Explained with ayahs 142–143
دو ریوڑ کے درمیان کی بکری
سورة بقرہ کے شروع میں بھی (يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ) 2۔ البقرۃ :9) اسی مضمون کی گذر چکی ہے، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ یہ کم سمجھ منافق اس اللہ تعالیٰ کے سامنے چالیں چلتے ہیں جو سینوں میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے پوشیدہ رازوں سے آگاہ ہے۔ کم فہمی سے یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ جس طرح ان کی منافقت اس دنیا میں چل گئی اور مسلمانوں میں ملے جلے رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس بھی یہ مکاری چل جائے گی۔ چناچہ قرآن میں ہے کہ قیامت کے دن بھی یہ لوگ اللہ خبیر وعلیم کے سامنے اپنی یک رنگی کی قسمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
سورة النِّسَآء 173
یعنی جس نے خدا کے کلام اور اس کے رسول کی سیرت سے ہدایت نہ پائی ہو، جس کو سچائی سے منحرف اور باطل پرستی کی طرف راغب دیکھ کر خدا نے بھی اسی طرف پھیر دیا ہو جس طرف وہ خود پھرنا چاہتا تھا، اور جس کی ضلالت طلبی کی وجہ سے خدا نے اس پر ہدایت کے دروازے بند اور صرف ضلالت ہی کے راستے کھول دیے ہوں، ایسے شخص کو راہ راست دکھانا درحقیقت کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس معاملہ کو رزق کی مثال سے سمجھیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رزق کے تمام خزانے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جس انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملتا ہے۔ مگر اللہ ہر شخص کو رزق اس راستہ سے دیتا ہے جس راستے سے وہ خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
خلاصہ تفسیر
بلاشبہ منافق لوگ (اظہار ایمان میں) چالبازی کرتے ہیں اللہ سے (گو ان کی چال اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور گو ان کا اعتقاد اللہ کے ساتھ چالبازی کرنے کا نہ ہو، مگر ان کی یہ کارروائی مشابہ اسی کی ہے کہ جیسا یہی اعتقاد ہو) حالانکہ اللہ تعالیٰ اس چال کی سزا ان کو دینے والے ہیں، اور (چونکہ دل میں ایمان تو ہے نہیں اور اس لئے نماز کو فرض نہ سمجھیں اس میں ثواب کا اعتقاد رکھیں، اس لئے) جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بہت ہی کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، (کیونکہ نشاط اعتقاد اور امید سے پیدا ہوتا ہے) صرف آدمیوں کو (اپنا اس نماز میں) اللہ تعالیٰ کا ذکر (زبانی) بھی نہیں کرتے مگر بہت ہی مختصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
142۔ 143:۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا۔
یخدعون اللہ و ھو خادعہم : کے ہر پہلو پر پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی آیت 9 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔
منافقین کے تذبذب کی تصویر : مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ، ذَبْذَبَ الشیء کے معنی ہیں، چیز فضا میں ٹنگی ہوئی حرکت کرر رہی ہے۔ ذبذب الرجل کے معنی ہیں آدمی حیران و…
Read the full tafseer →143۔ 1 کافروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے ساتھ اور مومنوں کے پاس آتے ہیں تو ان کے ساتھ دوستی اور تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔ ظاہر اور باطن وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں نہ کافروں کے ساتھ اور بعض منافق تو کفر و ایمان کے درمیان متحیر اور تذبذب کا ہی شکار رہتے تھے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے ' ' منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو جفتی کے لئے دو ریوڑوں کے درمیان متردد رہتی ہے (بکرے کی تلاش میں) کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
