An-Nisaa 4:141

An-Nisaa · from ayah 141

4:141

١لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ— فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ۖؗ— وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ ۙ— قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ؕ— فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ— وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا ۟۠الَّذِيۡنَ يَتَرَ بَّصُوۡنَ بِكُمۡ‌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُـوۡۤا اَلَمۡ نَـكُنۡ مَّعَكُمۡ ‌ ۖ وَاِنۡ كَانَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نَصِيۡبٌۙ قَالُـوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ وَنَمۡنَعۡكُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who wait [and watch] you. Then if you gain a victory from Allah, they say, "Were we not with you?" But if the disbelievers have a success, they say [to them], "Did we not gain the advantage over you, but we protected you from the believers?" Allah will judge between [all of] you on the Day of Resurrection, and never will Allah give the disbelievers over the believers a way [to overcome them].

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 20 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:141

یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آ کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ ا گر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلہ میں) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا؟ پس قیامت میں خود اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راه نہ دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے مسلمانو) یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام کے) انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ چنانچہ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملے تو (تم سے) کہتے ہیں کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کہ : کیا ہم نے تم پر قابو نہیں پالیا تھا ؟ اور کیا (اس کے باوجود) ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا ؟ بس اب تو اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا ہرگز کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو تمہاری حالت تکا کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا تو اللہ تم سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اور اللہ کافروں کو مسلمان پر کوئی راہ نہ دے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (منافق) جو تمہاری (فتح و شکست کی) تاک میں رہتے ہیں، پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح نصیب ہو جائے تو کہتے ہیں: کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (ظاہری فتح میں سے) کچھ حصہ مل گیا تو (ان سے) کہتے ہیں: کیا ہم تم پر غالب نہیں ہو گئے تھے اور (اس کے باوجود) کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں (کے ہاتھوں نقصان) سے نہیں بچایا؟ پس اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا، اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر (غلبہ پانے کی) ہرگز کوئی راہ نہ دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو تمہارے بارے میں انتظار کرتے ہیں، پھر اگر تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کوئی فتح ہوجائے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں ہوگئے تھے اور ہم نے تمہیں ایمان والوں سے نہیں بچایا تھا۔ پس اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ منافقین جو آپ کے بارے میں ہر وقت منتظر رہتے ہیں، اگر اللہ کی مہربانی سے تمہیں فتح نصیب ہو تو کہتے ہیں : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہے تو انہیں کہتے ہیں : کیا ہم تم پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور (اس کے باوجود) ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا ؟ پس اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر (غالب آنے کی) ہرگز کوئی گنجائش نہیں رکھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو جو تمہارے لیے گردشوں کے متنظر ہیں۔ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کی کوئی جیت ہوجائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر چھائے نہیں رہے اور ہم نے مسلمانوں سے تم کو بچایا نہیں ؟ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اور اللہ کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو (اپنے بغض وعناد کی بناء پر) تمہاری تاک میں لگے رہتے ہیں، پس اگر تم کو کوئی فتح (و کامیابی) نصیب ہوجائے اللہ کی طرف سے تو یہ تم سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ شامل نہیں تھے ؟ اور اگر (اس کے برعکس کبھی) کافروں کو کوئی حصہ مل جائے، تو یہ (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم لوگوں پر غالب نہ آنے لگے تھے، اور کیا ہم نے تمہیں نہیں بچایا مسلمانوں سے ؟ پس اللہ ہی (حقیقی اور عملی) فیصلہ فرمائے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اور اللہ (سبحانہ وتعالی) ہرگز کرے گا کافروں کے لئے اہل ایمان کے مقابلے میں کوئی راہ

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ وہ لوگ ہیں) جو تمہارے لئے مصیبت کے منتظر رہتے ہیں تو اگر تمہیں اللہ کی جانب سے فتح حاصل ہوگئی تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو حصہ مل گیا تو (ان سے) کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا۔ تو اللہ ہی تم (سب) لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کافروں کا ہرگز مومنوں پر غلبہ نہ ہونے دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو تمہارے لیے انتظار کی حالت میں ہیں تو اگر تم لوگوں کو اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوجائے تو یہ کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ اور اگر کوئی حصہ پہنچ جائے کافروں کو تو وہ کہیں گے (اپنے کافر ساتھیوں سے) کیا ہم نے تمہارا گھیراؤ نہیں کرلیا تھا ؟ اور ہم نے بچایا نہیں تم کو مسلمانوں سے ؟ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمہارے مابین قیامت کے دن اور اللہ اہل ایمان کے مقابلے میں کافروں کو راہ یاب نہیں کرے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کررہے ہیں اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کفار کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے۔ اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچا لیا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور اللہ نے کفار کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی

— محترمہ رفعت اعجاز

These hypocrites watch you closely: if victory is granted to you by Allah, they will say: 'Were we not with you?' And were the unbelievers to gain the upper hand, they will say: 'Did we not have mastery over you, and yet we protected you from the believers?' It is Allah Who will judge between you on the Day of Resurrection, and He will not allow the unbelievers, in any way, to gain advantage over the believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

