Explained with ayahs 98–99
بوسیدہ ہڈیاں پھر توانا ہوں گی
فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہم وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوجانے کے بعد مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔ پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا جس کی قدرت ان بلند وبالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوجائے گا ؟ آسمان زمین کی پیدائش تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 110
یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا، تو اب اور کون ہے جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا، اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لیے وہ اسباب فراہم کردیے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے، اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ قاعدہ نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
خلاصہ تفسیر
جب یہ لوگ رسالت و نبوت کی دلائل واضحہ آجانے اور تمام شبہات دور ہوجانے کے بعد بھی نہیں مانتے تو) آپ (آخری بات) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمہارے درمیان (کے اختلاف میں) کافی گواہ ہے (یعنی خدا جانتا ہے کہ میں واقع میں اللہ کا رسول ہوں کیونکہ) وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جانتا خوب دیکھتا ہے (تمہارے عناد کو بھی دیکھتا ہے) اور اللہ جس کو راہ پر لاوے وہ ہی راہ پر آتا ہے اور جس کو بےراہ کر دے تو خدا کے سوا آپ کسی کو بھی ایسوں کا مددگار نہ پاویں گے (اور بوجہ کفر کے یہ خدا کی مدد سے محروم رہے مطلب یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے دست گیری نہ ہو نہ ہدایت ہو سکتی ہے نہ عذاب سے نجات)…
Read the full tafseer →فرمایا کہ۔ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَئِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا۔ یہ سزا ان کو اس لیے دی جائے گی کہ قدم قدم پر ہماری قدرت اور حیات بعد الممات کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود وہ قیامت کے انکار ہی پر اڑے رہے اور بڑے طنطنہ کے ساتھ یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے اور سڑ گل کر ریزی ریزہ ہوجائیں گے تو بھلا از سر نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟ یعنی ان کے خیال میں یہ بالکل ناممکن اور محال ہے۔ فرمایا کہ ہم اسی محال کو واقعہ بنا کر ان کو اس کا مزہ چکھائیں گے۔
Read the full tafseer →98۔ 1 یعنی جہنم کی یہ سزا ان کو اس لئے دی جائیگی کہ انہوں نے ہماری نازل کردہ آیات کی تصدیق نہیں کی اور کائنات میں پھیلی ہوئی تکوینی آیات پر غور و فکر نہیں کیا، جس کی وجہ سے انہوں نے و قوع قیامت اور بعث بعد الموت کو محال خیال کیا اور کہا کہ ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد ہمیں نئی پیدائش کس طرح مل سکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
51: مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی جنس سے ہو جس کی طرف وہ بھیجا جارہا ہے ؛ تاکہ وہ ان کی فطری ضروریات کو سمجھ کر اور ان کی نفسیات سے واقف ہو کر ان کی رہنمائی کرے، چونکہ آنحضرت ﷺ کو انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے آپ کا انسان ہونا قابل اعتراض نہیں ؛ بلکہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہاں اگر دنیا میں فرشتے آباد ہوتے تو بیشک ان کے پاس فرشتے کو رسول بناکر بھیجا جاتا۔
Read the full tafseer →ذلک جزا اوھم بانھم کفروا بایتنا (71 : 89) ” یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا “۔ انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا۔ اور وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتا۔
وقالواء ………جدیدا (71 : 89) ” اور کہا کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اتھا کر کھڑا کیا جائے گا “۔