84: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو دھوکا دے دیا، تو در حقیقت یہ خود ہی دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اللہ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا، اور اللہ تعالیٰ ان کو اس دھوکے میں پڑا رہنے دیتا ہے جو انہوں نے خود اپنے آپ کو اپنے اختیار سے دے رکھا ہے۔ اور اس جملے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کو دھکے میں ڈالنے والا ہے۔ اس ترجمے کی بنیاد پر اس کا ایک مطلب بعض مفسرین (مثلا حضرت حسن بصری) نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان کو اس دھوکے کی سزا آخرت میں اللہ تعالیٰ اس طرح دے گا کہ شروع میں ان کو بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ دور لے جایا جائے گا۔ اور مسلمانوں کو جو نور عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–143
(آیت) ” 138 تا 143۔
منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔
(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)
(جو…
Read the full tafseer →4 یعنی منافقین تو بالکل تردّد اور حیرت میں گرفتار ہیں۔ نہ ان کو اسلام پر اطمینان ہے نہ کفر پر سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کبھی ایک طرف جھکتے ہیں کبھی دوسری طرف اور اللہ جس کو بھٹکانا اور گمراہ کرنا چاہے اس کو نجات کا راستہ کہاں مل سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 143 مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ ق۔
کفر اور ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ‘ کسی طرف بھی یکسو نہیں ہو رہے۔ اسی لیے قرآن میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کے تذکرے کے ساتھ حَنِیف کا لفظ بار بار آتا ہے۔ دین کے بارے میں اللہ کی طرف سے ترغیب یہی ہے کہ یکسو ہوجاؤ۔ دنیا میں اگر انسان کفر پر بھی یکسو ہوگا تو کم از کم اس کی دنیا تو بن جائے گی ‘ لیکن اگر دنیا اور آخرت دونوں بنانے ہیں تو پھر ایمان کے ساتھ یکسو ہونا ضروری ہے۔ لیکن جو لوگ بیچ میں رہیں گے ‘ ادھر کے نہ ادھر کے ‘ ان کے لیے تو خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ کے مصداق دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا اور نقصان ہوگا۔
لَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰی…
Read the full tafseer →191 آپ نے فرمایا تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدتر اس شخص کو دیکھو گے جو دو رخا ہو۔ ان کے پاس آئے تو ان کی سی کہے اور ان کے پاس جائے تو ان کی سی کہے۔ (بخاری، کتاب الادب، باب ماقیل فی ذی الوجھین۔۔ مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب ذم ذی الوجہین و تحریم فعلہ
Read the full tafseer →373 ۔ (ایمان اور ہدایت کی) (آیت) ” مذبذبین بین ذلک “۔ یعنی کافروں اور مومنوں کے درمیان (آیت) ” لاالی ھولآء ولآء الی ھؤلآء یعنی ظاہر اور صورت کے اعتبار سے مومن اور معنی اور معنی اور حقیقت کے لحاظ سے کافر۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ “۔ اللہ کا یہ فعل اضلال اس کی سنت تکوینی کے مطابق ہے جس کے ماتحت وہ ہر عزم عمل پر عمل کا ترتب کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
آیات نمبر 142 تا 147
ترجمہ : بیشک منافقین اپنے پوشیدہ کفر کے خلاف ظاہر کرکے تاکہ اپنے اوپر سے دینوی احکام کو دفع کو سکیں اللہ کے ساتھ چال چل رہے ہیں اور وہ انھیں ان کی چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے چناچہ وہ دنیا میں اللہ کے اپنے بنی کو ان کے پوشیدہ کفر پر مطلع کرنے کی وجہ سے رسوا ہوں گے اور آخرت میں سزا دیئے جائیں گے، اور جب یہ لوگ مومنوں کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت ہی کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں (اپنی نماز) لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کا ذکر تو بس یوں ہی برائے نام کرتے ہیں کفر اور ایمان کے درمیان معلق ہیں نہ (پورے) کافروں کی طرف منسوب ہیں اور نہ مومنوں کی طرف اور اللہ جسے گمراہ رکھے…
