Explained with ayahs 144–147
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے
کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
سورة النِّسَآء 173
یعنی جس نے خدا کے کلام اور اس کے رسول کی سیرت سے ہدایت نہ پائی ہو، جس کو سچائی سے منحرف اور باطل پرستی کی طرف راغب دیکھ کر خدا نے بھی اسی طرف پھیر دیا ہو جس طرف وہ خود پھرنا چاہتا تھا، اور جس کی ضلالت طلبی کی وجہ سے خدا نے اس پر ہدایت کے دروازے بند اور صرف ضلالت ہی کے راستے کھول دیے ہوں، ایسے شخص کو راہ راست دکھانا درحقیقت کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس معاملہ کو رزق کی مثال سے سمجھیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رزق کے تمام خزانے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جس انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملتا ہے۔ مگر اللہ ہر شخص کو رزق اس راستہ سے دیتا ہے جس راستے سے وہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
خلاصہ تفسیر
بلاشبہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے اور (اے مخاطب) تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا (جو ان کو اس سزا سے بچا سکے) لیکن (ان میں سے) جو لوگ (نفاق سے) توبہ کرلیں اور (مسلمانوں کے ساتھ جو ان کے ایذا رساں معاملات تھے ان کی اصلاح کرلیں (یعنی پھر ایسی باتیں نہ کریں) اور (کفار سے جو بغرض ان کی پناہ میں رہنے کے دوستی کرتے ہیں اس کو چھوڑ کر) اللہ تعالیٰ پر وثوق (اور توکل) رکھیں اور (ریاء کو چھوڑ کر) اپنے دین (یعنی اعمال) کو خالص اللہ ہی (کی رضا) کے لئے کیا کریں (غرض اپنے عقائد کی، عاملات کی اخلاق باطنی کی، اعمال کی، سب کی درستگی کرلیں) تو یہ (تائب) لوگ (ان مؤ منین) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
145۔ 147:۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا۔ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَاَخْلَصُوْا دِيْنَھُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا۔
الدرک الاسفل کا مفہوم : الدرک الاسفل، درک کے معنی اقصی قعر الشیء، یعنی کسی شے کا سب سے نچلا حصہ۔
دین بمعنی اطاعت : واخلصو دینہم : لفظ دین کے مختلف معانی پر ہم کہیں بحث کرچکے ہیں۔ ازاں جملہ اس…
Read the full tafseer →145۔ 1 جہنم کا سب سے نچلا طبقہ ھاوِیْۃَ کہلاتا ہے۔ اَ عَاذَنَا اللّٰہ مِنْھَا۔ منافقین کی مزکورہ عادات وصفات سے ہم سب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ بچائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
84: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو دھوکا دے دیا، تو در حقیقت یہ خود ہی دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اللہ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا، اور اللہ تعالیٰ ان کو اس دھوکے میں پڑا رہنے دیتا ہے جو انہوں نے خود اپنے آپ کو اپنے اختیار سے دے رکھا ہے۔ اور اس جملے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کو دھکے میں ڈالنے والا ہے۔ اس ترجمے کی بنیاد پر اس کا ایک مطلب بعض مفسرین (مثلا حضرت حسن بصری) نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان کو اس دھوکے کی سزا آخرت میں اللہ تعالیٰ اس طرح دے گا کہ شروع میں ان کو بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ دور لے جایا جائے گا۔ اور مسلمانوں کو جو نور عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔
یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔
اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
5 یعنی مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنا دلیل ہے نفاق کی جیسا کہ منافقین کرتے ہیں۔ سو تم اے مسلمانو، ایسا ہرگز مت کرنا ورنہ خداوند تعالیٰ کا صریح الزام اور پوری حجت تم پر قائم ہوجائے گی کہ تم بھی منافق ہو اور منافقوں کے لئے دوزخ کا سب سے نیچا طبقہ مقرر ہے اور کوئی ان کا مددگار بھی نہیں ہوسکتا کہ اس طبقہ سے ان کو نکالے یا عذاب میں کچھ تخفیف کرادے۔ مسلمانوں کو ایسی بات سے دور رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →آیت 145 اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا۔
