکہ وہ بعد میں فساد کا سبب بن جائے گا ، بعض نے کہا…
Read the full tafseer →یہاں عبد اللہ بن عباس ؓ و سعید بن جبیر میں اختلاف ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس آیت کی شان نزول یہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی بی بی بد سلیقہ ہو یا اولاد بد خرچ اور بیوقوف ہو تو ایسی بی بی بچوں کے ہاتھ میں خرچ نہ دینے کے لئے یہ آیت اتری ہے، اور سعید بن جبیر کہتے ہیں نہیں جو یتیم بیوقوف ہوں ان کا مال ان کے ہاتھ میں نہ سونپ دینے کے لئے یہ یہ آیت اتری ہے۔ لیکن اصل میں اس آیت کا حکم عام ہے ہر طرح کے بیوقوف کو شامل ہے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بد سلیقہ خواہ بی بی بچے ہوں یا یتیم ماں ان کے حوالہ نہ کیا جائے ہاں ان کو اس مال میں سے کھلاناپہنانا چاہیے اور ان سے اس طرح کی فہمائش کی باتیں کہہ دینی…
Read the full tafseer →آیت 5
(السفعآء) (سفیہ) کی جمع ہے اور (سفیہ) ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بےعقل ہونے مثلاً پاگل وغیرہ یا عدم بلوغت جیسے چھوٹا بچہ اور بےسمجھ وغیرہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال میں تصرف اور دیکھ بھال کی اہلیت سے محروم ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے بےعقل لوگوں کے سرپرستوں کو اس ڈر سے ان کا مال ان کے حوالے کرنے سے روک دیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کو خراب یا تلف کردیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کو اپنے بندوں کے دینی اور دنیاوی مفادات و مصالح کی دیکھ بھال کے لئے بنایا ہے اور یہ بےسمجھ لوگ اس مال کی دیکھ بھال اور اس کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سرپرست کو حکم دیا ہے کہ وہ مال ان…
Read the full tafseer →نادانوں اور بیوقوفوں کو ان کا مال حوالے کرنا
اسلام مال وجائد اد کی حفاظت کا حکم دیتا ہے
قول باری ہے (ولاتؤتوالسفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما، اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ناوان لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تاویل وتفسیر میں اہل کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ کوئی شخص اپنامال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم نہ کرے اور پھر خودان کا دست نگربن جائے، جبکہ اس کی اولاد کو اس کا دست نگرہونا چاہیئے اور عورت بیوقوف ترین مخلوق ہے۔ اس طرح حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی اس کے ظاہر اور اس کی حقیقت کے مقتضیٰ کے مطابق تفسیر…
Read the full tafseer →12 مال کے بارے میں اسلام کا عادلانہ اور حکیمانہ نقطہئ نظر : سو یہ ہے مال کے بارے میں اسلام کا وہ عادلانہ اور حکیمانہ نقطہ نظر جو قرآن حکیم کے اس لفظ " قِیَامًا " سے مستفاد ہوتا ہے، کہ نہ تو اس کو مقصود حقیقی اور معبود قرار دے کر اس کی پوجا کرنے لگ جاؤ، اور پوری متاع حیات کو اس کے لئے تج کر رکھ دو ، جیسا کہ عام دنیا دارمادہ پرستوں کا حال ہے، اور نہ ہی اسے یونہی ضائع کرو کہ یہ بہرکیف تمہاری زندگی کیلئے قیام وبقاء کا سبب اور گزران کا ذریعہ ہے، بلکہ اس کو جائز حدود کے اندر رہ کر جائز طریقوں سے کماؤ اور صحیح جگہوں اور جائز مواقع پر خرچ کرو، تاکہ اس طرح یہ تمہارے لیے خیر و برکت اور آخرت کی کمائی کا…
Read the full tafseer →مال کے بارے میں ہدایت