سیاق کلام میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا وہ آج موجود ہے۔ اور وہ دنیا جس میں وہ رہ رہے تھے اسے گویا لپیٹ لیا گیا ہے اور وہ ماضی بعید بن گئی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو نہایت ہی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا…
Read the full tafseer →1 یعنی دنیا میں دلیل سے تو نہ مانا تھا، اب آنکھ سے بار بار دیکھ لو کہ کس طرح جل جل کر ازسر نو تیار کیے جا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
آیت 96 قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ
رد و قدح بہت ہوچکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔
Read the full tafseer →116 انسان محیر العقول عادی باتوں پر غور نہیں کرتا اور واقع ہوجانے والی باتوں کا انکار کردیتا ہے :۔ انسان کی عادت ہے کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی محیرالعقول ہو جب وہ عادت بن جائے تو اس میں غور کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً سب سے زیادہ محیر العقول اس کا اپنا جسم ہے جو ہمہ وقت ایک آٹو میٹک مشین کی طرح کام کر رہا ہے جب سے وہ پیدا ہوا اس وقت سے اس کا دل حرکت کر رہا ہے اور مرتے دم تک حرکت کرتا رہے گا۔ اس میں ایک لمحہ وقفہ نہیں ہوتا اور جب وقفہ پڑے گا تو موت واقع ہوجائے گی۔
اسی طرح اس کے پھیپھڑے، معدہ، جگر، گردے سب اپنا اپنا کام اس طرح کر رہے ہیں کہ اسے کسی بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اس کے اندر کیا کچھ ہو…
Read the full tafseer →142۔ مذہب مادیت کوئی آج کی نوپیدائشی نہیں۔ یونان قدیم میں بڑے بڑے ” روشن خیال “” عقل پرست “ پیدا ہوچکے تھے اور اس کی صدائے بازگشت عرب میں بھی پہنچ چکی تھی۔ عرب ظہور اسلام سے قبل جس طرح یہودیت، نصرانیت، مجوسیت، صابیئت، بت پرستی، ہر مذہب وملت کانمائندہ تھا۔ مذہب، مادیت، روشن خیالی وعقلیت کانمائندہ بھی تھا۔ تو اس قسم کی کج بحثیاں اسی فریق کے لوگ کیا کرتے تھے اور اپنے زعم میں عقلیت کی کوڑی بہت دور سے لاکر کہتے تھے، کہ یہ ممکن کیونکر ہے کہ جب ہڈیاں تک چور چور اور ریزہ ریزہ ہوچکیں گی اور سارے جسم سڑگل چکیں گے اسکے بعد از سرنو پیدا کئے جائیں گے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : لوگوں کے پاس ہدایت پہنچنے کے بعد ایمان سے روکنے والا منکرین کا ان سے صرف یہی کہنا رہا کہ کیا انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا، اور فرشتہ کو نہ بھیجا، آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اس لئے کہ قوم کے پاس ان ہی کی جنس کا رسول بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے اس کی گفتگو اور افہام و تفہیم ممکن ہو، آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے، اور بخوبی دیکھنے والا ہے (یعنی) ان کے پوشیدہ اور ظاہر تمام حالات سے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا : یہ ان کی سزا اس لئے ہوگی کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا (تھا) اور کہا (تھا) کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(98) یہ عذاب ان کو اس سبب سے ملے گا کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا تھا اور کفار مکہ نے یوں کہا تھا کہ جب ہم پرانی ہڈیاں اور وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو کیا ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا اور دوباہ ہمارے اندرروح پھونکی جائے گی، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ۔۔ : اس آیت میں ان کی سزا کا سبب بیان فرمایا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (49)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
آیت نمبر 98 تا 99
قولہ تعالیٰ : ذلک جزا آؤھم بانھم کفروا بایتنا یعنی وہ عذاب ان کے کفر کی جزا ہے۔ وقالواء اذا کنا عظاما و رفاتاء (کیا جب ہم ہڈیاں اور) مٹی ہوجائیں گے۔ انا لمبعوثون خلقا جدیدا پس انہوں نے دوبارہ اٹھائے جانے (زندہ کئے جانے) کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا اور فرمایا : اولم یروا ان اللہ۔۔۔۔۔ لا ریب فیہ کہا گیا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، ای أولم یروا ان اللہ الذی خلق السموات والأرض، وجعل لھم أجلا لا ریب دیہ قادر علی أن یخلق مثلھم (کیا انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اور اس نے ان کے لئے ایک میعاد مقرر فرما دی ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
