انسانی فطرت کا نفسیانی تجزیہ
انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الہٰی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہوجائے تو ہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اگر ملک کے کسی حصے کے یہ مالک ہوجائیں تو کسی کو ایک کوڑی پرکھنے کو نہ دیں۔ پس یہ انسانی طبیعت ہے ہاں جو اللہ کی طرف سے ہدایت کئے جائیں اور توفیق خیر دئیے جائیں وہ اس بدخصلت سے نفرت کرتے ہیں وہ سخی اور دوسروں کا بھلا کرنے والے ہوتے ہیں۔ انسان بڑا ہی جلد باز ہے تکلیف کے وقت لڑکھڑا جاتا ہے اور راحت کے وقت بھول جاتا ہے اور دوسروں کے فائدہ سے اپنے ہاتھ روکنے لگتا ہے ہاں نمازی لوگ اس سے بری ہیں الخ ایسی…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 112
یہ اشارہ اسی مضمون کی طرف ہے جو اس سے پہلے آیت 55 " وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ " میں گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ جن نفسیاتی وجوہ سے نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے ان میں سے ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس طرح انہیں آپ کا فضل وشرف ماننا پڑتا تھا، اور اپنے کسی معاصر اور ہم چشم کا فضل ماننے کے لیے انسان مشکل ہی سے آمادہ ہوا کرتا ہے۔ اسی پر فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی بخیلی کا حال یہ ہے کہ کسی کے واقعی مرتبے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کا دل دکھتا ہے، انہیں اگر کہیں خدا نے اپنے خزانہائے رحمت کی کنجیاں حوالے کردی ہوتیں تو وہ کسی کو پھوٹی…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
آخری آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوجاؤ تو بخل کرو گے کسی کو نہ دو گے اس خطرہ سے کہ اگر لوگوں کو دیتے رہے تو یہ خزانہ ختم ہوجائے گا اگرچہ رحمت رب کا خزانہ ختم ہونے والا نہیں مگر انسان اپنی طبیعت سے تنگ دل کم حوصلہ ہوتا ہے اس کو فراخی کے ساتھ لوگوں کے دینے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔
اس میں خزائن رحمت رب کے لفظ سے عام مفسرین نے مال و دولت کے خزائن مراد لئے ہیں اور اس کا ربط ماسبق سے یہ ہے کہ کفار مکہ نے اس کی فرمائش کی تھی کہ اگر آپ واقعی نبی حق ہیں تو آپ اس مکہ کے خشک ریگستان میں نہریں جاری کر کے اس کو سرسبز باغات میں منتقل کردیں جیسا ملک شام کا…
Read the full tafseer →کفار کی متکبرانہ ذہنیت پر ضرب : قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنْفَاقِ وَكَانَ الإنْسَانُ قَتُورًا۔
ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ اس تمام رد و انکار میں قریش کے لیڈروں کی اس متکبرانہ ذہنیت کو بھی بڑا دخل تھا کہ جب دنیا کی تمام نعمتیں ہمیں ملی ہیں تو خدا اگر نبوت و رسالت کے منصب پر کسی کو سرفراز کرنے والا ہوتا تو ہم ہی میں سے کسی کو سرفراز کرتا، آخر یہ منصب جلیل ہم سادات کو چھوڑ کر اس غریب آدمی کے حوالہ کیوں کردیتا۔ ان کی اسی متکبرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ ان سے کہہ دیں کہ اگر میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک تم…
Read the full tafseer →10۔ 1 خشیۃ الانفاق کا مطلب ہے۔ خشیۃ ان ینفقوا فیفتقروا۔ اس خوف سے کہ خرچ کر کے ختم کر ڈالیں گے، اس کے بعد فقیر ہوجائیں گے۔ حالانکہ یہ خزانہ الٰہی جو ختم ہونے والا نہیں لیکن چونکہ انسان تنگ دل واقع ہوا ہے، اس لئے بخل سے کام لیتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا)۔ 4۔ النساء :53)۔ یعنی ان کو اگر اللہ کی بادشاہی میں سے کچھ حصہ مل جائے تو یہ لوگوں کو کچھ نہ دیں۔ نقیر کھجور کی گٹھلی میں جو گڑھا ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں یعنی تل برابر بھی کسی کو نہ دیں یہ تو اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل وکرم ہے کہ اس نے اپنے خزانوں…