- those who look for (a misfortune for) you, so, if there is a victory for you, they say, :Were we not with you? But if there is a gain for the disbelievers, they say (to them), :Had we not overpowered you, still protected you from the believers? So, Allah will decide between you on the Doomsday. Allah shall never give the disbelievers a way against the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

- those who look for (a misfortune for) you, so, if there is a victory for you, they say, :Were we not with you? But if there is a gain for the disbelievers, they say (to them), :Had we not overpowered you, still protected you from the believers? So, Allah will decide between you on the Doomsday. Allah shall never give the disbelievers a way against the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who wait and watch about you; if you gain a victory from Allah, they say: "Were we not with you" But if the disbelievers gain a success, they say (to them): "Did we not gain mastery over you and did we not protect you from the believers" Allah will judge between you (all) on the Day of Resurrection. And never will Allah grant to the disbelievers a way (to triumph) over the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who wait upon occasion in regard to you and, if a victory cometh unto you from Allah, say: Are we not with you? and if the disbelievers meet with a success say: Had we not the mastery of you, and did we not protect you from the believers? - Allah will judge between you at the Day of Resurrection, and Allah will not give the disbelievers any way (of success) against the believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who wait [and watch] you. Then if you gain a victory from Allah, they say, "Were we not with you?" But if the disbelievers have a success, they say [to them], "Did we not gain the advantage over you, but we protected you from the believers?" Allah will judge between [all of] you on the Day of Resurrection, and never will Allah give the disbelievers over the believers a way [to overcome them].

— Saheeh International

(The hypocrites) wait and watch. If God grants you victory, they say, "Did we not help you?" If the unbelievers are victorious, they say, "Did we not encourage you not to surrender to the believers and did we not protect you from them?" God will judge among you on the Day of Judgment. He will never help the disbelievers against the believers.

— Muhammad Sarwar

Those who wait for (some misfortune to befall) you then If you have a victory from Allah they say: Were we not with you? And if there is a chance for the unbelievers, they say: Did we not acquire the mastery over you and defend you from the believers? So Allah shall Judge between you on the day of resurrection, and Allah will by no means give the unbelievers a way against the believers.

— Muhammad Habib Shakir

Those who wait about you. If then there be victory for you from Allah, they say: were we not with you? And if there is a portion for the infidels, they say: gained we not mastery over you, and kept we not you back from the believers! Allah shall Judge betwixt you On the Day of Judgement, and Allah shall not make for the infidels against the believers a way.

— Abdul Majid Daryabadi

(These are) the ones who wait and watch about you: if ye do gain a victory from Allah, they say: "Were we not with you?"- but if the unbelievers gain a success, they say (to them): "Did we not gain an advantage over you, and did we not guard you from the believers?" but Allah will judge betwixt you on the Day of Judgment. And never will Allah grant to the unbelievers a way (to triumphs) over the believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:141

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

عمل میں صفر دعویٰ میں اصلی مسلمان منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ٹوہ لیتے رہتے ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہوگئے اللہ کی مدد سے یہ غالب آگئے تو ان کے پیٹ میں گھسنے کے لئے آ آ کر کہتے ہیں کیوں جی ہم بھی تو تمہارے ساتھی ہیں اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی آزمائش کے لئے اللہ جل شانہ نے کافروں کو غلبہ دے دیا جیسے احد میں ہوا تھا گو انجام کار حق ہی غالب رہا تو یہ ان کی طرف لپکتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو پوشیدہ طور پر تو ہم تمہاری تائید ہی کرتے رہے اور انہیں نقصان پہنچاتے رہے یہ ہماری ہی چالاکی تھی جس کی بدولت آج تم نے ان پر فتح پا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 171 ہر زمانہ کے منافقین کی یہی خصوصیت ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے جو فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں ان کو یہ اپنے زبانی اقرار اور دائرہ اسلام میں برائے نام شمولیت کے ذریعہ سے حاصل کرتے ہیں۔ اور جو فائدے کافر ہونے کی حیثیت سے حاصل ہونے ممکن ہیں ان کی خاطر یہ کفار سے جا کر ملتے ہیں اور ہر طریقہ سے ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کوئی ”متعصب مسلمان“ نہیں ہیں، نام کا تعلق مسلمانوں سے ضرور ہے مگر ہماری دلچسپیاں اور وفاداریاں تمہارے ساتھ ہیں، فکر و تہذیب اور مذاق کے لحاظ سے ہر طرح کی موافقت تمہارے ساتھ ہے، اور کفر و اسلام کی کشمکش میں ہمارا وزن جب پڑے گا تمہارے ہی پلڑے میں پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 140–141

