Explained with ayahs 94–95
فکری مغالطے اور کفار
اکثر لوگ ایمان سے اور رسولوں کی تابعداری سے اسی بنا پر رک گئے کہ انہیں یہ سمجھ نہ آیا کہ کوئی انسان بھی رسول بن سکتا ہے۔ وہ اس پر سخت تر متعجب ہوئے اور آخر انکار کر بیٹھے اور صاف کہہ گئے کہ کیا ایک انسان ہماری رہبری کرے گا ؟ فرعون اور اسکی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان کیسے لائیں خصوصا اس صورت میں کہ ان کی ساری قوم ہمارے ماتحتی میں ہے۔ یہی اور امتوں نے اپنے زمانے کے نبیوں سے کہا تھا کہ تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو سوا اس کے کچھ نہیں کہ تم ہمیں اپنے بڑوں کے معبودوں سے بہکا رہے ہو اچھا لاؤ کوئی زبردست ثبوت پیش کرو۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 108
یعنی پیغمبر کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ آ کر پیغام سنا دیا کرے، بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ اس پیغام کے مطابق انسانی زندگی کی اصلاح کرے۔ اسے انسانی احوال پر اس پیغام کے اصولوں کا انطباق کرنا ہوتا ہے۔ اسے خود اپنی زندگی میں ان اصولوں کا عملی مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے ان بیشمار مختلف انسانوں کے ذہن کی گتھیاں سلجھانی پڑتی ہیں جو اس کا پیغام سننے اور سمجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے ماننے والوں کی تنظیم اور تربیت کرنی ہوتی ہے تاکہ اس پیغام کی تعلیمات کے مطابق ایک معاشرہ وجود میں آئے۔ اسے انکار اور مخالفت و مزاحمت کرنے والوں کے مقابلے میں جدوجہد کرنی ہوتی ہے تاکہ بگاڑ کی…
Read the full tafseer →آخر آٰیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ تم انسان ہونے کے باوجود جو یہ مطالبہ کرتے ہو کہ ہمارا رسول فرشتہ ہونا چاہئے یہ مطالبہ تو نامعقول ہے البتہ اگر اس زمین پر فرشتے آباد ہوتے اور ان کی طرف رسول بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو فرشتہ ہی کو رسول بنایا جاتا اس میں جو زمین پر بسنے والے فرشتوں کا یہ وصف ذکر کیا گیا ہے کہ يَمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ یعنی وہ فرشتے زمین پر مطمئن ہو کر چلتے پھرتے اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کی طرف فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجنے کی ضرورت اسی وقت ہو سکتی تھی جبکہ زمین کے فرشتے خود آسمان پر نہ جاسکتے بلکہ زمین ہی پر چلتے پھرتے رہتے ورنہ اگر وہ خود آسمان پر جانے کی قدرت رکھتے تو زمین پر…
Read the full tafseer →قُلْ لَوْ كَانَ فِي الأرْضِ مَلائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولا۔ یعنی اگر ان کا یہ خیال ہے کہ کسی بشر کے بجائے کسی فرشتے کو ان کی طرف رسول ہو کر آنا تھا تو ان سے کہہ دو کہ اگر زمین میں انسانوں کے بجائے فرشتے رہتے بستے ہوتے تب تو ہم اگر ان کی طرف رسول بھیجتے تو لازماً آسمان سے کوئی فرشتہ ہی اتارتے لیکن زمین میں انسان رہتے بستے ہیں تو آخر انسانوں کی طرف کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی ؟ رسول اس لیے آتا ہے کہ اس کی زندگی لوگوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بنے۔ آخر کسی فرشتہ کی زندگی انسانوں لیے اسوہ اور نمونہ کس طرح بن سکتی۔
" ملئکۃ "…
Read the full tafseer →95۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب زمین میں انسان بستے ہیں تو ان کی ہدایت کے لئے رسول بھی انسان ہی ہوں گے۔ غیر انسان رسول، انسانوں کی ہدایت کا فریضہ انجام دے ہی نہیں سکتا۔ ہاں اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ان کے لئے رسول بھی یقینا فرشتے ہی ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
