صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی
اپنی سچائی پر میں اور گواہ کیوں ڈھونڈوں ؟ اللہ کی گواہی کافی ہے۔ میں اگر اس کی پاک ذات پر تہمت باندھتا ہوں تو وہ خود مجھ سے انتقام لے گا۔ چناچہ قرآن کی سورة الحاقہ میں بیان ہے کہ اگر یہ پیغمبر زبردستی کوئی بات ہمارے سر چپکا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ تھام کر اس کی گردن اڑا دیتے اور ہمیں اس سے کوئی نہ روک سکتا۔ پھر فرمایا کہ کسی بندے کا حال اللہ سے مخفی نہیں وہ انعام و احسان ہدایت و لطف کے قابل لوگوں کو اور گمراہی اور بدبختی کے قابل لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 109
یعنی جس طرح سے میں تمہیں سمجھا رہا ہوں اور تمہاری اصلاح حال کے لیے کوشش کر رہا ہوں اسے بھی اللہ جانتا ہے، اور جو جو کچھ تم میری مخالفت میں کر رہے ہو اس کو بھی اللہ دیکھ رہا ہے۔ فیصلہ آخرکار اسی کو کرنا ہے اس لیے بس اسی کا جاننا اور دیکھنا کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
خلاصہ تفسیر
جب یہ لوگ رسالت و نبوت کی دلائل واضحہ آجانے اور تمام شبہات دور ہوجانے کے بعد بھی نہیں مانتے تو) آپ (آخری بات) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمہارے درمیان (کے اختلاف میں) کافی گواہ ہے (یعنی خدا جانتا ہے کہ میں واقع میں اللہ کا رسول ہوں کیونکہ) وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جانتا خوب دیکھتا ہے (تمہارے عناد کو بھی دیکھتا ہے) اور اللہ جس کو راہ پر لاوے وہ ہی راہ پر آتا ہے اور جس کو بےراہ کر دے تو خدا کے سوا آپ کسی کو بھی ایسوں کا مددگار نہ پاویں گے (اور بوجہ کفر کے یہ خدا کی مدد سے محروم رہے مطلب یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے دست گیری نہ ہو نہ ہدایت ہو سکتی ہے نہ عذاب سے نجات)…
Read the full tafseer →معاملہ اللہ کے حوالے کرنے کی ہدایت : قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا۔ اب یہ اچھی طرح حجت تمام کردینے کے بعد نبی ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ دلائل کی عدم وضاحت تمہارے لیے ایمان سے مانع ہے یا تمہاری ضد اور انانیت۔ اللہ اپنے بندوں کے ظاہر و باطن سے خوب واقف ہے۔ اب وہی فیصلہ فرمائے گا کہ تم پر یری رسالت کی صداقت واضح نہیں ہوئی تھی یا تم سب کچھ دیکھ، سن اور سمجھ کر اندھے بہر اور گونگے بنے رہے۔
Read the full tafseer →96۔ 1 یعنی میرے ذمے جو تبلیغ و دعوت تھی، وہ میں نے پہنچا دی، اس بارے میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے، کیونکہ ہر چیز کا فیصلہ اسی کو کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
51: مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی جنس سے ہو جس کی طرف وہ بھیجا جارہا ہے ؛ تاکہ وہ ان کی فطری ضروریات کو سمجھ کر اور ان کی نفسیات سے واقف ہو کر ان کی رہنمائی کرے، چونکہ آنحضرت ﷺ کو انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے آپ کا انسان ہونا قابل اعتراض نہیں ؛ بلکہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہاں اگر دنیا میں فرشتے آباد ہوتے تو بیشک ان کے پاس فرشتے کو رسول بناکر بھیجا جاتا۔
Read the full tafseer →اس بات میں ایک قسم کی جھڑکی اور تہدید کا رنگ ہے۔ اللہ تو گواہ ہے لیکن اس گواہی کا انجام کیا ہوگا تو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر دیکھئے۔
Read the full tafseer →8 وہ جو کہتے تھے (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :92) یعنی خدا سامنے آکر تصدیق کر دے تب مانیں۔ تو فرمایا کہ خدا اب بھی اپنے فعل سے میری تصدیق کر رہا ہے۔ آخر وہ مجھ کو دیکھتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر رہا ہوں اور میرے ظاہری و باطنی احوال سے پورا خبردار ہے۔ اس پر بھی میرے ہاتھ اور زبان پر برابر وہ علمی و عملی نشانات ظاہر فرماتا رہتا ہے۔ جو خارق عادت اور اس کے عام قانون قدرت سے کہیں بلندو برتر ہیں۔ میرے مقاصد کو یوماً فیوماً کامیاب اور وسیع الاثر بناتا ہے اور تکذیب کرنے والوں کو قدم قدم پر متنبہ کرتا ہے کہ اس رفتار سے تم فلاح نہیں پاسکتے کیا یہ خدا کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
