اپنی اوقات میں رہو حد سے تجاوز نہ کرو !
اہل کتاب کو زیادتی سے اور حد سے آگے بڑھ جانے سے اللہ تعالیٰ روک رہا ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے بارے میں حد سے نکل گئے تھے اور نبوت سے بڑھا کر الوہیت تک پہنچا رہے تھے۔ بجائے ان کی اطاعت کے عبادت کرنے لگے تھے، بلکہ اور بزرگان دین کی نسبت بھی ان کا عقیدہ خراب ہوچکا تھا، وہ انہیں بھی جو عیسائی دین کے عالم اور عامل تھے معصوم محض جاننے لگ گئے تھے اور یہ خیال کرلیا تھا کہ جو کچھ یہ ائمہ دین کہہ دیں اس کا ماننا ہمارے لئے ضروری ہے، سچ و جھوٹ، حق و باطل، ہدایت و ضلالت کے پرکھنے کا کوئی حق ہمیں حاصل نہیں۔ جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے آیت (اِتَّخَذُوْٓا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
سورة النِّسَآء 211
یہاں اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں اور غلو کے معنی ہیں کسی چیز کی تائید و حمایت میں حد سے گزر جانا۔ یہودیوں کا جرم یہ تھا کہ مسیح کے انکار اور مخالفت میں حد سے گزر گئے، اور عیسائیوں کا جرم یہ ہے کہ وہ مسیح کی عقیدت میں محبت میں حد سے گزر گئے۔
سورة النِّسَآء 212
اصل میں لفظ ”کلمہ“ استعمال ہوا ہے۔ مریم کی طرف کلمہ بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے رحم پر یہ فرمان نازل کیا کہ کسی مرد کے نطفہ سے سیراب ہوئے بغیر حمل کا استقرار قبول کرلے۔ عیسائیوں کو ابتداءً مسیح ؑ کی پیدائش بےپدر کا یہی راز بتایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے یونانی فلسفہ سے گمراہ ہو کر پہلے لفظ…
Read the full tafseer →ربط آیات
ماقبل کی آیات میں یہود کو خطاب تھا اور انہی کی گمراہیوں کی تفصیل ذکر کی گئی اس آیت میں نصاری کو خطاب ہے اور ان کی بد اعتقادی اور خدا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق ان کے باطل خیالات کی تردید کی گئی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے اہل کتاب (یعنی انجیل والو) تم اپنے دین (کے بارہ) میں (عقیدہ حقہ کی) حد سے مت نکلو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں غلط بات مت کہو (کہ نعوذ باللہ وہ صاحب اولاد ہے، جیسا بعض کہتے تھے المسیح ابن اللہ یا وہ مجموعہ آلہہ کا ایک جزو ہے جیسا بعض کہتے تھے ان اللہ ثالث ثلثة اور بقیہ دو جز ایک حضرت عیسیٰ ؑ کو کہتے تھے اور ایک حضرت جبرئیل ؑ کو جیسا آیت آئندہ میں ولا الملکة المقربون کے بڑھانے…
Read the full tafseer →يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۭاِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ ۡ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ڟ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ ۭاِنْتَھُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭاِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭسُبْحٰنَهٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ ۘ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔
" غلو " کا مفہوم : لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔ " غلا یغلو " کے معنی بڑھنے، زیادہ ہونے، متجاوز ہونے کے ہیں، جب یہ لفظ دین کے تعلق سے…
Read the full tafseer →171۔ 2 غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی حد سے بڑھا دینا۔ جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا کہ انہیں رسالت و بندگی کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کردیا اور ان کی اللہ کی طرح عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کو بھی غلو کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم بنا ڈالا اور ان کو حرام وحلال کے اختیار و سے نواز دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے " اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ " 9:31 (انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) یہ رب بنانا حدیث کے مطابق ان کے حلال کیے کو حلال اور حرام کیے کو حرام سمجھنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
