میدان حشر کا ایک ہولناک منظر
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ تمام مخلوق میں تصرف صرف اسی کا ہے اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا نہ اس کے بہکائے ہوئے کی کوئی راہنمائی کرسکتا ہے اس کا ولی اور مرشد کوئی نہیں بن سکتا۔ ہم انہیں اوندھے منہ میدان قیامت (محشر کے مجمع) میں لائیں گے حضور ﷺ سے سوال ہوا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جس نے پیروں پر چلایا ہے وہ سر کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ مسند میں ہے حضرت ابوذر ؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے بنی غفار قبیلے کے لوگو سچ کہو اور قسمیں نہ کھاؤ صادق مصدوق پیغمبر نے مجھے یہ حدیث سنائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 110
یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا، تو اب اور کون ہے جو اس کو راہ راست پر لا سکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا، اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لیے وہ اسباب فراہم کردیے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے، اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ قاعدہ نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
خلاصہ تفسیر
جب یہ لوگ رسالت و نبوت کی دلائل واضحہ آجانے اور تمام شبہات دور ہوجانے کے بعد بھی نہیں مانتے تو) آپ (آخری بات) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمہارے درمیان (کے اختلاف میں) کافی گواہ ہے (یعنی خدا جانتا ہے کہ میں واقع میں اللہ کا رسول ہوں کیونکہ) وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جانتا خوب دیکھتا ہے (تمہارے عناد کو بھی دیکھتا ہے) اور اللہ جس کو راہ پر لاوے وہ ہی راہ پر آتا ہے اور جس کو بےراہ کر دے تو خدا کے سوا آپ کسی کو بھی ایسوں کا مددگار نہ پاویں گے (اور بوجہ کفر کے یہ خدا کی مدد سے محروم رہے مطلب یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے دست گیری نہ ہو نہ ہدایت ہو سکتی ہے نہ عذاب سے نجات)…
Read the full tafseer →ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الہی : وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِهِ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت واضح فرما دی کہ اللہ ہی جس کو ہدایت دیتا ہے وہ ہدایت پاتا اور وہ جس کو گمراہ کردے اس کے لیے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ یہ سنت الٰہی جس اساس پر بمبنی ہے اس کی طرف وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا کے الفاظ اشارہ…
Read the full tafseer →97۔ 1 میری تبلیغ و دعوت سے کون ایمان لاتا ہے، کون نہیں، یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے، میرا کام صرف تبلیغ ہی ہے۔
97۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے تعجب کا اظہار کیا کہ اوندھے منہ کس طرح حشر ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا، جس اللہ نے ان کو پیروں سے چلنے کی قوت عطا کی ہے، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ انھیں منہ کے بل چلا دے۔
97۔ 3 یعنی جس طرح وہ دنیا میں حق کے معاملے میں اندھے، بہرے اور گونگے بنے رہے، قیامت والے دن بطور جزا اندھے، بہرے اور گونگے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
51: مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی جنس سے ہو جس کی طرف وہ بھیجا جارہا ہے ؛ تاکہ وہ ان کی فطری ضروریات کو سمجھ کر اور ان کی نفسیات سے واقف ہو کر ان کی رہنمائی کرے، چونکہ آنحضرت ﷺ کو انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے آپ کا انسان ہونا قابل اعتراض نہیں ؛ بلکہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہاں اگر دنیا میں فرشتے آباد ہوتے تو بیشک ان کے پاس فرشتے کو رسول بناکر بھیجا جاتا۔
Read the full tafseer →اللہ نے ہدایت و ضلالت کے کچھ قوانین بنائے ہیں اور لوگوں کو ان قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اور ان قوانین کے مطابق و نفع و نقصان کے ذمہ دارہوں گے۔ ان قوانین میں سے ایک یہ قانون بھی ہے کہ انسان ہدایت و ضلالت دونوں کی استعداد رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ہدایت کے رولز کے مطابق راہ اختیار کرتا ہے یہ ضلالت کے رولز اپناتا ہے۔ جو ہدایت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوجاتا ہے اور جو ضلالت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ضلالت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس نے گمراہی کا اپنایا اور ہدایت کے اصولوں سے اعراض کیا۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے عزاب سے کوئی نہیں بچا…
