Al-Israa 17:99

Al-Israa · from ayah 99

17:99

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ ؕ— فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا ۟اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ وَجَعَلَ لَهُمۡ اَجَلًا لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا كُفُوۡرًا

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do they not see that Allah, who created the heavens and earth, is [the one] Able to create the likes of them? And He has appointed for them a term, about which there is no doubt. But the wrongdoers refuse [anything] except disbelief.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 11 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:99

کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانو ں کو پیدا کیا ہے وہ اِن جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وه ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے، لیکن ﻇالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا انہیں اتنی سی بات نہیں سوجھی کہ وہ اللہ جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی پھر سے پیدا کردے ؟ اور اس نے ان کے لیے ایک ایسی میعاد مقرر کر رکھی ہے جس (کے آنے) میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ پھر بھی یہ ظالم انکار کے سوا کسی بات پر راضی نہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان لوگوں کی مثل بناسکتا ہے اور اس نے ان کے لیے ایک میعاد ٹھہرا رکھی ہے جس میں کچھ شبہ نہیں تو ظالم نہیں مانتے بے ناشکری کیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے (وہ) اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ ان لوگوں کی مثل (دوبارہ) پیدا فرما دے اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کردیا ہے مگر (یہ) ناشکری ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے، جس میں کچھ شک نہیں، پھر (بھی) ظالموں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (پھر) پیدا کردے۔ اس نے ان کے لئے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں، مگر ظالم اسے ماننے والے نہیں بس کفر ہی کرتے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہوں نے نہیں سوچا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ قادر ہے کہ ان کے مانند پھر پیدا کردے اور اس نے ان کے لیے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ ظالم انکار ہی پر اڑے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسے انسانوں کے دوبارہ پیدا کردینے پر بھی یقیناً قدرت رکھتا ہے، اور اس نے ان کے لئے ایک ایسی مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں، مگر ظالم پھر بھی انکار ہی کئے جا رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کر رکھا ہے وہ اس پر (بھی) قادر ہے کہ ایسوں کو (پھر) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک میعاد معین کر رکھی ہے کہ اس میں ذرا شک نہیں اس پر بھی ظالم لوگ بےانکار کئے نہ رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پھر پیداکر دے اور اس نے مقرر کیا ہے ان کے لیے ایک وقت معین جس میں کوئی شک نہیں مگر ان ظالموں نے انکار ہی کیا سوائے کفر (اور کفران نعمت) کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے لوگ پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have they not perceived that Allah, Who has created the heavens and the earth, has the power to create the like of them? He has fixed a term for them about which there is no doubt. And yet the wrong-doers obstinately persist in unbelief.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have they not seen that Allah who has created the heavens and the earth has the power to create them as they were? He has appointed a time for them in which there is no doubt. Still, the wrongdoers refused to do anything but reject.

— Muhammad Taqi Usmani

Have they not seen that Allah who has created the heavens and the earth has the power to create them as they were? He has appointed a time for them in which there is no doubt. Still, the wrongdoers refused to do anything but reject.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See they not that Allah, Who created the heavens and the earth, is able to create the like of them. And He has decreed for them an appointed term, whereof there is no doubt. But the wrongdoers refuse but disbelief.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have they not seen that Allah Who created the heavens and the earth is Able to create the like of them, and hath appointed for them an end whereof there is no doubt? But the wrong-doers refuse aught save disbelief.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do they not see that Allah, who created the heavens and earth, is [the one] Able to create the likes of them? And He has appointed for them a term, about which there is no doubt. But the wrongdoers refuse [anything] except disbelief.

— Saheeh International

Do they not realize that God, who has created the heavens and the earth, has the power to create their like? He has given them life for an appointed time of which there is no doubt. The unjust turn away in disbelief (from Our revelation).

— Muhammad Sarwar

Do they not consider that Allah, Who created the heavens and the earth, is able to create their like, and He has appointed for them a doom about which there is no doubt? But the unjust do not consent to aught but denying.

— Muhammad Habib Shakir

Behold they not that Allah who created the heavens and the earth is Able to create their likes? And He hath appointed for them a term whereof there is no doubt; yet the wrong-doers have refused everything excepting infidelity.

