Al-Israa 17:102

Al-Israa · from ayah 102

17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ ۚ— وَاِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا ۟قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰٓؤُلَاۤءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآئِرَ‌ ۚ وَاِنِّىۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا‏

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "You have already known that none has sent down these [signs] except the Lord of the heavens and the earth as evidence, and indeed I think, O Pharaoh, that you are destroyed."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 12 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:102

موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا "تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب السماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون، تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہ ساری نشانیاں کسی اور نے نہیں، آسمانوں اور زمین کے پروردگار نے بصیرت پیدا کرنے کے لیے نازل کی ہیں۔ اور اے فرعون ! تمہارے بارے میں میرا گمان یہ ہے کہ تمہاری بربادی آنے والی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا یقیناً تو خوب جانتا ہے کہ انہیں نہ اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے مالک نے دل کی آنکھیں کھولنے والیاں اور میرے گمان میں تو اے فرعون! تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

موسٰی ؑ نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تم ہلاک زدہ ہو (تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں اور یقینا میں تو اے فرعون ! تجھے ہلاک کیا ہوا سمجھتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے جواب دیا : تو خوب جانتا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو اس ہستی نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور اے فرعون ! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تو ہلاک ہو کے رہے گا ؟۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے جواب دیا کہ کہ تجھے خوب معلوم ہے کہ ان کو آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے اتار ہے آنکھیں کھول دینے کے لیے اور میں تو تم کو اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے جواب میں کہا کہ تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے مالک کے سوا اور کسی نے نہیں اتارا اور میں تجھے اے فرعون، قطعی طور پر ایک ہلاک ہونے والا انسان سمجھتا ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

انہوں نے کہا تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائب بس آسمانوں اور زمین کے پروردگار ہی نے بھیجے ہیں اور میں تجھے اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ نے کہا : تجھے خوب معلوم ہے کہ نہیں نازل کیا ان (نشانیوں) کو مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے آنکھیں کھول دینے کے لیے اور اے فرعون ! میں تو تمہیں ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا اور یہ بھی تم لوگوں کے سمجھانے کو اور اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses replied: "You know well that no one but the Lord of the heavens and the earth has sent these as eye-opening proofs. I truly think, O Pharaoh, that you are indeed doomed."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said, :You know well that these (signs) are sent down by none but by the Lord of the heavens and the earth as eye-openers. And, I am afraid O Pharaoh, you are going to be destroyed.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said, :You know well that these (signs) are sent down by none but by the Lord of the heavens and the earth as eye-openers. And, I am afraid O Pharaoh, you are going to be destroyed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Verily, you know that these signs have been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth. And I think you are indeed, O Fir`awn, doomed to destruction!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: In truth thou knowest that none sent down these (portents) save the Lord of the heavens and the earth as proofs, and lo! (for my part) I deem thee lost, O Pharaoh.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "You have already known that none has sent down these [signs] except the Lord of the heavens and the earth as evidence, and indeed I think, O Pharaoh, that you are destroyed."

— Saheeh International

He replied, "Certainly you have come to know that these have been sent by the Lord of the heavens and the earth as lessons to people. Pharaoh, I believe that you are doomed to perdition.

— Muhammad Sarwar

He said: Truly you know that none but the Lord of the heavens and the earth has sent down these as clear proof and most surely I believe you, O Firon, to be given over to perdition.

— Muhammad Habib Shakir

Musa said: assuredly thou knowest that none hath sent down these save the Lord of the heavens and the earth as an enlightenment; and verily imagine thee, Fir'awn, doomed.

— Abdul Majid Daryabadi

Moses said, "Thou knowest well that these things have been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth as eye-opening evidence: and I consider thee indeed, O Pharaoh, to be one doomed to destruction!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–104

پانچ معجزے حضرت موسیٰ ؑ کو تو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں ہاتھ کا چمکیلا بن جانا۔ لکڑی کا سانپ ہوجانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورة اعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔ ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں پھلوں کی کمی طوفان ٹڈیان جوئیں مینڈگ اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری ؒ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 102–103