Read the full tafseer →52: رحمت کے خزانوں سے یہاں مراد نبوت عطا کرنے کا اختیار ہے، کفار مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی کو کیوں نہیں دی گئی ؟ گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ کسی کو نبوت ہماری مرضی سے دینی چاہیے تھی، اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرما رہے ہیں کہ اگر نبوت عطا کرنے کا اختیار تمہیں دے دیا جاتا تو تم اس میں اسی طرح بخل سے کام لیتے جیسے دنیوی دولت کے معاملے میں بخل کرتے ہو کہ خرچ ہونے کے ڈر سے کسی کو نہیں دیتے۔
Read the full tafseer →بخل اور کنجوسی کی یہ حد ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ اس قدر بخیل ہیں کہ اگر سمندر پر بھی بیٹھے ہوں تو ان کو پانی کی کمی نظر آتی ہے۔ اس طرح ان کو اللہ کی رحمت میں بھی کمی نظر آتی ہے۔
بہرحال اگر ان کے سامنے وہ معجزات کثرت سے بھی لائے جائیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، ان کے دل چونکہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اس لئے یہ نہ مانیں گے۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ 9 بڑے معجزات دئیے گئے ، مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے مان کر نہ دیا۔ اس لئے اس پر تباہی آئی۔
Read the full tafseer →5 گذشتہ رکوع میں فرمایا تھا (اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87 قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا 88) 17 ۔ الاسراء :88-87) (خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ پر بہت بڑا فضل کیا ہے کہ قرآن جیسی بےمثال دولت عطا فرمائی) درمیان میں مخالفین کے تعنت وعناد، دور ازکار مطالبات، اعراض و تکذیب اور ان کے نتائج کا ذکر کر کے یہاں پھر اسی پہلے مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی ایک بندہ کو ایسی عظیم الشان رحمت اور عدیم النظیر دولت سے سرفراز…
Read the full tafseer →اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ
اگر اللہ کی رحمت کے بےحساب خزانے تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم لوگ اپنے فطری بخل کے سبب ان کے دروازے بھی بند کردیتے کہ کہیں خرچ ہو کر ختم نہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →118 کفار مکہ کی تنگ نظری اور انسان کی فطرت :۔ قریشی سردار جو آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے اور نہ یہ تھی کہ انھیں دعوت دین کے دلائل کی سمجھ نہیں آتی تھی بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیتے تو ان کی سرداریاں اور چودھراہٹیں انھیں چھنتی نظر آرہی تھیں۔ اور انھیں پیغمبر اسلام کے تابع ہو کر رہنا پڑتا تھا۔ نیز اگر اسلام پھیل جاتا تو انھیں کعبہ کی تولیت کی وجہ سے عرب بھر میں جو عزت اور وقار حاصل تھا وہ بھی ان سے چھنتا نظر آرہا تھا۔ لہذا ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اسلام کا خاتمہ ہی کردیا جائے اور حقیقتاً انسان ایسا ہی…
Read the full tafseer →145۔ (چنانچہ اس موقع پر بھی انسان بخل وتنگ دلی ہی سے کام لیتا) (آیت) ” لوانتم۔۔۔ ربی “۔ یعنی پروردگار عالم کی رحمتوں کی ذخیرہ کا جو غیر محدود ہے، مالک انسان ہوتا اور ان کی تقسیم اس کے اختیار میں ہوتی۔ (آیت) ” خزآئن رحمۃ ربی “۔ لفظ عام ہے۔ ہر قسم کے کمالات اور جملہ اقسام نعمت پر شامل۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ اشارہ نعمت نبوت کی جانب ہے۔ آیت میں فطرت بشری کا بیان ہے کہ انسان تو حرص وبخل کا پتلا ہے، یہاں تک کہ یہ نعمتیں غیر محدود ہیں ان کے بھی تقسیم میں اسے ڈرلگا رہتا ہے کہ یہ کہیں ختم نہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : لوگوں کے پاس ہدایت پہنچنے کے بعد ایمان سے روکنے والا منکرین کا ان سے صرف یہی کہنا رہا کہ کیا انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا، اور فرشتہ کو نہ بھیجا، آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اس لئے کہ قوم کے پاس ان ہی کی جنس کا رسول بھیجا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے اس کی گفتگو اور افہام و تفہیم ممکن ہو، آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری صداقت پر اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے، اور بخوبی دیکھنے والا ہے (یعنی) ان کے پوشیدہ اور ظاہر تمام حالات سے…