تشریح : چھوٹے بچوں کے بارے میں حکم ہے کہ اپنا مال جو زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے۔ نادان بچوں کے حوالے مت کرو۔ جن میں یتیم سب سے پہلے آتے ہیں، بلکہ ان کو طریقہ سلیقہ سے کھلاؤ پلاؤ۔ اچھی طرح پرورش کرو مگر پرورش کا ایک اہم حصہ نیکی کی ہدایت اور بہترین تعلیم ہے۔ اس سے ہرگز غفلت نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5- 6: ولا توتوا السفھاء اموالکم۔ ۔۔۔
اسلام میں دولت کی اہمیت : ہاں مال اس قدرت بےوقعت بھی نہیں کہ اسے ضائع کیا جائے بلکہ مال کی حفاظت بھی بہت ضروری ہے کہ یہ ایک بہت بڑی قوت ہے اور انسانی زندگی کا مدار اس پر ہے سو مالدار ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ حلال ذرائع سے کمانا اور پھر اس کی حفاظت ضروری ہے کہ صرف ضرورت کے مطابق خرچ کیا جائے اور ضائع ہونے سے بچایا جائے اگر کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا گیا تو شہید ہوگا جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ من قتل دون مالہ فھو شہید۔ سو کسی ایسے عزیز کے سپرد مال نہ کیا جائے جو بےعقل ہو اور سنبھال نہ سکے خواہ یتیم ہو یا اپنا بچہ یا عورت لیکن اس میں سے اس…
Read the full tafseer →)3 یہاں بیوقوفوں کی صلا حیت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں چھو ٹے بچے اور ناتجر نہ کار بیوی بھی آجاتی ہے اور نادان یتیم بھی۔ یعنی اگر تجربہ کار اور کم عقل ہوں تو وصی یا متولی کو چاہیے کہ یتیم کے مال سے اس کے کھا نے پینے اور لباس کا انتظام کرتا رہے مگر وہ مال اس کے سپرد نہ کرے۔ اس آیت سے علما نے سفیہ (کم عقل) پر حجر کا حکم اخذ کیا ہے کہ حاکم وقت اس کے تصرف پر پابندی لگا سکتا ہے (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(4:5) قیما۔ مصدر بھی ہے (باب نصر) جس کے معنی ہیں کھڑا ہونا۔ بیٹھنے کی حالت سے اٹھنا۔ اور قائم کی جمع بھی ہے۔ کھڑے ہونے والے۔ قیام کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
(1) کسی شخص کا تسخیری طور پر یا اپنے ارادہ سے کھڑا ہونا۔ مثال منھا قائم وحصید (11:100) ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض تہس نہس ہوگئے ہیں (تسخیری طور پر کھڑا ہونے کے معنی ہیں) ۔ والذین یبیتون لربھم سجدا وقیاما (25:64) اور وہ لوگ اپنے رب کے حضور سجدہ میں اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ (قیام اختیاری کی مثال)
(2) قیام للشیئ۔ کسی شے کی حفاظت اور نگرانی کرنا۔ الرجال قوامون علی النساء (4:34) مرد عورتوں پر راعی اور محافظ ہیں
(3)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت نمبر 5- 6
لغات القرآن : لاتؤتوا، تم نہ دو ۔ السفھاء، نادان ، ناسمجھ۔ قیم، سہارا، سرمایہ زندگی۔ اکسوا، پہناؤ۔ قول معروف اچھی بات، معقول بات۔ ابتلوا، آزماؤ۔ الیتمی، یتیم، بےباپ کے بچے۔ حتی بلغوا، جب تک وہ پہنچ نہ جائیں۔ انستم، تم نے محسوس کیا، اندازہ کرلیا۔ رشد، سمجھ داری، ہوشیاری۔ ادفعوا، دے دو ، حوالے کر دو ۔ اسراف، زیادتی ، اڑا لینا۔ ان یکبروا، یہ کہ وہ بڑے ہوجائیں۔ غنی، خوش حال، آسودہ۔ فلیستعفف، پھر بچنا چاہئے۔ اشھدوا، گواہ بنالو۔ حسیب، حساب لینے والا۔
تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اپنا پورا مال کم عقل بچوں اور عورتوں کے…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بد سلیقہ خواہ بی بی بچے ہوں یا یتیم، مال ان کے حوالے نہ کیا جائے۔ ہاں ان کو اس مال میں سے کھلانا چاہیے اور ایسی باتیں ان سے کریں کہ ان کا دل خوش ہو وے۔
Read the full tafseer →[6] یعنی یہ مال تمہارا ہے اور تم ہوشیار ہوجاؤ گے تو تمہارے سپرد کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
شادی کا تحفہ :