— Abdul Majid Daryabadi

See they not that Allah, Who created the heavens and the earth, has power to create the like of them (anew)? Only He has decreed a term appointed, of which there is no doubt. But the unjust refuse (to receive it) except with ingratitude.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:99

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 98–99

بوسیدہ ہڈیاں پھر توانا ہوں گی فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہم وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوجانے کے بعد مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔ پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا جس کی قدرت ان بلند وبالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوجائے گا ؟ آسمان زمین کی پیدائش تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 97–99

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 110 یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا، تو اب اور کون ہے جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا، اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لیے وہ اسباب فراہم کردیے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے، اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ قاعدہ نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 96–99

خلاصہ تفسیر جب یہ لوگ رسالت و نبوت کی دلائل واضحہ آجانے اور تمام شبہات دور ہوجانے کے بعد بھی نہیں مانتے تو) آپ (آخری بات) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمہارے درمیان (کے اختلاف میں) کافی گواہ ہے (یعنی خدا جانتا ہے کہ میں واقع میں اللہ کا رسول ہوں کیونکہ) وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جانتا خوب دیکھتا ہے (تمہارے عناد کو بھی دیکھتا ہے) اور اللہ جس کو راہ پر لاوے وہ ہی راہ پر آتا ہے اور جس کو بےراہ کر دے تو خدا کے سوا آپ کسی کو بھی ایسوں کا مددگار نہ پاویں گے (اور بوجہ کفر کے یہ خدا کی مدد سے محروم رہے مطلب یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے دست گیری نہ ہو نہ ہدایت ہو سکتی ہے نہ عذاب سے نجات)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کے لیے وقت مقرر ہے : أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلا لا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلا كُفُورًا۔ یعنی ان کو آخر دوبارہ اٹھائے جانے میں اتنا استبعاد کیوں نظر آتا ہے ؟ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جو خدا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیو قاصر رہ جائے گا ؟ کیا ان کو دوبارہ پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے ؟ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلا لا رَيْبَ فِيهِ۔ رہا یہ سوال کہ قیامت آنی ہے تو آ کیوں نہیں جاتی تو اس کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

99۔ 1 اللہ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، وہ ان جیسوں کی پیدائش یا دوبارہ انھیں زندگی دینے پر بھی قادر ہے، کیونکہ یہ تو آسمان و زمین کی تخلیق سے زیادہ آسان ہے۔ (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ) 40۔ المؤمن :57)۔ المومن۔ آسمان اور زمین کی پیدائش انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا اور مشکل کام ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة الاحقاف میں اور سورة یسین میں بھی بیان فرمایا ہے۔ 99۔ 2 اس اجل (وقت مقرر) سے مراد موت یا قیامت ہے۔ یہاں سیاق کلام کے اعتبار سے قیامت مراد لینا زیادہ صحیح ہے یعنی ہم نے انھیں دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھانے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 95–99

51: مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی جنس سے ہو جس کی طرف وہ بھیجا جارہا ہے ؛ تاکہ وہ ان کی فطری ضروریات کو سمجھ کر اور ان کی نفسیات سے واقف ہو کر ان کی رہنمائی کرے، چونکہ آنحضرت ﷺ کو انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے آپ کا انسان ہونا قابل اعتراض نہیں ؛ بلکہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہاں اگر دنیا میں فرشتے آباد ہوتے تو بیشک ان کے پاس فرشتے کو رسول بناکر بھیجا جاتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اولم یروا……(71 : 99) ” کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے “۔ لہٰذا بعثت بعد الموت میں کیا انہونی بات ہے ، اللہ اس عظیم کائنات کا خالق ہے۔ وہ ان جیسے آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ ان کو ختم کرکے دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ وجعل ……(71 : 99) ” اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے “۔ میں ان کو مہلت دے رہا ہوں اور ان کا وقت مقرر ہے۔ فابی ……(71 : 99) ” مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے “۔ لہٰذا ان ظالموں کو جو سزا ہوگی وہ دلائل و مشاہدات اور آیات کی وضاحت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جس نے اتنے بڑے اجسام پیدا کیے، اسے تم جیسی چھوٹی سی چیز کا پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔ (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 40 ۔ غافر :57) بیشک وہ تم کو اور تمہارے جیسے سب آدمیوں کو بےتکلف پیدا کرسکتا ہے۔ 3 یعنی شاید یہ کہو کہ آخر اتنے آدمی مرچکے ہیں وہ اب تک کیوں نہیں اٹھائے گئے۔ تو فرما دیا کہ سب کے واسطے قبروں سے اٹھنے اور دوبارہ زندہ ہونے کا ایک وقت مقرر ہے وہ ضرور آکر رہے گا۔ تاخیر دیکھ کر انکار کرنا حماقت ہے۔ (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ) 11 ۔ ہود :104) 4 یعنی ایسے واضح مضامین و دلائل سن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 99 اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ جب تمہیں اس نے ایک دفعہ پیدا کیا ہے تو اب تمہاری طرح کے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہوگا ؟ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا انہوں نے اللہ کے ہر حکم اور اس کی ہر آیت سے کفر اور انکار کی روش اپنائے رکھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