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا :
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) کے خزانوں (یعنی کمالات) کے مختار ہوتے تو اس صورت میں تم (اس کے) خرچ کرنے کے اندیشے سے ضرور ہاتھ روک لیتے اور آدمی ہے بڑا تنگدل۔ (حضرت مولانا تھانوی (رح) کے نزدیک رحمت سے مراد نبوت اور خزائن سے مراد کمالات ہیں ‘ لیکن حضرت مؤلف (رح) کے نزدیک) رحمت رب سے مراد رزق ہے یا ہر نعمت مراد ہے اور خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِسے مراد ہے ناداری کا خوف۔ یا ختم ہوجانے کا اندیشہ نَفَقَ الشَّئیُوہ چیز ختم ہوگئی ‘ عربی…
Read the full tafseer →(100) آپ ان مکہ والوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے ہاتھ میں میرے پروردگار کے رزق کے خزانوں کی کنجیاں ہوتیں تو اس صورت میں تم فاقہ کے ڈر سے ان کے خرچ کرنے سے ضرور ہاتھ روک لیتے اور کافر بڑا تنگ، دل بخیل اور لالچی ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ۔۔ : یعنی اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے، جن کے ختم ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں، تب بھی تم کسی کو پھوٹی کوڑی نہ دیتے۔ اس شدید بخل کا نتیجہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا بھی کسی کو نعمت عطا کرنا برداشت نہیں، نہ تمہیں یہ برداشت ہے کہ اللہ نے محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا، اس لیے کہ تم محمد ﷺ کی نبوت و رسالت پر حسد و بخل کرتے ہو۔ یہ دونوں صفات بیحد قبیح ہیں۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة نساء (53 تا 55) روح المعانی میں ہے کہ ماقبل سے ربط میں مختلف اقوال ہیں مگر ان میں تکلف ہے۔
وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا :”قَتَرَ یَقْتُرُ قَتْرًا وَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 100
قولہ تعالیٰ : قل لو انتم۔۔۔۔ ربی یعنی اگر تم رزق کے خزانوں کے مالک ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اگر تم نعمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے، اور یہ اعم ہے۔ اذا لا مسکتم خشیۃ الانفاق تو تم بخل کے سبب ضرور ہاتھ روک لیتے، اور یہ ان کے اس قول کا جواب ہے : لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا۔ (الاسراء) یہاں تک کہ ہم معیشت میں خوشحال اور وسیع ہوجائیں، یعنی اگر تم خوشحال ہوجائیں، یعنی اگر تم خوشحال ہو بھی جاؤ تب بھی ضرور بخل کرو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر مخلوق میں سے کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک بن جائے تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے سخاوت کرنے کی طرح ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خزآئن رحمۃ ربی “ سے مراد ہے رزق۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا لا مسکتم خشیۃ الانفاق “ (یعنی اگر تم اللہ کی رزق کے خزانوں کے مالک ہوجاتے) تب تو تم کسی کو کچھ بھی نہ کھلاتے۔
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خشیۃ الانفاق “ سے مراد ہے فقر (اور فرمایا) (آیت) ” وکان الانسان قتورا “ میں قتورا کا معنی ہے بخیلا (یعنی انسان بخیل ہے)
4:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خشیۃ الانفاق “ سے مراد ہے فاقہ کے ڈر سے (وکان الانسان قتورا “ یعنی (انسان) بخیل ہے اور…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَوْ : اگر ] [انتم : تم لوگ ] [تملِكُوْنَ : مالک ہوتے ] [خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِيْٓ: میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے ] [اِذًا : تب تو ] [لَّاَمْسَكْتم : تم لوگ ضرور روک کر رکھتے ] [خَشْيَةَ الْانفَاقِ : خرچ کرنے کے خوف سے ] [وَكَان : اور ہے ] [الْانسَان : انسان ] [قَتُوْرًا : بہت کنجوسی کرنے والا ]