یہودیوں کے بعد ان آیات میں عیسائیوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ یہودی تو حضرت عیسیٰ ؑ کے جانی دشمن بن گئے تھے اور دوسری طرف عیسائی آپ کی تعظیم میں حد سے گزر گئے، اور انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہنا شروع کردیا اور یہ عقیدہ اپنا لیا کہ خدا تین ہیں، باپ بیٹا اور روح القدس۔ اس آیت میں دونوں کو حد سے گذرنے سے منع کیا گیا ہے، اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں وہ معتدل بات بتائی گئی ہے جو حقیقت کے عین مطابق ہے، یعنی وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے اور اللہ نے ان کو اپنے کلمہ کن سے باپ کے واسطے کے بغیر پیدا کیا تھا اور ان کی روح براہ راست حضرت مریم (علیہا السلام) کے بطن میں بھیج دی تھی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر : 171۔
نصرانیوں کا عقیدہ تثلیث غلو فی الدین ‘ حدود سے تجاوز اور حق سے روگردانی ہے اس لئے اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں وہی کچھ کہیں جو حق ہو ‘ مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے یا یہ کہ وہ تین میں سے ایک ہے ۔
ان کے ہاں نظریہ تثلیث مختلف ادوار کے اندر ان کی فکری اتار چڑھاؤ کے مطابق بدلتا رہا ہے ۔ لیکن اللہ کی طرف بیٹے کی نسبت کرکے انسان کی فطری ناپسندیدگی کی وجہ سے اور دور جدید کی عقلیت پسندی کی وجہ سے وہ اس ابنیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس بیٹے کی ولادت اس طرح نہیں ہوئی جس طرح عام بشر کی ولادت ہوتی ہے بلکہ اس کی حقیقت اس طرح ہے جس طرح باپ کو بیٹے سے…
Read the full tafseer →1 اہل کتاب اپنے انبیاء کی تعریف میں غلو سے کام لیتے اور حد سے نکل جاتے خدا اور خدا کا بیٹا کہنے لگتے۔ سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کی بات میں مبالغہ مت کرو اور جس سے اعتقاد ہو اس کی تعریف میں حد سے نہ بڑھنا چاہئے۔ جتنی بات تحقیق ہو اس سے زیادہ نہ کہے اور حق تعالیٰ کی شان مقدس میں بھی وہی بات کہو جو سچی اور محقق ہو اپنی طرف سے کچھ مت کہو۔ تم نے یہ کیا غضب کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو کہ رسول اللہ ہیں اور اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے تھے ان کو وحی کے خلاف خدا کا بیٹا کہنے لگے اور تین خدا کے معتقد ہوگئے۔ ایک خدا، دوسرے عیسیٰ ، تیسرے حضرت مریم۔ ان باتوں سے باز آؤ اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا…
Read the full tafseer →آیت 171 یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَلاَ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط۔
تم آپس کے معاملات میں تو جھوٹ بولتے ہی ہو ‘ مگر اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا ‘ جھوٹ بول کر اللہ پر اسے تھوپنا کہ اللہ کا یہ حکم ہے ‘ اللہ نے یوں کہا ہے ‘ یہ تو وہی بات ہوئی : بازی بازی با ریش با با ہم بازی !
اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ
وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ایک رسول علیہ السلام تھے اور بس ! اُلوہیّت میں ان کا کوئی حصّہ نہیں ہے ‘ وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں۔
وَکَلِمَتُہٗج اَلْقٰہَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ ز
یعنی حضرت مریم علیہ السلام کے رحم میں…
Read the full tafseer →224 غلو کیا ہے :۔ غلو کا معنیٰ ایسا مبالغہ ہے جو غیر معقول ہو۔ خواہ یہ مبالغہ افراط کی جانب ہو یا تفریط کی جانب۔ جیسے عیسیٰ کے متعلق نصاریٰ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کے بیٹے تھے اور اس کے بالکل برعکس یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ یہود (معاذ اللہ) انہیں ولد الحرام سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر انہوں نے آپ کو سولی پر چڑھانے میں اپنی کوششیں صرف کردیں۔ گویا ایک ہی رسول کے بارے میں غلو کی بنا پر اہل کتاب کے دونوں بڑے فرقے گمراہ ہوگئے۔ امت محمدیہ میں غلو کی مثالوں کے لیے سورة فرقان کا حاشیہ نمبر 3 ملاحظہ کیجئے۔
225 الوہیت مسیح کا عقیدہ :۔ یہ خطاب نصاریٰ کو ہے جنہوں نے سیدنا عیسیٰ کو کبھی خدا کا یٹا…
Read the full tafseer →429 ۔ دین میں غلو کرنا یہ ہے کہ عقائد ومسائل میں اضافہ وافراط کو اپنی طرف سے دخل دے دیا جائے، خواہ کسی نیت سے ہو، الغلوفی الدین ھو مجاوزۃ حد الحق فیہ (جصاص) (آیت) ” اھل الکتب “۔ سے یہاں مراد اہل انجیل یا نصاری ہیں۔ ای اھل الانجیل من النصاری (ابن جریر) والتقدیر یا اھل الکتب من النصاری (کبیر) ینھی تعالیٰ اھل الکتب عن الغلووالاطراء وھذا کثیر فی النصاری (ابن کثیر) نزلت فی النصاری (معالم) یہود کے مطاعن کا ذکر کرکے اور ان کا جواب دے کر اب ذکر عیسائیوں کا شروع ہورہا ہے جو یہود کی تفریط کے مقابلہ پر افراط کی انتہاء پر پہنچ گئے تھے، اور عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو بجائے ایک صالح اور مقبول بندہ کے…