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 115 یہ بات حضرت موسیٰ ؑ نے اس لیے فرمائی کہ کسی ملک پر قحط آجانا، یا لاکھوں مربع میل زمین پر پھیلے ہوئے علاقے میں مینڈکوں کا ایک بلا کی طرح نکلنا، یا تمام ملک کے غلے کے گوداموں میں گھن لگ جانا، اور ایسے ہی دوسرے عام مصائب کسی جادو گر کے جادو، یا کسی انسانی طاقت کے کرتب سے رونما نہیں ہو سکتے۔ پھر جبکہ ہر بلا کے نزول سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ فرعون کو نوٹس دے دیتے تھے کہ اگر تو اپنی ہٹ سے باز نہ آیا تو یہ بلا تیری سلطنت پر مسلط کی جائے گی، اور ٹھیک ان کے بیان کے مطابق وہی بلا پوری سلطنت پر نازل ہوجاتی تھی، تو اس صورت میں صرف ایک دیوانہ یا ایک سخت ہٹ دھرم آدمی ہی یہ کہہ سکتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–108

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ کا جواب فرعون کو : قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلاءِ إِلا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لأظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا۔ " مثبورا " کے معنی ہلاکت زدہ کے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کو جواب بالکل ترکی بہ ترکی دیا۔ فرمایا کہ تجھے خوب مدلوم ہے کہ یہ معجزے کسی سحر و شعبدہ کے کرشمے نہیں ہوسکتے۔ ان کی نوعیت ہی گواہی دیتی ہے کہ ان کو اتار سکتا ہے تو آسمانوں اور زمین کا رب ہی اتار سکتا ہے اور اسی نے تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے ان کو اتارا ہے۔ اگر ان کو دیکھنے کے بعد بھی تیری آنکھیں نہیں کھلیں تو تجھ پر اللہ کی حجت تمام ہوگئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تیری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 101–103

11۔ 1 وہ نو معجزے ہیں۔ ہاتھ، لاٹھی، قحط سالی، نقص ثمرات، طوفان، جراد (ٹڈی دل) قمل (کھٹمل، جوئیں) ضفاد (مینڈک) اور خون، امام حسن بصری کہتے ہیں، کہ قحط سالی اور نقص ثمرات ایک ہی چیز ہے اور نواں معجزہ لاٹھی کا جادو گروں کی شعبدہ بازی کو نگل جانا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو ان کے علاوہ بھی معجزات دیئے گئے تھے مثلًا لاٹھی کا پتھر پر مارنا، جس سے بارہ چشمے ظاہر ہوگئے تھے، بادلوں کا سایہ کرنا، من وسلوی وغیرہ۔ لیکن یہاں آیات تسعہ سے صرف وہی نو معجزات مراد ہیں، جن کا مشاہدہ فرعون اور اس کی قوم نے کیا۔ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے انفلاق بحر (سمندر کا پھٹ کر راستہ بن جانے) کو بھی ان نو معجزات میں شمار کیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–107

53: ایک صحیح حدیث میں ان نو نشانیوں کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نو احکام تھے : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل یا سزا کے لئے پیش نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو، اور جہاد میں پیٹھ دکھاکر نہ بھاگو۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال لقد ……(71 : 201) ” انہوں نے کہا ، تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں ، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے “۔ تو ہلاک ہونے والا اور تہس نہس ہونے والا ہے۔ کیونکہ تو آیات اہلیہ کی تکذیب کر رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ان خارق عادت معجزات کا صدور و ظہور نہیں کرسکتا۔ یہ نہایت ہی واضح اور بصیرت افروز نشانیاں ہیں۔ گویا یہ نشانیاں خود انکھیں ہیں جن کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اب یہ سرکش آدمی اپنی مادی قوت کا سارا لیتا ہے۔ اور یہ عزم کرتا ہے کہ وہ موسیٰ کو زمین سے نکال کر ان کی قوم کو تباہ برباد کردے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی گو زبان سے انکار کرتا ہے مگر تیرا دل خوب جانتا ہے کہ یہ عظیم الشان نشان تیری آنکھیں کھولنے کے لیے اسی خدائے قادر و توانا نے دکھلائے ہیں جو آسمان و زمین کا سچا مالک ہے۔ اب جو شخص جان بوجھ کر محض ظلم وتکبر کی راہ سے حق کا انکار کرے اس کی نسبت بجز اس کے کیا خیال کیا جاسکتا ہے کہ تباہی کی گھڑی اس کے سر پر آپہنچی۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ " ایمان " جاننے کا نام نہیں، ماننے کا نام ہے۔ (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) 27 ۔ النمل :14)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا ایک تو حضرت موسیٰ کا مزاج جلالی تھا دوسرے آپ بچپن سے اس فرعون کے ساتھ پلے بڑھے تھے ‘ اس طرح اس کی حیثیت آپ کے چھوٹے بھائی کی سی تھی۔ چناچہ آپ نے بڑے با رعب انداز میں بلا جھجک جواب دیا کہ تمہیں تو مجھ پر جادو کے اثر کا گمان ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ تو رب کائنات کی بصیرت افروز واضح نشانیوں کو جھٹلا کر اپنی ہلاکت اور بربادی کو یقینی بنا چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

