An-Nisaa 4:173

An-Nisaa · from ayah 173

4:173

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَیَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ— وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَاسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ۙ۬— وَّلَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا ۟فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ وَ يَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَـنۡكَفُوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا  ۙ وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as for those who believed and did righteous deeds, He will give them in full their rewards and grant them extra from His bounty. But as for those who disdained and were arrogant, He will punish them with a painful punishment, and they will not find for themselves besides Allah any protector or helper.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 24 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:173

اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جو لوگ ایمان ﻻئے ہیں اور شائستہ اعمال کئے ہیں ان کو ان کا پورا پورا ﺛواب عنایت فرمائے گا اور اپنے فضل سے انہیں اور زیاده دے گا اور جن لوگوں نے ننگ و عار اور سرکشی اور انکار کیا، انہیں المناک عذاب دے گا اور وه اپنے لئے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، اور امداد کرنے واﻻ نہ پائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ان کو ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اپنے فضل سے اس سے زیادہ بھی دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے (بندگی کو) عار سمجھا ہوگا اور تکبر کا مظاہرہ کیا ہوگا، تو ان کو دردناک عذاب دے گا، اور ان کو اللہ کے سوا اپنا کوئی رکھوالا اور مددگار نہیں ملے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ انہیں پورے پورے اجر عطا فرمائے گا اور (پھر) اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا، اور وہ لوگ جنہوں نے (اﷲ کی عبادت سے) عار محسوس کی اور تکبرّ کیا تو وہ انہیں دردناک عذاب دے گا، اور وہ اپنے لئے اﷲ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا اور رہے وہ جنھوں نے عار سمجھا اور تکبر کیا تو وہ انھیں درد ناک عذاب دے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انہیں ان کے پورے اجر دے گا اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا مگر جن لوگوں نے (اللہ کی بندگی کو) عار سمجھا اور اکڑے رہے تو انہیں وہ دکھ دینے والا عذاب دے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کسی کو بھی حامی اور مددگار نہ پائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو ان کو تو ان کا پورا پورا اجر بھی دے گا اور اپنے فضل میں سے ان کو مزید بخشے گا اور جنہوں عار اور تکبر کیا ہوگا ان کو دردناک عذاب دے گا اور وہ اللہ کے بالمقابل نہ کسی کو اپنا دوست پائیں گے نہ مددگار

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جنہوں نے (صدق دل سے) ایمان لایا ہوگا، اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے، تو وہ ان کو نوازے گا ان کے بھرپور اجر سے، اور ان کو اور بھی دے گا اپنے فضل (مہربانی) سے، اور جنہوں نے عار کی ہوگی (اس کی عبادت و بندگی سے) اور وہ مبتلا رہے ہوں گے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں، تو انکو وہ مبتلا کرے گا ایک بڑے ہی (ہولناک اور) دردناک عذاب میں، اور وہ نہیں پاسکیں گے اپنے لئے اللہ کے سوا کوئی یار اور نہ کوئی مددگار،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک کام بھی کئے ہوں گے تو وہ ان کو ان کا پورا پورا اجر دے گا اور انہیں اپنے فضل سے اور زائد دے گا۔ اور جن لوگوں نے عار اور تکبر کیا ہوگا سو انہیں وہ دردناک عذاب دے گا اور وہ لوگ اپنے حق میں کسی غیر اللہ کو نہ دوست پائیں گے نہ مدد گار۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو ان کو تو ان کا پورا پورا اجر بھی دے گا اور انہیں مزید بھی دے گا اپنے خاص فضل میں سے اور جنہوں نے (عبدیت کے اندر) عار محسوس کی تھی اور تکبر کیا تھا تو ان کو وہ درد ناک عذاب دے گا اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر دے گا۔ اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ان کو اللہ درد ناک سزا دے گا۔ اور اللہ کے سوا (جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے) کسی کو بھی اپنے لیے حمایتی اور مددگار نہ پائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

He will grant those who have believed and done good deeds their rewards in full, and will give them more out of His bounty. He will bestow upon those who have been disdainful and arrogant a painful chastisement; and they will find for themselves neither a guardian nor a helper besides Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Data Missing

— Muhammad Taqi Usmani

So, as for those who believed and did deeds of righteousness, He will give them their (due) rewards and more out of His bounty. But as for those who refused His worship and were proud, He will punish them with a painful torment. And they will not find for themselves besides Allah any protector or helper.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, as for those who believed and did good works, unto them will He pay their wages in full, adding unto them of His bounty; and as for those who were scornful and proud, them will He punish with a painful doom. And they will not find for them, against Allah, any protecting friend or helper.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as for those who believed and did righteous deeds, He will give them in full their rewards and grant them extra from His bounty. But as for those who disdained and were arrogant, He will punish them with a painful punishment, and they will not find for themselves besides Allah any protector or helper.