آیت قدنزل علیکم فی الکتب الخ۔ میں قرآن مجید کی ایک اور آیت کا جو سورة انعام میں قبل از ہجرت مکہ مکرمہ میں نازل ہوچکی تھی حوالہ دے کر یہ بتلایا گیا ہے کہ ہم نے تو اصلاح انسانی کے لئے پہلے ہی یہ حکم بھیج دیا تھا کہ کفار و فجار کی مجلس میں بھی مت بیٹھو اور تعجب ہے کہ یہ غافل لوگ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، کہ ان سے دوستی کرنے لگے، اور ان کو عزت و قوت کا مالک سمجھنے لگے۔ سورة نساء کی متذکرہ آیت اور سورة انعام کی وہ آیت جس کا حوالہ سورة نساء میں دیا گیا ہے دونوں کا مفہوم مشترک یہ ہے کہ اگر کسی مجلس میں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار یا ان پر استہزاء کر رہے ہوں تو جب تک وہ اس بیہودہ شغل میں لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭفَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۔ استحوذ علیہ کا مفہوم : استحوذ علیہ کے معنی ہیں احاطہ بہ، غلبہ، استولی علیہ اس کو گھیرے میں لے لیا۔ اس پر غالب آگیا۔ نر، مادہ کو جب اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے، کسی دوسرے نر کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتا تو اس کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

141۔ 1 یعنی ہم تم پر غالب آنے لگے تھے لیکن تمہیں اپنا ساتھی سمجھ کر چھوڑ دیا اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا۔ مطلب یہ کہ تمہیں غلبہ ہماری اس دوغلی پولیسی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ جو ہم نے مسلمانوں کو ظاہری طور پر شامل ہو کر اپنائے رکھی۔ لیکن درپردہ ان کو نقصان پہنچانے میں ہم نے کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کی تاآنکہ تم ان پر غالب آگئے۔ یہ منافقین کا قول ہے جو انہوں نے کافروں سے کہا۔ 141۔ 1 یعنی دنیا میں تم نے دھوکے اور فریب سے وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل کرلی۔ لیکن قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان باطنی جذبات و کیفیات کی روشنی میں ہوگا جنہیں تم سینوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

83: یعنی ان لوگوں کو اصل غرض دنیوی مفادات سے ہے۔ اگر مسلمانوں کو فتح ہو اور مال غنیمت ہاتھ آئے تو یہ ان کے ساتھی ہونے کا دعویٰ کر کے ان سے مال بٹورنے کی فکر میں رہتے ہیں، اور اگر کبھی کافروں کا دؤ چل جائے تو ان پر یہ احسان جتلاتے ہیں کہ اگر ہماری مدد تمہارے ساتھ نہ ہوتی تو مسلمان تم پر غالب آجاتے۔ لہذا ہمیں ہماری ان خدمات کا مالی صلہ دو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 138–143

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی یہ منافق وہ ہیں جو برابر تمہاری تاک اور انتظار میں لگے رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہاری فتح ہو تو تم سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں مال غنیمت میں ہم کو بھی شریک کرو اور اگر کافروں کو لڑائی میں کچھ حصہ مل گیا یعنی وہ غالب ہوئے تو ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم نے تم کو گھیر نہ لیا تھا اور تمہاری حفاظت نہیں کی اور ہم نے کیا تم کو مسلمانوں کے ضرر سے نہیں بچایا۔ لوٹ میں ہم کو بھی حصہ دو ۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ دین حق پر ہو کر گمراہوں سے بھی بنائے رکھنا یہ بھی نفاق کی بات ہے۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ تم میں اور ان میں حکم فیصل فرما وے گا کہ تم کو جنت دے گا اور ان کو جہنم میں ڈالے گا دنیا میں جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 141 الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بکُمْ ج منافق تمہارے معاملہ میں گردش زمانہ کے منتظر ہیں۔ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ لوگ تیل دیکھو ‘ تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور نتیجے کے انتظار میں ہیں کہ آخری فتح کس کی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کا طے شدہ منصوبہ ہے کہ دونوں طرف کچھ نہ کچھ تعلقات رکھو ‘ تاکہ وقت جیسا بھی آئے ‘ جو بھی صورت حال ہو ‘ ہم اس کے مطابق اپنے بچاؤ کی کچھ صورت بنا سکیں۔ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوْآ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ ز اگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے مسلمان فتح حاصل کرلیتے ہیں تو وہ آجائیں گے باتیں بناتے ہوئے کہ ہم بھی تو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

187 منافقوں کی مفاد پرستی :۔ منافقین کا طبقہ دور نبوی میں بھی موجود تھا اور ہر دور میں موجود رہتا ہے اور آج بھی موجود ہے۔ ان میں ایمان نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ ان کا ایمان صرف مفاد کا حاصل کرنا ہوتا ہے اور اصول، جھوٹ اور مکر و فریب ہوتا ہے۔ ایسے لوگ بس ہوا کا رخ دیکھتے رہتے ہیں۔ جدھر سے مفاد حاصل ہونے کی توقع ہو فوراً باتیں بنا کر ادھر لڑھک جاتے ہیں۔ اس آیت میں دور نبوی کے منافقوں کا حال بیان کیا گیا ہے اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو تو مال غنیمت میں سے حصہ لینے کی غرض سے کہتے ہیں کہ آخر ہم بھی تو مسلمان اور تمہارے ساتھی ہیں لہذا ہمیں بھی حصہ ملنا چاہیے۔ اور کافروں کو فتح ہو تو ان سے جا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