Read the full tafseer →مذبذبین بین ذلک یعنی ایمان و کفر دونوں میں متردد ہیں۔ ذبذبۃ کسی چیز کو مضطرب بنا دینا۔ اصل مادہ مجرد ذب ہے جس کا معنی ہے نکال دینا ‘ دھکے دینا۔ مذبذب وہ شخص جس کو دونوں جانب سے دھکے دئیے جائیں کسی ایک طرف وہ ٹھہر نہ سکے۔
لا الی ہولآء نہ ان کو اقرار و اطمینان ہے ان کی طرف یعنی مؤمنوں کی طرف کہ ظاہر باطن میں انہی کی طرف ہوجائیں اور مؤمنوں کے ساتھ آخرت میں پورا اجر پانے کے مستحق بن جائیں۔
ولا الی ہولاء اور نہ کافروں کی طرف ان کو پورا اقرار ہے کہ دوسرے کافروں کی طرح ان سے بھی دنیا میں سلوک کیا جائے۔
ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا اور جس کو (راہِ حق سے) اللہ بھٹکا دے۔ (اے مخاطب) تجھے اس کے لئے (حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
(142۔ 143) عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی خفیہ طریقہ پر اللہ تعالیٰ کی تکذیب اور اس کے دین کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنے زعم میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مکر اور دھوکہ کر رہے ہیں، اس کی سزا قیامت کے دن ان کو مل جائے گی کہ پل صراط پر گزرنے کے وقت ان سے مومنین کہیں گے کہ اپنے پیچھے لوٹ جاؤ اور روشنی تلاش کرو اور یہ لوگ بخوبی جانتے ہوں گے کہ ان کے پاس وہاں روشنی بجھ جائیگی اور لوٹنے کی ان میں طاقت نہ ہوگی۔
اور جب یہ نماز کے لیے آتے ہیں تو بہت سستی کے ساتھ آتے ہیں، جب دوسرے لوگ انھیں دیکھیں تو نماز پڑھ لیتے ہیں ورنہ چھوڑ دیتے ہیں، ریاء اور دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے…
Read the full tafseer →مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ۔۔ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے، کبھی اس ریوڑ کی طرف اور کبھی اس ریوڑ کی طرف اور نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کس کے پیچھے لگے۔“ [ مسلم، صفات المنافقین، باب صفات المنافقین :
2784 ]
2 یعنی جو شخص سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود خود گمراہی میں پڑا ہو اور باطل پرستی کی طرف راغب ہو تو اسے راہ راست پر لانے کے لیے کوئی انسانی نصیحت اور کوشش کارگر نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی سزا کے طور پر گمراہی اور باطل پرستی میں پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 143۔
المذبذب وہ شخص جو دو امروں کے درمیان متردد ہو۔ المذبذبۃ کا معنی اضطراب ہے، کہا جاتا ہے۔ ذبذبتہ فتذبذب، اسی سے نابغہ کا قول ہے :
الم تر ان اللہ اعطاک سورة تری کل ملک دونھا یتذبذب “۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 389)
ایک اور شاعر نے کہا :
خیال لام السلسبیل ودونھا مسیرۃ شھر للبرید المذبذب ‘: (2) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 127 دارالکتب العلمیہ)
اسی طرح دوسرے ذال کے کسرہ کے ساتھ بھی مروی ہے، ابن جنی نے کہا : یعنی حرکت کرنے والا پریشان جو ٹھہرتا نہ ہو، نہ آرام کرتا ہو، یہ منافقین، مومنین، اور مشرکین کے درمیان متردد تھے نہ خالص ایمان لانے والے تھے اور نہ صراحتہ کفر کا اقرار کرنے والے…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن منافق اور کافر کی مثال تین آدمیوں کی طرح ہے جو ایک وادی کی طرف گئے ان میں سے ایک اس میں داخل ہوگیا اور اس نے اس کو عبور کرکے (دوسرے کنارے پر) آگیا۔ پھر ان میں سے دوسرا اس میں داخل ہوا جب وادی کے نصف پر پہنچا تو اس کو آواز دی اس آدمی نے جو وادی کے کنارے پر تھا ہلاکت ہو تیرے لئے تو کہاں ہلاکت کی طرف جا رہا ہے۔ لوٹ آ جہاں سے تو چلا تھا اور وہ آدمی اس کو آواز دیتا ہے جو (وادی) کو عبور کرچکا تھا ادھر آجا نجات اس طرف ہے تو اس نے کبھی ادھر اور کبھی ادھر دیکھنا شروع کیا اس درمیان ایک سیلاب آیا اور وہ اس میں غرق ہوگیا جو عبور کر گیا وہ مؤمن ہے جو…