— Saheeh International

The righteously striving believers will receive the reward for their deeds and extra favors from God. But those who disdain the worship of God out of pride will suffer the most painful torment. They will find no guardian or helper besides God.

— Muhammad Sarwar

Then as for those who believe and do good, He will pay them fully their rewards and give them more out of His grace; and as for those who disdain and are proud, He will chastise them with a painful chastisement. And they shall not find for themselves besides Allah a guardian or a helper

— Muhammad Habib Shakir

Then as to those who have believed and worked righteous works, He shall give unto them their hire in full and shall give unto them an increase out of His grace. And as to those who disdained and were stiff-necked, He shall torment them with a torment afflictive. And they shall not find for themselves, against Allah, a protecting friend or a helper.

— Abdul Majid Daryabadi

But to those who believe and do deeds of righteousness, He will give their (due) rewards,- and more, out of His bounty: But those who are disdainful and arrogant, He will punish with a grievous penalty; Nor will they find, besides Allah, any to protect or help them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:173

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 172–173

اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے ! مطلب یہ ہے کہ مسیح ؑ اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کرسکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں۔ لیکن دراصل اس کا کوئی ثبوت اس آیت میں نہیں، اس لئے یہاں ملائکہ کا عطف مسیح پر ہے اور استنکاف کا معنی رکنے کے ہیں اور فرشتوں میں یہ قدرت بہ نسبت مسیح کے زیادہ ہے۔ اس لئے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے فضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح حضرت مسیح ؑ کو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 171–175

سورة النِّسَآء 211 یہاں اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں اور غلو کے معنی ہیں کسی چیز کی تائید و حمایت میں حد سے گزر جانا۔ یہودیوں کا جرم یہ تھا کہ مسیح کے انکار اور مخالفت میں حد سے گزر گئے، اور عیسائیوں کا جرم یہ ہے کہ وہ مسیح کی عقیدت میں محبت میں حد سے گزر گئے۔ سورة النِّسَآء 212 اصل میں لفظ ”کلمہ“ استعمال ہوا ہے۔ مریم کی طرف کلمہ بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے رحم پر یہ فرمان نازل کیا کہ کسی مرد کے نطفہ سے سیراب ہوئے بغیر حمل کا استقرار قبول کرلے۔ عیسائیوں کو ابتداءً مسیح ؑ کی پیدائش بےپدر کا یہی راز بتایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے یونانی فلسفہ سے گمراہ ہو کر پہلے لفظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 172–173

خلاصہ تفسیر (نصاری خواہ مخواہ حضرت مسیح ؑ کو اللہ یا جزو اللہ بنا رہے ہیں، خود حضرت) مسیح (کی یہ کیفیت ہے کہ سکونت ارض کی حالت میں تو ان کا اقرار عبدیت جو کہ مبطل الوہیت ہے مشہور اور سب کو معلوم ہی ہے لیکن اب بھی سکونت سماء کی حالت میں کہ سکونت ارض سے ارفع اور مظنہ تعلی کا ہے، یا قیامت تک وہ جس حالت میں ہوں ان سے کوئی پوچھ کر دیکھئے اس حالت میں بھی) ہرگز خدا کا بندہ بننے سے عار (اور انکار) نہیں کریں گے اور نہ مقرب فرشتے (کبھی عار کریں گے، جن میں حضرت جبرئیل ؑ بھی ہیں، جن کو آلہ کار ایک جزو مانتے ہیں خود ان سے کوئی پوچھ کر دیکھے) اور (وہ عار کریں کیسے اس عار کرنے کا ایسا برا انجام ہے کہ) جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 172–173

172۔ 173:۔ لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰۗىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۭوَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَاسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِــيْمًا ۥۙ وَّلَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ " استنکاف " کے معنی ہیں کسی چیز سے غیرت، حمیت، خودداری یا استکبار کے سبب سے اعراض کرنا۔ اس آیت کا صحیح زور سمجھنے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

173۔ 1 بعض نے اس (زیادہ) سے مراد یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو شفاعت کا حق عطا فرمائے گا، یہ اذن شفاعت پا کر جن کی بابت اللہ چاہے گا شفاعت کریں گے۔ 173۔ 2 یعنی اللہ کی عبادت و اطاعت سے رکے رہے اور اس سے انکار وتکبر کرتے رہے۔ 173۔ 3 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' بیشک جو لوگ میری عبادت سے استکبار (انکار وتکبر) کرتے ہیں، یقیناً ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 171–175