368 ۔ منافقین کی پوری ذہنیت آشکارو بےنقاب کی جارہی ہے۔ ان لوگوں کا بھی عجب حال تھا۔ جب جنگ چھڑتی تو منافقین کا گروہ لشکر اسلامی کے ساتھ ساتھ ہوتا اگرچہ کافروں سے قتال نہ کرتا یا برائے نام ہی کرتا تو اگر مسلمانوں کو فتح ہوجاتی تو یہ مسلمانوں کے پاس آکر اپنی شرکت، معیت ورفاقت کا حق جتلاتے اور مال غنیمت وغیرہ میں سے اپنا حصہ طلب کرتے۔ لیکن اگر اس کے برعکس کبھی اتفاق سے کافروں ہی کے ہاتھ میدان رہتا تو یہ جھٹ ان کے پاس جاکر ان پر اپنا احسان رکھتے کہ دیکھو فلاں موقع پر لشکر اسلامی کا پلہ بھاری ہورہا تھا۔ اور تم شکست کھانے ہی کو تھے کہ ہم آڑے آگئے ہم نے اپنی کوشش وتدبیر سے تمہارا پلہ وزن دار کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 140–141

وقد نزل علیکم فی الکتاب، (الآ یة) یعنی اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہا ہے اور اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو، مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص خاموشی سے خدا اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے ہوئے سنتا ہے تو اس میں اور کافروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اس دعوت میں شریک نہ ہو جس میں شراب کا دور چلے، اس سے معلوم ہوا کہ ایسی مجلسوں اور اجتماعات میں شریک ہونا جس میں اللہ رسول کے احکام کا قولاً عملاً مذاق اڑایا جاتا ہو سخت گناہ ہے، ہاں البتہ جو شخص اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین یتربصون بکم . وہ ایسے ہیں کہ تم پر افتاد اور مصیبت پڑنے کے منتظر رہتے ہیں۔ فان کان لکم فتح من اللہ پھر اگر من جانب اللہ تمہاری فتح ہوگئی۔ یعنی لڑائی میں جیت ہوگئی اور مال غنیمت حاصل ہوگیا۔ قالوا الم نکن معکم تو باتیں بناتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے یعنی کیا دین اور جہاد میں تمہارے ساتھی نہ تھے لہٰذا ہم کو بھی مال غنیمت کا حصّہ دو ۔ وان کان للکفرین نصیب . اور اگر کافروں کو کچھ نصیب ہوگیا یعنی مسلمانوں پر کچھ غلبہ مل گیا۔ قالوا الم نستحوذ علیکم . تو کہتے ہیں کیا ہم مسلمانوں کے ساتھ مل کر تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے مگر ہم نے تم کو چھوڑ دیا استحواذکا معنی ہے غلبہ پانا۔ ونمنعکم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(141) اور یہ منافق ایسے سازشی ومفاد پرست ہیں کہ تم پر پریشانیاں اور تکالیف پڑنے کے منتظر رہتے ہیں، پھر اگر اللہ کی طرف سے تمہیں فتح غنیمت حاصل ہوجاتی ہے تو یہ منافقین مسلمانوں سے باتیں کرتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے دین پر نہیں، ہمیں بھی مال غنیمت دو اور اگر اتفاق سے کفار کو دولت مل گئی تو یہ منافق ان سے جا کر باتیں ملاتے ہیں کہ کیا ہم نے تم سے رسول اکرم ﷺ کا راز فاش نہیں کیا تھا اور تمہیں آپ ﷺ کے ارادوں سے خبر دار نہیں کیا تھا اور کیا ہم نے مسلمانوں سے تمہاری حفاظت نہیں کرائی تھی ، اے گروہ منافقین اور یہود اللہ تعالیٰ تمہیں مسلمانوں پر دائمی غلبہ کبھی بھی نہیں دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ۔۔ : یعنی یہ منافقین تمہارے بارے میں تاک اور انتظار میں رہتے ہیں، اگر اللہ کی طرف سے تمہیں فتح مل جائے تو کہتے ہیں، کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے، یعنی اس فتح میں ہمارا بھی حصہ ہے اور اگر کسی وقت کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہتے ہیں، کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے، پھر یہ ہمارا ہی کام تھا کہ ہم نے ایسے وسائل اختیار کیے جن سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا لیا، یعنی منافقین دونوں طرف اپنا احسان چڑھاتے رہتے تھے۔ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ : یعنی دنیا میں تو ان منافقین نے بظاہر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو بچا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 140–141

آیت نمبر : 140، تا 141۔ اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا “۔ یہ ان تمام لوگوں کو خطاب ہے جس نے ایمان کا اظہار کیا خواہ وہ سچا مسلمان ہے یا منافق ہے کیونکہ جب اس نے ایمان کا اظہار کیا تو اسے کتاب اللہ کے احکام کی پیروی کرنا لازم ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ (انعام : 68) یہ اس لیے نازل ہوا کہ منافقین یہودی علماء کے پاس بیٹھتے تھے اور قرآن کا مذاق اڑاتے تھے، عاصم اور یعقوب نے وقد نزل نون اور زا کے فتحہ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 140–141