117 دوبارہ زندگی کا موسم :۔ مشرکین مکہ کا یہ اعتراض تھا کہ ہزاروں برس گزر چکے جو مرگیا ان میں سے کوئی دوبارہ زندہ ہو کر تو آیا نہیں۔ پھر دوبارہ زندگی کیسے ممکن ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہر کام کے لیے ایک مقررہ وقت ہوتا ہے وہ اسی وقت ہی ہوتا ہے۔ گندم کا بیج آپ زمین میں پھینک دیں۔ مگر وہ اگے گا اسی وقت جب اس کے اگنے کا موسم آئے گا۔ اسی طرح انسانوں کے اگنے کا وقت یا موسم نفخہ صورثانی ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو تم سب ایک طبعی عمل کے تحت زمین سے اگ آؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

143۔ یعنی اتنی موٹی اور سیدھی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جس قادر علی الاطلاق نے زمین و آسمان جیسی عظیم الشان ہستیوں کو بلاکسی سابق مادہ کے نیست سے ہست کردیا، اس کے لئے انسان جیسی نسبۃ حقیر مخلوق کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے ! (آیت) ” اولم یروا “۔ کیا یہ لوگ اتنی بات پر غور نہیں کرتے ؟ 144۔ (باوجود حشر وبعث پر دلائل قوی کے قیام کے) (آیت) ” وجعل لھم اجلا “۔ کائنات انسانی کے حشر وبعث کے لئے تو ایک وقت معین وموعود ہے، اس لئے یہ سوال ہی بےمعنی ہے کہ حشر وبعث اب تک کیوں نہیں ہوا ؟ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اس میعاد مقرر کے آجانے پر بعث ثانی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–100

آیت نمبر 94 تا 100 ترجمہ : لوگوں کے پاس ہدایت پہنچنے کے بعد ایمان سے روکنے والا منکرین کا ان سے صرف یہی کہنا رہا کہ کیا انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا، اور فرشتہ کو نہ بھیجا، آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اس لئے کہ قوم کے پاس ان ہی کی جنس کا رسول بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے اس کی گفتگو اور افہام و تفہیم ممکن ہو، آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے، اور بخوبی دیکھنے والا ہے (یعنی) ان کے پوشیدہ اور ظاہر تمام حالات سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی (دوبارہ) پیدا کر دے۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بناوٹ تو بہت زیادہ بڑی اور قوی ہے یہ انسان صغیر الجثہ بھی ہے اور کمزور بھی اور اللہ نے بغیر سابق نمونے اور نظیر کے یہ آسمان و زمین بنائے ہیں تو وہ انسانوں کو کیونکر دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گا۔ ایجاد سے تو دوبارہ تخلیق آسان ہے۔ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا : اور ان کے (عذاب) کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ جس کے آنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(99) کیا ان کفار مکہ کو اتنا معلوم ہے کہ جو تمام آسمان و کا خالق ہے وہ اس بات پر پہلے ہی کی طرح قادر ہے کہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کردے، اور اس کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا کہ مومنین کو اس میں ذرا بھی شک نہیں، اس کے باوجود بھی مشرکین نے اس چیز کو قبول نہیں کیا اور کفر ہی پر قائم رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