لوگوں کو چہرے کے بل چلایا جائے گا :
1:۔ احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابونعیم نے معرفہ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو کس طرح ان کے چہروں کے بل اٹھایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا جس ذات نے ان کو ان کی ٹانگوں کے بل چلایا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو ان کے چہروں کے بل چلائے۔
2:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” الذین یحشرون علی وجوھہم “ پڑھی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا تم بتاؤ کہ جس ذات نے ان کو ان کے قدموں کے بل چلایا ہے…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ : یہ ] [جَزَاۗؤُهُمْ : بدلہ ہے ان کا ] [بِانهُمْ : اس سبب سے کہ انھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [بِاٰيٰتِنَا : ہماری نشانیوں کا ] [وَقَالُوْٓا : اور کہا ] [ءَ : کیا ] [اِذَا : جب ] [كُنَا : ہم ہوجائیں گے ] [عِظَامًا : ہڈیاں ] وَّرُفَاتًا : اور چورا ] [ءَ : تو کیا ] [انا : ہم لوگ ] [لَمَبْعُوْثُوْنَ : ضرور ہی اٹھائے جانے والے ہوں گے ] [خَلْقًا جَدِيْدًا : ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
پھر فرمایا (ذٰلِکَ جَزَآءُ ھُمْ ) (الآیۃ) ان لوگوں کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور حشر نشر کی بات سن کر اعتراض اور تکذیب کے پیرائے میں یوں کہا کہ ہم قبروں میں گل جائیں گے صرف ہڈیاں رہ جائیں گی اور ان کا بھی چورا بن جائے گا تو اس وقت کیا پھر نئے سرے سے پیدا ہوں گے یہ تو سمجھ میں آنے والی بات نہیں ! ان کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کا انکار اور استہزاء بےمحل ہے اس بات کا تو انہیں اقرار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا جس نے اتنی بڑی مخلوق پیدا کردی وہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ارواح تو باقی رہتی ہیں اجسام کا دوبارہ پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
85:۔ یہ عذاب جہنم ان کو اس لیے دیا جائیگا کہ انہوں نے دلائل توحید کا صاف طور سے انکار کردیا ہے اور شرک سے باز نہیں آئے نیز وہ حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اس کی دلیل بالکل ظاہر اور واضح ہے ” اولم یروا الخ “ ثبوتِ قیامت پر عقلی دلیل ہے جس ذات پاک اور قادر وقیوم نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرلیا کیا وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ سب کے دوبارہ جی اٹھنے کی اللہ تعالیٰ نے ایک اجل مقرر کردی ہے جس کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ایسی ظاہر و باہر دلیل کے باوجود ان ظالموں نے اللہ کی توحید اور حشر و نشر کا انکار ہی کیا اور ماننے پر نہ آئے (الا کفورا) جحودا لما اتی بہ الصادق من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں بایں وجہ شک اور پھر انکار کرتے تھے کہ ایک انسان رسول نہیں ہوسکتا ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے ، مگر زمین چونکہ نوع انسانی سے آباد ہے تو یقینی بات ہے کہ ایک انسا ہی ان کے لیے نمونہ بن سکتا ہے اور وہی ان کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتا ہے ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوا دیا کہ اگر تم میری نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہو تو اس کا وبال تمہیں پر پڑے گا البتہ اگر تم میری رسالت کی گواہی نہ بھی دو تو اس کے لیے میرا اللہ ہی گواہ کافی…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا 98
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر .
يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
1 ؎ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے قیامت میں تین طور سے لوگ چلیں گے ایک پاپیادہ، دوم سوار ہو کر، سوم منہ کے بل۔ پوچھا گیا منہ کے بل کیونکر چل سکیں گے فرمایا جس نے پائوں کے بل چلایا کیا وہ منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →ذَلِکَ جَزَاٗ ؤْ ھُمْ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰـتِنَا وَقَالُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّرُفَا تًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 98)
(یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا، کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ )
قیامت سے انکار کا نتیجہ
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون ہدایت و ضلالت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے قبولیتِ حق میں کام لینے کی بجائے حق کی مخالفت میں کام لینا شروع کردیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے ساتھ یہ بات بھی جانتا ہے۔ کہ کون ہدایت کا طالب اور کون گمراہی کے در پہ ہوچکا ہے۔
یہ حقیقت کئی بار عرض کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو گمراہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی پر ہدایت مسلط کرتا ہے۔ اس کا اصول یہ ہے جو شخص ہدایت کا طلبگار ہوگا۔ وہ اس کے لیے ہدایت کا راستہ کھول دے گا۔ جو کوئی گمراہی کو پسند کرے گا اسے کھلا چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہم نے انسان کو دوراستے دکھلا دیئے ہیں۔ انسان چاہے تو شکر ادا کرے اگر چاہے تو ناشکری کا راستہ اختیار کرے۔ (الدھر : 4) اسی مفہوم کے پیش نظر فرمایا ہے کہ جسے اللہ ہدایت دے۔ وہی ہدایت یافتہ ہے…
Read the full tafseer →عذاب کے دو سبب کفر اور انکار قیامت :
98: ذٰلِکَ جَزَآ ؤُ ھُمْ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَقَالُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا (یہ سزا ان کو
اس لئے دی جائے گی کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ یزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے) ذلکؔ کا مشار الیہ وہ عذاب ہے جو ان کو اس سبب سے دیا گیا کہ انہوں نے بعث بعدالموت کا انکار کیا پس اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے سارے اجزاء پر مسلط کردیا جو ان کو کھارہی ہے۔ اور پھر مٹا رہی ہے اور وہ اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے تاکہ بعث بعد الموت کی…
Read the full tafseer →تفسیر 98۔” ذلک جزاء ھم ۔۔ تا ۔۔ خلقاً جدیدا ً “ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
98۔ 99:۔ اوپر نافرمان لوگوں کے عذاب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں پر کچھ ظلم کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرایا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس لیے فرمایا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی عقل سے باہر اس پاک ذات نے بغیر ستون کے آسمان کس طرح بنائے اور پانی پر زمین کیونکر بچھائی پھر آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح مٹی سے ان کے دوبارہ پتلے بنانا اور ان میں روح کا پھونکنا اس کی قدرت کے آگے کیا مشکل ہے۔ وہی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →182۔ انکار حق جرموں کا جرم۔ والعیاذ باللہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ ان لوگوں کی جزا اور بدلہ ہوگا اس بات کا کہ انہوں نے کفر کیا تھا ہماری آیتوں سے “۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب اور ان کا انکارتمام جرائم کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ، اس سے آگے طرح طرح کے مفاسد جنم لیتے اور فساد ابھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب وانکار کا آخری انجام بہرحال دوزخ ہے اور وہ بھی ہمیشہ کیلئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت اور حیات بعد الموت کی نشانیاں دیکھنے کے بوجود اس کا انکار کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
ف 5 جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور حشر کا انکار بھی نہ کریں یا اس کے معنی مطلق دوبارہ پیدا کرنے کے ہیں۔ نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب حشر و نشر کے انکار پر ان کے شبہ کا جواب دیا۔ (بیکر) دسوری جگہ فرمایا : لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا ہے۔ (غاقر :57)6 یعنی یعنی سب کے دوبارہ اٹھائے جانے کا ایک وقت مقرر ہے جس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں۔ لہٰذا تمہارا محض تاخیر کو دیکھ کر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرنا سراسر حماقت ہے۔
Read the full tafseer →(17:98) ذلک۔ اس کا مشار الیہ یا تو قول باری تعالیٰ کلما خبت زدناہم سعیرا ہے۔ یا ونحشرہم یوم القیمۃ علی وجوہہم سے لے کر سعیرا تک جو منکرین کا حال بیان ہوا ہے۔
رفاتا۔ بوسیدہ ۔ گلا ہوا۔ چورا چورا ہوا ہوا۔ (نیز ملاحظہ ہو 17:49) ۔ مبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر مرفوع۔ قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے والے۔ بعث مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100