(1) ابن المنذر و ابن جریر نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ایک کسی مجلس میں ایسی جھوٹی بات کہتا ہے اس کے ذریعہ اپنے ہم نشینوں کو ہنساتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوتے ہیں یہ بات ابراہیم نخعی (رح) کو ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا ابو وائل نے سچ کہا کیا یہ اللہ کی کتاب میں نہیں ہے لفظ آیت ” فلا یقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “ (2) ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سورة امام میں (یہ آیت) اتاری گئی لفظ آیت ” حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “ تم سورة نساء میں سخت حکم نازل ہوا۔ یعنی ” انکم اذا مثلہم “ (3) ابن المنذر نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب مؤمنین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ الَّذِیْنَ : (یہ) وہ لوگ (ہیں) جو ] [ یَتَرَبَّصُوْنَ : انتظار کرتے ہیں ] [ بکُمْ : تمہارے بارے میں ] [ فَاِنْ : تمہارے بارے میں ] [ کَانَ : ہوتی ہے ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ فَتْحٌ : کوئی فتح ] [ مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [ قَالُوْآ : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اَلَمْ نَـکُنْ : کیا ہم نہیں تھے ] [ مَّعَکُمْ : تمہارے ساتھ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ کَانَ : ہوتا ہے ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : کوئی حصہ ] [ قَالُوْآ : تو وہ کہتے ہیں ] [ اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ : کیا ہم قابو یافتہ نہ تھے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ وَنَمْنَعْکُمْ : اور کیا ہم نے نہیں بچایا تم کو ] [ مِّنَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں ارشاد فرمایا (وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب فیصلے ہوں گے تو اللہ کافروں کو ایمان والوں پر غلبہ نہ دے گا دنیا میں تو مسلمانوں کے ابتلاء کے لیے اور کافروں کے استدراج کے لیے کبھی کافروں کا غلبہ ہوجاتا ہے لیکن آخرت میں ہر حیثیت سے مسلمانوں ہی کا غلبہ ہوگا۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا یہی مطلب مروی ہے۔ صاحب روح المعانی اس کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں مسلمانوں پر غلبہ تام نہیں دے گا کہ جس سے سب مسلمان ایک ایک کر کے ختم ہوجائیں اور یہ معنی بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 140–141

جس جگہ احکام خداوندی کیساتھ تمسخر (مذاق) کیا جاتا ہو وہاں بیٹھنے کی ممانعت۔ قال تعالی، وقد نزل علیکم فی الکتاب۔۔۔۔ الی۔۔۔ سبیلا۔ ربط) اوپر کی آیتوں میں کافروں سے دوستی کی ممانعت تھی اب ان آیات میں ان لوگوں کی مجالست سے منع فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا بھی ممنوع ہے جو احکام خداوندی کے ساتھ تمسخر کرتے ہوں کسی کے ساتھ تمسخر کرنا یہ اس کی انتہائی تحقیر اور تذلیل ہے جس طرح احکام حکومت کے ساتھ تمسخر عدالت اور حکومت کی توہین ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ نشت و برخواست اور دوستانہ تعلقات قانونا جرم ہے اسی طرح احکام شریعت کے ساتھ تمسخر قانون خداوندی کی توہین وتذلیل ہے اور ایسے لوگوں کے پاس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 139–143

93 یہ منافقین کی ایک خباثت کا بیان ہے کہ ظاہری طور پر تو وہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن پوشیدہ طور پر ان کی دوستی کافروں سے ہے اور ان کی دلی ہمدردیاں بھی کافروں کے ساتھ ہیں اور جب وہ آپس میں بیٹھتے ہیں تو اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اس لیے ایمان والو تم ان سے الگ رہو۔ اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ان کے دلوں کے کھوٹ کا یہ حال ہے کہ ہر وقت تم پر مصیبت کے منتظر رہتے ہیں اور ان کی دو رخی پالیسی کا نمونہ بھی دیکھ لو جب اللہ کی طرف سے تم کو کافروں پر فتح حاصل ہوتی ہے تو تم پر اپنا حق جتلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے اور جہاد میں تمہارے شریک تھے اور اگر اتفاق سے کافروں کی فتح ہوگئی تو فوراً ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 138–141

ربط آیات : گزشتہ درس میں ایمان کی تفصیلات بیان ہوئی تھیں۔ اللہ نے ان اجزائے ایمان کا ذکر کیا جن پر ایمان لانا اور دل سے ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مرتدین کا ذکر کیا ، جو ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ بار بار ایمان لاتے اور بار بار پھرجاتے ہیں ، ایسے لوگ اکثر محروم رہتے ہیں ان کی لغزشیں معاف نہیں ہوتیں اور نہ ہی صحیح راستہ ملتا ہے ویسے اسلامی حکومت میں مرتد کے لئے حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے ، علماء کو جمع کرکے اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے دور کیا جائے ، اگر وہ مان جائے تو اس سے توبہ کرا کے دوبارہ اسلام میں داخل کیا جائے اور اگر اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ۝ 0ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللہِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ۝ 0ۡۖ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ۝ 0ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 0ۭ فَاللہُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ 0ۭ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۝ 141ۧ ربص التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] ( ر ب ص ) التربص کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 138–141