Read the full tafseer →[ مُّذَبْذَبِیْنَ : مضطرب ہوتے ہوئے ] [ بَیْنَ ذٰلِکَ : اس کے دوران ] [ لَآ اِلٰی ہٰٓـؤُلَآئِ : اور نہ اس طرف ہوتے ہوئے ] [ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ : نہ اس طرف ہوتے ہیں ] [ وَمَنْ : اور جس کو ] [ یُّضْلِلِ : گمراہ کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فَلَنْ تَجِدَ : تو ‘ تو ہرگز نہیں پائے گا ] [ ؐلَہٗ : اس کے لیے ] [ سَبِیْلاً : کوئی راستہ ]
ذ ب ذ ب
(رباعی) ذَبْذَبَۃٌ : کسی لٹکی ہوئی چیز کا ہوا میں ہلنا (گھڑی کے پنڈولم کی طرح) ‘ مضطرب ہونا۔
مُذَبْذَبٌ (اسم الفاعل جو صفت کے طور پر آتا ہے) : مضطرب ہونے والا یعنی مضطرب ‘ آیت زیرمطالعہ۔
Read the full tafseer →منافقوں کی دوسری حالت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ ) کہ وہ اس کے درمیان ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ ذلک مجموعہ ایمان و کفر کی طرح اشارہ مانا جائے تو یہ بھی صحیح ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عالم حیرانی میں تردد میں پڑے ہوئے ہیں شیطان نے ان کو حیرت میں ڈال دیا ہے پھر امام راغب سے التذبذب کا معنی نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں صوت الحرکۃ للشیء المعلق ثم استعیر لکل اضطراب و حرکۃ اور تردد بین الشیئین یعنی ذبذبہ اس آواز کو کہا جاتا ہے جو کسی لٹکی ہوئی چیز سے نکل رہی ہو۔ پھر بطور استعارہ ہر اضطراب اور ہر حرکت کے لیے یا دو چیزوں کے درمیان متردد ہونے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
تتمہ ذمائم منافقین۔
قال تعالی، ان المنافقین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ سبیلا۔
اب ان آیات میں منافقوں کی ایک ظاہری علامت بیان فرماتے ہیں کہ تاکہ مسلمان اپنے آپ کو اس سے بچائیں اور اس وصف سے اجتناب کا خاص خیال رکھیں جو نفاق کی علامت ہے اور جن میں یہ علامت پائی جاتی ہو اس کو مومن جان کردھو کہ نہ کھائیں چناچہ فرماتے ہیں کہ بیشک یہ منافق لوگ دعوائے ایمان اور ظاہری اطاعت سے خدا کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور اس لیے کہ دعائے ایمان اور نماز وغیرہ سے ان کا مقصود لوگوں کو دکھلانا اور دنیوی فوائد حاصل کرنا ہے اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں اور ان بےعقلوں کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی ان کے ساتھ فریب کررہا ہے اور اللہ کو خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
93 یہ منافقین کی ایک خباثت کا بیان ہے کہ ظاہری طور پر تو وہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن پوشیدہ طور پر ان کی دوستی کافروں سے ہے اور ان کی دلی ہمدردیاں بھی کافروں کے ساتھ ہیں اور جب وہ آپس میں بیٹھتے ہیں تو اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اس لیے ایمان والو تم ان سے الگ رہو۔ اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ان کے دلوں کے کھوٹ کا یہ حال ہے کہ ہر وقت تم پر مصیبت کے منتظر رہتے ہیں اور ان کی دو رخی پالیسی کا نمونہ بھی دیکھ لو جب اللہ کی طرف سے تم کو کافروں پر فتح حاصل ہوتی ہے تو تم پر اپنا حق جتلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے اور جہاد میں تمہارے شریک تھے اور اگر اتفاق سے کافروں کی فتح ہوگئی تو فوراً ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سزا کا ذکر کیا تھا کہ کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا ، منافق لوگ کافروں کے ساتھ تعلق جوڑتے ہیں اور ان کو اپنا دوست اور رفیق بناتے ہیں ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں تاکہ گردش آنے کی صورت میں ذلیل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی رد فرمایا ، اور صاف حکم دیا کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹا کیا جارہا ہو ، تو ایسی مجلس میں کسی مومن کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ کافروں کی مجلس میں جاکر ان کی خوشامد کرتے ہیں اور مومنوں کے پاس آکر ان کی چاپلوسی کرتے ہیں تاکہ ان دونوں گروہوں میں سے جن کا پہلو غالب ہو ، اسی کے…
