Explained with ayahs 101–104
پانچ معجزے
حضرت موسیٰ ؑ کو تو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں ہاتھ کا چمکیلا بن جانا۔ لکڑی کا سانپ ہوجانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورة اعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔ ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں پھلوں کی کمی طوفان ٹڈیان جوئیں مینڈگ اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری ؒ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 113
واضح رہے کہ یہاں پھر کفار مکہ کو معجزات کے مطالبے پر جواب دیا گیا ہے، اور تیسرا جواب ہے۔ کفار کہتے تھے کہ ہم تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تم یہ اور یہ کام کر کے نہ دکھاؤ۔ جواب میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے فرعون کو ایسے ہی صریح معجزات، ایک دو نہیں، پے در پے 9 دکھائے گئے تھے، پھر تمہیں معلوم ہے کہ جو نہ ماننا چاہتا تھا اس نے انہیں دیکھ کر کیا کہا ؟ اور یہ بھی خبر ہے کہ جب اس نے معجزات دیکھ کر بھی نبی کو جھٹلایا تو اس کا انجام کیا ہوا ؟
وہ نو نشانیاں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، اس سے پہلے سورة اعراف میں گزر چکی ہیں۔ یعنی عصاء، جو اژدہا بن جاتا تھا، ید بیضاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے…
Read the full tafseer →مطالبۂ معجزات کا جواب : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لأظُنُّكَ يَا مُوسَى مَسْحُورًا۔
اوپر آیت 90 سے 93 تک ان معجزات کا ذکر گزر چکا ہے جن کا قریش مطالبہ کرتے تھے۔ یہ اسی مطالبہ کا جواب ہے کہ ایمان و ہدایت کی راہ معجزات سے نصیب نہیں ہوتی۔ ہم نے موسیٰ کو فرعون کی طلب پر نو نہایت کھلے کھلے معجزے دیے لیکن فرعون نے یہ سارے معجزے دیکھ کر کہا تو یہ کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے اثر سے تم اس قسم کی بہکی بہکی باتیں میرے سامنے کرنے لگے ہو۔ مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
11۔ 1 وہ نو معجزے ہیں۔ ہاتھ، لاٹھی، قحط سالی، نقص ثمرات، طوفان، جراد (ٹڈی دل) قمل (کھٹمل، جوئیں) ضفاد (مینڈک) اور خون، امام حسن بصری کہتے ہیں، کہ قحط سالی اور نقص ثمرات ایک ہی چیز ہے اور نواں معجزہ لاٹھی کا جادو گروں کی شعبدہ بازی کو نگل جانا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو ان کے علاوہ بھی معجزات دیئے گئے تھے مثلًا لاٹھی کا پتھر پر مارنا، جس سے بارہ چشمے ظاہر ہوگئے تھے، بادلوں کا سایہ کرنا، من وسلوی وغیرہ۔ لیکن یہاں آیات تسعہ سے صرف وہی نو معجزات مراد ہیں، جن کا مشاہدہ فرعون اور اس کی قوم نے کیا۔ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے انفلاق بحر (سمندر کا پھٹ کر راستہ بن جانے) کو بھی ان نو معجزات میں شمار کیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
53: ایک صحیح حدیث میں ان نو نشانیوں کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نو احکام تھے : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل یا سزا کے لئے پیش نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو، اور جہاد میں پیٹھ دکھاکر نہ بھاگو۔
(ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ
Read the full tafseer →قصہ بنی اسرائیل کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ سورت کے مضمون کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ مسجد اقصیٰ اور بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ یہاں دیا گیا ہے۔ اس قصے کے آخر میں بھی آخرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے آنے کا تذکرہ ہے۔ یہ ان مناظر قیامت کی مناسبت سے ہے جو ابھی سورت میں گزرے تھے اور جن میں بتایا گیا تھا کہ مکذبین کا انجام کیا ہونے والا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات جن کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا وہ یدبیضا ، عصا ، فرعون اور اس کی قوم پر خشک سالی ، ہر قسم کی پیداوار کی کمی ، طوفان ، ٹڈی دل ، قمل ، مینڈک اور خون تھے۔
فسئل بنی اسرائیل ……(71 : 101) ” فرعون نے اس…
Read the full tafseer →6 یعنی جیسے آپ ﷺ کو فضل و رحمت سے قرآن عظیم دیا اور بہت کچھ مہربانیاں آپ ﷺ پر فرمائیں، ہم پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو صداقت کے نو کھلے ہوئے نشانات (معجزات) ان کے مناسب حال عنایت فرما چکے ہیں جب کہ وہ " بنی اسرائیل " کے پاس فرعون کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اگر چاہو تو " بنی اسرائیل " کے باخبر اور منصف مزاج علماء سے پوچھ دیکھو کہ یہ واقعہ کہاں تک صحیح ہے۔