Read the full tafseer →اگر تمہارے پاس میرے رب کی رحمت کے خزانے ہوتے تو خرچ ہوجانے کے ڈر سے ہاتھ روک لیتے، انسان بڑا تنگ دل ہے
مطلب یہ ہے کہ اگر تم میرے رب کے خزانوں کے مالک ہوتے اور تمہیں اختیار ہوتا کہ جسے چاہو دو اور جسے چاہو نہ دو ۔ تو تم ہاتھ روک لیتے کسی کو نہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ رازق ہے اور خالق ہے۔ اپنی مخلوق کو رزق عطا فرماتا ہے جس کا جتنا رزق مقرر اور مقسوم فرمایا ہے پورا کیے بغیر موت نہ آئے گی۔ جب سے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ شانہ رزق دیتا ہے اور جس قدر اس کی مخلوق بڑھتی چلی جائے اس کی نعمتوں اور رحمتوں میں کوئی کمی نہیں، مخلوق بھی بڑھ رہی ہے اور رزق بھی بڑھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو عطا فرماتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے…
Read the full tafseer →86:۔ یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے۔ ” انتم “ کا خطاب عام ہے، جن و بشر اور فرشتوں کو شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ متصرف و مختار اور تمام خزانوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اگر رزق کے خزانے تمہارے ہاتھ میں دے دئیے جائیں تو تم بخل کرو اور کسی کو کچھ بھی نہ دو کہ کہیں خزانے ختم نہ ہوجائیں۔ اس لیے تم میں سے کوئی بھی اس کا استحقاق نہیں رکھتا کہ اسے کارخانہ عالم میں تصرف کا اختیار دیا جائے۔ ” قتورا “ بخیل اور کنجوس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں بایں وجہ شک اور پھر انکار کرتے تھے کہ ایک انسان رسول نہیں ہوسکتا ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے ، مگر زمین چونکہ نوع انسانی سے آباد ہے تو یقینی بات ہے کہ ایک انسا ہی ان کے لیے نمونہ بن سکتا ہے اور وہی ان کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتا ہے ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوا دیا کہ اگر تم میری نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہو تو اس کا وبال تمہیں پر پڑے گا البتہ اگر تم میری رسالت کی گواہی نہ بھی دو تو اس کے لیے میرا اللہ ہی گواہ کافی…
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا 100ۧ
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100]
( لو ) لو
( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 1 00] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
ملك
المَلِكُ : هو…
Read the full tafseer →1 ؎ قتور نفقہ برعیال تنگ کردن صافی۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِکُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیْٓ اِذًا لَّاَمْسَکْتُمْ خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ قَـتُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 100)
(اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے کہ اگر تم میرے رب کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ہاتھ روک لیتے، اور انسان بڑا ہی تنگدل ہے۔ )
حضرت حکیم الامۃ تھانوی نے بیان القرآن میں اس جگہ رحمت رب سے مراد نبوت و رسالت اور خزائن رحمت و رسالت سے مراد کمالات نبوت لیے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق اس کا ربط آیات سابقہ سے یہ ہوگا کہ تم جو نبوت و رسالت کے لیے بےسروپا اور بےہودہ مطالبات کررہے ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ میری نبوت کو ماننا نہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت نمبر 85 سے ہوا تھا۔ اس سے اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔ اے نبی ! اللہ تعالیٰ کا آپ پر یہ عظیم فضل ہے کہ اس نے آپ کو اپنے پیغام کے لیے منتخب کیا ہے اور قرآن مجید جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اب اس خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کفار کو مخاطب کیا گیا ہے۔ کہ حق کا انکار کرنے والا صرف روحانی اور اخلاقی طور پر کم ظرف نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ دنیوی طور پر بھی بخیل اور کم ظرف ہوتا ہے۔