Read the full tafseer →مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ 0ۤۖ لَآ اِلٰى ہٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى ہٰٓؤُلَاۗءِ 0ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِيْلًا 143
ذب
الذباب يقع علی المعروف من الحشرات الطائرة، وعلی النّحل، والزنابیر ونحوهما . قال الشاعر : فهذا أوان العرض حيّا ذبابه ... زنابیره والأزرق المتلمّس وقوله تعالی: وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبابُ شَيْئاً [ الحج/ 73] ، فهو المعروف، وذباب العین :إنسانها، سمّي به لتصوّره بهيئته، أو لطیران شعاعه طيران الذّباب . وذباب السّيف تشبيها به في إيذائه، وفلان ذباب : إذا کثر التأذّي به . وذبّبت عن فلان : طردت عنه الذّباب، والمِذَبّة : ما يطرد به، ثمّ استعیر الذّبّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
ترکیب : وھو خادعہم جملہ حال ہے اللہ سے ‘ کسالی حال ہے فاعل قاموا سے ‘ اسی طرح یراؤن الناس بھی حال۔ مذبذبین منصوب علی الذم ہے اور ممکن ہے کہ فاعل یذکرون سے حال ہو ہمزہ استفہام انکاری تریدون کا ضمیر انتم فاعل ان تجعلوا سلطانا مبینا مفعول اول جعل اللہ ثابت کے متعلق ہو کر مفعول ثانی اوالعکس یہ جملہ مفعول ہے تریدون ‘ کا من النار حال ہے الدرک الاسفل سے۔ مایفعل ما میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ یہ استفہام کے لئے ہو اور یفعل کا مفعول واقع ہو کر محل نصب میں ہو ‘ بعذابکم متعلق ہے یفعل سے دوم یہ کہ مانا فیہ ہو المعنی لایعذبکم
تفسیر : یہ آیات بھی پہلی آیت کا تتمہ ہیں۔ ان میں منافقین کے اوصاف باقی ماندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُہُمْ ج وَاِذَا قَامُوْٓا اِلٰی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی لا یُرَآئُ وْنَ النَّاسَ وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا ز لا مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ صلے ق لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلَہٗ سَبِیْلاً
” بیشک منافقین اللہ سے چالبازی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ چال وہ ان سے چل رہا ہے۔ اور جب یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہوتے ہیں کاہل بن کر محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔ ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں کفر اور ایمان کے درمیان ‘ نہ ادھر ہیں نہ ادھر۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا کردار اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں۔
آدمی جب مسلسل دھوکہ اور فراڈ کرنے کا روّیہ اختیار کرلے اور اس پر اس کی گرفت نہ ہو تو شیطان اس کے دل میں یہ خیال اور دلیری پیدا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اس قدر ناپسند ہوتی تو مجھے ایسا کرنے کی اجازت اور طاقت نہ دیتا۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی مہلت دینے کے اصول کو بھول جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھناؤنے کردار میں آگے ہی بڑھتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت اس کے لیے خود فریبی اور دھوکے کا باعث بنتی ہے اس مہلت کو وہ شخص اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف سمجھتا ہے حالانکہ مکڑی کے جالے کی طرح خود ہی اس میں پھنسا رہتا…
Read the full tafseer →مذبذب کی حقیقت :
آیت 143 : مُّذَبْذَبِیْنَ یہ منصوب علی الذم ہے۔ یعنی رد کیئے ہوئے۔ مطلب یہ ہوا کہ شیطان اور خواہشات نے ان کو کفر و ایمان کے درمیان مذبذب کردیا ہے۔ وہ ان کے مابین حیران پھرنے والے ہیں اور مذبذب کی حقیقت تو یہی ہے کہ وہ دونوں طرفوں سے ہی دفع کیا جاتا ہے۔ وہ ایک جانب قرار نہیں پاتا۔ الذبذبۃ میں جو تاکید ہے وہ الذب میں نہیں۔