(تنبیہ) وہ نو معجزات یہ ہیں یدبیضا، عصا، سنین، نقص ثمرات، طوفان، جراد، قمل، ضفادِع، دم۔ سورة " اعراف " آیت (فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ…
Read the full tafseer →آیت 101 وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ
ان میں سے دو نشانیاں تو وہ تھیں جو آپ کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ید بیضا۔ ان کے علاوہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کی آیات 130 اور 133 میں ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف قسم کے عذاب تھے قحط سالی پھلوں اور فصلوں کا نقصان طوفان ٹڈی دل چچڑیاں مینڈک اور خون جو مصر میں قوم فرعون پر مختلف اوقات میں آتے رہے۔ جب وہ لوگ عذاب کی تکالیف سے تنگ آتے تو اسے ٹالنے کے لیے حضرت موسیٰ سے دعا کی درخواست کرتے اور حضرت موسیٰ کی دعا سے وہ عذاب ٹل جاتا۔
یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورت کے آغاز میں بھی…
Read the full tafseer →119 سیدنا موسیٰ کے نو معجزات :۔ یہ نو واضح آیات یا معجزے قرآن کریم میں سورة اعراف میں مذکور ہیں اور یہ ہیں عصائے 1 موسیٰ ، ید 2 بیضا، بھری مجلس 3 میں برسرعام جادوگروں کی شکست، سارے ملک میں قحط واقع ہونا، یکے بعد دیگر طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں، اور خون کی بلاؤں کا نازل ہونا۔ یہ ایسے واضح معجزات تھے جو سیدنا موسیٰ کی نبوت پر بھی واضح دلائل تھے اور ان کے قلبی اطمینان کے لیے بھی کافی تھے لیکن وہ پھر بھی ایمان نہ لائے اس کی وجہ بھی وہی ہے جو اوپر کے حاشیہ میں مذکور ہوئی ہے۔ قریش کا بھی یہی حال تھا۔ کچھ معجزات تو وہ دیکھ چکے تھے مگر ایمان نہ لائے تھے۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر ان کے مطلوبہ…
Read the full tafseer →146۔ ان کے متدین اہل علم سے اس کی تصدیق وتحقیق کرلیجئے۔ (آیت) ” تسع ایت بینت “۔ ملاحظہ ہو پارہ 9 رکوع کی آیت اول۔
147۔ (اور اس لئے عقل وہوش سے عاری) سحر مصری کا ذکر پیشتر آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
آیت نمبر 101 تا 111
ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نوکھلے ہوئے نشانات (قدرت یعنی
معجزات) دیئے تھے۔ (تعیین معجزات میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کے نزدیک نو معجزات یہ تھے عصا ‘ ید بیضا ‘ و زبان کی گرہ کھل جانا ‘ سمندر کا لاٹھی کی ضرب سے پھٹ جانا ‘ طوفان ‘ ٹڈیاں ‘ مینڈک ‘ خون۔ عکرمہ ‘ مجاہد اور عطاء کے نزدیک نو معجزات یہ تھے طوفان ‘ ٹڈیاں ‘ جوئیں ‘ مینڈک ‘ خون ‘ عصا ‘ یدبیضا ‘ قحط ‘ پھلوں کی کمی۔ قبطیوں میں سے ایک شخص اپنی بی بی کے ساتھ ایک بستر پر سو رہا تھا (شاید حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی بددعا سے) دونوں پتھر بن گئے۔ ایک عورت کھڑی روٹی…
Read the full tafseer →(101) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نومعجزے یعنی یدبیضاء، عصا، طوفان، ٹڈیاں، گھن کے کیڑے، مینڈک، خون، قحط سالی، اور مالوں کی کمی و بربادی دیے جب کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے۔
آپ مثلا حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں سے بھی پوچھ کر دیکھ لیجیے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ تم ضرور مغلوب العقل ہو۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ۔۔ : یعنی ہم موسیٰ ؑ کو ایسے نو (9) معجزے دے چکے ہیں جو ان کی نبوت پر کھلی نشانی تھے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور قریش کو اس مطالبے کا جواب دیا ہے جو انھوں نے نبی ﷺ سے کیا تھا کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ یہ کام کرکے نہ دکھا دیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ سے تو چھ معجزوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، ہم نے موسیٰ ؑ کو نو معجزے دیے، مگر نہ ماننے والوں نے پھر بھی نہ مانا۔ ان نو (9) معجزوں کا ذکر سورة اعراف کی آیات (107، 108، 130، 133) میں ہے۔ بعض نے ان سے شریعت کے نو (9) احکام مراد لیے ہیں، جو تمام شریعتوں میں ثابت تھے، مگر صحیح یہی ہے کہ یہاں نو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 101