Read the full tafseer →فآمنوا باللہ ورُسُلِہ ولا تقولوا ثلاثة، اللہ، عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام وامہ، اب تم سب اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آؤ اور نہ کہو کہ تین (ہستیاں) ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد بنانے کا مطلب : تم نے کبھی یہ سوچا کہ اللہ کو صاحب اولاد کا دوسرا مطلب کیا ہے ؟ اس ذات پاک کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور کوئی گستاخی نہیں ہوسکتی، اگر کسی انسان کو آپ یہ کہ دیں کہ قطب مینار آپ کا بیٹا ہے تو وہ انسان آپ کی عقل کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا ؟ یا آپ کسی شخص کے بارے میں بڑے شدومد سے یہ اعلان کرنے لگیں کہ ان کے یہاں خرگوش پیدا ہوا ہے تو وہ شخص آپ کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا ؟ ظاہر ہے کہ دہلی…
Read the full tafseer →یاہل الکتب لا تغلوا فی دینکم اے اہل کتاب اپنے دین (کی عصبیت) میں (حق و صداقت کی) حد سے تجاوز نہ کرو۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں یہود و نصاریٰ دونوں گروہوں کو خطاب ہے یہود حضرت عیسیٰ کی تنقیص کرتے تھے آپ کی والدہ کو زانیہ قرار دیتے اور آپ کی رسالت کی تکذیب کرتے تھے اس طرح حد صداقت سے ہٹ گئے تھے اور عیسائی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تعظیم میں آگے بڑھ گئے تھے کہ آپ کو معبود بنا رکھا تھا۔ غلو کا اصل لغوی معنی ہے حد سے ہٹ جانا۔
بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول صرف نصاریٰ کے متعلق ہوا تھا۔ نصاریٰ کے چار فرقے ہیں یعقوبیہ۔ ملکائیہ۔ نسطوریہ۔ مرقوسیہ۔ یعقوبیہ اور ملکائیہ کا تو قول یہ تھا کہ عیسیٰ…
Read the full tafseer →(171) یہ آیات نجران کے عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، ان میں سے نسطوریہ فرقہ اس بات کا دعویدار تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ ابن اللہ ہیں اور یعقوبیہ فرقہ کہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ ہیں اور مرتوسیہ کا عقیدہ تھا کہ عیسیٰ ؑ ثالث ثلاثہ ہیں اور مالکانیہ گروہ یہ کہتا تھا یہ حضرت عیسیٰ ؑ اور خدا دونوں آپس میں شریک ہیں۔
چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حد سے باہر مت نکلو یہ چیزیں صحیح نہیں، کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ تو صرف اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ کی پیدایش ہیں اور اس کے حکم سے معجزاتی طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔
اے اہل کتاب ! تم حضرت عیسیٰ ؑ اور تمام رسولوں پر ایمان لاؤ ولد، والد اور زوجہ تینوں کو خدا…
Read the full tafseer →يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔۔ : رازی لکھتے ہیں، یہود کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب اس آیت میں نصاریٰ کے شبہ کی تردید کی جا رہی ہے۔ (کذا فی فتح الرحمن) مگر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ خطاب یہود و نصاریٰ دونوں سے ہے، اس لیے کہ ”غلو“ راہ اعتدال کے چھوڑ دینے کا نام ہے اور یہ افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) دونوں صورتوں میں ہے۔ ایک طرف نصاریٰ نے مسیح ؑ کے بارے میں افراط سے کام لے کر ان کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا، تو دوسری طرف یہود نے مسیح ؑ سے متعلق یہاں تک تفریط برتی کہ ان کی رسالت کا بھی انکار کردیا، قرآن نے بتایا کہ یہ دونوں فریق غلو کر رہے ہیں۔ اعتدال کی راہ یہ ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 171۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم “۔ غلو سے منع کیا گیا ہے۔ الغلو کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اسی سے ہے : غلا السعریلغوغلاء قیمت حد سے بڑھ گئی، وغلا الرجل فی الامرغلوا “۔ آدمی معاملہ میں حد سے بڑھ گیا، غلا بالجاریہ لحمھا وعظمھا، جب عورت جلدی جوانی چڑھی اور دوسرے، بچو سے تجاوز کرگئی،
مفسرین نے جو ذکر کیا ہے وہ یہ ہے : یہود کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے یہ غلو تھا کہ انہوں نے حضرت مریم پر تہمت لگائی اور نصاری کا غلو یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رب بنا دیا، افراط اور تفریط گناہ اور کفر ہے، اسی وجہ سے مطرف بن عبداللہ نے کہا : نیکی…
Read the full tafseer →(1) ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت فرمایا ” لا تغلوا “ سے مراد ہے (نئی باتیں) یعنی بدعتیں نہ بناؤ۔