آیت 96 قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ
رد و قدح بہت ہوچکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔
Read the full tafseer →114 یعنی وہ خوب دیکھ رہا ہے کہ میں نے تم لوگوں تک اس کا پیغام پہنچا دیا ہے یا نہیں ؟ یا منزل من اللہ احکام پر پوری طرح عمل پیرا ہوں یا نہیں اور تم جو اللہ کے پیغام کی مخالفت میں سر توڑ کوششیں کر رہے ہو وہ انھیں بھی خوب دیکھ رہا ہے۔
Read the full tafseer →138۔ (سو وہی تمہارے مفاد کو بھی خوب جان رہا ہے اور تمہاری ہٹ دھرمی کو بھی خوب دیکھ رہا ہے کہ باوجود وضوح دلائل اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو) (آیت) ” شھیدا بینی وبینکم “۔ اللہ کی گواہی سے اس سیاق میں مراد یہ ہے کہ وہ خوب دیکھ رہا ہے کہ اثبات نبوت محمدی وحقانیت قرآن پر کتنے دلائل واضح جمع ہیں۔ لیکن اہل فساد اپنی ضد وجہل سے انکار کئے چلے جارہے ہیں۔ اور اللہ کی شہادت عقلی یہ تھی کہ ہر طرح کی بےسروسامانی کے باوجود نصرت الہی علانیہ داعی اسلام (علیہ السلام) ہی کا ساتھ دے رہی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : لوگوں کے پاس ہدایت پہنچنے کے بعد ایمان سے روکنے والا منکرین کا ان سے صرف یہی کہنا رہا کہ کیا انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا، اور فرشتہ کو نہ بھیجا، آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اس لئے کہ قوم کے پاس ان ہی کی جنس کا رسول بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے اس کی گفتگو اور افہام و تفہیم ممکن ہو، آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے، اور بخوبی دیکھنے والا ہے (یعنی) ان کے پوشیدہ اور ظاہر تمام حالات سے…
Read the full tafseer →قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۭ: آپ کہہ دیجئے میرے اور تمہارے درمیان بس اللہ ہی شہادت
کے لئے کافی ہے۔ یعنی میرے رسول ﷺ ہونے کا اللہ شاہد ہے اور اسی کی شہادت بس کافی ہے اسی نے میرے ہاتھ پر معجزات میرے دعوے کی تصدیق کے لئے ظاہر فرما دیئے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی شہادت اس امر پر کافی ہے کہ میں نے فرض رسالت ادا کیا اس کا پیام تم کو پہنچا دیا اور ظہور حق کے بعد بھی از روئے عناد تم نے مخالفت کی۔ وہی میرا تمہارا فیصلہ کرے گا جو حق پر ہوگا اس کو ثواب دے گا اور جو باطل پر ہوگا اس کو سزا دے گا۔
اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : کیونکہ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا خوب…
Read the full tafseer →(96) اور آپ ان مکہ والوں سے آخری بات فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے اس بات پر اس نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو اپنے بندوں کی طرف رسول بھیجتا ہے، خوب جانتا اور خوب دیکھتا ہے کہ کون اس پر ایمان لائے گا اور کون ایمان نہیں لاے گا۔
Read the full tafseer →قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ۔۔ : ”كَفٰى باللّٰهِ“ کی ترکیب اور تفسیر کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (15) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سارا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہوئے ان سے بحث اور جھگڑا ترک کرنے کا حکم دیا، یعنی آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹا ہوتا تو وہ میری سخت گرفت کرتا۔ (دیکھیے حاقہ : 44 تا 46) اور پھر اسے ہمیشہ سے خوب معلوم ہے کہ کون شخص انعام و احسان اور ہدایت پانے کے لائق ہے اور کون عقاب و عذاب اور گمراہی کے۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے وعید۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 96