اگلی آیت میں ان لوگوں کے لیے ایک رعایت کا اعلان ہے۔ منافقت کا پردہ کلی طور پر تو سورة التوبہ میں چاک ہوگا۔ یعنی ان کے لیے آخری احکام سن 9 ہجری میں آئے تھے ‘ جبکہ ابھی سن 4 ہجری کے دور کی باتیں ہو رہی ہیں۔ تو ابھی ان کے لیے رعایت رکھی گئی ہے کہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔
Read the full tafseer →193 منافقوں کی علامات :۔ جس طرح جنت کے بہت سے درجات ہیں اسی طرح جہنم کے بھی بہت سے درجات ہیں۔ اور منافقین یا ان سے دوستی رکھنے والوں کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہوگا۔ جہاں سب سے زیادہ عذاب ہوگا اور یہ کافروں کے عذاب سے بھی سخت ہوگا کیونکہ کافر اپنے دین و ایمان کے معاملہ میں کسی کو دھوکا نہیں دیتا۔ جبکہ منافق، کافروں اور مسلمانوں دونوں کو دھوکہ میں رکھ کر ان دونوں سے مفادات حاصل کرتا یا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ منافقوں کی چند ظاہری علامات احادیث میں مذکور ہوئی ہیں۔ جو یہ ہیں :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور وعدہ…
Read the full tafseer →375 ۔ (کہ انہیں بچا سکے یا انکی سزا کچھ ہلکی ہی کراسکے) (آیت) ” فی الدرک الاسفل “۔ ہر منافق اصلا کافرہی ہوتا ہے۔ منافق کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے جرم کفر پر ایک مزید جرم مکروفریب کا اضافہ کئے ہوئے ہے اس لئے اگر اسے کھلے ہوئے کافر سے سخت تو سزا ملے تو یہ عین متقضائے عمل ہے۔ (آیت) ” ولن تجدلھم نصیرا “ سے فقہاء مفسرین نے محض گناہگاروں کی شفاعت پر استدلال کیا ہے۔ اور تقریر استدلال یہ ہے کہ عدم نصرت کی تہدید چونکہ اہل نفاق کے لئے مخصوص ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ جو منافق نہ ہوں گے، ان کی نصرت وشفاعت ہوسکے گی، واحتج اصحابنا بھذا علی اثبات الشفاعۃ فی حق الفساق من اھل الصلوۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
یاَیُّھَاالذین آمنوا لا تتخذوا الکفرین اولیاء (الآیة) یعنی اللہ نے تمہیں کافروں کی دوستی سے منع فرمایا ہے، اب اگر تم ان سے دوستی کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کو یہ دلیل مہیا کررہے ہو کہ وہ تمہیں بھی سزا دے سکے۔
Read the full tafseer →ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار بلاشبہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ درکات (درکۃ کی جمع) کا معنی ہے طبقات اور منزلیں۔
اس لفظ کا استعمال نچلی منزلوں کے لئے مخصوص ہے بالائی منزلوں کو درجات کہتے ہیں۔ ابن مبارک نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا ‘ دوزخ کے نچلے حصہ میں لوہے کے صندوق ہوں گے جن کے اندر منافق بند ہوں گے۔ بغوی کی روایت میں ایک لفظ کا تغیر ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول لکھا ہے صندوقوں کے اندر منافق بند ہوں گے جن کے اندر منافقوں کے اوپر نیچے (انگارے دہک رہے) ہوں گے۔
ابن وہب (رح) نے کعب بن…
Read the full tafseer →(145) عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی اپنی برائیوں اور مکروفریب اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے ساتھ خیانت کرنے کی وجہ سے جہنم میں ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ جس طرح جنت کے درجات ہیں، سب سے اونچا درجہ فردوس سب سے افضل ہے، اسی طرح جہنم کے بھی درکات ہیں، جو جتنا نیچا ہے اتنا ہی سخت ہے۔ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، کیونکہ نفاق صریح کفر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 145۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فی الدرک “۔ کو فیوں نے را کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے لیکن پہلا قول افصح ہے، کیونکہ جمع میں ادراک کہا جاتا ہے جیسے جمل کی جمع اجمال ہے، یہ نحاس کا قول ہے، ابو علی نے کہا : یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے الثمع اور الثمع اور اس کی جمع ادراک ہے بعض نے فرمایا : الدرک کی جمع ادرک ہے جیسے فلس کی جمع افلس ہے، دوزخ کے ساتھ طبقات ہیں مگر پستی کی جانب درجات کو عرب دراک کہتے ہیں : کہا جاتا ہے : کو یں کے لیے ادراک ہیں اور بلندی کی جانب درجات کو درجات کہتے ہیں اور آگ کے لیے درکات ہیں یہ پہلے گزر چکا ہے۔