(2) عبد الرزاق وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وکلمتہ القھا الی مریم “ یعنی اس کا کلمہ تھا ” کن فکان “ یعنی ہوجا پس وہ ہوگیا۔
(3) عبد بن حمید وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے دلائل میں ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ نجاشی نے جعفر سے کہا تیرا ساتھی (یعنی تیرے نبی ﷺ ابن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا آپ وہی فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح ہیں اور اس کا کلمہ ہیں اور ان کو ” بتول العذراء “ (کے پیٹ) سے نکالا…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ : اے اہل کتاب ! ] [ لاَ تَغْلُوْا : تم لوگ مبالغہ مت کرو ] [ فِیْ دِیْـنِکُمْ : اپنے دین میں ] [ وَلاَ تَقُوْلُوْا : اور تم لوگ مت کہو ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ اِلاَّ : سوائے ] [ ؐالْحَقَّ : حق کے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْمَسِیْحُ : مسیح (علیہ السلام) ] [ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ ابن مریم ہیں ] [ رَسُوْلُ اللّٰہِ : (وہ) اللہ کے رسول ہیں ] [ وَکَلِمَتُہٗ : اور اس کا فرمان ہیں ] [ اَلْقٰہَآ : اس نے ڈالا جس کو ] [ اِلٰی مَرْیَمَ : بی بی مریم کی طرف ] [ وَرُوْحٌ : اور ایک روح ہیں ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف) سے ] [ فَاٰمِنُوْا : پس تم…
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل کتاب کو خصوصی خطاب فرمایا اور فرمایا (یَآ اَھْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ ) کہ اے اہل کتاب اپنے دین میں غلونہ کرو وہ باتیں نہ کہو جو تمہارے دین میں نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں صرف وہی کہو جو حق ہے ناحق باتیں کرکے اللہ تعالیٰ پر تہمت دھرنے والے نہ بنو۔ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تجویز کردیا تھا۔ تین خدا مانتے تھے اور اب بھی مانتے ہیں۔ اور یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتایا نیز انہوں نے اول تو حضرت مریم پر تہمت دھری اور پھر حضرت عیسیٰ کی نبوت کے منکر ہوئے اور ان کو قتل کے درپے ہوئے حتیٰ کہ اپنے خیال باطل میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–176
خطاب خاص باہل کتاب باعتاب نصیحت مآب۔
قال تعالیٰ یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیما۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہود کے شبہات اور معاندانہ سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے ہیں اور ان کے قبائح وفضائح سب کے سامنے کھول دیے جنہیں وہ چھپاتے تھے پس جب نبی ﷺ کو نبوت ثابت ہوگئی تو اس کے بعد ایک خطاب عام فرمایا اور تمام بنی آدم کو دین حق اور رسالت محمدیہ کی تصدیق کی دعوت دی اب خطاب عام کے بعد پھر اہل کتاب کو خطاب خاص فرماتے ہیں اور گوعنوان عام ہے مگر اصل مقصود بالخطاب، نصاری ہیں جس میں ان کو اس کی نصیحت ہے کہ اپنے عقائد فاسدہ سے باز آکر خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اگر انحراف کریں گے تو…
Read the full tafseer →111 حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خطاب نصاری سے ہے کیونکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو انہوں نے ہی الٰہ بنایا تھا لیکن امام نسفی فرماتے ہیں کہ یہ خطاب یہود و نصاری دونوں سے ہے اور یہی راجح ہے کیونکہ پہلے کی تمام زجریں یہود سے متعلق ہیں یعنی اے یہود عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں برا نہ کہو اور وہ معبود نہیں اور آخری پیغمبر پر بھی اعتراض نہ کرو دونوں کو مانو، ہاں تین خدا مت کہو (وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃً ۔ غلو کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں اور یہ دونوں فریق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں حد سے گذر چکے تھے یہودی ان کی شان میں گستاخی کرتے اور کہتے تھے کہ العیاذ باللہ وہ زانیہ کے…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب میں سے یہود کا ذکر آ رہا ہے انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو پھر اللہ کی کتاب آپ پر یکمشت کیوں نہیں نازل ہوئی ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے الزامی جوابات دیے پھر فرمایا کہ جس طرح باقی انبیاء پر وحی نازل ہوتی رہی ہے اسی طرح نبی آخر الزمان پر ہوتی ہے اور تمام انبیاء پر اکٹھی کتاب نازل