”اَوَلَمْ يَرَوْا“ کا معنی ”أَوَلَمْ یَعْلَمُوْا“ ہے، یعنی ”کیا انھیں معلوم نہیں ؟“ دیکھیے سورة فیل اور ابراہیم (24) مطلب یہ کہ انھیں معلوم ہے۔ ”لَمْ“ کے اوپر ہمزہ استفہام برائے توبیخ آیا تو اثبات کا مفہوم پیدا ہوگیا، کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتا ہے۔ اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : یہ ان کے قیامت کے انکار کا عقلی جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، وہ ان جیسوں کو بھی پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، کیونکہ زمین و آسمان کی پیدائش ان کی پیدائش سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ دیکھیے سورة یس (81) ، احقاف (33) ، مومن (57) اور نازعات (27)۔ اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 98–99

آیت نمبر 98 تا 99 قولہ تعالیٰ : ذلک جزا آؤھم بانھم کفروا بایتنا یعنی وہ عذاب ان کے کفر کی جزا ہے۔ وقالواء اذا کنا عظاما و رفاتاء (کیا جب ہم ہڈیاں اور) مٹی ہوجائیں گے۔ انا لمبعوثون خلقا جدیدا پس انہوں نے دوبارہ اٹھائے جانے (زندہ کئے جانے) کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا اور فرمایا : اولم یروا ان اللہ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ کہا گیا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، ای أولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والأرض، وجعل لھم أجلا لا ریب دیہ قادر علی أن یخلق مثلھم (کیا انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اور اس نے ان کے لئے ایک میعاد مقرر فرما دی ہے جس میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–99

لوگوں کو چہرے کے بل چلایا جائے گا : 1:۔ احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابونعیم نے معرفہ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو کس طرح ان کے چہروں کے بل اٹھایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا جس ذات نے ان کو ان کی ٹانگوں کے بل چلایا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو ان کے چہروں کے بل چلائے۔ 2:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” الذین یحشرون علی وجوھہم “ پڑھی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا تم بتاؤ کہ جس ذات نے ان کو ان کے قدموں کے بل چلایا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَوَ : اور کیا ] [لَمْ يَرَوْا : انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] [ان : کہ ] [اللّٰهَ : اللہ ] [الَّذِي : جس نے ] [خَلَقَ : پیدا کیا ] [السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [قَادِرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [يَّخْلُقَ : وہ پیدا کرے ] [مِثْلَهُمْ : ان کے جیسے ] [وَجَعَلَ : اور بنائے (یعنی مقرر کرے)] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [اَجَلًا : ایک مدت ] [لَّا رَيْبَ : کوئی بھی شک نہ ہو ] [فِيْهِ : جس میں ] [فَاَبَى: تو (کچھ) نہ مانا ] [الظّٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والوں نے ] [اِلَّا : سوائے ] [كُفُوْرًا : ناشکر گزاریوں کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 98–99

پھر فرمایا (ذٰلِکَ جَزَآءُ ھُمْ ) (الآیۃ) ان لوگوں کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور حشر نشر کی بات سن کر اعتراض اور تکذیب کے پیرائے میں یوں کہا کہ ہم قبروں میں گل جائیں گے صرف ہڈیاں رہ جائیں گی اور ان کا بھی چورا بن جائے گا تو اس وقت کیا پھر نئے سرے سے پیدا ہوں گے یہ تو سمجھ میں آنے والی بات نہیں ! ان کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کا انکار اور استہزاء بےمحل ہے اس بات کا تو انہیں اقرار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا جس نے اتنی بڑی مخلوق پیدا کردی وہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ارواح تو باقی رہتی ہیں اجسام کا دوبارہ پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–100

معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔ اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 98–99