Read the full tafseer →9 یعنی خدا کی توفیق و دستگیری ہی سے آدمی راہ حق پر چل کر منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ جس کی بدبختی اور تعنت کی وجہ سے خدا دستگیری نہ فرمائے اسے کون ہے جو ٹھیک راستہ پر لگا سکے۔
10 یہ قیامت کے بعض مواطن میں ہوگا کہ کافر منہ کے بل اندھے گونگے کر کے چلائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! منہ کے بل کس طرح چلیں گے فرمایا جس نے آدمی کو پاؤں سے چلایا وہ قادر ہے کہ سر سے چلا دے۔ باقی فرشتوں کا جہنمیوں کو منہ کے بل گھسیٹنا، وہ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ) 54 ۔ القمر :48)
11 یعنی عذاب معین اندازہ سے کم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
آیت 96 قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ
رد و قدح بہت ہوچکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔
Read the full tafseer →115 اعمال اور ان کے بدلہ میں مماثلت :۔ انسان کے اعمال اور ان اعمال کی جزاء و سزا میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے اور یہی مماثلت قیامت کے دن اپنا اصل روپ دھار لے گی۔ مثلاً جن لوگوں نے اس دنیا میں سیدھی راہ کے بجائے غلط راستے اختیار کیے اور راست روی کے بجائے الٹی چال چلتے رہے انھیں وہاں بھی الٹی چال چلایا جائے گا۔ اس دنیا میں وہ پاؤں کے بل چلتے تھے قیامت کے دن انھیں چہروں کے بل چلا کر پیش کیا جائے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ میں سے کسی نے پوچھا یارسول اللہ ! یہ کیسے ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا : اللہ اگر پاؤں کے بل چلا سکتا ہے تو وہ چہروں کے بل بھی چلانے پر قادر ہے (بخاری، کتاب الرقاق باب،…
Read the full tafseer →139۔ یعنی مدد اگر ممکن تھی تو حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ممکن تھی لیکن اس کی مدد سے تو ان کا کفر انہیں محروم ہی رکھے گا۔ پھر ان کے مدد پانے کی اور کیا صورت ہے ؟ کوئی نہیں ! (آیت) ” ومن یھد۔۔ دونہ “۔ تکوینی حیثیت سے ہدایت وضلالت دونوں کے اسباب کا آخری سرا بس اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” ومن یضلل “۔ یعنی جو کوئی اپنے عناد وتعنت کی راہ سے اپنے کو گمراہ ہی رکھتا ہے۔
140۔ (جیسا کہ یہاں دنیا میں انہوں نے اپنے کو حق کی طرف سے اندھا اور گونکا اور بہرا کرلیا تھا)
141۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ آگ ایک مرتبہ جلنے کے بعد رفتہ رفتہ سرد پڑجائے گی، بلکہ دوزخ کی آگ ایسی ہوگی کہ اس کی تیزی برابر بڑھتی ہی رہے گی۔ عذاب نار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : لوگوں کے پاس ہدایت پہنچنے کے بعد ایمان سے روکنے والا منکرین کا ان سے صرف یہی کہنا رہا کہ کیا انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا، اور فرشتہ کو نہ بھیجا، آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اس لئے کہ قوم کے پاس ان ہی کی جنس کا رسول بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے اس کی گفتگو اور افہام و تفہیم ممکن ہو، آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے، اور بخوبی دیکھنے والا ہے (یعنی) ان کے پوشیدہ اور ظاہر تمام حالات سے…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِهٖ
اور جس کو اللہ راہ راست پر لگا دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جن کو اللہ گمراہ چھوڑ دے (یعنی بےمدد چھوڑ دے اور کج راہی سے محفوظ نہ رکھے اور شیطانی اغواء اندرونی کو وہ قبول کرلیں) تو ان لوگوں کے لئے تم کو بجز خدا کے اور کوئی حمایتی نہیں ملے گا جو ان کو راہ راست پر ڈال سکے۔
وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا : اور قیامت کے دن ہم ان کو
اندھا گونگا بہرا اٹھائیں گے کہ وہ منہ کے بل چلیں گے یا منہ کے بل ان کو گھسیٹا جائے گا۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے…