بَیْنَ ذٰلِکَ (اس کے درمیان) یعنی کفر و ایمان کے درمیان۔ لَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ (نہ تو وہ ان کی طرف منسوب ہیں کہ وہ مومن شمار ہوں اور نہ ان کی طرف منسوب ہیں کہ ان کو مشرک کہا جائے) وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلَہٗ سَبِیْلاً…
Read the full tafseer →اگر اللہ ان کے سب اعمال کو قبول کر بھی لے تو یہ ان کے لیے کافی ہوتا ۔
143۔ (آیت)” مذبذبین بین ذلک “۔ وہ جانبین سے متردد ہیں کفر اور ایمان کے درمیان درمیان میں ہیں ۔ (آیت)” لا الہ ھؤلاء ولا الہ ھؤلائ “۔ یعنی نہ تو یہ مؤمنین میں سے ہیں کہ ان کے ساتھ مؤمنین والا معاملہ کیا جائے اور نہ ہی کفار میں شامل ہیں کہ ان سے وہی چیزیں لی جائیں جیسی کفار سے لی جاتی ہیں ۔ (آیت)” ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا “۔ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ملے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی مثال ایسی ہے جیسے ریوڑ سے بچھڑی ہوئی بکری جو دوگلوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
(142 ۔ 143) ۔ منافق لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کرتے تھے کہ جس طرح دنیا میں ہم نے ظاہری مسلمان بن کر مسلمانوں کو دھوکا دے دیا جس دھوکے کے سبب سے ہماری جان ہمارا مال سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھ سے بچ گیا۔ اسی طرح قیامت کے دن خدا کے روبرو بھی ہمارا یہ دھوکا چل جائے گا۔ اور اس ظاہری اسلام پر اس دن ہماری نجات ہوجائے گی۔ ان لوگوں کے اس خیال کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس غیب دان کے ساتھ تو یہ لوگ کیا دغا بازی اور دھوکا کرسکتے ہیں۔ بلکہ ان کی دغا بازی کا وبال ان ہی پر دونوں جہان میں یہ پڑ رہا ہے کہ دنیا میں تو یہ لوگ اپنی دغا بازی کو اچھا جان کر اسی میں پڑے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علم ازلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
آیت 142
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اسے راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
قول باری ہے ان المنافقین یخادعون اللہ وھو خادعھم، یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے) ۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو ایمان کے اظہار کے ذریعے دھوکہ دے رہے ہیں تاکہ اپنی جانیں محفوظ کرلیں اور اموال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجایا کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دھوکے بازی کی سزا دے کر انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے اس سے ایک فعل کی جزا کو اس فعل سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ کلام میں مزاوجت یعنی الفاظ کی تقریب کا طریقہ ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے فمن اعتذی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدی…
Read the full tafseer →371 منافقوں کو ان کے نفاق کی ایک نقد سزا : کہ یہ لوگ تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ نہ ادھر کے نہ ادھر کے۔ بلکہ ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح ہوتے ہیں کہ کبھی ہوا کے جھونکوں نے یہاں مارا، کبھی وہاں پٹکا۔ سکون و اطمینان اور امن وقرار کی دولت سے یہ لوگ محروم اور بےقرار ہی رہتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْز الْغَفَّارِ ۔ سو یہ نفاق کی ایک فوری اور نقد سزا ہے جو منافق کو اس کے اپنے ہی اختیار کردہ نفاق کی بناء پر یہاں ملتی رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان سے محرومی امان و سکون سمیت ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ مندی و سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
منافقوں کی پہچان