دیگر فرسودہ دلائل کے ساتھ اہل مکہ اس لیے نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے کہ یہ بشر ہے اور ہم اس جیسے چلتے پھرتے انسان کو اپنے آپ پر کس طرح…
Read the full tafseer →100: قُلْ لَّوْاَنْتُمْ تَمْلِکُوْنَ (کہدیں اگر تم مالک ہوتے) تقدیر عبارت یہ ہے لو تملکون انتم۔
نحو : کیونکہ لَوْ افعال پر داخل ہوتا ہے اسماء پر نہیں۔ پس فعل کا لانا اس کے بعد ضروری ہے۔ پس تملک کو مضمر مان لیا گیا کیونکہ اس کی تفسیر آرہی ہے اور ضمیر منفصل کی بجائے ضمیر متصل لائے اور وہ انتم ہے کیونکہ جس سے وائو متصل تھی وہ لفظوں میں ساقط ہوگیا پس انتم فعل مضمر کا فاعل ہے اور تملکونؔ اس کی تفسیر ہے۔ علم نحوکا یہی تقاضہ ہے۔
اہل علم بیان کہتے ہیں کہ انتم تملکون میں اختصاص کی دلالت پائی جاتی ہے اور لوگ ہی انتہائی بخل کے ساتھ خاص ہیں۔ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیْ (میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے) رزق…
Read the full tafseer →100۔” قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی ‘ ‘ اپنے رب کی نعمت ، بعض نے کہا کہ اس نعمت ۔ بعض نے کہا کہ اس نعمت سے مراد رزق ہے۔ ” اذا لا مسکتم “ ان کے بخل اور ان کے گمان کے مطابق ۔
” خشیۃ الانفاق “ فاقہ کے خوف کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ ناداری کے خوف کی وجہ سے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ” انفق الرجل “ اس کا ہاتھ خالی ہوگیا اور اس کا مال ختم ہوگیا ۔ بعض نے کہا کہ وہ خرچ کرنے سے رکتے ہیں ، فقر کے خوف کی وجہ سے ۔” وکان الانسان قتورا ً “ انسان بخیل ہے ، خرچ کرنے سے رکتا ہے۔
Read the full tafseer →100۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی ان باتوں کا ذکر فرمایا تھا جن باتوں کا ضد سے معجزہ کے طور پر وہ ظاہر ہونا چاہتے تھے ان باتوں میں قریش نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے گا تو ہم مسلمان ہو کر اس سونے کو ہر طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے یہ اس کا جواب اللہ نے دیا ہے کہ ایک صفا پہاڑ تو کیا دنیا میں جتنی سونے چاندی کی کانیں اللہ تعالیٰ کے خزانہ کی موجود ہیں ان سب کے یہ مالک بن جائیں جب بھی خرچ کرنے میں دل تنگی کریں گے کیونکہ ہر انسان کی جبلی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مال کے خرچ کرنے میں تنگدلی کرتا ہے۔ یہاں بعضے مفسروں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ بعضے آدمی ذاتی سخی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–100
(آیت (89:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و لقد صرفنا للناس فی ھذا القران من کل مثل ) ” اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال “ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے ‘ سوائے ان لوگوں کے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →185۔ انسان کی تنگ ظرفی کا ایک نمونہ ومظہر :۔
اگر تم لوگ رب کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو روک اور بند کرکے رکھتے اور ایسے میں تم لوگ کسی کو دینے اور بلاعوض دینے کا نام تک نہ لیتے۔ اور خود بھی رک رک کر خرچ کرتے کہ یہ خزانے کہیں خرچ اور ختم نہ ہوجائیں۔ مگر یہ اس واہب مطلق جل جلالہ۔ کا ایک عظیم الشان کرم واحسان ہے کہ اس نے ان خزانوں کو اپنے ہی قبضہ قدرت واختیار میں رکھا اور ان کو اپنی مخلوق پر اس بےمثال فیاضی اور بےنہایت کرم کے ساتھ تقسیم فرمایا اور لگا تار تقسیم فرما رہا ہے اور اس قدر کہ اس کا علم و احاطہ بھی اس وحدہ لاشریک کے سو اور کسی کے بس میں نہیں۔ فلک الحمدیا ربی حمدا یلیق لجلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