85:۔ یہ عذاب جہنم ان کو اس لیے دیا جائیگا کہ انہوں نے دلائل توحید کا صاف طور سے انکار کردیا ہے اور شرک سے باز نہیں آئے نیز وہ حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اس کی دلیل بالکل ظاہر اور واضح ہے ” اولم یروا الخ “ ثبوتِ قیامت پر عقلی دلیل ہے جس ذات پاک اور قادر وقیوم نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرلیا کیا وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ سب کے دوبارہ جی اٹھنے کی اللہ تعالیٰ نے ایک اجل مقرر کردی ہے جس کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ایسی ظاہر و باہر دلیل کے باوجود ان ظالموں نے اللہ کی توحید اور حشر و نشر کا انکار ہی کیا اور ماننے پر نہ آئے (الا کفورا) جحودا لما اتی بہ الصادق من…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 97–100

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں بایں وجہ شک اور پھر انکار کرتے تھے کہ ایک انسان رسول نہیں ہوسکتا ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے ، مگر زمین چونکہ نوع انسانی سے آباد ہے تو یقینی بات ہے کہ ایک انسا ہی ان کے لیے نمونہ بن سکتا ہے اور وہی ان کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتا ہے ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوا دیا کہ اگر تم میری نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہو تو اس کا وبال تمہیں پر پڑے گا البتہ اگر تم میری رسالت کی گواہی نہ بھی دو تو اس کے لیے میرا اللہ ہی گواہ کافی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا 99؀ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : انتم مرفوع ہے فعل محذوف سے جس کی تفسیر تملکون ہے اذالا مسکتم جواب لو خشیۃ منصوب ہے مفعول لہ امسکتم کا ہو کر ھؤلاء۔ اشارہ ہے آیات کی طرف الثبور الھلاک والخسران، ان یستفزھم ای یقتلھم ویستاصلھم جمیعا ای فرعون مزالزمان و من کان معہ فی عسکرہ لاجمیع القوم۔ تفسیر : منکر حشر تعجب سے کہتے تھے کہ جب ہڈیاں ہو کر چورا چورا ہوجائیں گے بھلا پھر کیونکر باردگر زندہ ہوں گے۔ اس شبہ کا جواب مختلف طور سے قرآن میں دیا گیا ہے یہاں اپنی قدرت کاملہ کے اثبات سے دیتا ہے اور مسئلہ نبوت کے بعد اسی مناسبت سے مسئلہ حشر میں کلام ہوتا ہے۔ فقال اولم یروا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو بنایا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَھُمْ وَجَعَلَ لَھُمْ اَجَلاً لاَّرَیْبَ فِیْہِ ط فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلاَّ کُـفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 99) (کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ قادر ہے اس بات پر کہ ان کے مانند پھر پیدا کردے اور اس نے مقرر کررکھی ہے ان کے لیے ایک مدت جس میں کوئی شک نہیں، پس ان ظالموں نے کفر کے سوا ہر بات سے انکار کیا۔ ) قیامت کے لیے وقت مقرر ہے گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے ان کے اس استبعاد کا ذکر کیا کہ ہم مر کر جب مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر کہتے ہیں کہ ہماری ہڈیاں ریزہ، ریزہ ہوجانے کے بعد ہمیں کون زندہ کرے گا ؟ ایسے لوگوں کو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ آخرت کا انکار کرنے کے لیے منکرین کے پاس بڑی سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی کے ساتھ مل جائیں گی۔ تو ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا ؟ قرآن مجید نے دیگر دلائل کے ساتھ یہ دلیل بھی پیش فرمائی ہے کیا آخرت کے منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان جیسے اور لوگ پیدا کرے۔ اس نے لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ جس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

99: اَوَلَمْ یَرَوْا (کیا وہ نہیں جانتے) اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ( کہ جس اللہ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کرے) مثلہم سے مراد ان جیسے انسان وَجَعَلَ لَھُمْ اَجَلًا لَّارَیْبَ فِیْہِ (اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں) وہ موت ہے یا پھر قیامت فَاَبَی الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا کُفُوْرًا (پھر بھی ظالم لوگ بغیر انکار کے نہ رہے) باوجود اس کے کہ دلائل واضح ہوچکے انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی یہ انکار بےجا تھا۔ اگر تم خزانوں کے مالک ہوتے تو یہ نبوت محمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