یہودیوں کے بعد ان آیات میں عیسائیوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ یہودی تو حضرت عیسیٰ ؑ کے جانی دشمن بن گئے تھے اور دوسری طرف عیسائی آپ کی تعظیم میں حد سے گزر گئے، اور انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہنا شروع کردیا اور یہ عقیدہ اپنا لیا کہ خدا تین ہیں، باپ بیٹا اور روح القدس۔ اس آیت میں دونوں کو حد سے گذرنے سے منع کیا گیا ہے، اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں وہ معتدل بات بتائی گئی ہے جو حقیقت کے عین مطابق ہے، یعنی وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے اور اللہ نے ان کو اپنے کلمہ کن سے باپ کے واسطے کے بغیر پیدا کیا تھا اور ان کی روح براہ راست حضرت مریم (علیہا السلام) کے بطن میں بھیج دی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 172–173

(آیت) ” نمبر 172 تا 173۔ قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی بندگی سے ناک چڑھاوے گا اور سرکشی کرے گا تو وہ یونہی نہ چھوڑ دیا جائے گا بلکہ ایک روز سب کو اللہ کے سامنے جمع ہونا ہے اور حساب دینا ہے۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے یعنی اللہ کی بندگی پوری بجا لائے ان کو ان کے کاموں کا پورا ثواب ملے گا بلکہ اللہ کے فضل سے بڑی بڑی نعمتیں ان کے ثواب سے زیادہ بھی ان کو عنایت ہوں گی اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بندگی سے ناک چڑھائی اور سرکشی کی وہ عذاب عظیم میں گرفتار ہونگے اور کوئی ان کا خیر خواہ اور مددگار نہ ہوگا۔ جن کو اللہ کی بندگی میں شریک کر کے عذاب میں پڑے وہ بھی کام نہ آئیں گے۔ سو اب نصاریٰ خوب سمجھ لیں کہ ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 173 فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَیَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ج۔ ایسے لوگوں کو ان کے اجر کے علاوہ بونس بھی ملے گا۔ جیسے آپ کسی کام کرنے والے کو اچھا کام کرنے پر اجرت کے علاوہ انعام tip بھی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے خزانۂ فضل سے انہیں ان کے مقررہ اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

230 تکبر کا انجام :۔ تکبر اور بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کو لائق ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی اللہ کے سامنے اکڑے گا، تو یقینا دوزخ میں جائے گا۔ عہد آدم میں سب سے پہلے ابلیس نے تکبر کیا تو راندہ بارگاہ الہی قرار پایا۔ جس شخص میں بھی کبر و نخوت ہو لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ اللہ اسے دنیا میں بھی ذلیل کرتا ہے اور آخرت میں بھی ذلیل کر کے اس کی اکڑ توڑ دے گا اور جہنم میں داخل کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پروردگار کے سامنے جنت اور دوزخ کا جھگڑا ہوا۔ جنت نے کہا پروردگار ! میرا تو یہ حال ہے کہ مجھ میں وہی لوگ آ رہے ہیں جو دنیا میں ناتواں اور حقیر تھے۔ اور دوزخ کہنے لگی کہ مجھ میں وہ لوگ آ رہے ہیں جو متکبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

444 ۔ (جس کی کوئی حدونہایت نہیں ہے) (آیت) ” لیوفیھم اجورھم “۔ یعنی جتنااجر مقرر وموعود ہے، وہ تو انہیں پورا ملے ہی گا (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ یعنی جو لوگ عقیدہ اور عمل دونوں کے اعتبار سے عبد بنے رہے۔ 445 ۔ خلاصہ یہ کہ نیک سے نیک، بزرگ سے بزرگ، مقبول سے مقبول بندے بھی بہرحال بندے ہی ہوتے ہیں، غالی مریدوں، معتقدوں کا اپنے شیخ یا کسی پیغمبر کو اس کی حد عبدیت سے باہر نکال دینا اپنے کو مستحق جہنم بنانا ہے۔ (آیت) ” الذین استنکفوا “ یعنی جنہوں نے عبد بننے سے عار رکھا (آیت) ” ولیا ولانصیرا “۔ ولی اور نصیر سلبی طور پر وقع مضرت پر۔ ولیا ای قریبا ینفعھم (ابن عباس ؓ نصیرا ای مائعا یمنعھم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 172–176