روایت ہے کہ کفار قریش نے جس وقت یہ قول سنا : ھل کنت الا بشرا رسولا تو انہوں نے کہا : پس کون آپ کی شہادت دے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی : قل کفی باللہ۔۔۔۔۔ خبیرا بصیرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
قریش کا اجتماعی طور پر آپ ﷺ سے گفتگو :
1:۔ ابن جریر، ابن اسحاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور قبیلہ عبدالدار کا ایک آدمی (بقول بغوی نضر بن حارث) اور ابو البختری جو بنو اسد کے بھائی ہیں۔ اسود بن المطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ، ابوجہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلواؤ اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تاکہ اتمام حجت ہوجائے…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [كَفٰى: کافی ہے ] [بِاللّٰهِ : اللہ ] [شَهِيْدًۢا : بطور گواہ کے ] [بَيْنِيْ : میرے درمیان ] [وَبَيْنَكُمْ : اور تمہارے درمیان ] [انهٗ : یقینا وہ ] [كَان : ہے ] [بِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے ] [خَبِيْرًۢا : باخبر رہنے والا ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لوگ اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ نبوت اور بشریت میں تضاد سمجھتے ہیں اگر زمین میں فرشتے رہتے ہوتے تو ان کے لیے فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا
لوگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) جب دین حق کی دعوت دیتے اور بتاتے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو یوں کہہ دیتے کہ انسان کا رسول ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ سورة ابراہیم میں ہے کہ انبیاء سابقین کی امتوں نے اپنے رسولوں کی رسالت کا انکار کرنے کے لیے یوں کہا (مَا اَنْتُمْ الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا) کہ تم تو ہماری طرح کے آدمی ہو، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی مشرکین نے اسی طرح کی بات کہی تھی۔ نبیوں اور رسولوں کا انسان ہونا جو حکمت کے بالکل موافق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →83:۔ تم نہیں مانتے تو نہ مانو۔ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اسے معلوم ہے کہ میں نے اس کا پیغام من و عن تمہیں پہنچا دیا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے محض ضد وعناد سے اس کا پیغام ٹھکرا دیا ہے وہ اپنے بندوں کے تمام اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزاء و سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا اللہ تعالیٰ نے چیلنج کردیا کہ سارے انسان اور جنات مل کر بھی قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے قرآن حکیم وحی الہی ، اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا اتارا ہو اکلام ہے ، اس میں ماننے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے ، البتہ جو لوگ اس کا انکار کریں گے ، ان کے لیے سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ اکثر لوگ سوائے ناشکر گزاری کے کچھ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم نے مختلف عنوانوں ، مثالوں اور طریقوں سے اللہ کی وحدانیت ، رسالت انبیاء اور وقوع قیامت کے متعلق بات سمجھا دی ہے اب آج کی آیات میں کفار ومشرکین کے تعصب ، عناد ، ہٹ دھرمی…
Read the full tafseer →قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا 96
كفى
الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ
[ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل .
( کی ) الکفایۃ
وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ترکیب : الاان قالو اجملہ فاعل من فی الارض خبر کان ملائکہ موصوف یمشون ذی الحال مطمئننین حال سب اسم۔ لنزلنا جواب لو۔
تفسیر : عرب کے مشرکوں اور کافروں کا نبوت میں ایک یہ بھی بڑا شبہ تھا کہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے رسالت اور نبوت کے لیے تو ہم سے بالاتر اشخاص ہونے چاہییں جو کھانے پینے ‘ زن و فرزند کے جملہ علائق سے پاک و صاف ہوں اور وہ فرشتے ہیں خدا نے اگر اپنے پیغام پہنچانے تھے تو فرشتوں کو کیوں بنا کر نہ بھیجا۔ یہی وہ ایک بات ان کے دل میں کھٹکتی تھی جس سے وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔ شبہ کا جواب دیتا ہے وما ممع الناس الخ کہ رسول ﷺ تو اسی قوم کا شخص ہونا چاہیے کہ جس کی طرف وہ بھیجا جاتا ہے کیونکہ ان…
Read the full tafseer →قُلْ کَـفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدً ما بَیْـنِیْ وَبَیْنَکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًما بَصِیْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 96)
(کہہ دیجیے ! کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہے۔
معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کی ہدایت
آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ اہل مکہ سے کہہ دیجیے کہ تمہیں نہ تو میرے کردار پر اعتراض ہے اور نہ تمہیں میری دعوت میں شبہ ہے۔ لے دے کے تمہیں میرے بشر ہونے پر اعتراض ہے۔ اس کا مکمل جواب گزشتہ آیت کریمہ میں دے دیا گیا۔ اگر نیت سمجھنے کی ہو تو اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں، لیکن اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
فہم القرآن
ربط کلام : رسول معظم ﷺ سے کفار مکہ نے متضاد قسم کے مطالبات کیے۔ جس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یہ دیا گیا کہ آپ فرمائیں کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ایک انسان ہوں۔ یہاں آپ کی بشریت کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ کیونکہ انبیاء کی بشریت کو بھی کفار اپنے انکا رکا بہانہ بنایا کرتے تھے۔
چنانچہ ارشادہوا کہ جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کیا کہ عجب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو رسول بنا دیا ہے۔ یہی اعتراض کفار مکہ نے آپ پر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا۔ کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اگر زمین میں رہنے، سہنے والے فرشتے ہوتے۔ تو ہم…
Read the full tafseer →آپ کی سنت پر اللہ کی گواہی کافی ہے :
96: قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ (آپ کہہ دیں میرے اور تمہارے درمیان شہادت کے لیے اللہ ہی کافی ہے) اس بات پر کہ میں نے تمہاری طرف وہ پیغام پہنچا دیا جو مجھے دیکر بھیجا گیا اور تم نے اس کو جھٹلا دیا اور عناد اختیار کیا۔
نحو : شہیداؔ یہ تمیز ہے یا حال ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ بَعِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا ( کیونکہ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا اور دیکھتا ہے) خواہ وہ ڈرانے والے پیغمبر ہوں یا وہ لوگ ہوں جن کو ڈرایا گیا۔ خبیر کا معنی ان کے حالات سے باخبر ہے اور بصیر کا معنی ان کے افعال کو دیکھنا ہے پس اسی لیے وہ ان کو بدلہ دیگا۔ اس جملہ میں…
Read the full tafseer →96۔” قل کفی باللہ شھیدا بینی و بینکم “ میں تمہاری طرف اس کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔” انہ کان بعبادہ خبیرا ً بصیرا ً “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