99۔ ’ اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والارض “ اس کی عظمت اور اس کا زمین و آسمان بنانے میں بہت بڑی طاقت ہے۔ ” قادر علی ان یخلق مثلھم “ اس کے بچپن اور چھوٹے ہونے کی وجہ سے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس “ ۔۔۔” وجعل لھم اجلا ً “ ان کے عذاب کا وقت ۔ ” لاریب فیہ “ ان کی طرف سے آنے والے معجزات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ۔ بعض نے کہا کہ اجل سے مراد موت ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ” فابی الظالمون الا کفوراً “ ان کا انکار کرنا محض عناد و دشمنی کی وجہ سے ہے

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 98–99

98۔ 99:۔ اوپر نافرمان لوگوں کے عذاب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں پر کچھ ظلم کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرایا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس لیے فرمایا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی عقل سے باہر اس پاک ذات نے بغیر ستون کے آسمان کس طرح بنائے اور پانی پر زمین کیونکر بچھائی پھر آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح مٹی سے ان کے دوبارہ پتلے بنانا اور ان میں روح کا پھونکنا اس کی قدرت کے آگے کیا مشکل ہے۔ وہی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–100

(آیت (89: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–105

اعجاز قرآن قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

183۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بعث بعد الموت پر استدلال :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ لوگ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا وہ یقینا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے “ یعنی آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے والے قادر مطلق کیلئے ان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کی حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمادیا بھلا اس کیلئے یہ امر آخرکیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کردے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–111

کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–100

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 98–99

ف 5 جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور حشر کا انکار بھی نہ کریں یا اس کے معنی مطلق دوبارہ پیدا کرنے کے ہیں۔ نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب حشر و نشر کے انکار پر ان کے شبہ کا جواب دیا۔ (بیکر) دسوری جگہ فرمایا : لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا ہے۔ (غاقر :57)6 یعنی یعنی سب کے دوبارہ اٹھائے جانے کا ایک وقت مقرر ہے جس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں۔ لہٰذا تمہارا محض تاخیر کو دیکھ کر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرنا سراسر حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:99) اولم یروا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے بمعنی اولم یتفکروا۔ اور۔ اولم یعلموا۔ کیا وہ نہیں سوچتے۔ کیا وہ نہیں جانتے۔ اجلا۔ وقت مقررہ۔ مدت مقررہ۔ لا ریب فیہ۔ یعنی اس وقت مقررہ کے آجانے (واقع ہونے) میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان یخلق مثلہم۔ کہ ایسوں کو پھر پیدا کر دے۔ کہ ان کی مثل نئی مخلوق پیدا فرما دے۔ کفورا۔ کفر یکفر سے مصدر۔ منصوب۔ کفر کرنا۔ نہ ماننا۔ انکار کرنا۔ یعنی ان ظالموں نے سوائے کفر کے اور ہر بات سے انکار کردیا۔ یعنی یہ اپنے کفر پر اڑے ہی رہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 97–100

لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100 نحشر ہم جمع کریں گے۔ وجوہ چہرے۔ عمی اندھے۔ بکم گونگے۔ صم بہرے۔ خبت بجھے گی (بجھ گئی) ۔ سعیر بھڑکانا۔ تشریح : آیت نمبر 97 تا 100 حقیقت یہ ہے کہ انسان کو نہ تو بھٹکتے دیر لگتی ہے اور نہ ہدایت حاصل کرنے میں۔ صرف اللہ کی توفیق اور دستگیری سے انسان راہ پر حق پر چل کر منزل مراد تک پہنچتا ہے۔ اللہ کا نظام یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے لیکن جو شخص ایک دفعہ راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے تو اگر اللہ اس کی دستگیری نہ فرمائیں تو پھر ہدایت پر آنے کے لئے کوئی اس کا مددگار نہیں بنتا اور نہ اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں فرمایا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی عقل سے باہر اس پاک ذات نے بغیر ستون کے آسمان کس طرح بنائے اور پانی پر زمین کیونکر بچھائی، پھر آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح مٹی سے ان کے دوبارہ پتلے بنانا اور ان میں روح کا پھونکنا اس کی قدرت کے آگے کیا مشکل ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر یہ کب ہوگا اس کے واسطے اللہ کے کارخانہ میں ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت کو بغیر کسی سند کے جو یہ لوگ جھٹلاتے ہیں اس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–99