منافق نچلے طبقہ میں ہوں گے یہ ہادیہ ہے، کیونکہ ان کا کفر زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
(1) الفریابی و ابن ابی شیبہ وھناد و ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے صفۃ النار میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ سے مراد ہے کہ لوہے کے صندوق میں ان کو بند کردیا جائے گا اور دوسرے لفظ میں ” مبھمۃ علیہم “ یعنی وہ اس طرح بند ہوں گے ان کو کھولنے کی جگہ کو بھی نہیں پائیں گے۔
(2) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ میں ” الدرک الاسفل “ سے لوہے کے ایسے گھر مراد ہیں کہ ان کے دروازے ان پر فٹ کر دئیے جائیں گے (جو نہیں کھلیں گے) اور ان کے نیچے اور ان کے اوپر آگ جلائی جائے گی۔
(3) ابن…
Read the full tafseer →[ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ : یقینا منافق لوگ ] [ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ : سب سے نچلی گہرائی میں ] [ مِنَ النَّارِ : آگ میں سے ] [ وَلَنْ تَجِدَ : اور تو ہرگز نہیں پائے گا ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ نَصِیْرًا : کوئی مددگار ]
سل
سَفَلَ یَسْفُلُ ۔ سَفِلَ یَسْفَلُ ۔ سَفُلَ یَسْفُلُ (ن۔ س۔ ک) سَفَالًا : (1) نیچا یا پست ہونا۔ (2) حقیر یا گھٹیا ہونا۔
سَافِلٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت) : پست ‘ حقیر ۔ { فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا } (الحجر :74) ” تو کردیا ہم نے اس کے یعنی بستی کے بلند کو اس کا پست۔ “
اَسْفَلُ مؤنث سُفْلٰی (افعل تفعضیل) : زیادہ پست ‘ زیادہ حقیر ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد منافقین کا عذاب ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِنَّ الْمُتٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) کہ منافق دوزخ میں سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 177: ج 5 میں لکھتے ہیں کہ دوزخ کے سات طبقے ہیں پہلے طبقے کا نام جھنم اور دوسرے کا لَظٰی اور تیسرے کا حطمہ اور چوتھے کا سعیر اور پانچویں کا سقر اور چھٹے کا جحیم اور ساتویں ھاویہ ہے اور کبھی کبھی ان سب کے مجموعے کو النار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان طبقات کو درجات اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ متدار کہ ہیں یعنی ایک دوسرے کے نیچے ہیں۔ درک اور درج میں یہ فرق ہے کہ اوپر سے نیچے آئیں تو ہر طبقے درک سے موسوم کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
ممانعت از موالات کفار۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذوالکافرین۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔
حق جل شانہ جب منافقین کے اعمال قبیحہ کا بیان کرچکے تو اب مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم ان لوگوں سے دوستی نہ کرنا ورنہ جوان کی سزا ہے وہی سزا تمہاری ہوگی جیسا کہ حدیث میں ہے المر مع من احب۔ کیونکہ ان کی دوستی سے تمہارے دلوں سے اللہ کی محبت جاتی رہے گی آخرت کو بھول جاؤ گے اور ان کی طرح دنیا کی شیدائی اور فدائی بن جاؤ گے کیونکہ ایک دل دو طرف نہیں رہ سکتا ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ آیت۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اے ایمان والو ایمان کے مقابلہ میں کفر کو ترجیح نہ دو اور منافقوں کی طرح مسلمانوں کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