Read the full tafseer →(97) اور اللہ تعالیٰ جس کو اپنے دین کی ہدایت فرمائے، وہی سیدھے راستے پر آتا ہے اور جسے وہ اپنے دین سے گمراہ کردے تو اللہ تعالیٰ کے سوا ان مکہ والوں کے لیے آپ کسی کو بھی ایسا نہ پائیں گے جو ان کی ہدایت کی طرف رہنمائی کرے اور ہمیں قیامت کے دن ان کو اندھا، گونگا، بہرہ کرکے منہ کے بل دوزخ کی طرف چلائیں گے اور ان میں کسی چیز کے دیکھنے، سننے اور بولنے کی قطعا طاقت نہ ہوگی، پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور دوزخ کی لپٹیں جب ذرا دھیمی ہونے لگیں گی، تب ہی ہم ان کے لیے اور زیادہ بھڑکادیں گے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ۔۔ : نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب انھیں وعید سنائی۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے بل بوتے پر یا اپنی عقل، علم یا کسی اور چیز کی بنیاد پر راہ حق نہیں پاسکتا اور نہ اس پر ثابت قدم رہ سکتا ہے، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری ہے جو کسی کو راہ حق دکھاتی ہے اور اگر انسان کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی توفیق انسان کے شامل حال نہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے راہ راست پر نہیں لاسکتی۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ (رازی) ”وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ“ میں ہدایت یافتہ کو واحد کے صیغے سے اور ”ۚ وَمَنْ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 97
قولہ تعالیٰ : ومن یھدی اللہ دھو المھتد یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے تو وہ یقیناً ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ ومن یضلل۔۔۔۔۔ من دونہ (جنہیں اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے) انہیں کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ونحشرھم یوم القیمۃ علی وجوھھم اس میں دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے۔۔۔ کہ اس سے مراد انہیں تیزی اور جلدی کے ساتھ جہنم کی طرف لے جانا ہے، جیسا کہ عربوں کا قول ہے : قدم القوم علی وجوھھم (یہ تب بولتے ہیں) جب وہ تیزی سے چل کر آئیں۔ اور دوسرا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ انہیں قیامت کے دن چہروں کے بل جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا جیسا کہ دنیا میں اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے جس کو انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
لوگوں کو چہرے کے بل چلایا جائے گا :
1:۔ احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابونعیم نے معرفہ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو کس طرح ان کے چہروں کے بل اٹھایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا جس ذات نے ان کو ان کی ٹانگوں کے بل چلایا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو ان کے چہروں کے بل چلائے۔
2:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” الذین یحشرون علی وجوھہم “ پڑھی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا تم بتاؤ کہ جس ذات نے ان کو ان کے قدموں کے بل چلایا ہے…
Read the full tafseer →[وَمَنْ : اور جس کو ] [يَّهْدِ : ہدایت دیتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [فَهُوَ : تو وہ ہی ] [الْمُهْتَدِ : ہدایت پانے والا ہے ] [وَمَنْ : اور جس کو ] [يُّضْلِلْ : وہ گمراہ کرتا ہے ] [فَلَنْ تَجِدَ : تو آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [اَوْلِيَاۗءَ : کوئی کارساز ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [وَنَحْشُرُهُمْ : اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [عَلٰي وُجوهِهِمْ : ان کے چہروں پر (یعنی منہ کے بل)] [عُمْيًا : اندھے ہوتے ہوئے ] [وَّبُكْمًا : اور گونگے ہوتے ہوئے ] [وَّصُمًّا : اور بہرے ہوتے ہوئے ] [مَاوٰىهُمْ : ان کا ٹھکانہ ] [جَهَنَّمُ : جہنم ہے ] [كُلَمَا…
Read the full tafseer →قیامت کے دن گمراہ لوگ گونگے اور بہرے اٹھائے جائیں گے، پھر دوزخ کی آگ میں داخل کیے جائیں گے یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے حشر نشر کی تکذیب کی
گزشتہ آیات میں منکرین کے عناد اور کٹ حجتی کا تذکرہ تھا ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور منکرین کے لیے وعید بھی، جو لوگ رسالت کے منکر تھے وہ بعث بعد الموت اور حشر نشر کے بھی منکر تھے، ان کا ایک اعتراض نقل فرمایا ہے اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔
ارشاد فرمایا اللہ جسے ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہوسکتا ہے اور جسے گمراہ کردے تو وہ گمراہ ہی رہے گا۔ اللہ کی طرف سے جب تک ہدایت نہ ہو تو کوئی ہدایت یاب نہیں ہوسکتا اور اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →84:۔ یہ تخویف اخروی ہے اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں اور تلاش حق کا سچا جذبہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ سیدھی راہ دکھا دیتا ہے اور معاندین کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے انہیں کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ قیامت کے دن ان کو جہنم کی آگ میں منہ کے بل گھسیٹا جائیگا اور وہ اندھے، گونگے سے نکالنے کی توفیق ملیگی جو قبول کی جاسکے۔ لایبصرون ما یقرا عینھم ولا ینطقون ما یقبل منھم ولا یسمعون ما یلذ سامعھم لما قد کانوا فی الدنیا لا یستبشرون بالایات و العبر ولا ینطقون بالھق ولا یستمعونہ (ابو السعود ج 5 ص 654) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں بایں وجہ شک اور پھر انکار کرتے تھے کہ ایک انسان رسول نہیں ہوسکتا ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے ، مگر زمین چونکہ نوع انسانی سے آباد ہے تو یقینی بات ہے کہ ایک انسا ہی ان کے لیے نمونہ بن سکتا ہے اور وہی ان کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتا ہے ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوا دیا کہ اگر تم میری نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہو تو اس کا وبال تمہیں پر پڑے گا البتہ اگر تم میری رسالت کی گواہی نہ بھی دو تو اس کے لیے میرا اللہ ہی گواہ کافی…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
1 ؎ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے قیامت میں تین طور سے لوگ چلیں گے ایک پاپیادہ، دوم سوار ہو کر، سوم منہ کے بل۔ پوچھا گیا منہ کے بل کیونکر چل سکیں گے فرمایا جس نے پائوں کے بل چلایا کیا وہ منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَھُمْ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِہٖ ط وَنَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّصُمًّا ط مَاْوٰ ھُمْ جَھَنَّمُ ط کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰـہُمْ سَعِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 97)
(اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، پس وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو تم ان کے لیے اس کے سوا کسی کو مددگار نہ پائو گے، اور ہم ان کو قیامت کے دن اکٹھا کریں گے، ان کے مونہوں کے بل، اندھے، گونگے اور بہرے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اس کو مزید بھڑکا دیں گے۔ )
ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے ساتھ یہ بات بھی جانتا ہے۔ کہ کون ہدایت کا طالب اور کون گمراہی کے در پہ ہوچکا ہے۔
یہ حقیقت کئی بار عرض کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو گمراہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی پر ہدایت مسلط کرتا ہے۔ اس کا اصول یہ ہے جو شخص ہدایت کا طلبگار ہوگا۔ وہ اس کے لیے ہدایت کا راستہ کھول دے گا۔ جو کوئی گمراہی کو پسند کرے گا اسے کھلا چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہم نے انسان کو دوراستے دکھلا دیئے ہیں۔ انسان چاہے تو شکر ادا کرے اگر چاہے تو ناشکری کا راستہ اختیار کرے۔ (الدھر : 4) اسی مفہوم کے پیش نظر فرمایا ہے کہ جسے اللہ ہدایت دے۔ وہی ہدایت یافتہ ہے…
Read the full tafseer →ہدایت طلب والے کو ملے گی :
97: وَمَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ (جس کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر لگائے وہی ہدایت پانے والا ہے)
قراءت : یعقوب اور سہل نے المہتدی پڑھا ہے۔ ابو عمرو اور مدنی نے وصل میں ان کی موافقت کی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت قبول کرنے کی توفیق دے دیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہدایت پانے والا ہے۔ وَمَنْ یُّضْلِلْ ( اور جس کو گمراہ چھوڑ دے) یعنی اس کو رسوا اور ذلیل کرے اور اس کی شیطانی وساوس قبول کرنے سے حفاظت نہ کرے۔ فَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِہٖ (تو ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حمایتی نہ پائو گے) جو ان کو راستے پر ڈال…
Read the full tafseer →97۔” ومن یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلھم اولیاء من دونہ “ اس کے علاوہ کوئی نہیں جو ان کو ہدایت کا راستہ بتلائے ” ونحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم “ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) قیامت کے دن کا فرمنہ کے بل کیسے چلایاجائے گا ، فرمایا جس خدا نے اس کی ٹانگوں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل اس کو چلا نہیں سکتا اور ایک حدیث میں آیا کہ وہ چہروں کے بل چلنے سے ڈرتے ہیں ، اترتے وقت اور جھاڑیوں کے کانٹوں سے۔ ” عمیا وبکما وصما ً “ سوال کیا گیا ان کے ساتھ یہ وصف کیوں ذکر کیا کہ وہ اندھے ، گونگے اور بہرے ہوں گے حالانکہ آیات میں اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