ترکیب : بان کا عذابا الیما اسم لہم خبر مجموعہ متعلق ہے بشر سے ‘ الذین صفت ہے المنافقین کی ‘ ان مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ای انہ ‘ اذا سمعتم فعل بافاعل آیت اللّٰہ مفعول یکفر بہا جملہ حال ہے آیات اللّٰہ سے یستہزا بہا اس پر معطوف مجموعہ شرط ‘ فلا تقعدوا معہم جواب مجموعہ خبر ان اپنے اسم و خبر سے مل کر مفعول ہو انزل کا اذا بلغا ہے کیونکہ ان کے اسم کم اور خبر مثلہم میں واقع ہے اور اسی لئے اس کے بعد فعل نہیں آیا۔ نستخوذ برخلاف قیاس مستعمل تھا۔ اسی طرح پر آیا اور قیاس نستخذ ہے۔ تفسیر : یہ بھی آیت سابق کا تتمہ ہے کہ ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہنا چاہیے نہ کہ کبھی ایمان لے آیا۔ پھر کسی غرض سے کافر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 138–141

بَشِّرِالْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ط وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُبِہَا وَ یُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖٓ صلے ز اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ج فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافق ابن الوقت اور مفاد کا بندہ ہوتا ہے اس لیے کافر اور مسلمان کا ساتھ دینے میں مخلص نہیں ہوتا۔ اپنے مفاد کا غلام ہونے کی وجہ سے وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ جدھر سے اسے فائدہ پہنچے وہ اس فریق کے ساتھ اپنی رفاقت اور ہمدردی کا اظہار کردے۔ رسول محترم ﷺ کے زمانہ کے منافقوں کی یہی حالت تھی۔ غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں سے الگ ہو کر کفار کی تقویّت کا باعث بنے اور فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی قوت دیکھ کر ان سے وفا کا دم بھرتے رہے۔ جب بھی صحابہ کرام ؓ کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکر م سے کامیابی حاصل ہوتی تو وہ اپنی نمازوں اور ظاہری مسلمانی کا واسطہ دے کر یقین دہانی کرواتے کہ ہم ذاتی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 141 : الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ (وہ ایسے ہیں کہ تم پر مصیبت وافتاد پڑنے کے منتظر رہتے ہیں) کہ تمہیں کوئی کامیابی و غنیمت نہ ملے یا تمہارے میں ایسی چیز کے منتظر ہیں جس سے نئی فتح میسر ہو۔ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ (اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں فتح ہوگئی) اور نصرت و غنیمت مل گئی۔ قَالُوْٓا اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ (تو کہتے ہیں کیا ہم تمہاری پشت پناہی کرنے والے نہ تھے) پس ہمیں بھی غنیمت میں شریک کرو۔ مومن و کافر کی کامیابی میں فرق : وَاِنْ کَانَ لِلْکٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ (اور اگر کافروں کو حصہ مل جاتا ہے) مسلمانوں کی کامیابی کو فتح فرمایا تاکہ ان کی عظمت شان ظاہر ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

141۔ (آیت)” الذین یتربصون بکم “۔ منافقین تم پر مصیبت پڑنے کے منتظر ہیں ۔ (آیت)” فان کان لکم فتح من اللہ “۔ یعنی ان کو کامیابی اور مال غنیمت حاصل ہوجائے ۔ (آیت)” قالوا “ وہ تم کو کہتے ہیں (آیت)” الم نکن معکم “۔ کیا دین اور جہاد میں تمہارے ساتھ نہ تھے تو پھر ہمارے لیے مال غنیمت میں سے حصہ بنا لیجئے ۔ (آیت)” ان کان للکافرین نصیب “۔ ان کو مسلمانوں پر کچھ غلبہ مل گیا ۔ ” قالوا “ پھر منافقین اور کافرین یہ کہتے (آیت)” الم نستحوذ علیکم “۔ اسحواذ کا معنی ہے غلبہ پانا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” استحوذ علیھم الشیطان “۔ وہ تمہارا والی اور غلبہ پانے والا ہے ۔ وہ کہتے کہ کیا ہم نے محمد ﷺ اور ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر منافقوں کے یہود سے میل جول رکھنے کا ذکر تھا اس آیت میں اس سبب فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ضعیف الایمان ہونے کے سب سے دور لے ہو رہے ہیں۔ مسلمان اور یہود دونوں فریق سے ظاہر دوستی اس لئے جتلاتے ہیں کہ جس فریق کا غلبہ ہو اس سے کہہ دیں کہ ہم تم تمہاری ہی خیر مناتے تھے۔ لیکن ان ظاہر باتوں سے دنیا میں ان کے جان و مال کی کچھ حفاظت ہوجائے گی عقبیٰ میں ان اوپری باتوں سے کام نہیں چلتا وہاں تو آدمی کے سب دل کے بھید اس کے آجائیں گے اور ان دل کے بھیدوں کے موافق قیامت کے دن مسلمان اور منافق دونوں فریق کا فیصلہ اللہ تعالیٰ غیب دان کے روبرو ہوگا اس وقت ان کو اس دھوکے بازی کی قدر کھل جائے گی۔ یہ بھی فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 140–141

آیت 140-141 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود ہنے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کردیا ہے۔ (ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزابھا) ” کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جا رہی ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کیر۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 140–141