قولہ تعالیٰ : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایٹ بینت ان آیات میں اختلاف ہے، پس یہ کہا گیا ہے کہ یہ کتاب کی آیات کے معنی میں ہیں، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے صفوان بن عسال مرادی سے روایت کیا ہے کہ وہ یہودی تھے ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی کو کہا : ہمارے ساتھ چلو اس نبی کے پاس ہم اس سے کچھ سوال کرتے ہیں، تو اس نے کہا : تو اسے نبی نہ کہہ کیونکہ اگر اس نے ہمیں سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی (یعنی وہ بہت زیادہ خوش ہوجائے گا) ، پس وہ دونوں حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ سے اس قول باری تعالیٰ کے بارے پوچھا : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
1:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم کے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “ سے مراد یہ نشانیاں ہیں یدبیضاء، عصا، طوفان، مکڑی، چیچڑی، مینڈک، خون قحط سالی اور پھلوں میں نقصان (یہ نومعجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے)
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تسع ایت بینت “ سے مراد ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ انکی لاٹھی انکی زبان، سمندری، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور خون (یہ ان کے معجزات تھے)
3:۔ طیالسی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا : اور بیشک ہم نے دی تھیں ] [مُوْسٰي : موسٰی (علیہ السلام) کو ] [تِسْعَ : نو ] [اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح نشانیاں ] [فَسْــــَٔـلْ : تو آپ ﷺ پوچھیں ] [بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل سے ] [اِذْ : جب ] [جَاۗءَ : وہ (علیہ السلام) آئے ] [هُمْ : ان کے پاس ] [فَقَالَ : تو کہا ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) سے ] [فِرْعَوْنُ : فرعون نے ] [انى: بیشک میں ] [لَاَظُنُّكَ : یقینی گمان کرتا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [يٰمُوْسٰي : اے موسٰی (علیہ السلام) ] [مَسْحُوْرًا : جادو کیا ہوا ]
نوٹ۔ 1: منکرین حدیث نے احادیث پر جو اعتراضات کئے ہیں ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ حدیث کی رو سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں دیں فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ غرق کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ زمین میں رہو سہو
ابتدائے سورت میں واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کے بعض واقعات بیان فرمائے اور ان سے فرمایا (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اس کے بعد مشرکین کے اعمال و اقوال اور عقیدہ شرک کی تردید فرمائی اور درمیان میں بعض مامورات اور منہیات بھی ذکر فرما دئیے پھر مشرکین کے عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا اب سورت کے ختم ہونے کے قریب بھی بنی اسرائیل اور ان کے دشمن فرعون کا تذکرہ فرمایا جس میں بنی اسرائیل یعنی یہود کے لیے اور تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔
جس طرح وہ متکبر اور جبار…
Read the full tafseer →87:۔ یہ پانچویں آیت معجزہ ہے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو واضح معجزے دئیے بنی اسرائیل کے علماء سے پوچھ لیجئے وہ اس بات کی تصدیق کرینگے لیکن بجائے اس کے کہ فرعون اور اس کی قوم ان معجزات واضحہ کو دیکھ کر ان پر ایمان لاتے انہوں نے ان معجزات کو جادو اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر قرار دیا اور اللہ کی توحید کو ٹھکرا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرعونیوں کو غرق کردیا گیا۔ اب اے مشرکین مکہ ! اگر تم نے بھی معجزہ معراج معجزہ قرآن اور دیگر معجزات دیکھنے کے بعد مسئلہ توحید کو نہ مانا تو ہلاک کردئیے جاؤ گے۔ اس طرح یہ آیت ابتدائے سورت سے متعلق ہوگی۔ یا یہ آیت ” سنۃ من قد ارسلنا “ سے متعلق ہے یعنی جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار ومشرکین کے تعصب ، ضد اور عناد کا ذکر کیا کہ وہ بیہودہ فرمائشیں کرتے تھے ، اللہ کی توحید کا انکار کرتے تھے رسالت ونبوت پر اعتراضات کرتے تھے اور معاد کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، ان اعتراضات کا جواب گذشتہ درس میں دیا جا چکا ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیوں اور فرعون اور قوم فرعون کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے اس سے اہل ایمان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح قوم فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کی واض ح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائی تھی ، اسی طرح مشرکین اپنی مطوبہ نشانیاں پا کر بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا 101
