Explained with ayahs 166–170
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے
چونکہ سابقہ آیتوں میں حضور ﷺ کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لئے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا، اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضامندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
سورة النِّسَآء 207
یعنی ان سب کا ایک ہی کام تھا اور وہ یہ کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیم پر ایمان لائیں اور اپنے رویہ کو اس کے مطابق درست کرلیں انہیں فلاح وسعادت کی خوشخبری سنا دیں، اور جو فکر و عمل کی غلط راہوں پر چلتے رہیں ان کو اس غلط روی کے برے انجام سے آگاہ کردیں۔
سورة النِّسَآء 208
یعنی ان تمام پیغمبروں کے بھیجنے کی ایک ہی غرض تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی پر اتمام حجت کرنا چاہتا تھا، تاکہ آخری عدالت کے موقع پر کوئی گمراہ مجرم اس کے سامنے یہ عذر پیش نہ کرسکے کہ ہم ناواقف تھے اور آپ نے ہمیں حقیقت حال سے آگاہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ اسی غرض کے لیے خدا نے دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
رسلاً مبشرین ومنذرین، اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مؤ منوں کو خوش خبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر کی مرضی معلوم نہ تھی، معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے، سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے رائے حق بتلائی، تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا، وحی الہی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے روبرو کوئی حجت نہیں چل سکتی، بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت آپ کے پاس آگئی، آپ نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
166۔ 169:۔ لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًا۔ اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا۔
استدراک کا پہلو : حرف " لکن " استدراک کے لیے آتا ہے۔ یہ استدراک اس بات پر ہے جو اوپر والے ٹکڑے سے نکلتی ہے۔ اوپر انبیا کے سلسلے اور ان کی طرف وحی بھیجے جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
168۔ 1 کیونکہ مسلسل کفر اور ظلم کا ارتکاب کر کے، انہوں نے اپنے دلوں کو سیاہ کرلیا جس سے اب ان کی ہدایت و مغفرت کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔
یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔
یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
4 قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی تصدیق اور توثیق کے بعد فرماتے ہیں کہ اب جو لوگ آپ سے منکر ہوئے اور تورات میں جو آپ ﷺ کے اوصاف اور حالات موجود تھے ان کو چھپالیا اور لوگوں پر کچھ کا کچھ ظاہر کر کے ان کو بھی دین حق سے باز رکھا۔ سو ایسوں کو نہ مغفرت نصیب ہوئی نہ ہدایت جس سے خوب واضح ہوگیا کہ ہدایت آپ کی متابعت میں منحصر ہے اور گمراہی آپ کی مخالفت کا نام ہے جس سے یہود کو پوری سرزنش ہوگئی اور ان کے خیالات کی تغلیط واضح ہوگئی۔
Read the full tafseer →آیت 169 اِلاَّ طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
اب ذرا اس آیت کا تقابل کیجیے آیت 147 کے ساتھ مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ۔۔ اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا۔۔ ؟ یقیناً اللہ ایذا پسند sadist نہیں ہے ‘ اسے لوگوں کو عذاب دے کر خوشی نہیں ہوگی۔ لیکن یہ اس کا ضابطہ اور قانون ہے ‘ اسی پر اس نے دنیا بنائی ہے ‘ اور اپنے اسی ضابطے اور قانون کے عین مطابق وہ مستحقین کو جزا و سزا دے گا۔ یہ اس پر کوئی بھاری گزرنے والی بات نہیں ہے کہ وہ اپنی ہی مخلوق کو سزا دے۔ بعض ملنگ قسم کے صوفی اس طرح کی باتیں بھی کرتے ہیں کہ اللہ بڑا رحیم ہے ‘ کیا وہ اپنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
222 یعنی جس نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اس نے اللہ کے علم کا بھی انکار کردیا اور اس کی گواہی کا بھی۔ پھر صرف خود ہی انکار نہ کیا بلکہ اس کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتا رہا اور جو لوگ ایمان والے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کو راہ راست سے روکتا رہا یقینا وہ بہت بڑی گمراہی میں پڑگیا ایسے لوگوں کے جرائم ناقابل معافی ہیں اور گمراہی اور جہنم کے علاوہ انہیں کوئی اور راہ سوجھتی ہی نہیں۔
خ یہود کا تحریف شدہ تورات پر اور اپنے اہل علم ہونے کا ناز :۔ یہود کی علمی ساکھ چونکہ اہل عرب کے ہاں مسلم تھی (اور وہ غیر یہود کو امی یا ان پڑھ یا جاہل کہا کرتے تھے۔ ) اس لیے ان کی ہر جائز اور ناجائز بات…
Read the full tafseer →423 ۔ یہ بیان ہورہا ہے قانون مجازات اور مکافات عمل کا، کفر اور ظلم کے نتیجے قدرۃ اسلام اور عدل کے نتیجوں سے بالکل مختلف نکلیں گے۔