نہیں ہوئی ، جب تم ان تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہو تو پھر اس آخری نبی پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔ جو شخص وحی الٰہی کا انکار کرتا ہے وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ اِلَّا الْحَقَّ 0ۭ اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللہِ وَكَلِمَتُہٗ 0ۚ اَلْقٰىہَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ 0ۡفَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ 0ۣۚ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰــثَۃٌ 0ۭ اِنْـتَھُوْا خَيْرًا لَّكُمْ 0ۭ اِنَّمَا اللہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ 0ۭ سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ 0ۘ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا 171ۧ
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة…
Read the full tafseer →ترکیب : الا الحق یہ مفعول ہے تقولوا کا ‘ ای ولا تقولوا الا القول الحق۔ المسیح مبتداء عیسیٰ بدل یا عطف بیان رسول اللّٰہ خبر وکلمتہ اس پر معطوف القہا الی مریم کلمۃ سے حال اور عامل معنی کلمہ وروح منہ معطوف ہے خبر پر یہ تین خبریں ہیں۔ ثلثۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے لا تقولوا الہنا ثلثۃ انما اللّٰہ مبتداء الہ واحد خبر۔
تفسیر : جبکہ یہود کے متعلق کلام ہوچکا تو اب نصاریٰ کی طرف التفات کیا جاتا ہے کیونکہ جس قدر یہود کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نسبت تفریط تھی اسی قدر عیسائیوں کو ان کی نسبت افراط تھی۔ ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہتے تھے۔
فرماتا ہے کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو اور تعصب نہ کرو سب…
Read the full tafseer →یٰٓاَہْلَ الْکِتَابِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ ط اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہٗ ج اَلْقٰہَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْہُ ز فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ قف وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ ط اِنْتَہُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ط اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ط سُبْحٰنَہٓٗ اَنْ یَّکُوْنَ لَـہٗ وَلَدٌ م لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا ع
” اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو مت کرو اور اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ ڈالو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کے رسول اور اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اگر اہل کتاب اپنے دین میں غلو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتے تو یقیناً نبی اکرم ﷺ کی نبوت کو مانتے ہوئے ہدایت کا راستہ اختیار کرتے لیکن وہ مذہبی عصبیت اور دین میں غلو کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔
خطاب کا آغاز یہود سے ہوا تھا جس میں انھیں مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا۔ ان کے بعد تمام لوگوں کو دعوت حق قبول کرنے کی تلقین کی گئی۔ اب عیسائیوں کی دین کے بارے میں بنیادی خرابی یعنی ” غلو “ کرنے سے روکا جا رہا ہے جو ان کی گمراہی کا اصل سبب ہے غلو کا معنی ہے محبت یا تعصب میں آکر افراط وتفریط کرنا۔ یہودیوں نے تعصب کی بنا پر عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو کیا اور وہ اس میں اتنا آگے…
Read the full tafseer →آیت 171 : یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ (اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو) یعنی حد سے تجاوز نہ کرو۔ یہود نے مسیح ( علیہ السلام) کے مرتبہ کو کم کرنے میں غلو کیا یہاں تک کہ ان کو زانیہ کا بیٹا قرار دیا (معاذ اللہ) ۔ اور نصاریٰ نے ان کو بڑھانے میں غلو سے کام لیا یہاں تک کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنادیا (معاذ اللہ) ۔ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلاَّ الْحَقَّ (اور تم اللہ تعالیٰ کے متعلق وہی بات کہو جو سچی ہے) اور وہ اس کا شرک وابنیت سے پاک ہونا ہے۔
اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ (بیشک مسیح عیسیٰ بن مریم ہے) ابن اللہ نہیں ہے۔ رَسُوْلُ اللّٰہِ (اللہ کا…
Read the full tafseer →(یاھل الکتاب ۔۔۔۔۔۔۔ لا تغلوا “۔ کا شان نزول اور نصاری کے بڑے چار فرقوں کا بیان)