121 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھڑلے سے جواب دیا۔ بات یوں نہیں جو تم مجھے کہہ رہے ہو بلکہ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری تباہی کے دن قریب آگئے ہیں جو اتنے واضح معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لارہے۔ تمہارے جادوگر تو حقیقت کو سمجھ کر ایمان لاچکے ہیں پھر بھی تمہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ جادو کی شعبدہ بازیوں سے نہ کسی ملک میں کبھی قحط پڑا ہے، نہ پڑ سکتا ہے، پوری قوم پر طرح طرح کے عذاب لانا جادوگروں کی بساط سے باہر ہے۔ ایسے کام صرف وہ ہستی کرسکتی ہے جو قادر مطلق اور مختار کل ہو اور اگر تم یہ سب کچھ دیکھ کر اس ہستی پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو تمہیں اپنے انجام کی فکر کرنا چاہیئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

148۔ یعنی تیری ہلاکت کا وقت آپہنچا۔ اب اس میں زیادہ دیر نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب قول فرعون (آیت) ” انی لاظنک یموسی مسحورا “۔ عین مقابل ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جواب ترکی بہ ترکی۔ ، جب کہ تسامح ورعایت میں کوئی مصلحت نہ ہو، کرم اور کمال اخلاق کے منافی نہیں۔ (آیت) ” قال لقد علمت “۔ یعنی اے فرعون تیرا یہ انکار دانستہ اور عمدا ہے۔ تو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں۔ دل میں تو خوب میری صداقت کو سمجھ گیا ہے۔ انکار زبان ہی کئے چلی جارہی ہے۔ بائبل کے بیانات سے بھی قرآن ہی کی تائید ہوتی ہے۔ (آیت) ” رب السموت والارض “۔ حق تعالیٰ کا نام فرعون کے سامنے اسی حیثیت سے لینے میں ایک نکتہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–111

آیت نمبر 101 تا 111 ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا : موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تو جانتا ہے (یعنی دل میں) کہ یہ (عجائبات) خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں جو بصیرت حاصل کرنے کے کافی ذرائع ہیں اور میرے خیال میں ضرور تیری کم بختی کے دن آگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(102) حضرت موسیٰ ؑ نے اس سے فرمایا اے فرعون تو اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ موسیٰ پر یہ عجائبات خاص رب العالمین نے نازل کیے ہیں جو کہ میری نبوت کی دلیل اور اس کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔ اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ کفر کی حالت میں تو برے طریقہ سے تباہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : یعنی مجھ پر تو کسی نے جادو نہیں کیا، مگر تو جو ان معجزات کو دیکھ لینے اور ان کے اللہ کی طرف سے ہونے کے یقین کے باوجود اپنی ضد پر قائم ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیری تباہی کے دن قریب آگئے ہیں۔ ”ثُبُوْرٌ“ کا معنی ہلاکت ہے۔ دیکھیے فرقان (14) اس مفہوم کی آیت سورة نمل کی آیت (13) ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 102 قولہ تعالیٰ : قال لقد علمت ما انزل ھؤلاء یعنی اے فرعون ! تو ان نو نشانیوں کو خوب جانتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کیا ہے۔ اس میں انزل بمعنی أرجد (ایجاد کرنا) ہے۔ الا رب السموت والارض بصآئر یعنی یہ ایسی دلالات ہیں جن سے اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اور قرأت عامہ علمت تا کے فتحہ کے ساتھ ہے، اور یہ خطاب فرعون کو ہے۔ اور کسائی نے تا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہ حجرت علی بن ابی طالب ؓ کی قرأت ہے، اور فرمایا : قسم بخدا : اللہ تعالیٰ کے دشمن نے نہیں جانا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) وہ ہیں جنہیں اس کا علم ہوا، پس یہ خبر حضرت ابن عباس ؓ تک پہنچی تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 101–105

1:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم کے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “ سے مراد یہ نشانیاں ہیں یدبیضاء، عصا، طوفان، مکڑی، چیچڑی، مینڈک، خون قحط سالی اور پھلوں میں نقصان (یہ نومعجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے) 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تسع ایت بینت “ سے مراد ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ انکی لاٹھی انکی زبان، سمندری، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور خون (یہ ان کے معجزات تھے) 3:۔ طیالسی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَقَدْ عَلِمْتَ : بیشک تو جان چکا ہے ] [مَآ انزَلَ : نہیں اتارا ] [هٰٓؤُلَاۗءِ : ان سب کو ] [اِلَّا : مگر ] [رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کے رب نے ] [بَصَاۗىِٕرَ : نشان عبرت ہوتے ہوئے ] وَانى: اور بیشک میں ] [لَاَظُنُّكَ : یقینی گمان کرتا ہوں تجھ کو ] [يٰفِرْعَوْنُ : اے فرعون ] [مَثْبُوْرًا : غارت کیا ہوا ] ث ب ر [ثُبُوْرًا : (ن) ] غارت ہونا۔ ہلاک ہونا (لازم) ۔ لَاتَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا (تم لوگ مت مانگو آج کے دن ایک مرتبہ ہلاک ہونے کو اور تم لوگ مانگو کئی مرتبہ ہلاک ہونے کو)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 101–104

موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں دیں فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ غرق کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ زمین میں رہو سہو ابتدائے سورت میں واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کے بعض واقعات بیان فرمائے اور ان سے فرمایا (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اس کے بعد مشرکین کے اعمال و اقوال اور عقیدہ شرک کی تردید فرمائی اور درمیان میں بعض مامورات اور منہیات بھی ذکر فرما دئیے پھر مشرکین کے عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا اب سورت کے ختم ہونے کے قریب بھی بنی اسرائیل اور ان کے دشمن فرعون کا تذکرہ فرمایا جس میں بنی اسرائیل یعنی یہود کے لیے اور تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–109

ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔ جس طرح وہ متکبر اور جبار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 102–104

88:۔ فرعون کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ جادو نہیں بلکہ یہ معجزات ہیں جو آسمان و زمین کے مالک نے اپنی قدرت وو وحدانیت اور میری صداقت پر بطور دلائل ظاہر فرمائے ہیں۔ اے فرعون ! سن لے مجھے یقین ہے کہ تو تباہ و برباد ہوگا اس لیے کہ تو نے معجزوں کو جادو کہا اللہ کی توحید کا انکار کیا اور میری تکذیب کی۔ ” فاراد ان یستفزھم الخ “ اس کے بعد فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالنے کی ٹھان لی تو ہم نے اس کو مع لاؤ لشکر غرق کردیا اور بنی اسرائیل سے کہا تم ملک شام میں رہو اور میری ہدایات پر عمل کرو۔ قیامت کو میں تم سب کو حساب کیلئے اکٹھا کروں گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–104

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار ومشرکین کے تعصب ، ضد اور عناد کا ذکر کیا کہ وہ بیہودہ فرمائشیں کرتے تھے ، اللہ کی توحید کا انکار کرتے تھے رسالت ونبوت پر اعتراضات کرتے تھے اور معاد کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، ان اعتراضات کا جواب گذشتہ درس میں دیا جا چکا ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیوں اور فرعون اور قوم فرعون کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے اس سے اہل ایمان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح قوم فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کی واض ح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائی تھی ، اسی طرح مشرکین اپنی مطوبہ نشانیاں پا کر بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا 102؁ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

2 ؎ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ دویہودیوں نے آ کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ نو نشانیاں کون سی دی تھیں ؟ آپ نے جواب شافی دیا، ان کو بیان کردیا انہوں نے ہاتھ پائوں چوم لیے اور کہا تو بیشک نبی ہے فقیر کہتا ہے کہ ان نشانیوں سے مراد جو یہود نے پوچھی تھیں احکام عشرہ تھے جو توریت میں موجود ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرک نہ کرو الخ اور یہاں تو معجزات مراد ہیں۔ 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ ھٰٓؤْلَآئِ اِلاَّ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بِصَآئِرَ ج وَاِنِّیْ لَاَظُنُّکَ یٰـفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 102) (موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ تو جانتا ہے کہ ان آیات کو نہیں اتارا، مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے آنکھیں کھول دینے کے لیے، اور میں تو تم کو اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کو جواب اس آیت کریمہ کے لب و لہجہ اور تیوروں پر غور کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے نہایت جابر اور طاقتور حکمران کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور وہ آپ ( علیہ السلام) کی توہین کرتا ہوا آپ ( علیہ السلام) کو مسحور قرار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 102–103