(ف 1) اسلام جس حسن سلوک کو میاں بیوی میں دیکھنا چاہتا ہے ‘ اس کا اندازہ رسم ” صداق “ سے ہو سکتا ہے یعنی عہد مؤدت وصداقت کی یاد گار ۔ مسلمان شوہر مجبور ہے کہ حسب توفیق عورت کو شادی کا تحفہ یعنی مہر دے ۔
Read the full tafseer →ف 3 اور اے سرپرستو ! تم اپنے وہ مال جن مالوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری معیشت اور گندن کا سبب بنایا ہے اور تم سب کے لئے اس کو سرمایہ زندگی کیا ہے ان اموال کو ناسمجھ اور کم عقلوں کے سپرد نہ کرو وہاں ان کو ان اعمال میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان کو معقول و بھلی بات کہتے رہو۔
مطلب یہ ہے کہ وہ یتیم جو تمہاری زیر نگرانی ہیں اور جن کے مال تمہاری حفاظت میں ہیں اور حفاظت کی غرض سے وہ مال تمہارے سپرد کئے گئے ہیں اور چونکہ یہ مال ایسی چیز ہے کہ تم سب کی زندگی کا سرمایہ اور سہارا ہے اس لئے یتیم جب بالغ ہوجائیں تو ذرا دیکھ بھال کر یہ مال ان کے سپرد کیا کرو ناسمجھ اور کم عقلوں کو نہ پکڑا دیا کرو کہیں…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی ان کی تسلی کرتے ہو کہ مال تمہارا ہے تمہاری خیرخواہی کی وجہ سے ابھی تمہارے ہاتھ میں نہیں دیا ذرا سمجھ جاو گے تو تم ہی کو دے دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →یتامیٰ جب تک مال سنبھالنے کے قابل نہ ہوں ان کے مال واپس نہ کرو :
15: انہی یتامیٰ کے باعث نکاح کی طرف مضمون منتقل ہوا تھا اور پھر واپس اپنے مقام پر لایا گیا ہے فرمایا وہ یتامیٰ جن کے تم کفیل بنے تھے یا بنائے گئے تھے ان کی کفالت کو راستے ہی میں مت چھوڑو بلک ان کو سن رشد تک پہنچ لینے دو تب ان کے مال ان کی طرف لوٹاؤ ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مال جو قیام زندگی کا ذریعہ ہے اگر یہ مال ان بچوں کو دے دیا گیا جو ابھی خرچ کرنے اور مال پر عمل کرنے کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے اگر ان کو مال دیا گیا تو وہ بہت جلد اس کو ضائع کردیں گے اور پھر زندگی کے بحال رکھنے کا ذریعہ ختم ہوجائے گا۔ اس لیے جب تک یہ یتیم بچے…
Read the full tafseer →Sequence
The injunction to give orphans their property, and the women, their dower, has appeared in previous verses. This may lead one to think that the property of the orphans and women should under all conditions, be given to them, even if they cannot handle relevant transactions and are incapable of protecting their property interests. To remove this misunderstanding, it has been said in these verses that properties should not be handed over to the feeble-minded. Instead, they should be watched and tested to determine the age and time when they exhibit the ability to protect their property…
Read the full tafseer →8. This verse covers a very wide spectrum of meaning. It emphasizes to the community of believers that wealth is one of the main supports of human life. It should not be left, therefore, at the mercy of those who are incompetent to handle it properly. By misusing wealth such people might destroy the bases of social and economic life and wreck the moral foundations of human society. The right to private property is not so absolute; if a person is incapable of exercising this right properly and if he might cause grave social harm by wanton expenditure then his right may be forfeited. The…
Read the full tafseer →