51: مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی جنس سے ہو جس کی طرف وہ بھیجا جارہا ہے ؛ تاکہ وہ ان کی فطری ضروریات کو سمجھ کر اور ان کی نفسیات سے واقف ہو کر ان کی رہنمائی کرے، چونکہ آنحضرت ﷺ کو انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے آپ کا انسان ہونا قابل اعتراض نہیں ؛ بلکہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہاں اگر دنیا میں فرشتے آباد ہوتے تو بیشک ان کے پاس فرشتے کو رسول بناکر بھیجا جاتا۔
Read the full tafseer →اگر اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوتا کہ زمین میں فرشتے بسیں تو وہ آدمیوں کی شکل و صورت میں ہوتے کیونکہ آدمی کی شکل و صورت ایسی ہے جو اس کرہ ارض پر سکونت کے لئے مناسب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ کہا گیا ہے۔
ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا (6 : 9) ” اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو بھی وہ ایک آدمی ہی ہوتا “۔ اور اللہ تو سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ نے اس کرہ ارض کے لئے نوامیس قدرت بنائے ہیں اور ان نوامیس قدرت کے مطابق انسان کی تخلیق کی ہے۔ اسی طرح دوسری مخلوقات کو بھی ان کے مطابق بنایا ہے۔ اور یہ طے کیا ہے کہ یہ قوانین قدرت جاری وساری رہیں گے اور یہ کائنات ان کے مطابق چلتی رہے گی تاکہ اس کی حکمت خلق…
Read the full tafseer →7 یعنی اگر یہ زمین آدمیوں کے بجائے فرشتوں کی بستی ہوتی تو بیشک موزوں ہوتا کہ ہم فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔ آدمیوں کی طرف اگر فرشتہ اس کی اصلی صورت میں بھیجا جائے تو آنکھیں اور دل تحمل بھی نہ کرسکیں، فائدہ اٹھانا تو الگ رہا۔ اور آدمی کی صورت میں آئے تو اشتباہ میں پڑے رہیں اس کی تقریر سورة انعام کے پہلے رکوع میں گزر چکی۔
Read the full tafseer →آیت 95 قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا
رسول کا کام ہے اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانا اس کی ایک ایک بات کو سمجھانا اور پھر اللہ کے احکام کے مطابق عمل کر کے اپنی زندگی کو ان کے سامنے بطور نمونہ پیش کرنا۔ اب ظاہر ہے انسانوں کے لیے نمونہ تو ایک انسان ہی ہوسکتا ہے فرشتہ تو ان کے لیے نمونہ نہیں بن سکتا۔ چناچہ اگر ان کے پاس ایک فرشتہ رسول بن کر آجاتا تو یہی لوگ کہتے کہ یہ تو فرشتہ ہے اس کی کوئی خواہش ہے نہ ضرورت نہ رشتہ ہے نہ ناتا نہ جذبات ہیں نہ احساسات ہماری اس سے کیا نسبت ؟ ہماری تو گھر…
Read the full tafseer →113 رسول کا بشر ہونا کیوں ضروری ہے ؟ چونکہ دنیا میں انسان آباد ہیں لہذا ان کے لیے رسول بھی انسان ہی ہونا چاہئے۔ وجہ یہ ہے کہ رسول کا کام اتنا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچا دے یا اس پیغام کی تشریح و توضیح کردے۔ بلکہ یہ کام بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ احکام پر عمل کرکے دکھائے اور امت کو ایک عملی نمونہ بھی پیش کرے۔ اب فرض کیجئے ایک فرشتہ رسول بن کر آتا اور آدمی کی شکل میں آتا، وہ اللہ کا پیغام پہنچاتا اور ان احکام پر عمل کرکے بھی دکھلا دیتا۔ تو لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہوتے کہ یہ عملی نمونہ دکھانے والا تو فرشتہ تھا۔ اس میں نہ بشری کمزوریاں پائی جاتی تھیں نہ اسے بشری ضروریات…
Read the full tafseer →136۔ یعنی اس زمین کے باشندے ہوتے جیسے کہ انسان ہیں۔ فرشتہ موجود تو زمین پر آج بھی ہیں۔ مقصود کلام یہ ہے کہ انسانوں کے بجائے اگر دنیا انہیں ہی سے اسی طور پر آباد ہوتی اور انہیں بھی ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کی ضرورت ہوتی۔
137۔ (کہ وہ اپنے ہم جنسوں میں تبلیغ کرتا) یہیں سے یہ ایک اہم اصل ہاتھ آتی ہے کہ ہدایت کے لئے مناسبت باہمی شرط ہے، اور مناسبت کا سبب قوی مجانست ہے۔ ایک جنس کی مخلوق دوسری جنس والی سے بآسانی نہیں سیکھ سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : لوگوں کے پاس ہدایت پہنچنے کے بعد ایمان سے روکنے والا منکرین کا ان سے صرف یہی کہنا رہا کہ کیا انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا، اور فرشتہ کو نہ بھیجا، آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اس لئے کہ قوم کے پاس ان ہی کی جنس کا رسول بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے اس کی گفتگو اور افہام و تفہیم ممکن ہو، آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے، اور بخوبی دیکھنے والا ہے (یعنی) ان کے پوشیدہ اور ظاہر تمام حالات سے…