(تفسیر) 171۔
(آیت)” یاھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم “۔ اس آیت کا نزول نصاری کے متعلق ہوا کہ ان کے چار فرقے تھے ۔ یعقوبیہ ، ملکانیہ ، نسطوریہ ، مرقسیہ ، یعقوبیہ فرقہ یہ کہتا تھا کہ عیسیٰ اللہ ہے اور اسی طرح ملکانیہ کہتا تھا اور نسطوریۃ کہتا تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور مرقسیہ کہتا تھا کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ملکانیہ کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں اور فرقہ یعقوبیہ کہتا تھا کہ وہ ابن اللہ ہے اور نسطوریہ یہ کہتا تھا کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–173
171 ۔ 173) ۔ غلو کہتے ہیں حد سے گزر جانے کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے اور یہود ان کی حقارت میں حد سے گزر کر طرح طرح کی گستاخی کی باتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی شان میں کہتے تھے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کہتا ہے اور ایک فرقہ ان کو خدا کا بیٹا کہتا ہے اور ایک فرقہ تثلیث کا قائل ہے۔ جس کا مطلب طرح طرح ان کی کتابوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ عیسائی مذہب میں جس طرح یہ خرابیاں پھیلی ہیں اس کا پورا قصد سورة توبہ میں آئے گا لیکن اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد 81 برس کے قریب تک تو عیسائی مذہب میں یہ خرابیاں ڈال…
Read the full tafseer →آیت 171
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع کرتا ہے اور غلو سے مراد ہے حد سے تجاوز کرنا اور حدود مشروع سے نکل کر غیر مشروع کی طرف جانا۔ جیسے نصاریٰ جناب عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انہیں نبوت اور رسالت کے مقام سے اٹھا کر ربوبیت کے مقام پر بٹھا دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لائق نہیں۔ پس جس طرح تقصیر اور تفریط (کمی) منہیات میں سے ہے، غلو بھی اسی طرح ممنوع ہے۔ اسی لئے فرمایا : (ولا تقولوا علی اللہ الا الحق) ” اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ “ یہ کلام اقدس تین امور کو متضمن ہے۔ ان میں سے پہلے دو امور ممنوع ہیں۔
اول : اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
قول باری ہے یا اھل الکتاب لاتغلوافی دینکم۔ اسے اہل کتاب، اپنے دین میں غلو نہ کرو) حسن سے مروی ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے کیونکہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اتنا غلو کیا کہ انہیں انبیاء کے درجے سے بلند کر کے الہ بنا لیا، یہودیوں نے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں غلو کیا اور انہیں ان کے مرتبے اور درجے سے گرا دیا۔ اس طرح دونوں گروہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں غلو سے کام لیا۔ دین میں غلو کا مفہوم یہ ہے کہ حق کی حد سے تجاوز کیا جائے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں رمی جمار کے لئے کنکریاں پکڑانے کو کہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان…
Read the full tafseer →441 دین میں غلو سے ممانعت : کہ خدا کے بندوں کو خدا بنا بیٹھو، جیسا کہ تم نے عزیر اور عیسیٰ کے بارے میں کیا اور کہا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ غلو یعنی حد سے بڑھنا تمام فساد کی جڑ اور خرابی کی اصل بنیاد ہے کہ اس کے باعث انسان گمراہی میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم نے اس پر کاری ضرب لگائی ہے، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ آج اسی مرض میں مبتلا ہے، اور بری طرح مبتلا ہے، اس نے خدا کے بندوں میں سے کتنوں ہی کو حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھا ہے، اور محراب و منبر سے قرآن و حدیث کا نام لے کر اسطرح کے غلو کو حق بجانب ثابت کرنے کی علانیہ کوشش کی جا رہی…
Read the full tafseer →اہل کتاب کو غلو سے روکنا