تشریح : ان آیات میں مسلمانوں اور منافقوں کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ منافق کا مطلب ہے کہنا کچھ اور کرنا کچھ جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں جبکہ یہ مسلمان نہیں ہوتے تھے دل سے یہ اللہ کو نہ مانتے تھے ان کی کھلی کھلی پانچ نشانیاں اللہ نے بیان کی ہیں۔ یہ سوچتے ہیں اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں جو کہ ممکن نہیں، بلکہ یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ دوسرا نماز پڑھتے ہیں تو سستی سے پڑھتے ہیں۔ اس وقت مسجد میں آکر نماز پڑھنا ضروری تھا پکے مسلمان شوق سے آتے دل لگا کر خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے جب کہ یہ لوگ بھاگم بھاگ آتے اور بےدلی سے نماز پڑھتے اور بھاگ جاتے۔ تیسرا ان کی نماز میں خلوص اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–152
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف :
منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جو شخص سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود خود گمراہی میں پڑا ہوا ہوا اور باطل پرستی کی طرف راغب ہو تو اسے راہ راست پر لانے کے لیے کوئی انسانی نصیحت اور کوشش کار گر نہیں ہوسکتی بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی سزا کے طور پر گمراہی ارباطل پرستی میں پختہ ترہو تا چلا جائے گا
Read the full tafseer →(4:143) مدبدبین۔ الذبذبۃ۔ اصل میں معلق چیز کی ہلنے کی آواز کو کہتے ہیں پھر بطور استفادہ ہر قسم کی حرکت اور اضطراب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مذبذبین بین ذلک۔ یعنی ہمیشہ مضطرب رہتے ہیں ۔ کبھی مسلمانوں کی طرف اور کبھی کفار کی طرف۔
ذبذب فلان تردد بین امرین ولا تثبت صحبتہ لواحد منھما دو امور یا دو آدمیوں کے درمیان حالت تردد میں ہونا اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ثابت قدم نہ ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
آیت نمبر 142-143
لغات القرآن : خادع، دھوکہ دینے والا۔ کسالی، سستی، کاہلی۔ مذبذبین، درمیان میں لٹکے ہوئے، ادھر نہ ادھر۔
تشریح : منافقین دو طرفہ کھیل، کھیل کر سمجھ رہے ہیں کہ وہ بڑے ہوشیار ہیں۔ دونوں فریقوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مگر ان کی شاطرانہ چالیں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں مات کھا جائیں گے۔ یہ بات قرآن پاک میں بار بار کہی گئی ہے۔
سابق آیات میں ان کی ایک پہچان بتائی گئی تھی۔ یہاں دوسری پہچان بتائی گئی ہے کہ وہ جب نماز میں آتے ہیں تو بادل ناخواستہ۔ بہت کسمساتے ہوئے۔ اور پھر کم سے کم نماز پڑھ کر جلدی سے بھاگنے کی فکر میں رہتے ہیں۔
اگرچہ یہ منافق کی خاص پہچان ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–147
ان آیتوں میں مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے، جن کا ٹھکانا جہنم کا ساتواں طبقہ ہے۔ جو اور طبقوں سے زیادہ عذاب والا ہے۔ ان لوگوں نے ظاہری اسلام جتلا کر ایک طرح کی دغا بازی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کی تھی، جس کے سبب سے ان کی سزا میں قیامت کے دن سختی ہوگی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص منافقوں کی سی عادتیں اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی خفگی اور اس کے عذاب کا یک سبب مول لیتا ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے۔ جن منافقوں کی اوپر مذمت تھی ان کی نجات کے لئے یہ چار باتیں فرمائیں : (1) اول یہ کہ انہوں نے دو دل اپنے (ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[89] اللہ کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں اچھوں کی طرح بروں کو بھی مہلت عمل دے رکھی ہے لیکن شریر آدمی اس مہلت سے نڈر ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں جو کچھ بھی کئے جاؤں میرے لئے کچھ ہونے والا نہیں حالانکہ اس کے لئے سب کچھ ہونے والا ہے مگر اپنے مقررہ وقت پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