94۔ 97:۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کی سرکشی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آتیوں میں فرمایا بڑا سبب قرآن کی نصیحت کے نہ ماننے کا ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کو خلاف عقل جانتے ہیں کہ اللہ کا رسول کوئی انسان ہوسکتا ہے ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے حالانکہ یہود کی باتوں کو یہ لوگ بہت مانتے ہیں اور یہود سے اکثر یہ لوگ سن چکے ہیں بنی اسرائیل کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) تھے پھر بھی شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ایک ظاہر بات کو خلاف عقل جانتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح بنی آدم زمین پر رہتے ہیں اسی طرح فرشتے بھی اگر زمین پر بستے ہوتے اور فرشتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →175۔ اللہ کی گواہی کافی اور سب پر حاوی :۔
سو پیغمبر کو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہہ دو کہ کافی ہے اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو “ اور ایسا کافی کہ اس کے بعد کسی اور کسی گواہی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی کہ اس خالق ومالک کی گواہی سب سے بڑی گواہی اور سب پر حاوی ہے اور وہ طرح طرح سے میری نبوت و رسالت کی گواہی دے چکا ہے جن میں سب سے بڑا ذریعہ گواہی کا یہ قرآن حکیم ہے۔ جو کہ سب سے بڑا اور زندہ جاوید معجزہ ہے اور جو اس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے مجھ پر نازل فرمایا ہے۔ جس کے مقابلے سے دنیا ساری عاجز ہے اور جس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہے۔ اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اگر میں دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہوتا تو وہ میری سخت گرفت کرتا۔ (الحاقہ 66, 62) اور پھر اسے خوب معلوم ہے کہ کون شخص انعام و احسان اور ہدایت پانے کے لائق ہے اور کون عقاب و عذاب اور گمراہی کے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(17:95) مطمئنین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب وطن بنا لینے والے۔ قیام کرنے والے۔ طمن مادہ۔ الظمانینۃ والاطمینان (باب افعیلال) خلجان کے بعد نفس کا سکون پذیر ہونا۔ اطمئن یطمئن اطمینان۔ سکون پذیر ہونا۔ قرار پکڑنا۔ اور اطمئن بالمکان وفیہ۔ مکان میں قیام کرنا۔ وہاں ٹھہرنا۔ اس کو اپنا وطن بنا لینا۔ اقام واتخذہ وطنا۔ یعنی اگر فرشتے زمین پر سکونت پذیر ہوتے اور انہوں نے اسی کو اپنا وطن بنایا ہوتا۔ لنزلنا۔ جواب لو۔ تو ہم ضرور اتارتے۔ لام تاکید کیلئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96
مامنع نہیں منع کیا۔ نہیں روکا۔ ابعث کیا بھیجا ہے ؟ ۔ یمشون وہ چلتے ہیں۔ مطمئنین اطمینان سے رہنے والے۔ ملک فرشتہ۔ کفی کافی ہے۔ شھید گواہ۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
گزشتہ آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کفار مکہ کو جس بات نے ایمان عمل صالح اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے سے روک رکھا ہے ان کا یہ خیال ہے کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لئے کسی کو بھیجنا تھا تو ایک بشر کو کیوں بھیجا کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیج دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر فرشتے ہی ہوتے تو ممکن تھا ان کو اگر ہدایت کی ضرورت ہوتی تو وہ کسی فرشتے کو ان کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا اے اللہ کے رسول ! ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ فرشتہ کی گواہی کچھ اللہ کی گواہی سے بڑھ کر نہیں۔ میں اپنے رسول ہونے پر اللہ کی گواہی پیش کرتا ہوں اور اللہ کی گواہی کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی جن باتوں کی میں نصیحت کرتا ہوں اللہ کی مدد سے ان باتوں کی روز بروز ترقی ہوتی جاتی ہے اور اسلام کے برخلاف باتیں روز بروز دنیا سے اٹھ رہی ہیں اور یہ بھی کہہ دو کہ اللہ اپنے بندوں کے ذرا ذرا حال سے خبردار اور ان کے سب کاموں کو دیکھتا ہے۔ میں تم کو جو نصیحت کرتا ہوں وہ بھی اس کو معلوم ہے اور تم بغیر کسی سند کے زبردستی جو مجھ کو جھٹلاتے ہو وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے وقت مقررہ پر ان سب باتوں کا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