(ف 1) آخرت کے متعلق ایک گروہ کو ہمیشہ شک رہا ہے اور آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں ، جنہیں عاقبت کا یقین نہیں اسی لئے قرآن حکیم نے اس شبہ کو کوئی صورتوں میں ذکر فرمایا ہے ، اور جواب دیا ہے تاکہ ہر زمانہ کے متشکک لوگ تسلی و اطمینان حاصل کریں ، اللہ فرماتے ہیں کہ زمین وآسمان کو پہلی دفعہ پیدا کرنے میں ہمیں کوئی تکلف نہیں ہوا ، تو اب فنا کے بعد بھی انہیں دوبارہ منقہ شہود پر لایا جاسکتا ہے ، جو چیز ایک مرتبہ بغیر کسی وسیلہ مادی کے پیدا ہو سکتی ہے اس کا ہزار مرتبہ یونہی پیدا ہونا بھی ممکن ہے ، البتہ اگر تمہیں اللہ پر یقین نہیں اور تم اللہ کو نہیں مانتے ، تو پھر حشر ونشر کے کوائف پر معترض ہونا یقینا غلط…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-99 کیا یہ لوگ اتنا نہیں جانتے اور ان کو اتنا معلوم نہیں کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کر دے اور اس نے ان کے دوبارہ پیدا کرنے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک کرنے کی گنجائش نہیں اس پر بھی یہ ظالم انکار کئے بدوں نہ رہے۔ یعنی جو آسمان و زمین کا خالق ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کر دے یہ خیال نہ کیا جائے کہ ہزارہا آدمی مرتے چلے جاتے ہیں اور کسی کو دوبارہ پیدا ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے اس عالم بعث کا اور سب کے زندہ ہونے کا ایک وقت اور ایک میعاد مقرر ہے اس وقت سب دوبارہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 97–99

ف 2۔ یعنی جب تک خدا کی طرف سے دستگیری نہ ہو، نہ ہدایت ہوسکتی ہے نہ عذاب سے بچ سکتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ باوجود اجتماع اسباب و ہدایت کے بوجہ محذول ہونے کے ہدایت تک نہ پہنچ سکے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا پہلی بار پیدا کرنے والا دوسری بار پیدا نہیں کرسکتا ؟ آخر اس کی وجہ ؟ 117۔ زیرنظر آیت اور قرآن کریم کے دوسرے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں زمین و آسمان بالکل نیست ونابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظام طبعی کو درہم برہم کر ڈالا جائے گا اور اس کے بعد نفخ صدر اول اور نفخ صدر دوم کے درمیان ایک خاص مدت میں جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے زمین و آسمان کی موجودہ ہئیت بدل جائے گی اور ایک دوسرا نظام طبیعت دوسرے قانون فطرت کے ساتھ بنادیاجائے گا اور وہی عالم آخرت ہوگا چناچہ زیر نظر آیت میں فرمایا ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 95–99

In the last verse (95), it was said that they, despite being human, can-not demand that their messenger should be an angel. This demand was unreasonable. Yes, if angels had been living on the Earth and there was the need to send a messenger to them, then, indeed, an angel would have been sent as a messenger. It will be noted that the attribute of an-gels living on the Earth has been described here in the words: يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ (walking about in peace). This tells us that the need to send an angel deputed as a messenger to other angels would have come up only at a time when the angels…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 97–99

110. In this verse, the Quran has enunciated a divine principle. Allah guides to the right way only that person who intends to follow His guidance, and lets go astray that person who intends to go astray. Thereafter none is able to bring back to the right way the one against whom Allah has closed the door of guidance because of his own persistent deviation and obduracy. It is obvious that if a man turns his back against the truth and rests content with falsehoods, there is no power in the world to make him turn away from falsehood and come to the truth. This is because after this depravity…

Read the full tafseer →