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا ذکر جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کا الزام سننے کے بعد نہایت حوصلہ اور سمجھ داری کے ساتھ فرمایا۔ اے فرعون ! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ جو معجزے میں تیرے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ میرے اور کسی انسان کے بس کا روگ نہیں۔ یہ تو اس رب کی طرف سے ہیں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس راستے پر تم چل رہے ہو۔ یہ راستہ تیری اور تیری قوم کی تباہی کا راستہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے معجزات پیش کرتے ہوئے ” بَصَاءِرُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا واحد بَصِیْرَۃٌہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) کی تقریر : 102: قَالَ (کہا) موسیٰ علیہ اسلام نے لَقَدْ عَلِمْتَ (تحقیق تو جانتا ہے) اے فرعونمَآ اَنْزَلَ ھٰٓؤُلَآئِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (نہیں اتاری یہ آیات مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے) ھؤلاء کا مشارالیہ آیات ہیں۔ رب کا معنی انکا خالق بَصَآپرَ (بصیرت حاصل کرنے کیلئے) یہ حال ہے بمعنی واضح، کھلی، البتہ تو معاند ہے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا : وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم ظلمًا وعلوا ] النحل : 14[ قراءت : علی نے عَلِمْتُ ضمہ سے پڑھا۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ میں مسحور نہیں ہوں جیسا کہ تم نے میرے متعلق بیان کیا بلکہ میں معاملے کی صحت کو جاننے والا ہوں اور ان آیات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 102۔” قال “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ” لقد علمت “ تاء کے فتحہ کے ساتھ ۔ اس صورت میں یہ خطاب فرعون کو ہوگا ۔ کسائی کے نزدیک تاء پر ضمہ ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو برحق مانتا تھا۔ اگر وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حق جان لیتا تو وہ مامون ہوجاتا لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے بارے میں جانتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حق جانتا تھا لیکن عناد کی وجہ سے انکار کرتا تھا۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :” وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم ظلما ً وعلواً “ اس صورت میں تاء پر فتحہ زیادہ صحیح ہے ۔ اسی پر اکثر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–104

102۔ 104:۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجا تھا، فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–104

(آیت نمبر (101 یعنی اے رسول ! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے۔۔۔ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی ہم نے اپ ﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا ‘ ہم نے انہیں عطا کیے (تسع ایت بینت ) ” نو معجزات “ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں ایک ہی معجزہ کافی ہے۔۔۔ جیسے اژدہا ‘ عصا ‘ طوفانً ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جوئیں ‘ مینڈ ‘ خون ‘ یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے (فسعل بنی اسرائیل اذا جاء کم فقال لہ فرعون ) ” تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو ( ان معجزات کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–105

اعجاز قرآن قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

188۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خطاب فرعون سے :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ان نشانیوں کو رب کائنات ہی نے اتارا ہے۔ مگر بدبخت نے پھر بھی انکار کیا ظلم وتکبر کی بناء پر۔ سو ظلم وتکبر اور عناد وہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ سو معلوم ہوا کہ فرعون ان نشانیوں کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھا۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر وہ ان کا انکار کررہا تھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم ظلماوعلوا، الایۃ (النمل : 14) سو ظلم وتکبر اور عناد وہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–111

کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–111

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 کو لوگ انہیں دیکھ کر اپنے رب کی قدرت اور وحدانیت کے قائل ہوجائیں۔ (وحیدی)12 یعنی مجھ پر تو کسی نے جادو نہیں کیا مگر تو جو ان معجزات کو دیکھ لینے کے باوجود اپنی اڑ پر قائم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیری تباہی کے دن قریب آگئے ہیں۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:102) ھؤلائ۔ یہ نو آیات بینات۔ یا ان میں سے بعض کی طرف اشارہ ہے۔ بصائر۔ بصیرۃ کی جمع۔ کھلی دلیلیں۔ واضح نصیحتیں ۔ بصیرت افروز نشانیاں۔ یہ ھؤلاء سے حال ہے۔ مثبورا۔ اسم مفعول واحد مذکر ثبورمصدر۔ ملعون۔ خیر سے روکا گیا۔ ہلاک شدہ۔ الثبور (باب نصر) کے معنی ہلاک ہونے یا زخم کے خراب ہونے کے ہیں۔ وانی لاظنک یفرعون مثبورا اے فرعون میں تجھے ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ دعوا ھنالک ثبورا۔ لا تدعوا الیوم ثبورا واحدا وادعوا ثبورا کثیرا۔ (52:13:14) وہاں ہلاکت کو پکاریں گے آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو۔ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–109