94 یہ خطاب بھی انہی لوگوں سے ہے جو منافقانہ طور پر مومن تھے اور کافروں سے دوستی رکھتے تھے یا یہ خطاب عام ہے مومنوں اور منافقوں سب کو شامل ہے قال ابن عطیۃ خطابہ للمؤمنین بدخل فیہ بحکم الظاھر المنافقون المظھرون للالیان (بحر ج 3 ص 379) اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِیْ الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ یہ منافقین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْ یہ حکم مذکور سے استثنا ہے یعنی جن منافقوں نے نفاق سے تو بہ کرلی اور دل کے اخلاص سے ایمان قبول کرلیا ان کو مذکورہ بالا عذاب نہیں ہوگا بلکہ جنت میں مخلص مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سزا کا ذکر کیا تھا کہ کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا ، منافق لوگ کافروں کے ساتھ تعلق جوڑتے ہیں اور ان کو اپنا دوست اور رفیق بناتے ہیں ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں تاکہ گردش آنے کی صورت میں ذلیل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی رد فرمایا ، اور صاف حکم دیا کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹا کیا جارہا ہو ، تو ایسی مجلس میں کسی مومن کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ کافروں کی مجلس میں جاکر ان کی خوشامد کرتے ہیں اور مومنوں کے پاس آکر ان کی چاپلوسی کرتے ہیں تاکہ ان دونوں گروہوں میں سے جن کا پہلو غالب ہو ، اسی کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ 0ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا 145ۙ
نِّفَاقُ
، وهو الدّخولُ في الشَّرْعِ من بابٍ والخروجُ عنه من بابٍ ، وعلی ذلک نبَّه بقوله : إِنَّ الْمُنافِقِينَ هُمُ الْفاسِقُونَ [ التوبة/ 67] أي : الخارجون من الشَّرْعِ ، وجعل اللَّهُ المنافقین شرّاً من الکافرین . فقال : إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145]
نفاق جس کے معنی شریعت میں دو رخی اختیار کرنے ( یعنی شریعت میں ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے نکل جانا کے ہیں چناچہ اسی معنی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
ترکیب : وھو خادعہم جملہ حال ہے اللہ سے ‘ کسالی حال ہے فاعل قاموا سے ‘ اسی طرح یراؤن الناس بھی حال۔ مذبذبین منصوب علی الذم ہے اور ممکن ہے کہ فاعل یذکرون سے حال ہو ہمزہ استفہام انکاری تریدون کا ضمیر انتم فاعل ان تجعلوا سلطانا مبینا مفعول اول جعل اللہ ثابت کے متعلق ہو کر مفعول ثانی اوالعکس یہ جملہ مفعول ہے تریدون ‘ کا من النار حال ہے الدرک الاسفل سے۔ مایفعل ما میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ یہ استفہام کے لئے ہو اور یفعل کا مفعول واقع ہو کر محل نصب میں ہو ‘ بعذابکم متعلق ہے یفعل سے دوم یہ کہ مانا فیہ ہو المعنی لایعذبکم
تفسیر : یہ آیات بھی پہلی آیت کا تتمہ ہیں۔ ان میں منافقین کے اوصاف باقی ماندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا لا اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا
” بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائو گے۔ البتہ وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے کفر اور منافقین کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے قرآن مجید مسلمانوں کو بار بار حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ قلبی دوستی سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ غیرت ایمانی اور ملّی مفاد کے خلاف ہے۔
کفار اور منافقین کے ساتھ معاشرتی، سیاسی اور کاروباری تعلقات رکھے جاسکتے ہیں لیکن انہیں اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھنا مسلمانوں کا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا کیونکہ یہ ملت اسلامیہ کے نقصان کے خواہاں، اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں جس کا مشاہدہ میدان احد سے لے کر ہر دور میں کیا گیا ہے۔ 2003 ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کا فیصلہ کیا تو ابتداء میں روس سمیت کئی ملکوں نے مخالفت کی…
Read the full tafseer →منافقین کا عذاب سخت ہونے کی وجہ :
آیت 145 : اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (بیشک منافقین آگ کے سب سے نچلے درجہ میں ہونگے) یعنی اس طبقہ میں جو جہنم کی گہرائی میں ہے اور آگ کے سات درکات ہیں ان کو درکات کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پے در پے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ اور منافق کا عذاب کافر سے زیادہ رکھا گیا۔ کیونکہ وہ دنیا میں تلوار سے محفوظ رہا پس اس کے بدلے میں آخرت میں سب سے نچلے طبقے کا حقدار بنا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ کفر میں کافر کی طرح ہے۔ اور کفر کے ساتھ استہزاء بالاسلام و باہل الاسلام کا اس نے اضافہ کرلیا ہے۔