آیت نمبر 172 تا 176 ترجمہ : حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام سے تم جن کی الوہیت کا عقدہ رکھتے ہو اللہ کا بندہ ہونے سے عار و انکار ہرگز ممکن نہیں اور نہ اللہ کے مقرب فرشتوں کو بندہ ہونے سے عار و انکار ہوسکتا ہے، اور یہ بہترین (طریقہ) استطر اد ہے (یعنی طریقہ تردید ہے) یہ ان لوگوں پر رد کرنے کیلئے ذکر کیا گیا ہے جو فرشتوں کی الوہیت یا اللہ کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسا کہ ماقبل (کے جملہ سے) مذکورہ عقیدہ رکھنے والے (نصاری) پر رد کیا ہے، (یہاں) مقصودِ خطاب نصاری ہی ہیں، اور جو بھی اس کی عبادت سے ننگ وعار (سرتابی و انکار) کرے گا تو اللہ آخرت میں ان سب کو گھیر کر اپنے حضور حاضر کرے گا، سو جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاما الذین امنوا عملوا الصلحت پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ جیسے مسیح ( علیہ السلام) اور ملائکہ اور دوسرے مؤمن (معلوم نہیں آیت کے عموم میں حضرت مفسر (رح) نے ملائکہ کو کیوں داخل کیا ‘ باوجودیکہ کلام کا سیاق بتارہا ہے کہ صرف نیک مؤمن انسانوں کا حکم بیان کرنا مقصود ہے پھر آئندہ جزاء کا تعلق بھی صرف انسانوں سے ہے ثواب پورا پورا دینا اور اپنے فضل سے ثواب مزید عطا کرنا اس کا وعدہ صرف انسانوں سے ہے انسان ہی قوانین کتاب کا مکلف ہے فرشتے تو مکلف ہی نہیں ہیں نہ ان سے حساب کتاب کی کہیں صراحت ہے نہ ثواب عذاب پانے کی نص۔ واللہ اعلم۔ مترجم) فیوفیہم اجورہم تو ان کا ثواب پورا پورا دے گا جیسا کہ اس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 173–174

(173۔ 174) سو جنہوں نے ایمان کے ساتھ حقوق اللہ کی پوری بجاآوری کی ہوگی تو ہم ان کو جنت میں کامل ثواب عطا کریں گے اور اپنے فضل سے اور بھی زیادہ عطا کریں گے اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے میں عار اور تکبر کیا تو ہم ان کو ایسی دردناک سزا دیں گے کہ نہ کوئی رشتہ دار اس وقت ان کے کام آئے گا اور نہ کوئی یار وتعلق دار ہی عذاب الہی سے بچائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 172–173

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ۔۔ : اس آیت میں نصاریٰ اور مشرکین دونوں کے غلط عقیدے کی تردید ہے، کیونکہ نصرانی مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ دونوں اللہ کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی عار اور شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہی حال ہمارے نبی ﷺ کا تھا کہ جب کوئی شخص آپ کو اللہ کا بندہ کہتا تو آپ کو بےانتہا خوشی ہوتی۔ کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت و شرف کا مقام ہے، نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا۔ ابن قیم ؓ نے اپنی کتاب ”انوار القلوب“ میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 172–173

آیت نمبر : 172 تا 173۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لن یستنکف المسیح “۔ یعنی ہر گز عار نہیں سمجھیں گے۔ (آیت) ” ان یکون عبداللہ “۔ اللہ کا بندہ ہونے سے، یہ محل نصب میں ہے، حسن نے ان یکون پڑھا ہے یعنی ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ان نافیہ ہے بمعنی ما ہے معنی یہ ہے اس کے لیے بیٹا نہیں ہے یکون کو رفع مناسب ہے راوۃ نے یہ ذکر نہیں کیا ہے۔ (آیت) ” ولا الملئکۃ المقربون “۔ یعنی اللہ کی رحمت اور رضا سے، یہ دلیل ہے کہ فرشتے انبیاء کرام سے افضل ہیں اسی طرح (آیت) ” ولا اقول لکم انی ملک “۔ (الانعام : 50) سورة بقرہ میں اس مفہوم کی طرف اشارہ گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ومن یستنکف “۔ جو عار سمجھے گا، (آیت) ” عن عبادتہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 172–173

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لن یستنکف “ سے مراد ہے کہ وہ ہرگز تکبر نہیں کریں گے۔ (2) ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں واسماعیل نے اپنی معجم میں (ضعیف سند کے ساتھ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” فیوفیہم اجورہم ویزیدہم من فضلہ “ میں ” اجورہم “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے (اور فرمایا) ” ویزیدہم من فضلہ “ کہ وہ شفاعت کرے گا ان لوگوں کے بارے میں کہ جن کے لئے آگ واجب ہوچکی تھی۔ جنہوں نے ایمان والوں سے دنیا میں حسن سلوک کیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَاَمَّا الَّذِیْنَ : پس وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [ فَیُوَفِّیْہِمْ : تو وہ پورا پورا دے گا ان کو ] [ اُجُوْرَہُمْ : ان کے بدلے ] [ وَیَزِیْدُہُمْ : اور وہ زیادہ دے گا ان کو ] [ مِّنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ وَاَمَّا الَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ ؓ اسْتَنْکَفُوْا : عار سمجھ کر رکے ] [ وَاسْتَـکْبَرُوْا : اور بڑائی چاہی ] [ فَـیُعَذِّبُہُمْ : تو وہ عذاب دے گا ان کو ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک دردناک عذاب ] [ وَّلاَ یَجِدُوْنَ : اور وہ لوگ نہیں پائیں گے ] [ لَہُمْ : اپنے لیے ] [ ؓ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے سوا ] […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 172–174