Read the full tafseer →ققُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا :
آپ کہہ دیجئے اگر زمین پر فرشتے چین کے ساتھ چلتے پھرتے (فرشتوں کی آبادی ہوتی اور یہیں ان کی سکونت ہوتی آسمان تک پہنچنے کا ان کو اختیار نہ ہوتا) تو ہم آسمان سے ان کے لئے رسول بنا کر کسی فرشتہ کو اتار دیتے (لیکن زمین پر تو آدمی آباد ہیں ‘ آسمان پر جا کر یہ خود احکام حاصل نہیں کرسکتے ان کی ہدایت کے لئے تو آدمی کو ہی رسول بنا کر بھیجنا ضروری تھا ‘ اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ مترجم)
Read the full tafseer →(95) آپ ان مکہ والوں سے کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے بستے ہوتے تو ہم فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے کیوں کہ ہم فرشتوں میں فرشتہ کو اور انسانوں کی طرف انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجتے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ۔۔ : ”مُطْمَىِٕنِّيْنَ“ یعنی اگرچہ فرشتے اب بھی زمین پر آتے جاتے ہیں، لیکن اگر وہ انسانوں کی طرح اطمینان سے زمین پر رہ رہے ہوتے تو ہم ان کی طرف کسی فرشتے ہی کو رسول بھیجتے، مگر جب زمین پر ہم نے انسانوں کو بسایا ہے تو ان کی طرف ایک فرشتے کو رسول بنا کر بھیجنے سے کیا فائدہ ؟ رسول کا کام صرف اس پیغام کو پہنچا دینا ہی نہیں بلکہ وہ لوگوں کے لیے عملی نمونہ بھی ہوتا ہے، تاکہ وہ اس کی پیروی کرسکیں۔ یہ مفہوم کہ رسول کا اپنی امت کا ہم جنس ہونا ضروری ہے، کئی آیات میں بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (7) ، ابراہیم (4) اور سورة انعام (8، 9)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 95
اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ فرشتے کو فرشتوں کی طرف بھیجا جاسکتا ہے، کیونکہ اگر وہ آدمیوں کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا تو وہ اسے اس ہیئت پر دیکھنے کی قدرت نہ رکھتے جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے، اور بلاشبہ اس نے انبیاء (علیہم السلام) کو اس پر قدرت دے رکھی ہے اور ان میں وہ چیز پیدا فرما رکھی ہے جس کے ساتھ وہ قدرت رکھتے ہیں، تاکہ یہ ان کے لئے نشانی اور معجزہ ہوجائے۔ اور اس آیت کی نظیر سورة الانعام میں گزر چکی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وقالوا لولا۔۔۔۔۔۔ لجعلنہ رجلا (الانعام) (اور بولے کیوں نہ اتارا گیا ان پر فرشتہ اور اگر ہم اتارتے فرشتہ تو فیصلہ ہوگیا ہوتا ہر بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
قریش کا اجتماعی طور پر آپ ﷺ سے گفتگو :
1:۔ ابن جریر، ابن اسحاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور قبیلہ عبدالدار کا ایک آدمی (بقول بغوی نضر بن حارث) اور ابو البختری جو بنو اسد کے بھائی ہیں۔ اسود بن المطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ، ابوجہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلواؤ اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تاکہ اتمام حجت ہوجائے…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَوْ : اگر ] [كَان : ہوتے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَلٰۗىِٕكَةٌ: فرشتے ] [يَّمْشُوْنَ : چلتے ہوئے ] [مُطْمَىِٕنِّيْنَ : مطمئن ہونے والے ] [لَنَزَّلْنَا : تو ہم ضرور اتارتے ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [مَلَكًا : ایک فرشتہ ] [رَّسُوْلًا : بطور رسول کے ]