قراءت : الدرککو سکون راء کے ساتھ سوائے اعشٰی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 145۔:
(آیت)” ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار “۔ اہل کوفہ نے ’ فی الدرک “ راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دو لغات ہیں جیسے ” ظعن ، ظعن ، نھر ، نھر “۔ ہے ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ دوزخ کے نچلے حصے میں لوہے کے صندوق میں ہوں گے ، حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ صندوقوں کے اندر منافقین بند ہوں گے جن کے اندر منافقوں کے اوپر نیچے انگارے دھک رہے ہوں گے ۔ (آیت)” ولن تجدلھم نصیرا “۔ جو ان کو دوزخ کے عذاب سے مانع ہو یا عذاب سے نکال دے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
(144 ۔ 147) ۔ اوپر ذکر تھا کہ منافق لوگ یہود سے میل جول رکھتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں تفسیر خازن وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض انصار اور یہود میں ہجرت سے پہلے کی دوستی اور دودھ پلانے کی رشتہ داری تھی ان انصارے اس تعلق کے باقی رکھنے کا مسئلہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا 3 اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے جن کا ٹھکانہ جہنم کا ساتواں طبقہ ہے جس میں اور طبقوں سے زیادہ عذاب ہے کیونکہ ان لوگوں نے دنیا میں دلی کفر کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
145 تا 147
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے اجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بد ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکرو فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنا بریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنید پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دوست نہ بنائو
قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتتخذوا الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بنائو) کیونکہ ولی وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے رفیق کی مدد کر کے اور معاملات میں اس کا ہاتھ بٹا کر اس کی سرپرستی کرتا ہے۔ مومن اس لحاظ سے اللہ کا ولی ہوتا ہے کہ وہ اس کی اخلاص نیت کے ساتھ اطاعت کر کے اپنا رشتہ اس کے ساتھ جوڑتا ہے اور اللہ اہل ایمان کا اس لحاظ سے ولی ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت پر جزا دے کر ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ آیت کافروں سے مدد لینے ان کی معونت طلب کرنے ان کی طرف جھکائو ظاہر کرنے اور ان پر بھروسہ کرنے کی نہی کی…
Read the full tafseer →376 منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔ جس کا عذاب سب سے زیادہ سخت ہوگا، اور یہ اس لئے کہ منافق کا پوشیدہ کفر کھلے کافر کے کفر سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہے کہ یہ لوگ مار آستین ہیں۔ اور انہوں نے کفر کے ساتھ کذب و استہزاء کو بھی جمع کیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کا انجام سب سے برا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ " دَرک " کے معنیٰ کسی چیز کے سب سے نچلے حصے اور طبقے کے ہوتے ہیں " اَقْصٰی قعرالشیٔ " دوزخ کے سات طبقے ہوں گے۔ سب سے نچلا طبقہ منافقوں کے لئے ہوگا جس کا عذاب سب سے زیادہ سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
کفار کی دوستی