نحشر ہم جمع کریں گے۔ وجوہ چہرے۔ عمی اندھے۔ بکم گونگے۔ صم بہرے۔ خبت بجھے گی (بجھ گئی) ۔ سعیر بھڑکانا۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 100
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو نہ تو بھٹکتے دیر لگتی ہے اور نہ ہدایت حاصل کرنے میں۔ صرف اللہ کی توفیق اور دستگیری سے انسان راہ پر حق پر چل کر منزل مراد تک پہنچتا ہے۔ اللہ کا نظام یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے لیکن جو شخص ایک دفعہ راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے تو اگر اللہ اس کی دستگیری نہ فرمائیں تو پھر ہدایت پر آنے کے لئے کوئی اس کا مددگار نہیں بنتا اور نہ اس کے…
Read the full tafseer →ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں پر ظلم کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرایا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں کی بد اعمالی کی سزا کے طور پر ہوگا کیونکہ یہ اللہ کے کلام کو اور حشر کو جھٹلاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
[63] یعنی اللہ جانتا ہے کہ میں واقعی اس کا رسول ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(ف 1) آخرت کے متعلق ایک گروہ کو ہمیشہ شک رہا ہے اور آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں ، جنہیں عاقبت کا یقین نہیں اسی لئے قرآن حکیم نے اس شبہ کو کوئی صورتوں میں ذکر فرمایا ہے ، اور جواب دیا ہے تاکہ ہر زمانہ کے متشکک لوگ تسلی و اطمینان حاصل کریں ، اللہ فرماتے ہیں کہ زمین وآسمان کو پہلی دفعہ پیدا کرنے میں ہمیں کوئی تکلف نہیں ہوا ، تو اب فنا کے بعد بھی انہیں دوبارہ منقہ شہود پر لایا جاسکتا ہے ، جو چیز ایک مرتبہ بغیر کسی وسیلہ مادی کے پیدا ہو سکتی ہے اس کا ہزار مرتبہ یونہی پیدا ہونا بھی ممکن ہے ، البتہ اگر تمہیں اللہ پر یقین نہیں اور تم اللہ کو نہیں مانتے ، تو پھر حشر ونشر کے کوائف پر معترض ہونا یقینا غلط…
Read the full tafseer →-98 یہ جہنم ان کی سزا اس سبب سے ہوگی کہ انہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا تھا اور یوں کہا تھا کہ کیا جب ہم مرنے کے بعد ہڈیاں اور بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گیتو کیا ہم پھر از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ یعنی مذکورہ سزا ان کو اس وجہ سے دی جائے گی کہ احکام الٰہی کا انکار کرتے تھے اور مرنے کے بعد عالم آخرت کی زندگی کے قائل نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
ف 2۔ یعنی جب تک خدا کی طرف سے دستگیری نہ ہو، نہ ہدایت ہوسکتی ہے نہ عذاب سے بچ سکتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ باوجود اجتماع اسباب و ہدایت کے بوجہ محذول ہونے کے ہدایت تک نہ پہنچ سکے۔
Read the full tafseer →ان کے اعمال کا بدلہ ان کو پورا پورا دیا جائے گا کمی و زیادتی نہیں ہوگی :
116۔ ہاں ! اس دنیا میں ضلالت وگمراہی پر صبر کرنے والوں کا جی آخرت میں ہدایت کا ثمرہ چاہے تو اب ان کی چاہت کے مطابق معاملہ نہیں ہوگا بلکہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ان کو چکایا جائے گا اور ان کو مجبور کردیا جائے گا کہ وہ اپنے کئے کا بدلہ اٹھائیں اگر وہ نہیں چاہیں گے اور یقینا نہیں چائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اوندھے منہ اس طرف پھیر لائے گا کیونکہ یہ بھی وہی قانون خداوندی ہے جس اپنے قانون کے مطابق دنیا میں ان کو ڈھیل دی تھی کہ وہ آزادی سے جو کچھ کرنا چاہیں کریں کیونکہ وہ دارالعمل تھا اور یہ دارالجزاء ہے اب وہ اپنی چاہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
In the last verse (95), it was said that they, despite being human, can-not demand that their messenger should be an angel. This demand was unreasonable. Yes, if angels had been living on the Earth and there was the need to send a messenger to them, then, indeed, an angel would have been sent as a messenger. It will be noted that the attribute of an-gels living on the Earth has been described here in the words: يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ (walking about in peace). This tells us that the need to send an angel deputed as a messenger to other angels would have come up only at a time when the angels…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
110. In this verse, the Quran has enunciated a divine principle. Allah guides to the right way only that person who intends to follow His guidance, and lets go astray that person who intends to go astray. Thereafter none is able to bring back to the right way the one against whom Allah has closed the door of guidance because of his own persistent deviation and obduracy. It is obvious that if a man turns his back against the truth and rests content with falsehoods, there is no power in the world to make him turn away from falsehood and come to the truth.
This is because after this depravity…
Read the full tafseer →