[63] یعنی اللہ جانتا ہے کہ میں واقعی اس کا رسول ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(ف 1) دراصل وجہ اعتراض یہ تھی کہ ان کے خیال میں انبیاء (علیہم السلام) بشر نہیں ہونا چاہئیں وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت فوق البشر لوگوں کا حصہ ہے ان کی نخوت و غرور کو گوارا نہیں تھا ، کہ ان کا ہم جنس انسان نبوت کے خلعت سے نوازا جائے ۔
اللہ تعالیٰ نے نہایت معقول جواب دیا ہے ، کہ کم بختو ! زمین پر جب تم جیسے انسان رہتے ہیں تو انبیاء بھی انسانوں میں سے ہونا چاہئیں ، تاکہ تم صحیح معنوں میں ان کی اطاعت کرسکو ، اور یہ نہ کہہ سکو ، کہ صاحب ہم فرشتوں کی پاکبازی کو کب پہنچ سکتے ہیں عجیب بات ہے جو بات تمہارے بھلے کی ہے اسی سے تمہیں چڑ ہے ، اور اس بات کے تم مخالف ہو ۔
Read the full tafseer →-96 آپ فرما دیجیے میرے اور تمہارے درمیان گواہ بننے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ اپنے بندوں کے تمام احوال کو خوب جانتا ہے۔ خوب دیکھتا ہے یعنی تمہارے عناد اور تمہاری بےہودہ حرکات کو بھی جانتا دیکھتا ہے اور میرے معقول دلائل اور میری صحیح باتوں سے بھی واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 1۔ یہ ایک شبہ متعلقہ رسالت کا جواب ہے، وہ شبہہ یہ کہ رسول بشر نہ ہونا چاہئے، فرشتہ ہونا چاہئے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ مرسل الیہم فرشتے ہوتے تو رسول بھی فرشتہ وہتا۔ جبکہ مرسل الیہم بشر ہیں تو رسول بھی بشر ہونا چاہئے، اگر وسوسہ ہو کہ جب مناسبت کی ضرورت سے مجانست کی رعایت ہوئی تو پھر رسول کے پاس کہ بشر ہوتا ہے فرشتہ کیسے آتا ہے اور کیونکہ فیض ہوتا ہے، جواب یہ ہے کہ رسول میں چونکہ شان ملکیت کی بھی ہوتی ہے اس لئے اس کو فرشتہ اور بشر دونوں سے مناسبت ہوتی ہے کہ فرشتے سے وحی لیکر بشر کو پہنچا دے۔
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ)
14۔ آنحضرت ﷺ کے حمل میں ہونے کی جو نشانیاں تھیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس رات کو قریش کے سب جانور بولنے لگے اور کہنے لگے کہ کعبہ کے خدا کی قسم ! آنحضرت ﷺ شکم مادر میں آگئے ‘ وہ دنیا جہان کی امان اور اہل دنیا کے چراغ ہیں ، قریش اور دیگر قبائل کی کاہنہ عورتوں میں کوئی عورت ایسی نہ تھی کہ اس کا جن اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہوگیا ہو اور ان سے کہانت کا علم چھین لیا گیا اور دنیا کے تمام بادشاہوں کے تخت اوندھے ہوگئے اور سلاطین اس دن گونگے ہوگئے ، مشرق کے وحشی جانوروں نے مغرب کے وحشی جانوروں کو جا کر بشارت دی ، اسی طرح ایک دریا نے دوسرے دریا کو خوشخبری سنائی اور پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
In the last verse (95), it was said that they, despite being human, can-not demand that their messenger should be an angel. This demand was unreasonable. Yes, if angels had been living on the Earth and there was the need to send a messenger to them, then, indeed, an angel would have been sent as a messenger. It will be noted that the attribute of an-gels living on the Earth has been described here in the words: يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ (walking about in peace). This tells us that the need to send an angel deputed as a messenger to other angels would have come up only at a time when the angels…
Read the full tafseer →109. That is, Allah is fully aware of all my efforts which I am sending in order to reform you, and He is fully aware of the efforts you are making against my mission. His witness is sufficient because He will pass the final judgment.
Read the full tafseer →