قول باری ہے وقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذاسمعتم ایات اللہ یکفربھا و یستھمزا بھافلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ۔ اللہ اس کتاب میں تمہیں پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ دوسری بات میں نہ لگ جائیں) ۔ آیت میں ان لوگوں کی مجالست اور ہم نشینی کی ممانعت ہے جو کھلم کھلا کفر بکتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے ہوں۔ آیت میں لفظ حتی کے اندر دو معنوں کا احتمال ہے۔ اول یہ کہ یہ کفر بکنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کی ممنانعت کی غایت اور انتہا کے معنی دے رہا ہے یعنی جب یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

363 اہل دنیا کے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہے : اس لئے ابنائے دنیا کی سب دوستیاں اور تعلقداریاں دنیائے دوں کے عارضی اور مادی فائدوں ہی کیلئے ہوتی ہیں۔ سو ایسے لوگ فتح کے موقع پر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے۔ ؟ یعنی ضرور تھے۔ پس ہمیں بھی تمہارے ساتھ حصہ ملنا چاہیئے مال غنیمت وغیرہ میں سے۔ اور یہی حال ہوتا ہے ابنائے دنیا کا کہ ان کی سب تعلقداریاں دنیائے دوں کے عارضی اور مادی فوائد و منافع ہی کے لیے ہوتی اور اس کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ جہاں بھی اور جیسے بھی ملیں یہ ادھر ہی ہوجاتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

منافقوں کا دہرا کردار تشریح : اس آیت میں منافقوں کی عادات کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ یہ منافق لوگ جنگ میں شریک نہیں ہوتے بس انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اگر فتح ہوجائے تو مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ کفار کے خلاف لڑتے رہے اور اگر اللہ نہ کرے شکست ہوجائے تو پھر کفار کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری وجہ سے تمہیں فتح ملی ہے کیونکہ ہم اصل میں تو تمہارے ہی طرف دار ہیں۔ یہ اپنے اس مکروفریب سے لوگوں کو تو دھوکے میں رکھ سکتے ہیں مگر اللہ کو تو سب حقیقت معلوم ہے وہ تو قیامت کے روز اس بات کا فیصلہ ضرور کرے گا اور منافقین کو سخت عذاب ضرور دے گا، پھر فرمایا کہ پکے اور سچے ایمان میں اتنی زیادہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 135–141

رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔ قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت : جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ہم بھی مسلمان ہیں اور تمہاری طرح کلمہ پڑھتے ہیں۔ لہذا مال غنیمت میں ہمیں بھی حصہ دو ۔ (قرطبی)7 یعنی ایسے وسائل اختیار کر کے جن سے مسلمانوں کے حوصلے میں پستی آگئی اور وہ شکست کھانے پر مجبور ہو ہوگئے مطلب یہ ہے کہ جس فریق کا غلبہ ہوتا منافقین اپنے آپ کو ان میں شامل کرنے کی کوشش کرتے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین غزوات میں شرکت کرتے اور مسلمان ان کو غنیمت میں حصہ نہ دیتے اور وہ اس کا مطالبہ کرتے۔ (قرطبی)8 یعنی دنیا میں تو ان منافقین نے بظاہر کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو بچالیا لیکن آخرت میں ان کی حقیقت کھول دی جائے گی اور تمہیں پتہ چلے گا کہ تم میں کون مومن تھا او کون منافق۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:141) یتربصون بکم۔ انتظار کر رہے ہیں کہ تمہارے ساتھ کیا گزرتی ہے (نیکی یا بدی کامیابی یا ناکامی) یعنی تمہارا کیا انجام ہوتا ہے۔ تربض (تفعل) سے۔ الذین یتربصون بکم کا عطف ن الذین یتحذون الکفرین (آیۃ 139) پر ہے اور منافقین متذکرہ آیہ 138 کے متعلق ہے لہٰذا فعل بشر (آیہ 138) کا اطلاق الذین یتخذون الکافرین اور الذین یتربصون بکم پر ہوگا۔ یعنی اے نبی (علیہ السلام) ان منافقین کو دردناک عذاب کی بشارت فرما دے۔ جنہوں نے مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بنا رکھا ہے اور جو تمہاری ناکامی یا ناکامیابی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ کس طرح ہر دو صورت میں مالی فائدہ حاصل کیا جاوے۔ قالوا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 140–141

آیت نمبر 140 تا 141 لغات القرآن : سمعتم، تم نے سن لیا۔ یستھزء، مذاق کرتا ہے، مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ لا تقعدوا، تم نہ بیٹھو۔ حتی یخوضوا، جب تک مشغول نہ ہوجائیں۔ فی حدیث غیرہ، کسی اور بات میں۔ یتربصون، وہ رکتے ہیں۔ انتظار کرتے ہیں۔ الم نستحوذ، کیا ہم نے تمہیں گھیر نہیں لیا تھا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ ایسی محفلوں میں نہ بیٹھیں ۔ جہاں اسلام اور دین کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ اگر وہ ایسی محفلوں میں شریک ہوں گے تو وہ ان مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل سمجھے جائیں گے۔ جہاں اسلام کا مذاق اڑایا جائے یا نظام اسلامی کے خلاف تدبیریں اور سازشیں کی جائیں وہاں بیٹھنا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنے ضعیف الایمان ہونے کے سبب سے دو دل ہورہے ہیں، یہود مسلمان دونوں فریق سے ظاہری دوستی اس لئے جتلاتے ہیں کہ جس فریق کا غلبہ ہو اس سے کہہ دیں کہ ہم تو تمہاری ہی خیر مناتے ہیں لیکن ان ظاہری باتوں سے دنیا میں ان کے جان ومال کی کچھ حفاظت ہوجاوے گی مگر عقبیٰ میں ایسی باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ غیب داں ہے قیامت کے دن ان منافقوں کو اس دھوکا کا پتہ چل جاوے گا اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