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
2 ؎ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ دویہودیوں نے آ کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ نو نشانیاں کون سی دی تھیں ؟ آپ نے جواب شافی دیا، ان کو بیان کردیا انہوں نے ہاتھ پائوں چوم لیے اور کہا تو بیشک نبی ہے فقیر کہتا ہے کہ ان نشانیوں سے مراد جو یہود نے پوچھی تھیں احکام عشرہ تھے جو توریت میں موجود ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرک نہ کرو الخ اور یہاں تو معجزات مراد ہیں۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِذْجَآئَ ھُمْ فَقَالَ لَہٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّکَ یٰـمُوْسٰی مَسْحُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 101)
(اور ہم نے عطا فرمائی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو 9 کھلی ہوئی نشانیاں، آپ خود بنی اسرائیل سے پوچھ لیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تم کو ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیے گئے معجزات اور فرعون پر ان کا اثر
آیت 90 سے 93 تک ان معجزات کا ذکر گزر چکا ہے قریش جن کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ آیت اسی کا جواب معلوم ہوتی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اہل مکہ نے اپنی طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں آکر نبی معظم ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اسی طرح ہی فرعون نے مال واسباب اور اقتدار کے نشے میں آکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا تھا۔ حالانکہ اس کے سامنے بڑے بڑے معجزات پیش کیے گئے۔
سورۃ مزمل کی آیت : 15 میں نبی ﷺ کی نبوت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے مماثل قرار دیا ہے۔ اس لیے قرآن میں جابجا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک طرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف اہل مکہ کے انجام کی طرف اشارہ اور مومنوں کو سمجھایا گیا ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو حق و باطل کی…
Read the full tafseer →نو معجزات موسوی :
101: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ (بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلے ہوئے نو معجزات دیے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ عصا، یدبیضاء، مکڑی، جوئیں، مینڈک، خون، پتھر بن جانا، سمندر اور طور ہیں۔ جس کو بنی اسرائیل پر لٹکایا۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں وہ طوفان، قحط سالی، نقص ثمرات، اشیاء کا پتھر بننا، سمندر، طور ہیں۔
فَسْئَلْ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (پھر ہم نے کہا تم بنی اسرائیل کو (فرعون سے) مانگ لو) یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا بنی اسرائیل کو فرعون سے مانگ اور اس طرح کہہ فارسل معی بنی اسرائیل ] الاعراف : 105[ اِذْ جَآ ئَ ھُمْ (جب کہ وہ ان کے…
Read the full tafseer →101۔” ولقد آتینا موسیٰ آیات بینات “ کھلے معجزات اور کھلے دلائل
تسع آیات کی تفسیر
آیات تسع سے مراد ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے کہ نو معجزات ہیں ۔ عصا ، ید بیضا ، زبان کی گرہ کھل جانا ، سمندر کا لاٹھی کی ضرب سے کھل جانا ، طوفان ، ٹڈیاں ، مینڈک ، خون۔
عکرمہ، مجاہد ، قتادہ اور عطاء کا قول ہے کہ اس سے مراد نو معجزات ہیں وہ یہ ہیں طوفان ، ٹڈیاں ، جوئیں ، مینڈک ، خون ، عصا ، ید بیضاء ، قحط ، پھلوں کی کمی ، محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ طمس ( صورتوں کا بدل جانا) اور بحر ( سمندر کو پھاڑنا) اور پھلوں کی کمی کا ہونا ہے اور فرمایا کہ قبطیوں میں سے ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا، وہ دونوں پتھر بن…
Read the full tafseer →101۔ مسند امام احمد بن حنبل، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور تفسیر ابن جریر میں اس آیت کی شان نزول صفوان بن عسال ؓ کی روایت سے یوں بیان کی گئی ہے کہ دو یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے ان نو معجزوں کی تفصیل پوچھی جن کا ذکر اس آیت میں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا شرک نہ کرنا چوری نہ کرنا بدکاری نہ کرنا قتل بےجا نہ کرنا جادو نہ کرنا سود نہ کھانا بادشاہ وقت سے چغلی نہ کھانا پارسا عورتوں پر بدکاری کا بہتان نہ لگانا دین کی لڑائی سے نہ بھاگنا یہ جواب سن کر ان یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا اور کہا ہم اپنی قوم کے لوگوں سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم کو مار ڈالیں گے 1 ؎۔ اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے 2 ؎۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