اہل ایمان کی جزاء اور اہل کفر کی سزا کا ذکر اسباب النزول صفحہ 180 میں لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا جو وفد آیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد ! ﷺ آپ ہمارے صاحب کو عیب لگاتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں آپ نے فرمایا وہ کون سی بات ہے جو میں ان کے بارے میں کہتا ہوں جسے تم ان کے بارے میں عیب سمجھتے ہو انہوں نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ کے لیے یہ عار نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بنیں وہ کہنے لگے (ہمارے خیال میں تو) یہ ان کے لیے عار ہے اس پر آیت شریفہ (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 171–176

خطاب خاص باہل کتاب باعتاب نصیحت مآب۔ قال تعالیٰ یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیما۔ ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے شبہات اور معاندانہ سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے ہیں اور ان کے قبائح وفضائح سب کے سامنے کھول دیے جنہیں وہ چھپاتے تھے پس جب نبی ﷺ کو نبوت ثابت ہوگئی تو اس کے بعد ایک خطاب عام فرمایا اور تمام بنی آدم کو دین حق اور رسالت محمدیہ کی تصدیق کی دعوت دی اب خطاب عام کے بعد پھر اہل کتاب کو خطاب خاص فرماتے ہیں اور گوعنوان عام ہے مگر اصل مقصود بالخطاب، نصاری ہیں جس میں ان کو اس کی نصیحت ہے کہ اپنے عقائد فاسدہ سے باز آکر خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اگر انحراف کریں گے تو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 172–173

113 یہ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَاثَۃ سے متعلق ہے استنکاف کے معنی ناک بھوں چڑھانے کے ہیں یعنی اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین یا تخفیف نہیں کیونکہ وہ تو خود اللہ کی عبادت سے نفرت نہیں کرتے اور اس کا بندہ اور عابد ہونے سے ناک بھوں نہیں چڑھاتے پھر تم انہیں کو معبود بناتے ہو یہی حال فرشتوں کا ہے وَمَنْ یَّسْتَنْکِف زجر ہے اور فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلحت بشارت اخروی ہے۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوا الخ تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 172–175

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے کفرکا تذکرہ کیا۔ خصوصاً یہودیوں نے انبیاء کی نبوت کا انکار کیا اور دیگر بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب بھی کیا ، عیسائیوں نے دین میں تجاوز کیا اور اللہ کے بندے مسیح (علیہ السلام) کو معبود مانا پھر ان کے کئی فرقے بن گئے ، کوئی ابنیت کے عقیدے کا قائل ہوا ، کس ینے تثلیث کو اپنا لیا اور کوئی انسانوں میں اللہ کے حلول کو تسلیم کر بیٹھا۔ اللہ نے فرمایا۔ یہ سب باطل عقیدے ہیں اللہ کی ذات اولاد سے پاک ہے اس کے لیے بیٹا ہونا عیب کی بات ہے۔ اولاد ہونامخلوق کی صفت ہے اگر یہی صفت اللہ تعالیٰ میں مانی جائے تو وہ بھی مرکب اور حادث بن جائے گا حالانکہ خدا قدیم اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَيَزِيْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝ 0ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَاسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝ 0ۥۙ وَّلَا يَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۝ 173 «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 172–173

ترکیب : ان یکون ای عن یکون ولا الملئکۃ موصوف المقربون صفت مجموعہ کا عطف المسیح پر ہے اور کلام میں حذف ہے ای یکونوا عبدا۔ تفسیر : سب اسی کا ہے اس کو ضعف و پیری ‘ بےکسی کہاں جو بیٹے کی ضرورت پڑے بلکہ کفی باللّٰہ وکیلا کہ وہ اپنے تمام کام کرنے کے لیے کافی ہے۔ پھر بیٹے کی کیا حاجت۔ ان آیات میں جس طرح اس صاف مطلب کی طرف اشارہ ہے اسی طرح ایک باریک دلیل کی طرف بھی اشارہ ہے کہ لہ مافی السموات الخ سب کچھ اس کی خاص ملک ہے۔ اگر کوئی بیٹا ہوگا تو ضرور باپ کا مثل ہوگا اور باپ تو کبھی نہ مرے گا سو بیٹے کے لئے بھی کوئی جداگانہ آسمان و زمین اور وہاں کی بادشاہی چاہیے ورنہ باپ کا مثل نہ رہے گا اور جو اسی میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 172–173

لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَلَا الْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ ط وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِرْفَسَیَحْشُرُہُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَیَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ج وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوْا وَاسْتَکْبَرُوْا فَیُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ لا وَّلَا یَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَانَصِیْرًا ” مسیح (علیہ السلام) ہرگز عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندہ ہوں اور نہ مقرب ترین فرشتے۔ جو اللہ کی بندگی کو عار سمجھتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 172–173

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی کا مرتبہ دیا حالانکہ وہ اللہ کے بندے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ یعنی اس کا غلام اور فرمانبردار ہونے سے قطعاً کوئی انکار نہ تھا جو اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہونے سے انکار کرے گا اس کی سزادرد ناک عذاب ہے۔ عبد کا معنی ہے۔۔ انسان اور غلام (المنجد) قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ اور انداز میں واضح کیا ہے کہ جتنے پیغمبر دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سارے کے سارے عبد اور بشر تھے خاص طور پر جن انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ان کی سوانح حیات کو قرآن مجید نے اتنا واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اجمال کی تفصیل : آیت 173 : فَاَ مَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَ یَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوْا وَ اسْتَکْبَرُوْا فَیُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّلَا یَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا (پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ تو ان کو ان کا ثواب پورا پورا دیگا اور اپنی مہربانی سے زیادہ عطا فرمائے گا اور پھر جن لوگوں نے عار محسوس کی اور بڑے بنے تو اللہ تعالیٰ ان کو دکھ آمیز عذاب دے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی کارساز و مددگار نہ پائیں گے) اہم سوال : تفصیل اجمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

173۔ (آیت)” فاما الذین ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من فضلہ “۔ وہ دگنا سے مراد قرب و دیدار کے وہ معاملات جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا (آیت)” واما الذین استنکفوا واستکبروا “۔ اپنے بندوں سے تکبر کیا۔ (آیت)” فیعذبھم عذابا الیما ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 171–173

171 ۔ 173) ۔ غلو کہتے ہیں حد سے گزر جانے کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے اور یہود ان کی حقارت میں حد سے گزر کر طرح طرح کی گستاخی کی باتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی شان میں کہتے تھے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کہتا ہے اور ایک فرقہ ان کو خدا کا بیٹا کہتا ہے اور ایک فرقہ تثلیث کا قائل ہے۔ جس کا مطلب طرح طرح ان کی کتابوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ عیسائی مذہب میں جس طرح یہ خرابیاں پھیلی ہیں اس کا پورا قصد سورة توبہ میں آئے گا لیکن اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد 81 برس کے قریب تک تو عیسائی مذہب میں یہ خرابیاں ڈال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 172–173

آیت 172 اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بارے میں نصاریٰ کے غلوکاذ کر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، تو اب یہاں یہ بھی واضح کردیا کہ حضرت عیسیٰ اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے۔ (ولا المئکۃ المقربون) ” اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے “ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولی ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا ثبات ہوتا ہے۔۔۔ یعنی عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 171–175

قول باری ہے یا اھل الکتاب لاتغلوافی دینکم۔ اسے اہل کتاب، اپنے دین میں غلو نہ کرو) حسن سے مروی ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے کیونکہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اتنا غلو کیا کہ انہیں انبیاء کے درجے سے بلند کر کے الہ بنا لیا، یہودیوں نے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں غلو کیا اور انہیں ان کے مرتبے اور درجے سے گرا دیا۔ اس طرح دونوں گروہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں غلو سے کام لیا۔ دین میں غلو کا مفہوم یہ ہے کہ حق کی حد سے تجاوز کیا جائے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں رمی جمار کے لئے کنکریاں پکڑانے کو کہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 173–174

453 اہل ایمان کیلئے بھرپور اجر کا وعدہ و خوشخبری : جس سے وہ ان کو اپنے کرم سے نوازے گا، کہ نوازنا اور کرم فرمانا اس کی شان ہے ۔ جَلّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ ۔ سو وہ اپنے ایمان و یقین کی پختگی اور اعمال صالحہ کی پونجی کی بناء پر جس قدر اجر وثواب کے مستحق ہوں گے وہ ان کو ان کے ان اجور سے بغیر کسی کمی کے نوازے گا، اور کمی کی بجائے وہ انکو اپنے فضل و کرم سے مزید اجر وثواب سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ایمان و یقین اور عمل صالح کی راہ ہی نجات اور سلامتی کی راہ ہے۔ جن لوگوں نے اس راہ کو اپنایا ہوگا ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اس اجر وثواب سے نوازیگا جس کے وہ مستحق ہوں گے اور ان کو وہ مزید فضل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 172–174