مسلمان ابدا غالب ہے : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ منافقین دونوں جماعتوں سے بنائے رکھتے ہیں ، مسلمان غالب رہیں تو کہتے ہیں کیا ہم مسلمان نہیں اور اگر دیکھیں کہ کفر عارضی طور پر غالب ہوگیا ہے تو انہیں پھر یہ یقین دلانا پڑتا ہے کہ ہم نے ہر طرح تمہاری جماعت کو مسلمانوں کے حملوں سے بچانے کی کوشش کی ہے ۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا “۔ میں مسلمان کے دائمی غلبہ و تسلط کا اعلان ہے یعنی حجت وبراہین سے لے کر قوت ومنفعت کے تمام ذرائع تک مسلمان کے قبضہ میں ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ ابدا کفر ونفاق پر غالب وقاہر رہے گا ، اس کی قوتیں بےپناہ اور غیر محدود ہیں ۔ وہ دنیا میں ایک لمحہ غلامی کے لئے آمادہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 141–142

ف 1 اور اے مسلمانو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری جانب قرآن میں یہ فرمان بھیج چکا ہے یعنی سورة انعام میں جس کا ماحصل یہ ہے کہ جب تم کسی مجمع اور کسی مجلس میں یہ سنو ! کہ احکام الٰہیہ اور آیات خداوندی کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان آیات الٰہی کے ساتھ استہزا اور مذاق کیا جا رہا ہے تو تم ان لوگوں کے پاس اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک وہ اس کفر و استہزا کو چھوڑ کر کوئی اور گفتگو شروع نہ کریں کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس حالت میں تم بھی گناہ میں انہی جیسے ہو جائو گے۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔ یہ منافق لوگ ایسے ہیں جو تمہارے متعلق کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 140–141

ف 2۔ یہ استہزاء کرنے والے مکہ میں مشرکین تھے اور مدینہ میں یہود تو علانیہ اور منافقین صرف غرباء وضعفاء مسلمین کے روبرو پس جس طرح وہاں مشرکین کی مجالست ایسے وقت میں ممنوع تھی یہاں یہود اور منافقین کی مجالست سے نہی ہے۔ 3۔ اہل باطل کے ساتھ مجالست کی چندصورتیں ہیں اول ان کی کفریات پر رضا کے ساتھ یہ کفر ہے دوم اظہار کفریات کے وقت کراہت کے ساتھ مگر بلاعذر۔ یہ فسق ہے سوم کسی ضرورت دنیوی کے واسطے یہ مباح ہے۔ چہارم تبلیغ احکام کے لیے یہ عبادت ہے۔ پنجم اضطرار وبے اختیاری کے ساتھ اس میں معذوری ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافق ، اللہ کو دھوکادے رہے ہیں اور اللہ نے ان کے دھوکا کو ضائع کردیا ہے یعنی منافقین ہر وقت اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تمہارے متعلق کیا خبر گرم ہوتی ہے ؟ 228: دو لڑنے والوں کے لئے ہار جیت تو لازم ہے کہ ایک ہارے گا تو دوسرابہر حال جیتے گا۔ منافقین خود دور دور رہ کر اس بات کا انتظار کرنے کے عادی ہوتے ہیں کہ جہاں تک خالی بھڑکانے کا تعلق ہو دونوں طرف یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ بھڑک جائیں اور جب وہ وقت آجائیتو پھر وہ اس طرح غائب ہوتے ہیں کہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ ہاں ! الگ تھلگ بیٹھکر انتظار میں ہوتے ہیں اور بڑی شدت سے منتظر ہوتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایک کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 140–141

In the third verse (140): وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ (... and He has revealed to you in the Book), by referring to another verse of the Holy Qur'an which had already been revealed' as a verse of the Surah al-An'-am before the event of Hijrah in Makkah al-Mukkarrmah, it has been re-emphasized that Allah had sent, much earlier, the command that they should not even sit in the company of disbelievers and sinners. Now, surprising as it is, these heedless people have gone much beyond that by establishing friendly relations with them assuming that they were the bearers of honour and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

171. This is typical of the hypocrites of every age. Such people try to avail themselves of all the benefits which can accrue from a verbal profession of Islam and identification with the Islamic community. They also try to secure the advantages to be obtained by associating with the unbelievers, by assuring them in every possible way about themselves that they are not 'fanatic Muslims', that their association with the Muslims is only nominal. On the other hand, they never fail to assure the unbelievers that their loyalties and concerns are the same as theirs, that in mental outlook, cultural…

Read the full tafseer →