94۔ 97:۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کی سرکشی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آتیوں میں فرمایا بڑا سبب قرآن کی نصیحت کے نہ ماننے کا ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کو خلاف عقل جانتے ہیں کہ اللہ کا رسول کوئی انسان ہوسکتا ہے ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے حالانکہ یہود کی باتوں کو یہ لوگ بہت مانتے ہیں اور یہود سے اکثر یہ لوگ سن چکے ہیں بنی اسرائیل کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) تھے پھر بھی شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ایک ظاہر بات کو خلاف عقل جانتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح بنی آدم زمین پر رہتے ہیں اسی طرح فرشتے بھی اگر زمین پر بستے ہوتے اور فرشتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →176۔ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں :۔
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور جس کو اللہ ہدایت بخشے “ اس کے صفائے باطن اور اس کی طلب صادق کی بناء پر کہ اس کے یہاں کے فیصلے محض ظاہر پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ حقائق اور بواطن پر مبنی ہوتے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہ ہر کسی کے دل کو اور اس میں مخفی ومستور اس کی نیتوں اور ارادوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس کا باطن کیسا ہے اور کون کس کے لائق ہے۔ وہ اسی کے مطابق اس سے معاملہ فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو دولت ہدایت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے کہ اس کا دارومدار انسان کے قلب وباطن پر ہے۔ اور قلوب وبواطن کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے…
Read the full tafseer →ف 1 نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب وعید فرمائی مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے بل بوتے پر یا اپنی عقل، علم یا کسی اور چیز کی بنیاد پر راہ حق نہیں پاسکتا اور نہ اس پر ثابت قدم رہ سکتا ہے بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری ہے جو کسی کو راہ حق دکھاتی ہے اور اگر انسان کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی توفیق انسان کے شامل حال نہ ہوت ودنیا کی کوئی طاقت اسے راہ راست پر نہیں لاسکتی۔ اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے۔ (کبیر)2 یعنی منہ کے بل چلیں گے جیسے دنیا میں پائوں کے بل چلتے تھے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسولچ لوگ منہ کے بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(17:95) مطمئنین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب وطن بنا لینے والے۔ قیام کرنے والے۔ طمن مادہ۔ الظمانینۃ والاطمینان (باب افعیلال) خلجان کے بعد نفس کا سکون پذیر ہونا۔ اطمئن یطمئن اطمینان۔ سکون پذیر ہونا۔ قرار پکڑنا۔ اور اطمئن بالمکان وفیہ۔ مکان میں قیام کرنا۔ وہاں ٹھہرنا۔ اس کو اپنا وطن بنا لینا۔ اقام واتخذہ وطنا۔ یعنی اگر فرشتے زمین پر سکونت پذیر ہوتے اور انہوں نے اسی کو اپنا وطن بنایا ہوتا۔ لنزلنا۔ جواب لو۔ تو ہم ضرور اتارتے۔ لام تاکید کیلئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100
نحشر ہم جمع کریں گے۔ وجوہ چہرے۔ عمی اندھے۔ بکم گونگے۔ صم بہرے۔ خبت بجھے گی (بجھ گئی) ۔ سعیر بھڑکانا۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 100
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو نہ تو بھٹکتے دیر لگتی ہے اور نہ ہدایت حاصل کرنے میں۔ صرف اللہ کی توفیق اور دستگیری سے انسان راہ پر حق پر چل کر منزل مراد تک پہنچتا ہے۔ اللہ کا نظام یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے لیکن جو شخص ایک دفعہ راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے تو اگر اللہ اس کی دستگیری نہ فرمائیں تو پھر ہدایت پر آنے کے لئے کوئی اس کا مددگار نہیں بنتا اور نہ اس کے…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا اللہ کے علم غیب میں جو لوگ راہ راست پر آنے والے ٹھہر چکے ہیں، وہی نیک کاموں کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کو نیک کاموں کی توفیق دیتا ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کو کوئی نصیحت کرنے والا راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ اس لئے وہ لوگ اسی حالت میں مر جاویں گے اور قیامت کے دن وہ میدان محشر تک تو بجائے پیروں کے منہ کے بل چلیں گے، اور پھر اوندھے منہ گھسیٹے جاکر دوزخ میں ڈال دیئے جاویں گے جہاں سوا ہر وقت کے عذاب کے آنکھوں سے کسی نجات کی صورت کے دیکھنے سے وہ اندھے اور کانوں سے سننے سے بہرے اور زبان پر لانے سے گونگے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