انہیں آپ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے میں ہی رکاوٹ پیش آ رہی ہے کہ کیا اللہ جل جلالہ نے بشر کو ایک انسان کو اپنا رسول بنایا ہے یعنی ان کے خیال میں جو انسان کھاتا پیتا ہے ، سوتا جاگتا ہے گرمی سردی محسوس کرتا ہے اس کے بیوی بچے ، گھر بار اور خاندان ہے تو گویا سارے احوال میں ایسا ہی ہے ، جیسے ہم لوگ ہیں ، تو بھلا اسے اللہ کا رسول کیونکر مان لیں ، اللہ جل جلالہ تو ہمارے سامنے آنے سے رہا تو پھر اللہ جل جلالہ کا حکم اس کے رسول سے ہی ملے گا تو گویا اللہ کے نام پر بھی اقتدار تو رسول اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا تو ہم ایسا کیوں ہونے دیں گے ہاں کوئی فرشتہ ہوتا جو عام اوصاف میں ہم سے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی کسی کو پھوٹی کوڑی نہیں دیتے۔ اس لئے آنحضرت کی نبوت و رسالت پر بھی حسد و بخل کرتے ہو۔ اوپر کی آیات میں ان کے جمود اور کفر کی مذمت تھی۔ اس آیت میں ان کے بخل کی مذمت ہے اور یہ دو بری صفات ہیں جن میں سے ایک کا ضرر لازم ہے اور دوسری کا متعدی ہے۔ ماقبل سے وجوہ ربط میں مختلف اقوال منقول ہیں مگر ان میں تکلف ہے۔ (روح)8 یا ” بڑاتنگ دل واقع ہوا ہے۔ “
Read the full tafseer →(17:100) لامسکتم۔ میں لام کے لئے ہے امسکتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ امساک سے تم ضرور روک رکھتے۔
خشیۃ۔ خوف۔ ڈر۔ منصوب بوجہ امسکتم کے مفعول لہ ہونے کے ہے۔ انفاق بروزن افعال۔ مصدر ہے بمعنی خرچ کرنا۔
قتورا۔ صیغہ صفت مشبہ، کنجوس طبیعت والا۔ بخیل۔ قتر۔ اسراف کی ضد ہے قرآن مجید میں ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔ (25:67) اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخیلی سے کام لیتے ہیں۔ اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان اعتدال میں رہتا ہے۔ قواما بوجہ کان کی خبر ہونے کے منصوب ہے۔ صاحب بیان القرآن اس آیت کے سابقہ آیات سے ربط کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ :۔
اوپر کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 100
نحشر ہم جمع کریں گے۔ وجوہ چہرے۔ عمی اندھے۔ بکم گونگے۔ صم بہرے۔ خبت بجھے گی (بجھ گئی) ۔ سعیر بھڑکانا۔
تشریح : آیت نمبر 97 تا 100
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو نہ تو بھٹکتے دیر لگتی ہے اور نہ ہدایت حاصل کرنے میں۔ صرف اللہ کی توفیق اور دستگیری سے انسان راہ پر حق پر چل کر منزل مراد تک پہنچتا ہے۔ اللہ کا نظام یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے لیکن جو شخص ایک دفعہ راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے تو اگر اللہ اس کی دستگیری نہ فرمائیں تو پھر ہدایت پر آنے کے لئے کوئی اس کا مددگار نہیں بنتا اور نہ اس کے…
Read the full tafseer →قریش مکہ کے معجزہ طلب کرنے کا ذکر
اوپر کی آیت میں قریش نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہوجاوے گا تو ہم مسلمان ہو کر اس سونے کو ہر طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔ یہ اس کا جواب دیا ہے کہ ایک صفا پہاڑ تو کیا دنیا میں جتنی سونے چاندی کی کانیں اللہ کے خزانے کی موجود ہیں، ان سب کے یہ مالک بن جاویں جب بھی خرچ کرنے میں تنگ دلی کریں گے کیونکہ ہر انسان کی جبلی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مال کے خرچ کرنے میں تنگ دلی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →[64] مشرکین نبی ﷺ کی نبوت کے لئے جو بےسروپا اور بےہودہ مطالبات کر رہے تھے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اگر آپ کو بلا حیل و حجت نبی مان لیتے تو ساتھ ہی آپ کی برتری بھی تسلیم کرنا پڑتی جس کے لئے وہ آمادہ نہ تھے۔ لہذا فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی بخیلی کا یہ حال ہے کہ کسی کی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا دل دکھتا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے خزانے ان کے حوالے کردیئے ہوتے تو وہ کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ دراصل اس قسم کے شبہات تمہارے دل میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تمہیں ان مسائل کے سمجھنے میں الجھن ہوتی ہے یا یہ مسائل ناقابل فہم ہیں ، بلکہ یہ انکار وتمرد محض اس لئے ہے کہ تم حضور ﷺ کی نبوت کو فراخدلی کے ساتھ برداشت نہیں کرسکے ، تمہارے دلوں میں بخل ہے اور تم نہیں چاہتے کہ محمد ﷺ یوں ان معارف کو ہر کس و ناکس کے سامنے پیش کریں اس میں تم اپنی توہین سمجھتے ہو نبوت کے خزانے اگر تمہیں ہلتے تو تم اس دریا دلی سے ہرگز خرچ کرتے تمہیں رنج ہے ، تو یہ ہے کہ ہدایت عام ہوئی جاتی ہے ، اور تم بڑے بڑے لوگوں کے لئے کوئی وجہ تخصیص نہی رہی ۔