(آیت نمبر (101
یعنی اے رسول ! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے۔۔۔ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی ہم نے اپ ﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا ‘ ہم نے انہیں عطا کیے (تسع ایت بینت ) ” نو معجزات “ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں ایک ہی معجزہ کافی ہے۔۔۔ جیسے اژدہا ‘ عصا ‘ طوفانً ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جوئیں ‘ مینڈ ‘ خون ‘ یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے (فسعل بنی اسرائیل اذا جاء کم فقال لہ فرعون ) ” تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو ( ان معجزات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–105
اعجاز قرآن
قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…
Read the full tafseer →186۔ ایمان و ہدایت سے سرفرازی کی اصل بنیاد طلب صادق ہے :۔
سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و ہدایت سے سرفرازی کا ذریعہ معجزات نہیں بلکہ طلب صادق ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور بلاشبہ ہم ہی نے موسیٰ کو عطا کی تھیں نوکھلی نشانیاں “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نشانیوں اور عظیم معجزات سے نوازا تھا۔ تفسیر مراغی واغیرہ میں اس موقع پر سولہ بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس لئے ان نونشانیوں کی نعیین و تخصیص میں حضرات علماء ومفسریں کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ ابن جریر اور ابن منذر وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ نونشانیاں یہ ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–111
کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا
تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–111
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ایسے نو معجزے د کے چکے ہیں جو ان کی نبوت پر کھلی نشانی تھے اس میں آنحضرت کو تسلی دی ہے اور قریش کو اس مطالبہ کا جواب دیا ہے جو انہوں نے نبی ﷺ سے کیا تھا کہ ہم آپ پر ایمان لائیں گے جب تک کہ آپ یہ کام کر کے نہ دکھا دیں مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نو معجزے دیئے مگر نہ ماننے والوں نے پھر بھی نہ مانا۔ ان آیات تسعہ “ کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے یعنی طوفان ٹٹڈی، جوئیں، مینڈک، خون، عصا، یدبیضا، قحط اور پیداوار کی کمی بعض نے تسع آیات سے نواحکام عامہ مراد لئے ہیں جو10 یہ بالکل اسی قسم کا الزام ہے جو کفار مکہ آنحضرت کو دیتے تھے۔ ان تبتعون الا رجلاً مسحورا (فرقان 8) ہر زمانے میں…
Read the full tafseer →(17:101) تسع ایت بینت۔ نوواضح نشانیاں۔
(1) عصا۔ واعصاک فلما راھا تھتز کانھا جان ولی مدبرا ولم یعقب (27:10) اور تم اپنا عصا ڈال دو پھر جب اس نے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے جیسے سانپ (کرتا ہے) تو وہ پیٹھ پھیر کر پیچھے بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
(2) ید ِ بیضاء وادخل یدک فی حبیبک تخرج بیضاء من غیر سوء فی تسع ایات الی فرعون وقومہ (27:12) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر لے جا تو وہ بلا کسی عیب کے بالکل سفید ہو کر نکلے گا (یہ نو معجزات میں سے ہیں جو فرعون اور اس کی قوم تک (تو لے جائے گا) ۔
(3) شق ہونا سمندر کا۔ واذ فرقنا بکم البحر فانجیناکم واغرقنا ال فرعون (2:50) اور (وہ وقت یاد کرو) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109
تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔
تشریح : آیت نمبر 101 تا 109
انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کا ذکر
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ نشانیاں یہ تھیں : (1) عصا (2) ید بیضا (3) قحط سالی (4) پھول پھل کا نقصان (5) طوفان کا آنا (6) ٹڈی کا آنا (7) جوؤں کی کثرت (8) مینڈک کا ہونا (9) خون کا ہونا۔ ان معجزوں کا ذکر کرنا یہ ایک اشارہ ہے کہ محمد ﷺ کچھ نئے رسول نہیں جو تم کہتے ہو فرشتہ رسول کیوں نہ ہوا ان سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوچکے ہیں اور چونکہ تم ان سے معجزات ایمان لانے کے لئے نہیں مانگتے بلکہ محض عناد وسرکشی سے سو یہ ہماری عادت نہیں ، ورنہ ہم نے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیا نو معجزات کھلے کھلے نہیں دیئے تھے۔ جس طرح تم محمد ﷺ سے مقابلہ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