[63] یعنی اللہ جانتا ہے کہ میں واقعی اس کا رسول ہوں۔
Read the full tafseer →کافر منہ کے بل چلیں گے :
(ف 2) اللہ کی ہدایت تو عام ہے ، سب لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر کچھ لوگ جان بوجھ کر گمراہی مول لیتے ہیں اور حقائق کی جانب سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں واقعات کو دیکھتے ہیں مگر عبرت حاصل نہیں کرتے ، یہ ایسے لوگ ہیں ، جن سے ہدایت کی قابلیت چھن جاتی ہے ۔ اور محرومی وبدبختی کی زندگی بسر کرتے ہیں ان لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ جب اللہ نے انہیں ہدایت نہیں دی ، اور یہ تعصب وجہالت کی وجہ سے اسلام کی روشنی سے فیضیاب نہیں ہوئے ، تو اب کون انہیں سمجھا سکے گا ؟ کون ان کا مددگار اور چارہ ساز ہو سکے گا ؟ ان لوگوں کو جہنم میں منہ کے بل چلایا جائے گا ، یہ ایک نوع کی سزا ہے ، جس طرح…
Read the full tafseer →-97 اور جس کو اللہ تعالیٰ راہ پر لائے اور جس کی رہنمائی فرمائے وہی شخص راہ یافتہ ہے اور وہ جس کو بےراہ رکھے تو اے پیغمبر ایسے گمراہوں کا سوائے اللہ تعالیٰ کے آپ کسی کو مددگار نہ پائیں گے اور ہم قیامت کے دن اندھا بہرا گونگا بنا کے منہ کے بل چلائیں گے اور منھ کے بل چلا کر حشر میں لائیں گے اور ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے جب اور جس وقت اس کی آگ ذرا دھیمی اور ہلکی ہونے لگے گی تب ہی ہم اس آگ کو ان کے لئے بھڑکا دیں گے اور تیز کردیں گے۔
یعنی ہدایت اس کو میسر آتی ہے جس کو خدائے ہدایت دیتا ہے اور وہ جس کی سرپرستی نہ فرمائے تو ایسے گمراہ جن کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں ان میں سے ان کا کوئی بھی مددگار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
ف 2۔ یعنی جب تک خدا کی طرف سے دستگیری نہ ہو، نہ ہدایت ہوسکتی ہے نہ عذاب سے بچ سکتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ باوجود اجتماع اسباب و ہدایت کے بوجہ محذول ہونے کے ہدایت تک نہ پہنچ سکے۔
Read the full tafseer →جسے اللہ راہ پر لاتا ہے وہی راہ پاتا ہے اگر وہی بےراہ کر دے تو راہ کون دکھائے گا ؟
115۔ رد اگر ممکن تھی تو حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ممکن تھی لیکن اس کی مدد سے تو ان کا کفر انہیں محروم ہی رکھے گا پھر ان کی مدد کئے جانے کی کوئی اور صورت ؟ کوئی نہیں ، بلاشبہ تکوینی حیثیت سے ہدایت وضلالت دونوں کے اسباب کا آخری سرا بس اسی کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اس کے قانون سے ہدایت ہے اور اسی کے قانون کے مطابق ضلالت پھر جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے باعث اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیئے ہوں اور جسے اللہ ہی نے اپنے قانون کے مطابق ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا تو اب اور کون ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
In the last verse (95), it was said that they, despite being human, can-not demand that their messenger should be an angel. This demand was unreasonable. Yes, if angels had been living on the Earth and there was the need to send a messenger to them, then, indeed, an angel would have been sent as a messenger. It will be noted that the attribute of an-gels living on the Earth has been described here in the words: يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ (walking about in peace). This tells us that the need to send an angel deputed as a messenger to other angels would have come up only at a time when the angels…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
110. In this verse, the Quran has enunciated a divine principle. Allah guides to the right way only that person who intends to follow His guidance, and lets go astray that person who intends to go astray. Thereafter none is able to bring back to the right way the one against whom Allah has closed the door of guidance because of his own persistent deviation and obduracy. It is obvious that if a man turns his back against the truth and rests content with falsehoods, there is no power in the world to make him turn away from falsehood and come to the truth.
This is because after this depravity…
Read the full tafseer →