(ف 1) (آیت) ” وھو خادعھم “۔ سے مراد یہ نہیں کہ خدا ان سے فی الواقع خادعانہ سلوک کرے گا ، بلکہ یہ کہ وہ اس عذاب کو جس سے وہ دو چار ہوں گے ، خادعانہ تصور کریں گے اور وہ ٹھیک ان کی منافقت ومداہنت کو جواب ہوگا ۔
خدع کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تجوز ومجاز ہے ، جیسے (آیت) ” وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا “۔
Read the full tafseer →ف 1 بلاشبہ یہ منافق اپنے خیال فاسد اور زغم باطل میں اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے اس مکر و فریب کی ان کو سزا دینے والا ہے اور منافق جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو محض لوگوں کے دکھانے کے لئے بڑی سستی اور الکساہٹ سے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی نہیں کرتے مگر یوں ہی مختصر سا ان کی حالت یہ ہے کہ کفر و ایمان کے مابین تردد و تذبذب میں مبتلا ہیں اور ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں نہ پوری طرح مسلمانوں کی طرف اور نہ پوری طرح کافروں کی طرف اور بات یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ہی گمراہی میں مبتلا رکھے تو اے مخاطب تو اس کے لئے ایمان لانے اور مومن ہونے کی کوئی راہ نہ پائے گا۔…
Read the full tafseer →ف 6۔ ظاہر میں مومن تو کفار سے الگ اور باطن میں کافر تو مومنین سے الگ۔
7۔ مطلب یہ کہ ان منافقین کے راہ پر آنے کی امید مت رکھو اس میں منافقین کی تشنیع ہے اور مومنین کی تسلی کہ ان کی شرارتوں سے رنج نہ کریں۔
Read the full tafseer →یہ مطلب کے یار ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے :
231: یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کو اسلام سے پیار ہے نہ کفر سے کوئی نفرت وبیر۔ ان کو اپنے مطلب سے غرض ہے۔ وہ جس طرف سے ان کا مطلب حل ہوتا ہے اس طرف کے ہوں گے۔ گویا وہ سیاسی لیڈر ہیں اور ان کو ووٹ درکار ہیں وہ خود بےرنگ ہیں اس لئے جس برتن میں داخل ہوں گے وہی ان کا رنگ خود بخود ہوجائے گا۔ وہ دو ریوڑوں کے درمیان کے ” بھیڈو “ ہیں کبھی اس ریوڑ میں کبھی اس ریوڑ میں۔ بیوقوف ہیں لیکن دوسروں کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ غرض کے بندے ہیں اور وہ جہاں سے اور جیسے کیسے ان کی پوری ہونی چاہئے۔ ضرورت ہو تو وہ تمہارے اپنے ہیں اور ضرورت نہ ہو تو ان کی پہچان بہت کمزور ہے آج کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) has, in his Tafsir Bay-an al-Qur'an, taken up the question of 'standing up lazily' in the expression: قَامُوا كُسَالَ which appears in verse 142 saying: 'The laziness censured here is doctrinal laziness, (that is, slothfulness towards observance of the articles of faith due to lack of true conviction). However, laziness which is there despite correct beliefs stands excluded from the purview of this censure. Then, should this laziness be there due to some excuse, such as, sickness, fatigue or sleepiness, it is not even blameworthy. But, when without excuse, it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–145
173. Here an important fact has been stated about the person who remained unguided to the Truth despite his acquaintance with the Book of God and with the life of His Prophet (peace be on him). He was a person who was so disinclined to the Truth and so infatuated with error that even God let him go forth along the same erroneous direction that he had chosen for himself, a person on whom the door of true guidance had been shut and the way towards error had been made smooth by God. It is virtually beyond the power of human-beings to direct such a person to the Truth.
We may be able to grasp…
Read the full tafseer →