اللہ کی عبادت کی جزا اور انکار کی سزا تشریح : سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہی شان اور حق ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔ انہوں نے تو ہمیشہ اللہ رب العزت کی بندگی میں ہی زندگی گزاری جس بندے کو رب نے نبی کے طور پر چننا ہوتا ہے وہ تو شروع سے ہی اس کا برگزیدہ، نیک فطرت، متقی اور عبادت گزار بندہ ہوتا ہے تو اسی طرح سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی بچپن ہی سے خدا ترس اور انتہائی پاکیزہ فطرت کے مالک تھے نہ انہوں نے کبھی تکبر کیا تھا اور نہ ہی کبھی اللہ کی بندگی سے انکار کیا تھا، پھر اللہ جل شانہ خبردار کرتے ہیں کہ انسانوں میں جو بھی میری بندگی سے انکار کرے گا، تکبر کرے گا، میرے سامنے جھکنے کو اپنی عزت کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 172–176

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 9172 تا 177: اسرار و معارف : خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو تو اللہ کا بندہ بننے پہ فخر ہے زمینی زندگی تو خود اس پہ گواہ ہے اپنی آسمانی زندگی میں بھی انہیں بندگی پہ کوئی عار نہیں اور نہ مقرب فرشتوں کو بلکہ سب کو اللہ کا بندہ بننے ، اس کا حکم ماننے اور اس کے ارشادات کی تعمیل سے اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر ہے اور اس کی غلامی ہی سب کے لیے باعث عزت و وقار ہے اور یہ جن لوگوں کو تم گمراہ پاتے ہو اور انہیں اللہ کریم کے آگے جھکتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اظہار تکبر کرتے ہیں کام میں بھی کلام میں بھی اکڑفوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سب کو بھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 173–174

ف 4 جب اللہ تعالیٰ نے تمام فرق ضالتہ منافقین کفار یہود نصاری ٰ پر دلائل قائم کر دئے اور ان کے شہبات کی بھی مکمل طور پر تر دید فرمادی تو اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی ہے یہاں ابران سے مراد آنحضر ﷺ کی ذات ہے کیونکہ آپ ﷺ کا کام ہی اثبات حق اور ابطال اور البطال باطل تھا۔ اور نووامبینا سے مراد قرآن پاک ہے جو انسانوں کو ضلالت کے اندھروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نو ایمان پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے (راز ی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 173–174

(4:173) فیوفیہم۔ نوفیہ (تفعیل) سے ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو پورا پورا دیگا۔ اجورھم۔ ان کا حق ان کا بدلہ۔ اجور جمع ہے اجر کی مفعول بہ فعل فیوفیہم کا۔ استنکفوا۔ استنکاف سے ماضی کا صیغہ۔ جمع مذکر غائب۔ دیکھو 4:172 (آیہ ما قبل) یستنکف۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 172–173

آیت نمبر 172-173 لغات القرآن : لن یستنکف، وہ ہرگز برا بہ سمجھے گا۔ المقربون، قریب والے۔ یستکبر، وہ تکبر کرتا ہے۔ فسیحشرھم، جلد ہی ہم ان کو جمع کریں گے۔ تشریح : حضرت مسیح (علیہ السلام) ہوں یا کوئی پیغمبر یا کوئی فرشتہ ہو، جو اللہ سے جتنا قریب ہوگا، اتنا ہی عاجزی کا پیکر ہوگا، وہ جانتا ہے کہ اللہ کی بندگی سب سے بڑی عزت اور مرتبت ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) جب تک زمین پر تھے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہی سمجھتے تھے اور اس سے آپ کو ننگ وعار نہ تھا بلکہ عزت اور بلندی تھی۔ آج جب کہ آپ آسمان پر ہیں ، تب بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں۔ تکبر کرنا اور شیخی مارنا یہ تو ابلیس، فرعون اور ابوجہل کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 172–173

عسائیوں کی گمراہی کا انجام اور کلالہ کا ذکر شان نزول : نجران کے نصاری کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عیب لگاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ عار کی بات نہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جن کو ، یہ لوگ خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں یا فرشتے جن کو اہل مکہ خدا کی بیٹیاں جانتے ہیں ، ان میں سے کسی کو بھی اللہ کا بندہ ہونے سے کچھ ننگ و عار نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کی عبادت سے انکار کرے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 171–175