424 ۔ اسلام کا خدا مشرک قوموں کے خداؤں کی طرح محدود اور ناقص قوتیں رکھنے والا خدا نہیں، جو اسے اس سزا دہی کے لیے کسی خاص اہتمام یا تکلف کی ضرورت پڑے۔ وہ مطلق الاختیار ہے۔ (آیت) ” فعال لما یرید “ ہے۔ جو کچھ چاہے بات کی بات میں کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے (محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح علیہ الصلوٰة والسلام اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف بھیجی ان کے دونوں بیٹوں اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام اور اسحٰق علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف (بھی) وحی بھیجی اور یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام بن اسحاق اور اولاد یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ایوب علیہ الصلوٰة والسلام اور یونس علیہ الصلوٰة والسلام اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف وحی بھیجی اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے دالد داؤد علیہ الصلوٰة والسلام کو زبور…
Read the full tafseer →الا طریق جہنم : یعنی صرف وہی راستہ بتائے گا جو جہنم تک پہنچانے والا ہوگا۔
خلدین فیہا ابدا وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جہنم میں داخلہ کے وقت وہاں ہمیشہ رہنا ان کے لئے مقدر کردیا جائے گا۔ (1) [ خالدین حال ہے اور حال وذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے اور داخلہ کے وقت خلود کا امکان نہیں کیونکہ داخلہ ایک آنی چیز ہے۔ تھوڑے وقت میں ہوجائے گا اور خلود کا معنی ہے غیر منقطع لا انتہا زمانہ پھر خلدین کا حال واقع ہونا کس طرح ممکن ہے۔ اس شبہ کا جواب حضرت مؤلف نے ایک جملہ میں دے دیا کہ داخلہ کے وقت ان کے لئے خلود مقدر کیا جائے گا حکم خلود اور داخلہ کا وقت ایک ہوگا گویا خلود سے مراد ہے حکم خلود۔ ‘
وکان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
(167۔ 168۔ 169) جو لوگ اس کے بعد بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں تو وہ ہدایت سے بہت دور ہیں اور جو لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں تو جب تک وہ اپنی ان باتوں پر قائم رہیں گے تو اللہ نہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ ہدایت کے راستہ کی جانب ان کی رہنمائی فرمائے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے نہ تو وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس جہنم سے نکالے جائیں گے اور یہ عذاب دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ۔۔ : یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مرجائیں گے اور مرنے سے پہلے توبہ نہیں کریں گے تو سیدھے جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو جہنم میں لے جانا اور پھر ہمیشہ وہاں رکھنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے، لہٰذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر و عناد سے باز آجائیں اور آپ ﷺ کی اتباع اختیار کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
آیت نمبر : 168 تا 169۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “ یعنی یہودی، یعنی حضرت محمد ﷺ کی شان چھپا کر انہوں نے محمد ﷺ پر ظلم کیا اور اپنے نفسوں پر ظلم کیا جب کفر کیا اور لوگوں پر ظلم کیا جب انہیں چھپایا۔ (آیت) ” لم یکن اللہ لیغفرلھم “ یہ اس کے بارے میں ہے جو اپنے کفر پر مرا اور توبہ نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک جماعت یہودیوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ہوں اور بلاشبہ تم بھی جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا ہم اس کو نہیں جانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم گواہوں پر کوئی تہمت نہیں۔
Read the full tafseer →[ اِلاَّ : سوائے ] [ طَرِیْقَ جَہَنَّمَ : جہنم کی راہ کے ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہنے والے ہیں ] [ فِیْہَآ : اس میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ یَسِیْرًا : آسان ]
نوٹ : آیت 165 میں فرمایا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ سلسلہ نبوت و رسالت حجت نہیں ہے بلکہ اتمام حجت ہے۔ انسانوں پر اصل حجت ان کی فطرت کے داعیات اور فکر و عقل کی صلاحیتیں ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان تک کسی نبی یا رسول کی دعوت نہیں پہنچی تب بھی وہ جواب دہ ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسانی فطرت خیر وشر کے شعور…
Read the full tafseer →(وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْراً ) (کافروں کی مغفرت نہ فرمانا اور ان کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈال دینا اللہ کے لیے آسان ہے) اسے کوئی چیز روکنے والی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
جواب از شبہ اہل کتاب۔
قال تعالی، انا اوحینا الیک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ یسیرا۔