تشریح : پچھلی آیات میں منافقین کے بارے میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو کفار و منافقین کی دوستی سے منع فرماتا ہے کہ منافقین سے دوستی نہ کرو، جبکہ مومنین موجود ہیں تو اس حکم پر پابندی سے عمل کرنا ضروری ہے ورنہ سزا ملنی ضروری ہوجائے گی۔ ان سے دوستی کرنے میں بہت زیادہ نقصانات ہیں اسی لیے منع کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ منافق کافر سے زیادہ خطرناک اور برا انسان ہے اسی لیے کافروں کے لیے عذاب عظیم کا ذکر ہے، جبکہ منافقوں کے لیے عذاب الیم (درد ناک عذاب) پھر اسی طرح کفار کے لیے جہنم کی سزا ہے تو منافقوں کے لیے جہنم کے سب سے نچلے گڑھے کی سزا مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–152
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف :
منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…
Read the full tafseer →ف 7 آخرت میں دارالعذب کے کئی درجے ہیں جن کا قرآن کی مختلف آیات میں ذکر ہوا ہے پہا درجہ جہنم دوسرا الظیٰ ہاد یہ ہے یہی ہاو یہ جو سب سے نچلا درجہ ہے منافقین کا ٹھکانہ ہوگا۔ کھلے کافروں کو اور مشرکوں اس سے اوپر کے درجوں میں رکھا جائے گا حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں تین گرہوں کی قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ہوگا۔ منافقین اصحاب مائذہ میں سے جنہوں نے کفر کیا اور آل فرعون منافقین کے متعلق تو یہی آیات ہے اور آل فرعون کے متعلق فرمایا ادخلو ال فرعون اشد العذاب اور اصحاب مائدہ کے متعلق فرمایا فانی عذبہ عذابا لا اعذ بہ احد امن العالمین (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
(4:145) الدرک۔ طبقہ۔ درجہ ۔ الدرک اور الدرک دونوں لغتیں ہیں۔ بلندی کی طرف جو یکے بعد دیگرے درجے ہوتے ہیں ان کو اہل عرب درجات جہتے ہیں اور پستی کی طرف یکے بعد دیگرے درجے ہیں ان کو درکات کہتے ہیں۔ جہنم کے مختلف طبقات (درکات) علی سبیل التنزل یہ ہیں۔
(1) جہنم (2) لظیٰ (3) حطمہ (4) سعیر (5) سقر (6) جحیم (7) ہاویۃ۔ سب سے نیچے منافقوں کا یہی ٹھکانہ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
آیت نمبر 144-145
لغات القرآن : اتریدون، کیا تم چاہتے ہو ؟ ۔ سلطان مبین، کھلا ہوا ثبوت۔ الدرک الاسفل، سب سے نیچے درجہ
تشریح : منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے۔ کافر اپنے عقیدہ سے مخلص ہے اگرچہ اس کا عقیدہ و عمل غلط ہے وہ اسلام کا دشمن ضرور ہے مگر کھلم کھلا۔ اس کے وار سے بچنا آسان ہے۔ مگر یہ منافق آستین کا سانپ ہے۔ یہ دوستی کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں رہتا ہے۔ یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ منافقین دوزخ کے بدترین حصہ میں رکھے جائیں گے۔ اسفل، کے معنی سب سے نیچے ہی کے نہیں ہیں بلکہ سب سے ذلیل جگہ کے بھی ہیں۔ سب سے نیچے طبقہ میں گرمی اور جلن سب سے زیادہ ہوگی اور وہاں ذلت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–147
ان آیتوں میں مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے، جن کا ٹھکانا جہنم کا ساتواں طبقہ ہے۔ جو اور طبقوں سے زیادہ عذاب والا ہے۔ ان لوگوں نے ظاہری اسلام جتلا کر ایک طرح کی دغا بازی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کی تھی، جس کے سبب سے ان کی سزا میں قیامت کے دن سختی ہوگی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص منافقوں کی سی عادتیں اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی خفگی اور اس کے عذاب کا یک سبب مول لیتا ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے۔ جن منافقوں کی اوپر مذمت تھی ان کی نجات کے لئے یہ چار باتیں فرمائیں : (1) اول یہ کہ انہوں نے دو دل اپنے (ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[89] اللہ کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں اچھوں کی طرح بروں کو بھی مہلت عمل دے رکھی ہے لیکن شریر آدمی اس مہلت سے نڈر ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں جو کچھ بھی کئے جاؤں میرے لئے کچھ ہونے والا نہیں حالانکہ اس کے لئے سب کچھ ہونے والا ہے مگر اپنے مقررہ وقت پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
(ف 2) ان آیات میں کفار کی دوستی اور مودت سے منع کیا ہے مگر اس صورت میں جب مسلمانوں کو نقصان پہنچے ، یوں شہری تعلقات میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ (آیت) ” من دون المؤمنین “۔ کا یہی مطلب ہے اور یہ بتایا ہے کہ اپنے بدترین اعمال کی وجہ سے ان کا درجہ درک اسفل ہے ۔