بات یہ ہے کہ انسان فطرتا بخل…
Read the full tafseer →- 100 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمائیے اگر تم میرے پروردگار کی رحمت کے خزانوں کے مختار ہوتے تو تم ان خزانوں کو بھی اس خوف سے روک رکھتے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائیں اور انسان بڑا ہی دل تنگ واقع ہوا ہے۔ یعنی رحمت رب عام طور سے نبوت کے لئے قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اس لئے شاید یہ اس شبہ کا جواب ہو جو یہ منکر کیا کرتے تھے کہ ابن عبداللہ کو کیوں یہ قرآن کریم دیا گیا اور ان کو کیوں نبوت دی گئی ۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پروردگار کی رحمت کے خزانے تم کو دے دیئے جاتے تو تم اس میں بھی بخل کرتے اور خرچ ہوجانے کے خوف سے اپنا ہاتھ روک لیتے۔
چنانچہ ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے خزانے خود ہی…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی کبھی بھی کسی کو نہ دیتے، باجودیکہ وہ چیز ایسی ہوتی کہ دینے سے بھی نہ گھٹتی، مگر خود اس کے دینے ہی کو مثل خرچ کرنے کے سمجھ کر کسی کو بھی نہ دیتے، جیسے بعض لوگ علم کی بات غایت بخل سے نہیں بتلایا کرتے۔
Read the full tafseer →حیات اخروی پر رحمت الہی کی وسعت سے استدلال کیا ہے اس کی حقیقت ؟ :
118۔ انسان کی زندگی کیا ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا فیضان ہے ، یہ رحمت ہے جو چاہتی تھی کہ وجود ہو ‘ بناؤ ہو ‘ حسن ہو ‘ کمال ہو ‘ اور اس لئے سب کچھ ظہور میں آگیا ۔ اچھا اگر رحمت الہی کا یہ مقتضی ہوا کہ انسان کو زندگی ملی تو کیا اس رحمت کا مقتضی یہ نہ ہونا چاہئے تھا کہ زندگی صرف اتنی ہی نہ ہو اس کے بعد بھی ہو اور رحمت کا فیضان برابر جاری وساری رہے ؟ اس کی رحمت ابدی ہے پھر کیا اس کا فیضان رحمت دائمی نہ ہوگا ؟ اگر دائمی ہونا چاہئے تو کیوں انسانی زندگی اس سے محروم رہ جائے ؟ کیوں اس گوشہ میں کہ مخلوقات ارضی کا سب سے…
Read the full tafseer →Commentary
The truth of the matter about what has been said in the last verse (100) is that the treasures of the mercy of Allah are limit-less and end-less. They are never going to end, but man is by nature narrow-minded, short on courage. When it comes to giving, he is not motivated enough to share what he has with others.
Commentators generally take the expression 'the treasures of the Lord's blessing or mercy' to mean the treasures of wealth. This has its link with previous verses (90, 91) where the disbelievers of Makkah had demanded that the Holy Prophet ﷺ should - if he was really a…
Read the full tafseer →112. This verse also suggests the same thing that has already been mentioned in Ayat 55. This hints at the real psychological reason why the disbelievers of Makkah were not inclined to accept Muhammad (peace be upon him), their contemporary, as a Prophet. For thus they would have to acknowledge his superiority and one does not easily acknowledge the superiority of his contemporary. This verse may be expanded like this: Those people who are so narrow minded that they are unwilling even to acknowledge the real superiority of another, cannot be expected to be generous in spending on others, if…
Read the full tafseer →