ربط) گزشتہ رکوع میں اہل کتاب کی شناعتوں اور قباحتوں کو بیان کیا تاکہ معلوم ہاجائے کہ اہل کتاب کا وہ سوال جو یسالک اھل الکتاب میں منقول ہوا وہ سراسر جہل اور عناد پر مبنی ہے جس کا اجمالی اور الزامی جواب تو فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذالک کے ذریعہ دے دیا گیا اب اصل سوال کا تحقیقی اور تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ کہنا اگر آپ سچے نبی ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ پر بھی دفعۃ کوئی کتاب آسمان سے نازل کی جائے یہود کا یہ سوال سراسر جاہلانہ اور معاندانہ ہے اس لیے کہ اثبات نبوت کے لیے یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
110 یہ اگر قرآن کو نہیں مانتے اور اس پر اعتراضات کرتے ہیں تو اس سے اس کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آسکتا اس بات کی گواہی تو خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ اس کو اسی نے ہی نازل کیا ہے کیونکہ ایسی جامع بلند مضامین والی اور معجز کتاب غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتی اس طرح قرآن خود ہی مشہود بہ اور خود ہی مشہود علیہ ہے پھر اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا سے تخویف اخروی ہے یعنی اے یہود اب بھی وقت ہے کفر و انکار اور ضد وعناد سے باز آجاؤ اور ایمان لے آؤ ورنہ یاد رکھو اللہ کے قبضہ سے نہیں بچ سکتے ہو کیونکہ ساری کائنات اس کے تصرف وا قتدار کے تحت ہے وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ یَا ایُّھَاالنَّاسُ قَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
ربط آیات
گزشتہ دروس میں گزر چکا ہے کہ ” یسئلک اھل الکتب “…الخ یعنی یہودی آپ پر سوال کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل کتاب کیوں نہیں لاتے ، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) لائے۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طریقوں سے جواب دیتے ہیں۔ پہلا جواب الزامی تھا اور حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ، کہ یہ لوگ ضدی اور عنادی ہیں ، ان کا مقصود ہر حالت میں یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں اور قرآن پاک پر ایمان نہ لایا جائے یہ ان کی قومی عاد ت ہے انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی سوال کیا تھا کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →اِلَّا طَرِيْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا 0ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا 169
جهنم
جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام
( ج ھ ن م ) جھنم
۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔
جہنم کے مختلف طبقات ( درکات) علی سبیل التنزل یہ ہیں۔
(1) جہنم (2) لظیٰ (3) حطمہ (4) سعیر (5) سقر (6) جحیم (7) ہاویۃ۔ سب سے نیچے منافقوں کا یہی ٹھکانہ ہے
خلد
الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
ترکیب : اللّٰہ مبتدا یشہد خبر بما اس سے متعلق والملئکتہ یشہدون جملہ کا عطف اول جملہ پر ہے کفی باللّٰہ فعل با فاعل ب زائد بعلمہ حال ہے فاعل یشہد سے اے متلبسا بعلمہ الا طریق استثناء متصل ہے خلدین حال مقدرہ ہے خیر الکم مفعول ہے فعل محذوف کا اے اقصد و اخیراً
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا تھا انا او حینا الیک تو اس پر بھی منکرین شبہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر یہ یہود تمہاری نبوت کی شہادت نہیں دیتے تو نہ دیں یہ چند نفسانیت کے بھرے ہوئے جاہل پشتینی سرکش کیا چیز ہیں ؟ خود خدا اس چیز کی کہ جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس کے فرشتے گواہی دے رہے ہیں اور اسی کی گواہی بس ہے انزلہ بعلمہ جبکہ خدا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ ج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَشْہَدُوْنَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدَّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلاً م بَعِیْدًا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا لا اِلَّاطَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
” لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس چیز کی جو اس نے تم پر اتاری ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے۔ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہی کو تو اللہ ہی کافی ہے۔…
Read the full tafseer →کفار اور مشرکین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے :
(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ )[ البقرۃ : 39]
” وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ آگ والے ہیں اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ “
(اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰاہ النَّارُوَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ )
[ المائدۃ : 72]
” جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس کے لیے جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے اور لوگوں کو حق سے روکنے والے گمراہ…
Read the full tafseer →آیت 169 : وَلَا لِیَہْدِ یَہُمْ طَرِیْقًا اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَداً ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا ( اور نہ ان کو کوئی راستہ دکھائے گا سوائے جہنم کے راستہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) یعنی ان کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں رکھنا اس کے لئے آسان ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح : یعاقبہم خالدین۔ وہ ان کو خلود کی سزا دے گا۔ یہ حال مقدرہ ہے۔ یہ دونوں آیات ان لوگوں کے متعلق ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ان کی موت کفر پر آئے گی۔
Read the full tafseer →169۔ (آیت)” الا طریق جھنم “۔ اس سے مراد یہودی ہیں ۔ (آیت)” خالدین فیھا ابدا وکان ذلک علی اللہ یسرا “۔ ان پر یہ حکم سبقت کرچکا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
(166 ۔ 170) ۔ تفسیر ابن جریر، تفسیر خازن وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے پھر تم اس کی صدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے۔ یہود نے یہ بات سن کر آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کی گواہی دینے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3 اور فرمایا اے رسول اللہ کے اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
آیت 167
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہور بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔ “ یعنی انہوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کردیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–170
قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ…
Read the full tafseer →438 دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالنا بھی عدل و انصاف کا تقاضا ہے : کہ باغیوں اور سرکشوں کو سزا دینا اس کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے اور اس کے لئے اس نے اپنی مخلوق کو پوری طرح خبردار بھی کردیا، تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ سو انذار و تبلیغِ حق سے اعراض و انکار کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالنا بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے تاکہ ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا صلہ اور بدلہ ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
اللہ کی گواہی اور کفار کے لیے جہنم
تشریح : ان آیات میں بڑے واضح طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ مختلف وقتوں میں مختلف قوموں کے لیے ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے اللہ کی طرف سے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں، تاکہ حساب کتاب کے دن جو کہ آکر رہے گا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اللہ مجھے تو کسی نے نیکی و بدی کا فرق ہی نہیں بتایا اللہ رب العزت بڑا دانا اور حکمت والا ہے۔ اسی لیے اس نے بندوں کو برے کاموں کے انجام، یعنی جہنم سے ڈرانے کے لیے اور اچھے کاموں کے بدلہ میں جنت کی خوشخبری دینے والے رسول بھیجے اس بات پر صرف اللہ کی گواہی ہی کافی ہے مگر اللہ نے اس بات پر فرشتوں کو بھی گواہ بنا رکھا ہے۔ اب کچھ لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مرجائینگے اور مرنے سے پہلے توبہ نہ کرینگے تو سیدگی جہنم میں جائیں گے او اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی جہنم میں لے جانا پھر ہمشہ وہاں رکھنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے (وحیدی) لہذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر وعناد سے بار آجائیں اور ا آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار کرلیں۔
Read the full tafseer →(4:169) یسیرا۔ آسان ۔ سہل ۔ یسر مادہ۔ صفت مشبہ واحد مذکر منصوب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163-169
لغات القرآن : اوحینا، ہم نے وحی کی۔ قصصنا، ہم نے قصے بیان کئے۔ کلم اللہ، اللہ نے کلام کیا۔ لئلا یکون، تاکہ نہ ہو۔ حجۃ، دلیل، طریق، راستہ۔
تشریح : آیت 153 میں جو ذکر ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آسمان سے نازل کی ہوئی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب ہمیں دکھاؤ تو ہم ایمان لے آئیں گے ان آیات میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ جن نبیوں کو تم مانتے ہو، جن پر ایمان لانے کا دعویٰ تم کرتے ہو۔ کیا ان میں سے اکثر و بیشتر کو لکھی ہوئی مکمل کتاب نہیں دی گئی تھی ؟ ۔ ہاں زبور حضرت داؤد کو ملی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خود اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا اور توریت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