[105] یعنی حقیقت و اعتدال سے تجاوز نہ کرو۔ یہاں خطاب عیسائیوں سے ہے جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت و تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ انہیں اللہ کا بیٹا بنادیا اور ایک اِلٰہ کی جگہ تین اِلٰہ بنا لئے یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔ [106] یعنی اللہ تعالیٰ نے '' کُن '' فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ اور بغیر نطفے کے محض حکم الٰہی سے پیدا ہوگئے۔ [107] یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ اولاد کے جھگڑے بکھیڑے سے بری ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اولاد اس لئے ہوتی ہے کہ باپ کی مددگار اور اس کے مال و متاع کی حق دار ہو۔ اللہ کے ہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔ وہ اکیلا کار ساز ہے، اس کو مددگار کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 172–173

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ بڑے سے بڑا مرتبہ ” عبودیت “ اور غلامی سے آگے نہیں بڑھتا مسیح (علیہ السلام) اور خدا کے تمام مقرب فرشتے اس کے حلقہ بگوش اور فرمانبردار ہیں ، سب اس کے جلال وجبروت کے سامنے خائف ولرزاں ہیں ، کسی کو مجال ادعاء نہیں ، سب یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کی رضا و محبت کو حاصل کیا جائے ، پس مسیح یا کسی دوسرے شخص کو سر پر لاہوت پر لا بٹھانا اس کے منصب الوہیت کی توہین ہے ۔ حل لغات : عبد ، غلام ، حلقہ بگوش ، فرماں بردار ۔ یستنکف : مصدر استنکاف ، انکار کرنا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 173–174

ف 1 پھر وہ لوگ جو دنیا میں ایمان لائے ہوں گے اور نیک اعمال اور اچھے کام کرتے رہے ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے پورے اجر عطا کرے گا اور ان کو ان کا پورا پورا ثواب دیگا اور ان اجور کے علاوہ اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ بھی عطا فرمائے گا اور جن لوگوں نے حق تعالیٰ کی عبودیت کو ننگ دعاء سمجھا ہوگا اور اس کی عبادت سے سرکشی اور سرتابی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سخت درد ناک سزا دے گا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا یار و مددگا نہ پائیں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ میدان حشر میں سب کو جمع کرنے کے بعد پھر یہ سلوک ہوگا کہ ان میں جو لوگ عبدیت اور عبادت کو صحیح طور پر بجا لائے جس کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ اوپر عقائد نصاری کا بطلان مع جزاء وسزاء مقرین و منکرین مذکور ہوچکا آگے خطاب عام سے ان مضامین کا اور ان مضامین کے تعلیم فرمانے والے رسول اور قرآن کا صدق اور مصدقین کی فضیلت بیان فرماتے ہیں جس طرح محاجہ یہود کے ختم پر اسی طور پر خطاب عام فرمایا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ وہ انعام بھی پائیں گے 273: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی نیکی بھی ضائع نہیں کی جائے گی۔ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی آدمی اللہ کی رضا کے لئی ایک کام کرے اور پھر اس کے اجر سے محروم رہے ؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں ! اپنی نیکیوں کو خود کوئی برباد کر جائے تو وہ دوسری بات ہے ۔ نیکیاں برباد کسی طرح ہوتی ہیں ؟ اس کی تشریح پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً روپیہ پیسہ خرچ کیا لیکن دکھاوے کے لئے پیسہ خرچ ہو گای اور دکھاوا بھی ہوگا اس لئے کہ جن کو دیکھنے کے لئے بلایا گیا تھا وہ خوب داد دے گئے۔ اس طرح بالا شبہ اس کا صلہ اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 172–173

From the affirmation of Allah's absolute purity and the refutation of assumed Godhood of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) earlier, the text now moves to further strengthen the argument by showing that Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) would himself confess to being a servant of Allah and so will the angels (which includes Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) alleged to be a person of Trinity). Then, follows the warning for those who choose to retract in distaste and the good news for those who believe and are good in deeds for they will be rewarded for their belief and deeds with many more added graces from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 171–175

211. The expression 'People of the Book' refers here to the Christians and the word ghuluw denotes the tendency to exceed the limits of propriety in support of something. The fault of the Jews was that they had exceeded the limits of propriety in rejecting and opposing Jesus, whereas the crime of the Christians was that they had gone beyond the proper limits in their love for and devotion to Jesus. 212. What is meant by sending the 'command' to Mary is that God ordered Mary's womb to become impregnated without coming into contact with sperm. In the beginning the Christians were told that this…

Read the full tafseer →