نوٹ۔ 1: مخالفین کے مطالبات کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تلقین فرمایا وہ قابل نظر اور مصلحین امت کے لئے ہمیشہ یاد رکھنے اور لائحہ عمل بنانے کی چیز ہے۔ ان کے مطالبات کے جواب میں نہ تو ان کی بےوقوفی اور مخالفانہ شرارت کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی فقرہ کسا گیا بلکہ نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لوگ اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ نبوت اور بشریت میں تضاد سمجھتے ہیں اگر زمین میں فرشتے رہتے ہوتے تو ان کے لیے فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا
لوگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) جب دین حق کی دعوت دیتے اور بتاتے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تو یوں کہہ دیتے کہ انسان کا رسول ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔ سورة ابراہیم میں ہے کہ انبیاء سابقین کی امتوں نے اپنے رسولوں کی رسالت کا انکار کرنے کے لیے یوں کہا (مَا اَنْتُمْ الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا) کہ تم تو ہماری طرح کے آدمی ہو، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بھی مشرکین نے اسی طرح کی بات کہی تھی۔ نبیوں اور رسولوں کا انسان ہونا جو حکمت کے بالکل موافق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
82:۔ یہ بھی شکوہ ہے پہلے شکوہ کے جواب میں کہا گیا ” ھل کنت الا بشر رسولا “ تو مشرکین نے کہا ہم بشر کی رسالت پر ایمان نہیں لاتے کوئی فرشتہ رسول بن کر آئے تو ہم مان لیں گے۔ ” قل لو کان فی الارض الخ “ یہ جواب شکوہ ہے اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے و ہم ان کی ہدایت کیلئے فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن زمین میں چونکہ انسان آباد ہیں اس لیے ان کی ہدایت کے لیے لامحالہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجنا قرین عقل و مصلحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا اللہ تعالیٰ نے چیلنج کردیا کہ سارے انسان اور جنات مل کر بھی قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے قرآن حکیم وحی الہی ، اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا اتارا ہو اکلام ہے ، اس میں ماننے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے ، البتہ جو لوگ اس کا انکار کریں گے ، ان کے لیے سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ اکثر لوگ سوائے ناشکر گزاری کے کچھ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم نے مختلف عنوانوں ، مثالوں اور طریقوں سے اللہ کی وحدانیت ، رسالت انبیاء اور وقوع قیامت کے متعلق بات سمجھا دی ہے اب آج کی آیات میں کفار ومشرکین کے تعصب ، عناد ، ہٹ دھرمی…
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا 95
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100]
( لو ) لو
( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 1 00] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ترکیب : الاان قالو اجملہ فاعل من فی الارض خبر کان ملائکہ موصوف یمشون ذی الحال مطمئننین حال سب اسم۔ لنزلنا جواب لو۔
تفسیر : عرب کے مشرکوں اور کافروں کا نبوت میں ایک یہ بھی بڑا شبہ تھا کہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے رسالت اور نبوت کے لیے تو ہم سے بالاتر اشخاص ہونے چاہییں جو کھانے پینے ‘ زن و فرزند کے جملہ علائق سے پاک و صاف ہوں اور وہ فرشتے ہیں خدا نے اگر اپنے پیغام پہنچانے تھے تو فرشتوں کو کیوں بنا کر نہ بھیجا۔ یہی وہ ایک بات ان کے دل میں کھٹکتی تھی جس سے وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔ شبہ کا جواب دیتا ہے وما ممع الناس الخ کہ رسول ﷺ تو اسی قوم کا شخص ہونا چاہیے کہ جس کی طرف وہ بھیجا جاتا ہے کیونکہ ان…
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِـنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکًا رَّسُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 95)
(اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لیے پیغمبر بنا کے بھیجتے۔ )
انبیا کے بشر ہونے کی حکمت
گزشتہ آیت کریمہ میں اہل مکہ کا آپ ﷺ پر ایمان نہ لانے کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اور جواب اتنا سادہ، اتنا واضح، اتنا مسکت اور اتنا حکیمانہ ہے کہ اس سے بہتر جواب کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ تم یہ بتائو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
فہم القرآن
ربط کلام : رسول معظم ﷺ سے کفار مکہ نے متضاد قسم کے مطالبات کیے۔ جس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یہ دیا گیا کہ آپ فرمائیں کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ایک انسان ہوں۔ یہاں آپ کی بشریت کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ کیونکہ انبیاء کی بشریت کو بھی کفار اپنے انکا رکا بہانہ بنایا کرتے تھے۔
چنانچہ ارشادہوا کہ جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کیا کہ عجب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو رسول بنا دیا ہے۔ یہی اعتراض کفار مکہ نے آپ پر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا۔ کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اگر زمین میں رہنے، سہنے والے فرشتے ہوتے۔ تو ہم…
Read the full tafseer →اس کا اصولی جواب :
95: قُلْ لَّوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓپکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ (آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان کے ساتھ چلتے پھرتے) یمشونؔ سے مراد پیدل چلنا ہے جس طرح کہ انسان چلتے ہیں اور وہ اپنے پروں سے نہ اڑتے کہ آسمان والوں کی باتیں سنتے اور ان چیزوں کا علم حاصل کرتے جن کا جاننا ضروری تھا۔ مطمئنین یہ حال ہے یعنی زمین میں بڑے قرینے سے رہتے لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ مَلَکًا رَّسُوْلًا (تو ہم ضرور ان کے لیے آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتار دیتے) جو ان کو بھلائی کی تعلیم دیتا اور بھلائی کے مقامات کی طرف ان کی راہنمائی کرتا۔ رہے انسان تو فرشتے کو ان…
Read the full tafseer →95۔” قل لو کان فی الارض ملائکۃ یمشون مطمئنین “ فرشتے تمہاری طرح آباد رہتے اور مقیم رہتے۔” لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا ً “ انہی کی جنس سے ہم نے نبی بنا کر بھیجا کیونکہ قلب غیر جنس کے علاوہ اپنی ہی جنس کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
94۔ 97:۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کی سرکشی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آتیوں میں فرمایا بڑا سبب قرآن کی نصیحت کے نہ ماننے کا ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کو خلاف عقل جانتے ہیں کہ اللہ کا رسول کوئی انسان ہوسکتا ہے ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے حالانکہ یہود کی باتوں کو یہ لوگ بہت مانتے ہیں اور یہود سے اکثر یہ لوگ سن چکے ہیں بنی اسرائیل کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) تھے پھر بھی شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ایک ظاہر بات کو خلاف عقل جانتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح بنی آدم زمین پر رہتے ہیں اسی طرح فرشتے بھی اگر زمین پر بستے ہوتے اور فرشتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
173۔ منکرین کے انکار کے سبب کی نشاندہی :۔
چنانچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور ادوات حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کو ہدایت سے نہیں روکا مگر ان کے اس اچھنبے نے کہ کیا اللہ نے بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا ؟ یعنی ان کے نزدیک نبوت اور بشریت میں تضاد تھا کہ یہ دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ سو یہی غلط فہمی کل کے ان مشرکوں کو تھی اور یہی غلطی فہمی آج کے کلمہ گو مشرکوں کو ہے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے اس بناء پر پیغمبر کی بشریت پر نظر کرکے ان کی نبوت کے ماننے کا دعوی کرکے آنحضرت ﷺ کی بشریت طاہرہ کا انکار کردیا کہ پیغمبر بشر نہیں نور ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اور امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے…
Read the full tafseer →ف 7 مگر جب زمین پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بسایا ہے تو ان کی طرف ایک فرشتے کو رسول بنا کر بھیجنے سے کیا فائدہ، رسول کا کام صرف اس پیغام کو پہنچا دینا ہی نہیں ہوتا بلکہوہ لوگوں کے لئے سوہ بھی ہوتا ہے تاکہ وہ اس کی پیروی کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(17:95) مطمئنین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب وطن بنا لینے والے۔ قیام کرنے والے۔ طمن مادہ۔ الظمانینۃ والاطمینان (باب افعیلال) خلجان کے بعد نفس کا سکون پذیر ہونا۔ اطمئن یطمئن اطمینان۔ سکون پذیر ہونا۔ قرار پکڑنا۔ اور اطمئن بالمکان وفیہ۔ مکان میں قیام کرنا۔ وہاں ٹھہرنا۔ اس کو اپنا وطن بنا لینا۔ اقام واتخذہ وطنا۔ یعنی اگر فرشتے زمین پر سکونت پذیر ہوتے اور انہوں نے اسی کو اپنا وطن بنایا ہوتا۔ لنزلنا۔ جواب لو۔ تو ہم ضرور اتارتے۔ لام تاکید کیلئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96
مامنع نہیں منع کیا۔ نہیں روکا۔ ابعث کیا بھیجا ہے ؟ ۔ یمشون وہ چلتے ہیں۔ مطمئنین اطمینان سے رہنے والے۔ ملک فرشتہ۔ کفی کافی ہے۔ شھید گواہ۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
گزشتہ آیات کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کفار مکہ کو جس بات نے ایمان عمل صالح اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے سے روک رکھا ہے ان کا یہ خیال ہے کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لئے کسی کو بھیجنا تھا تو ایک بشر کو کیوں بھیجا کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیج دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر فرشتے ہی ہوتے تو ممکن تھا ان کو اگر ہدایت کی ضرورت ہوتی تو وہ کسی فرشتے کو ان کی اصلاح کے…
Read the full tafseer →اس آیت میں میں فرمایا کہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے۔ حالانکہ یہود کی باتوں کو یہ لوگ بہت مانتے ہیں اور یہود سے اکثر یہ لوگ سن چکے ہیں کہ بنی اسرائیل کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ پھر وہ بھی شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ایک ظاہر بات کو خلاف عقل جانتے ہیں۔ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح بنی آدم زمین پر رہتے ہیں اسی طرح اگر فرشتے بھی زمین پر بستے ہوتے اور فرشتوں کا اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر نہ ہوتا تو ان کے پاس کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیج دیا جاتا۔ اب اگر کوئی فرشتہ رسول بنا بھیجا بھی جاوے تو ضرور وہ انسان کی صورت میں ہوگا اور پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–95
[62] روح سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ یہی بات سورة نحل آیت 2، سورة مومن آیت 15 اور سورة شوریٰ آیت 52 میں بیان ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں روح سے مراد جان ہے لیکن سیاق وسباق کی مناسبت سے روح کے معنی وحی الٰہی کے زیادہ صحیح ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ ، قتادہ اور حسن بصری نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(ف 1) دراصل وجہ اعتراض یہ تھی کہ ان کے خیال میں انبیاء (علیہم السلام) بشر نہیں ہونا چاہئیں وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت فوق البشر لوگوں کا حصہ ہے ان کی نخوت و غرور کو گوارا نہیں تھا ، کہ ان کا ہم جنس انسان نبوت کے خلعت سے نوازا جائے ۔