[65] یہاں پھر مشرکین کے معجزوں کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جن معجزوں کا مطالبہ تم کررہے ہو تو فرعون کو بھی ایسے ہی نو صریح معجزات دکھائے گئے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کو جھٹلایا۔ ان نو معجزات کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ دراصل اس قسم کے شبہات تمہارے دل میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تمہیں ان مسائل کے سمجھنے میں الجھن ہوتی ہے یا یہ مسائل ناقابل فہم ہیں ، بلکہ یہ انکار وتمرد محض اس لئے ہے کہ تم حضور ﷺ کی نبوت کو فراخدلی کے ساتھ برداشت نہیں کرسکے ، تمہارے دلوں میں بخل ہے اور تم نہیں چاہتے کہ محمد ﷺ یوں ان معارف کو ہر کس و ناکس کے سامنے پیش کریں اس میں تم اپنی توہین سمجھتے ہو نبوت کے خزانے اگر تمہیں ہلتے تو تم اس دریا دلی سے ہرگز خرچ کرتے تمہیں رنج ہے ، تو یہ ہے کہ ہدایت عام ہوئی جاتی ہے ، اور تم بڑے بڑے لوگوں کے لئے کوئی وجہ تخصیص نہی رہی ۔
بات یہ ہے کہ انسان فطرتا بخل…
Read the full tafseer →- 10 1 اور یقینا ہم نے موسیٰ کو جب کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے نو نشانیاں واضح اور کھلی ہوئی دی تھیں آپ بنی اسرائیل سے دریافت کر دیکھئے پس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تیرے متعلق یہ خیال کرتا ہوں کہ تو سحر زدہ ہے اور تجھ پر جادو کردیا گیا ہے یعنی یہ نونشانیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت عطا ہوئی تھیں جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو فرعونی مظالم سے نجات دلانے کے لئے تشریف لائے یہ نونشانیاں نویں پارے میں مذکور ہوچکی ہیں چونکہ یہ نشانیاں بنی اسرائیل اور ان کے علماء کو معلوم تھیں ، اس لئے فرمایا بنی اسرائیل سے پوچھو دیکھو، جب حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ف 3۔ جن کا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری گئی نونشانیوں کا ذکر اور قوم کا جادو قرار دینا :
119۔ زیر نظر آیت میں کفار مکہ کے معجزات کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے ، کفار کہتے تھے کہ ہم تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تم یہ کام کر کے نہ دکھاؤ اور اب جواب میں ان کو کہا جارہا ہے کہ تم سے پہلے فرعون کو ایسے ہی صریح معجزات پے درپے 9 تک دکھائے گئے لیکن نہ ماننے والوں نے کیا ان کو مان لیا ؟ اگر نہیں تو کیا ہم نے نہ ماننے والوں کو پھر چھوڑ دیا تھا ؟ نہیں ‘ تو ہماری سنت یہی چلی آرہی ہے کہ ہم نشانیاں اتار دیتے ہیں جب چاہتے ہیں اور پھر وہ قوم جس کو کوئی نشانی دکھائی جاتی ہے اگر اس نشانی کو دیکھ کر باز نہ آئے تو ہم اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–108
Commentary
The first verse (101): وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ mentions the bestowal of nine clear signs on Sayyidna Musa (علیہ السلام) . The word: آیَہ ('ayah) carries the meaning of miracle or sign as well as that of the آیَت : ayat or verses of the Qur'an, that is, the divine injunctions. At this place, the probability of both meanings exists. Therefore, a number of commentators have taken the word 'ayat' to mean miracles - and the number nine does not make it necessary that they will not be more than nine - but, at this place, the figure 'nine' has been mentioned on the basis…
Read the full tafseer →113. It should be noted that this is the third answer to the demand of the disbelievers of Makkah for signs. They said: We will not believe in you until you do this and do that before our eyes. In answer to this demand, they are being warned: Nine clear signs, like the ones you are demanding, were shown one after the other to Pharaoh before you and you also know well what he said, simply because he did not want to believe in Moses (peace be upon him); you also know that when he rejected the Prophet, even after seeing the signs, We drowned him.
The nine signs mentioned here have also been…
Read the full tafseer →