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109 تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 109 انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–104

فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون ! کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے۔ تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے، ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون نے اس بات کو سن کر یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو جلا وطن کرکے مصر سے کہیں دور نکال دیوے گا مگر اللہ عالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–104

[65] یہاں پھر مشرکین کے معجزوں کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جن معجزوں کا مطالبہ تم کررہے ہو تو فرعون کو بھی ایسے ہی نو صریح معجزات دکھائے گئے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کو جھٹلایا۔ ان نو معجزات کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 100–102

(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ دراصل اس قسم کے شبہات تمہارے دل میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تمہیں ان مسائل کے سمجھنے میں الجھن ہوتی ہے یا یہ مسائل ناقابل فہم ہیں ، بلکہ یہ انکار وتمرد محض اس لئے ہے کہ تم حضور ﷺ کی نبوت کو فراخدلی کے ساتھ برداشت نہیں کرسکے ، تمہارے دلوں میں بخل ہے اور تم نہیں چاہتے کہ محمد ﷺ یوں ان معارف کو ہر کس و ناکس کے سامنے پیش کریں اس میں تم اپنی توہین سمجھتے ہو نبوت کے خزانے اگر تمہیں ہلتے تو تم اس دریا دلی سے ہرگز خرچ کرتے تمہیں رنج ہے ، تو یہ ہے کہ ہدایت عام ہوئی جاتی ہے ، اور تم بڑے بڑے لوگوں کے لئے کوئی وجہ تخصیص نہی رہی ۔ بات یہ ہے کہ انسان فطرتا بخل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 102 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو قسم کھا کر جواب دیا اے فرعون بلاشبہ تو خوب جانتا ہے کہ ان معجزات اور نشانات جو بطور بصیرت افروز دلائل کے ہیں صرف آسمان اور زمین کے مالک اور پروردگار ہی نے نازل فرمایا ہے اور اے فرعون میں تیرے متعلق خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک و برباد ہوا چاہتا ہے، یعنی بلاشبہ تجھ کو یقین ہے اور تو دل میں قائل ہے کہ یہ نشانات اور عجائبات جو ہدایت اور روشنی حاصل کرنے کے لئے کافی ذریعہ ہیں۔ بجز آسمان و زمین کے مالک اور پروردگار کے کسی اور کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہیں مگر تو اپنی ہٹ دھرمی اور سخن پروری کے باعث اقرار نہیں کرتا اور چونکہ ایسے ہٹ دھرم جو حق کو حق سمجھتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی فرعون کے الزام کا فورا جواب سنا دیا : 120۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو واضح اور کھرا جواب سنا دیا کہ اے فرعون تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب السموات کے سو کسی نے نازل نہیں کی اور نہ ہی کوئی نازل کرسکتا تھا ، یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کے اور زور دے کر فرمائی اس لے کہ کسی ملک پر قحط آجانا یا لاکھوں مربع میل زمین پر پھیلے ہوئے علاقے میں مینڈکوں کا ایک بلا کی طرح نکلنا اور تمام ملک کے غلے کے گوداموں میں گھن لگ جانا یا ٹڈی دل کا اٹھنا اور سارے ملک کی ہریاول کو دیکھتے ہی دیکھتے چٹ کرجانا یا سارے ملک میں ہر طرح کے پانیوں کا بدبودار اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–108

Commentary The first verse (101): وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ mentions the bestowal of nine clear signs on Sayyidna Musa (علیہ السلام) . The word: آیَہ ('ayah) carries the meaning of miracle or sign as well as that of the آیَت : ayat or verses of the Qur'an, that is, the divine injunctions. At this place, the probability of both meanings exists. Therefore, a number of commentators have taken the word 'ayat' to mean miracles - and the number nine does not make it necessary that they will not be more than nine - but, at this place, the figure 'nine' has been mentioned on the basis…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–103

116. That is, I am not a bewitched man but you are indeed a doomed person. As you have been persistent in your disbelief even after seeing such obvious divine signs, you are surety doomed to destruction. 117. This part of the story of Pharaoh has been related here because it applied exactly to the mushriks of Makkah who were doing their best to uproot the Prophet (peace be upon him) and the believers from the land of Arabia. This story, so to say, tells them: Pharaoh resolved to uproot Moses (peace be upon him) and the Israelites but was himself completely annihilated along with his…

Read the full tafseer →