تشریح : اس آیت میں اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں۔ عیسائیوں نے اپنے رسول کو اس قدر بلند کردیا کہ ان کو اللہ یا اللہ کا بیٹا ہی بنا دیا بجائے اس کے کہ وہ ان کو صرف ایک رسول سمجھ کر ان کے پیغام پر عمل کرتے انہوں نے ان کو اللہ کا درجہ دے دیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش عام انسان سے مختلف ہوئی تھی تو اس کے لیے اللہ نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ یہ ہماری مرضی کے مطابق ہوا اب اس کھوج میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ مرضی اللہ کی کیوں تھی اور کیسے تھی ؟ بس اللہ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کے لیے بھی یہی کہا کہ ہم نے مٹی کا پتلا بنایا اور اس میں روح پھونک دی۔ اسی طرح سیدہ مریم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →ف 7 علامہ رازی لکھتے ہیں کہ یہود کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب اس آیت میں نصاری ٰ کے شبہ کی تردید کی جارہی ہے کذافی فتح الرحمن) مگر بعض علمانے لکھا ہے کہ یہ خطاب یہود نصاریٰ دونوں سے ہے اس لیے کہ غلو راہ اعتدال کے چھوڑ دینے کا نام ہے اور یہ افراط وتفریط دونوں صورتوں میں ہے اک طرف نصاری نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے بارے میں افراط سے کام لے کر ان کو خدا کا بیٹا قرار دے رکھا تھا تو دوسری طرف یہود نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے بارے میں یہا شک تفریط برتی کہ انکی رسالت کا بھی انکار کردیا۔ قرآن نے بتایا کہ یہ دونوں فریق غلو کر رہے ہیں اعتدال کی راہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نہ تو خدا…
Read the full tafseer →(4:171) لاتعلوا فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ غلو (باب نصر) تم مبالغہ مت کرو ۔ تم حد سے نہ بڑھو۔ تم زیادتی مت کرو۔
علی اللہ۔ علی اکثر استعلاء کے معنوں میں آتا ہے۔ جیسے حمل علی الدابۃ۔ جانور پر لادا گیا۔ یا اللہ علی کل شیء قدیر۔ اللہ ہر شی پر قادر ہے۔ لیکن یہاں صرف متعلق کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
کلمتہ۔ صاحب ضیاء القرآن نے کلمہ کی بڑی اچھی اور عام فہم تشریح کی ہے۔ فرماتے ہیں ” کلمہ کا لغوی معنی تو ہے ما ینطق بہ الانسان جس کے ساتھ نطق کیا جائے یہ تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اس کا اطلاق حقیقی معنوں میں نہیں ہوتا بلکہ مجازاً ہے “۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وجہ مجاز کیا ہے۔ امام غزالی علیہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 171
لغات القرآن : لاتغلوا، تم حد سے نہ گزرو۔ کلمتہ، اس کا کلمہ، اس کا ایک حکم۔ ثلثۃ، تین۔ وکیل، کام بنانے والا۔
تشریح : کائنات کا سارا نظام تناسب اور تو ازن پر قائم ہے۔ ہر چیز کی حد مقرر ہے۔ اس سے زیادہ بھی خرابی اور اس سے کم بھی
خرابی۔ اور ہر چیز کی جگہ مقرر ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ اور حسین سے حسین چیز اپنی جگہ سے ہٹ کر بےجوڑ بدصورت اور ناموزوں ہوجاتی ہے۔ یہی حال روحانی اور دینی اقدار کا بھی ہے۔
” دین میں غلونہ کرو۔ نہ مقررہ حد سے آگے بڑھو نہ پیچھے ہٹو “ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان نصیحت ہے بلکہ نسخہ شفا ہے اور تمام کامیابی کا گر ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق…
Read the full tafseer →یہ آیت نصاری کے حق میں نازل ہوئی جس کے کئی فرقے بن گئے تھے ۔ ہر ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بسبت جداگانہ، کفارانہ عقیدہ رکھتا تھا۔ غرضیکہ عیسائی مذہب میں جس طرح یہ خرابیاں پھیلی ہیں اس کا پورہ قصہ سورة توبہ میں آئے گا ۔ لیکن اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اکیاسی برس کے قریب تک تو عیسائی مذہب اچھی طرح چلا، پھر ایک یہودی شخص جس کا نام بوہس تھا فریب سے نصرانی ہوگیا اور اس نے عیسائی مذہب میں خرابیاں ڈال دیں ۔ یہود اور نصاری کی زیادتیاں روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ دین میں حد سے بڑھنا اللہ کی مرضی کے خلاف ہے ۔ کیونکہ دین اللہ کا ہے اس نے دین کی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
[105] یعنی حقیقت و اعتدال سے تجاوز نہ کرو۔ یہاں خطاب عیسائیوں سے ہے جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت و تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ انہیں اللہ کا بیٹا بنادیا اور ایک اِلٰہ کی جگہ تین اِلٰہ بنا لئے یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔
[106] یعنی اللہ تعالیٰ نے '' کُن '' فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ اور بغیر نطفے کے محض حکم الٰہی سے پیدا ہوگئے۔
[107] یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ اولاد کے جھگڑے بکھیڑے سے بری ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اولاد اس لئے ہوتی ہے کہ باپ کی مددگار اور اس کے مال و متاع کی حق دار ہو۔ اللہ کے ہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔ وہ اکیلا کار ساز ہے، اس کو مددگار کی ضرورت…