رسول کے منکروں کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا دل جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن شریف کلام الہی ہے ، پھر تم اس کی تصدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے ۔ یہ سن کر یہود نے آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کی گواہی دینے سے انکار کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے للہ کے رسول ! اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے ، لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے ، جس کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
[104] یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہا کہ ہمیں راہ حق کی طرف کسی نے دعوت نہ دی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
خدا اور فرشتوں کی گواہی :
(ف 1) ان دو آیتوں میں قرآن حکیم کی عظمت واہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے ، کہا ہے کہ خدا نے قرآن کے الہامی ہونے پر اعلی شہادتیں مرتب کی ہیں اور فرشتے بھی اس سچائی اور صداقت پر گواہ ہیں ، یعنی خدا نے جان بوجھ کر علی وجہ البصیرت قرآن حکیم کو نازل کای ہے اور تم اس میں بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور یہی وجہ ہے ، فرشتوں نے ہمیشہ قرآن کی تائید کی ہے اور عین جنگ میں ان لوگوں کی حمایت کی ہے جو حامل قرآن ہیں پس وہ لوگ کہ جو اس صداقت مشہود کا انکار کرتے ہیں کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 3 یقین جانو ! ان دلائل واضحہ کے بعد بھی جو لوگ دین حق کے منکر رہے اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے اور دوسروں کے لئے بھی مانع ہوئے تو یہ لوگ ایسی انتہائی گمراہی میں جا پڑے جو راہ حق سے بہت دور ہے بلاشبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کافرانہ روش پر چلے اور کتمان حق کر کے دوسروں پر ظلم کیا اور راہ حق سے مانع بن کر دوسروں کو نقصان پہنچایا تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور کبھی مغفرت نہیں فرمائے گا اور نہ آخرت میں ان کو سوائے دوزخ کی راہ کے اور کوئی راہ دکھائے گا اس دوزخ میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے اور ان کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر یہود کے شبہ کا جو کہ نبوت محمدیہ کے متعلق تھا جواب اور نبوت کا اثبات مع وعید منکرین نہایت بلاغت اور وضوح سے مذکور ہوچکا آگے عام خطاب سے نبوت کا وجوب فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →ہاں ! جہنم کی راہ ان کے لئے کھلی ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رکھے جائیں گے۔
260: جہنم کیا ہے ؟ آپ یوں سمجھیں کہ جیسے ” چوہوں کا پنجرا “ کہ اس کی باہر کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے گویا دروازہ لگایا ہی نہیں گیا۔ لیکن اندر اتنی گہری کھائی ہے کہ جو داخل ہوگیا بس ہوگیا اب نکلنا اس کے اختیار کی بات نہ رہی ۔ لیکن داخل ہونا ؟ ہاں ! داخل ہونا اس کے اختیار کی بات تھی۔ کسی نے اسے مجبور کر کے داخل نہیں کیا اس لئے کہ اس کا داخلہ تو ہر وقت کھلا ہے۔ جب چاہے اور جو چاہے داخل ہوجائے یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ اجازت لینے کے عادی تو ہوتے ہی نہیں بلکہ اجازت لینا ان کی بڑائی کے بالکل خلاف ہے اس لئے وہ بےدھڑک داخل ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
Then comes verse رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ (-- Messengers giving good tidings and warning...) which succinctly tells that Almighty Allah consistently sent messengers to convey good tidings to all believers and to warn all disbelievers so that there remains no room for the excuse that they did not know the will of God and His Messengers --had they known about it, they would have certainly followed it! Now, that Almighty Allah has sent messengers with miracles and His messengers have shown the straight path of truth, the option of not accepting the true faith cannot be accepted…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
207. It is emphasized that the essential function of all the Prophets was the same: to announce good tidings of salvation and felicity to those who believe in the teachings revealed by God and mend their conduct accordingly, and to warn those who persist in false beliefs and evil ways that they will have to face dire consequences.
208. God's purpose in sending the Prophets was to establish His plea against mankind. God did not want criminals to have any basis on which to plead that their actions were done in ignorance. Prophets were therefore sent to all parts of the world, and many…
Read the full tafseer →