اللہ تعالیٰ نے نہایت معقول جواب دیا ہے ، کہ کم بختو ! زمین پر جب تم جیسے انسان رہتے ہیں تو انبیاء بھی انسانوں میں سے ہونا چاہئیں ، تاکہ تم صحیح معنوں میں ان کی اطاعت کرسکو ، اور یہ نہ کہہ سکو ، کہ صاحب ہم فرشتوں کی پاکبازی کو کب پہنچ سکتے ہیں عجیب بات ہے جو بات تمہارے بھلے کی ہے اسی سے تمہیں چڑ ہے ، اور اس بات کے تم مخالف ہو ۔
Read the full tafseer →-95 آپ اس قسم کے معترضین سے فرما دیجیے اگر زمین پر فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو یقینا ہم ان کے لئے آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے یعنی اگر زمین پر فرشتے آباد ہوتے اور وہ باوجود فرشتے ہونے کے آسمان پر نہ جاسکتے تو ان کا رسول بھی فرشتہ ہی ہوتا لیکن یہاں بشر آباد ہیں اس لئے ان کی ہدایت کے لئے بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 1۔ یہ ایک شبہ متعلقہ رسالت کا جواب ہے، وہ شبہہ یہ کہ رسول بشر نہ ہونا چاہئے، فرشتہ ہونا چاہئے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ مرسل الیہم فرشتے ہوتے تو رسول بھی فرشتہ وہتا۔ جبکہ مرسل الیہم بشر ہیں تو رسول بھی بشر ہونا چاہئے، اگر وسوسہ ہو کہ جب مناسبت کی ضرورت سے مجانست کی رعایت ہوئی تو پھر رسول کے پاس کہ بشر ہوتا ہے فرشتہ کیسے آتا ہے اور کیونکہ فیض ہوتا ہے، جواب یہ ہے کہ رسول میں چونکہ شان ملکیت کی بھی ہوتی ہے اس لئے اس کو فرشتہ اور بشر دونوں سے مناسبت ہوتی ہے کہ فرشتے سے وحی لیکر بشر کو پہنچا دے۔
Read the full tafseer →اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے :
113۔ گزشتہ سوال کا جواب دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بشر کی رسالت کو تسلیم نہ کرنے والو ! اچھی طرح سن لو کہ اگر زمین پر انسانوں کی جگہ فرشتے بستے ہوتے تو ہم انکی ہدایت کے لئے فرشتے ہی اتارتے لیکن یہاں تو انسان بستے ہیں اور انسانوں ہی کی ہدایت مقصود ہے پس ان کی ہدایت کی صدائیں انسانوں ہی کی زبان سے نکلیں گے فرشتے نہیں اتر سکتے اور نہ ہی کبھی عام انسانوں کی ہدایت کے لئے فرشتے اترے ہیں ۔
ہاں ! ایک بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ منکروں کی یہ فرمائشیں حجت وبرہان کی طلب میں نہ تھیں بلکہ محض سرکشی اور ہٹ دھرمی کی باتیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
In the last verse (95), it was said that they, despite being human, can-not demand that their messenger should be an angel. This demand was unreasonable. Yes, if angels had been living on the Earth and there was the need to send a messenger to them, then, indeed, an angel would have been sent as a messenger. It will be noted that the attribute of an-gels living on the Earth has been described here in the words: يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ (walking about in peace). This tells us that the need to send an angel deputed as a messenger to other angels would have come up only at a time when the angels…
Read the full tafseer →108. This is to say that Messenger does not merely convey the message but is sent to reform human life in accordance with it. He has to apply the principles of the message to the circumstances of human beings and has himself to demonstrate practically those principles. Moreover, he has to remove the misunderstandings of those people who try to listen to and understand his message. Besides this, he has to organize and train the believers to create a society based on the teachings of his message. He has to struggle against those who reject and oppose his message in order to subdue those powers…
Read the full tafseer →