Read the full tafseer →تثلیث و توحید :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ غیر معقول اور غیر منطقی عقیدہ ہے اور یہ نتیجہ ہے عقیدت و محبت میں غلو اور مبالغہ کا ۔
مسیح (علیہ السلام) کی صحیح صحیح حیثیت یہ ہے کہ وہ ابن مریم (علیہا السلام) ہیں یعنی مریم (علیہا السلام) عذرا کے بیٹے اور کلمہ تکوین کا اثر کیونکہ آپ کی تخلیق خارق عادات کن فیکونی اختیارات سے ہوئی ہے ، (آیت) ” وروح منہ “ سے مراد تشریف و تفصیل ہے ، جیسے قرآن حکیم کے متعلق فرمایا (آیت) ” وروحا من امرنا “۔
(آیت) ” انتھوا خیرالکم “۔ سے مراد یہ ہے کہ عقیدۃ تثلیث بوقلمون مصائب کا پیشہ خیمہ ہے اس میں توحید ووھدت کا وہ پیغام نہیں جو عقیدہ ” لا الہ الا اللہ “…
Read the full tafseer →ف 1 اے اہل کتاب یعنی اہل انجیل تم اپنے دین میں غلو نہ کرو اور عقائد حقہ کے بارے میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں سوائے حق اور سچی بات کے اور کوئی بات نہ کہو دیکھو مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کا ظہور اور ایک کلمہ کی پیدائش ہیں جس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم تک پہنچایا تھا اور فرشتے کی معرفت حضرت مریم کی جانب ڈال دیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک روح ہیں یعنی فرشتے کی معرفت جو حضرت مریم میں پھونکی گئی لہٰذا جب مسیح کی صحیح حقیقت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ پر اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
ف 2۔ یعنی اے انجیل والو۔
3۔ کہ نعوذ باللہ وہ صاحب اولاد ہے جیسا بعض کہتے ہیں المسیح ابن اللہ یا وہ مجموعہ آلہہ کا ایک جزو ہے جیسا کہتے تھے ان اللہ ثالث ثلثہ اور بقیہ دو جزو ایک حضرت عیسیٰ کو کہتے تھے اور ایک حضرت جبرائیل کو جیسا کہ آیت آئندہ میں ولا الملئکة المقربون کے بڑھانے سے معلوم ہوتا ہے اور بعض حضرت مریم (علیہا السلام) کو جیسا انخذونی وامی سے معلوم ہوتا ہے یا وہ عین مسیح ہے جیسا بعض کہتے تھے ان اللہ ھو المسیح ابن مریم غرض یہ سب عقیدے باطل ہیں۔
Read the full tafseer →اے اہل کتاب اپنے دین کے معاملہ میں حد سے تجاوز نہ کرو۔
262: تغلوا کی اصل غ ل و ہے اور ” غلو “ حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں خواہ وہ افراط ہو یا تفریط اور یہ لفظ تغلو دو بار قرآن کریم میں اوستعمال ہوا ہے اور دونوں بار اہل کتاب ہی مخاطب ہوئے ہیں ایک بارا س جگہ اور دوسری بار سورة المائدہ کی آیت 77 میں۔ اہل کتاب سے قرآن کیرم میں دو گروہ ہی مراد لیے گئے ہیں ایک یہود اور دوسرے نصاریٰ ۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے متعلق یہود نے تفریط سے کام لیا ہے اور نصاریٰ نے افراط سے ۔ یہودنا مسعود نے سیدہ مریم ؓ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ سیدہ مریم ہیکل کی نذر مانی گئی تھیں اس لحاط سے ہو منذورہ…
Read the full tafseer →Jews' were the addressees in previous verses which provided details of how astray they had gone. The present verses address the Christians and refute their doctrinal position as related to God and Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) .
Commentary_
The word: كَلِمَتُهُ : Kalimatuh used in this verse tells us that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) is the 'word' of Allah. Commentators have given different meanings of this expression:
1. Imam al-Ghazzali has said that two factors operate in the birth of a child: One is the sperm, the other is the saying of the word کُن or 'be' by Almighty Allah after which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–175
211. The expression 'People of the Book' refers here to the Christians and the word ghuluw denotes the tendency to exceed the limits of propriety in support of something. The fault of the Jews was that they had exceeded the limits of propriety in rejecting and opposing Jesus, whereas the crime of the Christians was that they had gone beyond the proper limits in their love for and devotion to Jesus.
212. What is meant by sending the 'command' to Mary is that God ordered Mary's womb to become impregnated without coming into contact with sperm. In the beginning the Christians were told that this…
Read the full tafseer →