حل لغات :
کسالی : جمع کسلان ، سست اور کاہل ، یعنی نمازیں نہایت بےدلی اور بےتوجہی سے پڑتے ہیں ۔
مذبذبین : مادہ ذبہ بمعنی مدافعت ، تکرار حروف ، تکرار فعل پر دال ہے یعنی وہ ہر دو فریق کی طرف مدافعت کرتے ہیں ۔
قلیلا : سے مراد عدیما یعنی قطعا خدا کو یاد نہیں کرتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–146
ف 2 اے ایمان والو ! تم مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو خواہ وہ کھلے کافر ہوں یا منافق ہوں کیا تم ان سے دوستی کر کے یہ چاہتے ہو کہ اپنے مجرم ہونے پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے صریح اور کھلی حجت قائم کرلو اور اپنے خلاف کھلا الزام واقع کرلو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح منافقین نے کفار کو دوست بنا رکھاے اور ان سے خفیہ ساز باز کرتے رہتے ہیں۔ اے مسلمانو ! تم ایسا نہ کرنا کہ کفار کو اپنا رفیق اور ہمراز بنا لو کہ تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے سر پر الزام رکھ لو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پرک ھلی حجت قائم ہوجائے جس کا جواب تم میں سے بن نہ آئے کفار سے موالاۃ کے سلسلے میں ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ف 1۔ اوپر منافقین کے قبائح وشنائع کا بیان مقصود تھا گو ایک مضمون کے ضمن میں ان کی سزائے جہنمیت کا بھی ذکر آگیا تھا آگے ان کی سزا کا بیان مقصود ہے اور چونکہ بیان سزا کا اثر فی نفسہ یہ ہے کہ سلیم المزاج آدمی کو خوف پیدا ہوجاتا ہے جو سبب ہوجاتا ہے توبہ کا۔ اس لیے سزا سے تائبین کا استثناء اور ان کی جزائے نیک کا بیان بھی فرمادیا۔
Read the full tafseer →منافقین کا گروہ ہی وہ گروہ ہے جو دوزخ کے سب سے نچلے حصہ کا مستحق ہے :
233: ہر منافق فی الحقیقت کافر ہی ہوتا ہے بلکہ ایک لحاظ سے وہ کافر سے زیادہ مجرم ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اپنے جرم کفر پر ایک مزید جرم مکرو فریب کا اضافہ کیے ہوئے ہوتا ہے اس لئے حق یہی ہے کہ اس کو ایک کھلے کافر سے بھی زیادہ سخت سزا ملنی چاہئے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سزا جرم کے مطابق ہو۔ ظاہر ہے کہ جرم اس کا ایک کھلے کافر سے بڑا ہے اس لئے اس کی سزا بھی قرآن کریم نے سخت بیان فرمادی کہ ” منافق دوزخ کے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور یہ بات یاد رہے کہ اوپر کو بڑھنے کو ” درج “ اور نیچے کی طرف جانے کو ” درک “ کہتے ہیں اس لئے یہ بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
The purpose in previous verses was to point out to some ugly traits of the hypocrites, though their punishment of being in Hell with disbelievers was also mentioned as a corollary to another subject.
From this stage onwards, the purpose is to state their punishment clearly. Since the inherent effect of such impending punishment generates a sense of fear in a good-natured person which usually becomes the reason for early repentance, therefore, exemption from punishment has been promised to those who repent alongwith the incentive of good reward for them.
The Meaning of sincerity
The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
173. Here an important fact has been stated about the person who remained unguided to the Truth despite his acquaintance with the Book of God and with the life of His Prophet (peace be on him). He was a person who was so disinclined to the Truth and so infatuated with error that even God let him go forth along the same erroneous direction that he had chosen for himself, a person on whom the door of true guidance had been shut and the way towards error had been made smooth by God. It is virtually beyond the power of human-beings to direct such a person to the Truth.
We may be able to grasp…
Read the full tafseer →